✨جو شکستہ ہو تو عزیز تر ✨
قسط نمبر 3
از قلم ✒️
ارویٰ رباب
وہ سب سہیلیاں باغ سے گزرتی کینٹین کی جانب رواں دواں تھیں۔ مسفرہ مسلسل اسے تسلی دے رہی تھی تم دیکھنا میم اب کیسے اس لڑکے کی بے عزتی کریں گی بلکہ وہ تو سر ابراہیم کو بھی سنائیں گی۔ ہادیہ اب قدرے سنبھل چکی تھی پہلے کی نسبت اب اسکی حالت کافی بہتر تھی۔
ہادیہ یار تم نے یہ نہیں بتایا وہ لڑکا دِکھنے میں کیسا تھا؟ ڈیشنگ تھا؟ آئی مین ہیرو ٹائپ۔۔۔ حناء جو قدرے بولڈ سی تھی رازداری سے اسکے کان میں گھسی پوچھ رہی تھی۔
یار مجھے کیا پتہ؟ میں نے کونسا اسے غور سے دیکھا تھا، مجھے تو بس اس وقت سر ابراہیم کی فکر تھی۔ وہ مجھے ایسے گھور رہے تھے جیسے سارا قصور میرا ہی ہو۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ زمین پھٹے اور میں اس میں سما جاؤں۔ مجھے تو اب تک انکی پرتاسف نگاہ اپنے اردگرد بھٹکتی محسوس ہو رہی ہے۔
یار کاش میں تمہاری جگہ ہوتی نا مزہ ہی آ جاتا۔ حناء کی بات پر ہادیہ نے صرف اسے گھورنے ہر اکتفاء کیا جواب نہ دیا۔
ہاں حناء اگر تم ہوتی نا دیا کی جگہ تو سچویشن کچھ یوں ہوتی کہ وہ آئی لو یو کہتا اور تم لو یو ٹو کہتیں پھر بس ہمیں ایک عدد مولوی صاحب کا بندوبست کرنا پڑتا۔۔۔جواب عائشہ کی طرف سے آیا
شٹ اپ! تم سے کسی نے بات نہیں کی۔ حناء تپ گئی۔
یار لیو دس ٹاپک کیا فضول بحث کر رہے ہو، جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا اب بلا وجہ کیوں آپس میں لڑ۔۔۔ قبل اسکے کہ مسفرہ کا جملہ مکمل ہوتا ایک زور دار چیخ سنائی دی۔
او گاڈ! آواز اس قدر اونچی چیخ سے مشابہہ تھی کہ پورے نہیں تو آدھے کالج نے مڑ کر ضرور دیکھا۔ مسفرہ جو حناء اور عائشہ کو سمجھا رہی تھی بات ادھوری چھوڑ کر تیزی سی پلٹی۔
میرا نیا دوپٹہ! یہ ہادیہ تھی جو باغ سے گزرتے ہوئے کانٹوں میں اپنا دوپٹہ الجھا بیٹھی اور پھر اتنا زور دار چیخی کہ سب اسکی جانب متوجہ ہو گئے مگر اسے کسی کی کہاں فکر و پرواہ تھی۔ اسے تو یہی غم کھائے جا رہا تھا کہ یہ اسکے فیورٹ سوٹ کا دوپٹہ ہے۔ اب وہ دوپٹہ نکالنے کے چکر میں اپنے ہاتھ زخمی کر رہی تھی۔
میڈم اس دوپٹے سے زیادہ قیمتی آپکا ہاتھ ہے۔ نرم اور گھمبیر مردانہ آواز پر اس نے نگاہ اٹھائی اور اپنے سامنے اسی لڑکے کو دیکھ کر جسکی وجہ سے آج اسکی اتنی سُبکی ہوئی تھی وہ آپے سے باہر ہو گئی۔
چٹاخ۔۔۔ بناء اردگرد کی پروا کئیے اس نے سب کے سامنے ایک زوردار تھپڑ اس لوفر کے منہ پر رسید کیا۔ وہ لڑکا منہ پر ہاتھ رکھے ہکا بکا جہاں کا تہاں ساکت و صامت جامد کھڑا رہ گیا۔
اسکی سب سہیلیاں دنگ رہ گئیں۔ کسی کو ہادیہ سے یہ امید نہ تھی۔
جی واقعی ٹھیک فرما رہے ہو تم۔ میرا ہاتھ واقعی بہت قیمتی ہے، تم جیسے لوفروں کا منہ جو توڑنے کے کام آتا ہے۔ بے غیرت انسان تمہاری اپنی ماں بہن نہیں کیا؟ چبا چبا کر طنزیہ لہجے میں بولتی وہ اپنے دوپٹے کو یکسر بھول چکی تھی۔ وہ لڑکا اب تک جوں کا توں گال پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔ بس لمحہ لگا اور اسے احساس ہوا کہ وہ کچھ غلط کر بیٹھی ہے۔ اگلے ہی پل اس نے دوڑ لگا دی۔ دوپٹہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ وہ بھاگتے ہوئے پارکنگ ایریا تک آئی، کلچ سے چابی نکالی گاڑی میں بیٹھی اور زن سے گاڑی بھگا لی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے گاڑی تھوڑی آہستہ کی اور سکون کا سانس لیا۔
تھینک گاڈ! بچ گئی۔
بےغیرت جانتا نہیں تھا کہ کس سے فلرٹ کی کوشش کر رہا ہے۔
ہادیہ مجیب ہے نام میرا ڈرتی تو میں اپنے باپ سے بھی نہیں ہوں۔
اب پتہ نہیں پیچھے میری فرینڈز سے کیا بکواس کر رہا ہو گا۔ وہ بآوازِ بلند خود سے باتیں کر رہی تھی۔ اچانک اسکی نگاہ پچھلی گاڑی پر پڑی اور وہ اگلا سانس لینا بھول گئی۔
اوہ شٹ! یہ تو میرا پیچھا کر رہا ہے۔ پچھلی گاڑی میں اسے وہی لڑکا بیٹھا دیکھائی دیا۔
یا خدایا! اب کیا کروں؟ اسکے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے۔ گاڑی کی رفتار اس نے ایک بار پھر بڑھا دی۔
پچھلی گاڑی مسلسل اسکے تعاقب میں تھی۔ وہ منہ ہی منہ میں دعائیں مانگنے لگی۔ جیسے ہی نگاہ پچھلی گاڑی پر پڑتی تو نگاہوں میں خوف اور دعاؤں میں مزید شدت آ جاتی۔ تیزی سے موڑ کاٹتے اس نے کلچ پر ہاتھ مار کر موبائل کی یقین دہانی کی۔
اگر اسنے زرا بھی بدتمیزی کی تو بھائی یا بابا جانی کو کال کر دونگی۔
مگر وہ اتنی جلدی کیسے پہنچیں گے؟ دیا یہ مصیبت تو نے خود پالی ہے، اب تجھے کچھ کرنا ہو گا۔ خود سے باتیں کرتے اسے احساس ہی نہ ہوا کہ وہ گھبراہٹ میں غلط راستے پر نکل چکی ہے۔
اوہ نو آج کا تو دن ہی منحوس ہے۔ کاش! صبح ماما جانی کی بات مان لیتی۔ دیا جو بچے پیرنٹس کی بات نہیں مانتے نا انکا یہی انجام ہوتا ہے، اب بھگتو۔ خود کو سرزنش کرتے اس نے پیچھے دیکھا پچھلی گاڑی کافی دور تھی اور آگے تنگ گلیاں تھیں۔ گلیوں کے راستے بھی اسکا گھر آ ہی جاتا۔ اس نے اتر کر جلدی سے گاڑی کو لاک لگایا اور گلیوں کے راستے دوڑتی ہوئی گھر کی سمت بڑھنے لگی۔
بھاگتے بھاگتے اسکی ایک سینڈل ٹوٹ گئی۔ اس نے رک کر افسوس کرنے اور وقت ضائع کرنے کے بجائے دونوں سینڈلز ہاتھ میں پکڑ لئیے اور ننگے پاؤں دوڑ لگا دی۔ اگلے دو منٹ بعد وہ گھر کے دروازے پر تھی۔ بیل کے بٹن پر ہاتھ رکھ کے وہ اٹھانا بھول گئی جب تک کہ رمضان بابا نے دروازہ نہ کھول دیا اور جونہی انکی نظر ہادیہ پر پڑی۔ وہ گھبرا گئے۔ وہ ہانپتی کانپتی روتی ہوئی اندر آئی اور تیزی سے خود ہی دروازہ بند کر دیا۔ چھوٹی بی بی جی سب خیر تو ہے نا؟
رمضان بابا کسی کو اندر مت آنے دیجئیے گا۔ اگر کوئی گیٹ ناک کرے میرا پوچھے تو آپ کہہ دینا یہ میرا گھر نہیں ہے اور آپ مجھے جانتے تک نہیں ہیں آئی سمجھ؟ تیز تیز بولتے وہ پھولے تنفس کے ساتھ رمضان بابا کو ہدایات دے رہی تھی۔
مگر کیوں بی بی جی؟
زیادہ سوال مت کریں، جو کہا ہے بس وہی کرئیے گا اوکے؟
جی! بی بی جی۔ رمضان صاحب تو ملازم تھے، حکم کے غلام انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اب وہ بھاگتے ہوئے اندر گئی۔ لاؤنج میں فارہ اور ہنیا بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ جب وہ داخل ہوئی تو حال کچھ یوں تھا رویا چہرہ، دوپٹہ ندارد، ننگے پاؤں، ہاتھوں میں ٹوٹی سینڈلز۔۔۔ وہ تیزی سے جا کر فارہ سے لپٹ کر ہچکیوں سے رونے لگی۔
دیا۔۔۔ دیا۔۔۔ میری جان کیا ہوا؟ دیا کچھ بتائیں تو سہی؟ کیا ہوا بٹو؟ وہ اسے اس حال میں دیکھ کر گھبرا گئی۔
ہنیا نے نوراں کو پانی لینے دوڑایا اور دونوں ماں بیٹی کو بٹھایا۔
پانی پی کر وہ تھوڑا نارمل ہوئی۔ اتنے میں وہ بھی آ گیا۔ سانس اسکی بھی پھولی ہوئی تھی مگر ہادیہ جیسا حال نہ تھا۔
سوری مما تھوڑا لیٹ ہو گیا۔ اس نے کلائی موڑ کر ٹائم دیکھا۔ ایکچولی۔۔۔ جونہی اسکی نظر دیا پر پڑی وہ اگلی بات بھول گیا۔
تم؟ تمہاری اتنی ہمت کہ میرے گھر تک آ گئیں۔ کس نے تمہیں اندر آنے دیا؟ چلو نکلو فورًا یہاں سے۔۔۔ اس نے ہنیا سے چمٹی دیا کا ہاتھ پکڑا اور اسے باہر دھکیلنے لگا۔ دیا مسلسل اپنا ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی مگر اسکی مردانہ گرفت بہت مضبوط تھی۔
رکو! سنو تو سہی شاہ زر۔۔۔ بات تو سنو بیٹا۔۔۔ ہوا کیا ہے شاہ زر؟ فارہ اور ہنیا مسلسل چلا رہی تھیں مگر وہ کسی کی ایک نہ سن رہا تھا۔ شاہ زر چھوڑو اسکا ہاتھ۔ آخرکار ہنیا نے غصے سے اسے ڈپٹا۔
ماما آپ بھی اسکی باتوں میں آگئیں۔ یہ شکل سے انوسینٹ دکھتی ہے مگر ہے ایک نمبر کی خرانٹ، دھوکے باز، مکار اور جھوٹی۔ جانے کیا قصے سنا کر اسنے آپکی ہمدردی بٹور لی ہے مگر آپ نہیں جانتی اس جیسی۔۔۔ بولتے بولتے اسکی نگاہ سامنے دیورا پر لگی ہادیہ کی انلارج تصویر پر پڑی اور ہادیہ کے بازو پر اسکی گرفت تھوڑی ڈھیلی پڑی۔ اس نے ایک نظر پلٹ کر ہادیہ کو دیکھا اور ایک بار پھر مڑ کر تصویر کی جانب دیکھا۔ ہادیہ نے اسکی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا تو ایک طنزیہ مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کر لیا۔
ممانی جان! یہ دیا ہے؟
یس آئی ایم ہادیہ مجیب۔ جواب جتاتےلہجے میں ہادیہ کی طرف سے آیا۔ شاہ زر نے پلٹ کر استعجاب آمیز نظروں سے اسے دیکھا۔ جوابًا اس نے تضحیک آمیز مسکراہٹ کے ساتھ اپنے بازو کی سمت اشارہ کیا جو اب تک شاہ زر نے پکڑا ہوا تھا۔ اس نے بوکھلا کر بازو چھوڑا۔ کوئی شرمندگی سی شرمندگی تھی۔
خواتین آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ وہ کھسیانے لہجے میں کان کھجاتے ہوئے بولا۔ آپ نے بتانے کا موقع ہی کب دیا بیٹا جی؟ آپ تو آتے ہی حملہ آوروں کی طرح معصوم بچی پر ٹوٹ پڑے جانے کس مشکل میں گھری پریشان حال گھر تک پہنچی اور آپ آتے ہی بیچاری کو اسی کے گھر سے بڑے حق دعوے کے ساتھ نکالنے لگے
پھر اچانک وہ چونکی شاہ بیٹا دیا کہیں آپکی وجہ سے تو نہیں روتی ہوئی آئی؟ مشکوک لہجے میں بولتی وہ اسکی ماں کم دیا کی اماں زیادہ لگ رہی تھیں۔
جی پھپو جانی اسی کی وجہ سے میرا یہ حال ہوا ہے آپکو پتہ ہے اس نے کیا کیا؟
میری ایک ماہ کی محنت پر آن واحد میں پانی پھیر دیا اور اسی پر اکتفاء نہ کیا۔ آپکے سامنے مجھے گھر سے نکال رہا تھا۔ شکایت کا پنڈورا باکس کھل چکا تھا۔ اب شاہ زر کی خیر نہیں تھی۔ ہنیا غصے سے شاہ زر کو گھورنے لگیں جبکہ فارہ مسکراتے ہوئے کچن کی جانب چل دیں۔ ماما آپکی لاڈلی بھتیجی آپکو اپنے کرتوت نہیں بتا رہی۔ اس نے سب کے سامنے مجھے تھپڑ مارا ہے۔ شاہ زر نے بوکھلا کر اپنی صفائی پیش کی۔
اور کس بات پر مارا ہے شاہ صاحب؟ وجہ آپ بتائیں گے یا میں بتاؤں؟ دیا نے تپ کر طنزیہ لہجے میں پوچھا۔ شاہ زر کی سٹی گم ہوئی۔
کوئی ضرورت نہیں ہے کچھ بتانے کی۔ تم نے تھپڑ مار کر بدلہ لے لیا ہے، ویسے بھی میں اپنی غلطی پر معذرت خواہ ہوں۔ بڑوں کو درمیان میں نہ لاؤ۔ شاہ زر واقعی گھبرا گیا۔ اسکا کیا بھروسہ جو بھرے کالج کے سامنے مار سکتی ہے اس کے لئیے بتانا کیا مشکل تھا؟ اسلئیے اسنے فورا سے پیشتر پینترا بدلا اور معذرت طلب کرنے لگا۔ اٹس اوکے۔۔۔ تم بھی کیا یاد کرو گے کس رحم دل شہزادی سے پالا پڑا ہے جاؤ کیا معاف۔ اب میں تمہاری طرح جاہل، بدتمیز، بے ادب اور بے حیاء تھوڑی ہوں۔ اسے معافی کا عندیہ دیتی وہ ہنیا کی جانب مڑی جو ان دونوں کی نوک جھونک سے محظوظ ہوتی مستقبل کے تانے بانے بن رہی تھیں۔
پھپو جی ایک بات پوچھوں؟
ایک چھوڑ سو پوچھو میری جان۔ انہوں نے شہد آگیں لہجے میں جواب دیا۔ شاہ زر اسے دوسری بات کی طرف متوجہ ہوتے دیکھ کر سکون کا سانس لینا لگا مگر اسکی یہ خوش فہمی عارضی ثابت ہوئی۔ دیا کہ معصومانہ سوال پر اسے تیلی لگ گئی۔ کیا امریکہ میں ایٹی کیس نہیں سکھائے جاتے؟ شاہ زر کی جانب دیکھتے اس نے حد درجہ معصومیت سے پوچھا۔ ہنیا اسکی بات سمجھ کر مسکرا دیں۔ کوئی جواب نہ دیا مگر وہ ہادیہ مجیب تھی اتنے پر بس کیسے کر دیتی۔ خود ہی جواب دینے لگی
مغربی معاشرہ ہے پھپو جی وہ کیا جانیں ویلیوز کس چڑیا کا نام ہے۔ اخلاق ،اقدار اور تہذیب و شرافت سے انکا کیا لینا دینا؟ اپنے جانتے بھر میں وہ تاک تاک کر حملے کر رہی تھی مگر مقابل بھی شاہ زر تھا چپ کیسے رہتا۔
ہاں ممی واقعی امریکہ والے ان تمام چیزوں سے انجان ہیں وہ کیا جانیں ویلیوز، ایٹی کیٹس کس چڑیا کا نام ہے۔ وہ بیچارے تو بد تہذیب بے ادب ہیں مگر کیا کہنے پاکستان کے یہاں تو ہر کالج، ہر یونیورسٹی میں باقاعدہ اخلاقیات پر سبق پڑھائے جاتے ہیں۔ ابھی کچھ دیر قبل اس ملک کے ایک مشہور انسٹیٹیوٹ کی لائق فائق سٹوڈینٹ کی اعلیٰ تہذیب کا ثبوت بھرے کالج میں ملاحظہ فرما کر آ رہا ہوں۔ ماشاء اللہ کیا اخلاق تھا۔
شکر ہے ممی ہمارا امریکہ ابھی اس قدر تہذیب یافتہ نہیں ہوا۔ جتا کر بولتا وہ اسے لمحوں میں تپا گیا۔ ہادیہ کے تو مانو سر پر لگی تلؤوں پر بجھی
او شٹ اپ مسٹر شاہ۔۔۔ جو حرکت تم نے کی تھی نا، اسکے مقابل وہ تھپڑ کچھ بھی نہیں تھا۔ میرا بس چلتا تو منہ توڑ دیتی تمہارا۔ شکر ادا کرو کہ تم میری پھپو کے بیٹے ہو اس لیئے میرے عتاب سے بچ گئے ہو ورنہ میں تمہیں بتاتی اچھی طرح کہ ہادیہ مجیب کیا چیز ہے۔
کچن سے چائے اور اسکے لوازمات لیکر لاتی فارہ بیگم نے اسکا جملہ سنا تو انہیں بے پناہ غصہ آیا۔ کس قدر منہ پھٹ ہو گئی ہے یہ لڑکی، آئے گیے مہمانوں کا بھی لحاظ نہیں کرتی۔ آ جائیں آج مجیب صاحب تو بتاتی ہوں انکو یہ لڑکی تو حد درجہ بدتمیز ہو گئی ہے۔ دل میں سوچتے انہوں نے سخت لہجے میں اسکا نام تنبیہی انداز میں پکارا۔
جارہی ہوں خاتون، مجھے پتہ ہے اپنے اس شریف اور مہان مہمان کو تو آپ کچھ کہیں گی نہیں حالانکہ برابر بدتمیزی کر رہا ہے مجھ سے۔ آپکے سارے بھاشن تو صرف میرے لیے ہوتے ہیں۔ خاتون جس دن آپ سدھر گئیں نا میرےآدھے سے زیادہ مسائل حل ہو جائینگے ۔ تاسف سے بولتی وہ تیزی سے اٹھی اور اوپر جانے لگی پھر کچھ سوچ کر مڑی اور شاہ زر کے عین سامنے آ کھڑی ہوئی۔ شکر ادا کرو اس بار بچ گئے ممی کے کہنے پر جا رہی ہوں۔ اگر نیکسٹ مجھ سے پنگا لینے کی کوشش بھی کی نا تو منہ نوچ لونگی تمہارا آئی سمجھ؟ ناصرف اسنے بولا بلکہ فرضی پنجہ بنا کر اسکے منہ پر بھی جھپٹا مارا۔ اگر شاہ زر بروقت منہ پیچھے نہ کرتا تو ناخن گڑ چکے ہوتے۔ اپنی بات مکمل کر کے وہ رکی نہیں، تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گئی۔
ممانی جان پوری جنگلی بلی پالی ہوئی ہے آپ لوگوں نے۔ اپنے پیچھے اسے شاہ زر کی آواز آئی۔ وہ جس تیزی سے سیڑھیاں چڑھی تھی، اس سے دگنی رفتار سے واپس اتر کر آئی اور دو بدو بولی۔
فرنگی ریچھ بن مانس لنگور۔ اپنا بدلہ لے کر وہ جس تیزی سے آئی تھی۔ اسی تیز رفتاری سے آنًا فانًا لوٹ گئی۔ ہنیا اور شاہ زر ہکا بکا رہ گئے۔ فارہ بیگم اسکی فطرت سے واقف تھیں۔ انہوں نے سر پکڑ لیا۔ کبھی کبھی یہ لڑکی بالکل بچوں کی طرح ری ایکٹ کرتی ہے، اتنی بڑی ہو گئی ہے مگر عقل گھٹنوں میں ہے۔
چھوڑیں بھابھی کوئی بات نہیں وقت کے ساتھ سمجھ جائے گی۔ ہنیا نے فارہ کو شرمندگی سے نکالا۔ اب وہ سر جھٹک کر ہنیا اور شاہ زر کو چائے تھما رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨
نکال میری انگوٹھی؟ ایمان بچوں کو پڑھا رہی تھی۔ اچانک سے بھابھی بیگم آئیں اور انتہائی کرخت لہجے میں ہاتھ پھیلائے انگوٹھی مانگنے لگیں۔
کون سی رنگ بھابھی؟ میں نے تو آپکی کوئی انگوٹھی نہیں لی۔ وہ اس اچانک افتاد پر بوکھلا گئی۔
منحوس چورنی اب تو مکرے گی بھی۔۔۔ ارے ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے اور تو اپنے ہی گھر میں نقب لگا رہی ہے۔ شرافت سے نکال دے میری انگوٹھی ورنہ تیرے بھائی سے تیری ایسی کھال ادھڑواؤں کی کہ سات نسلیں یاد رکھیں گی۔ بھابھی بیگم کی غضبناک آواز اس پر چوری کا الزام اور بچوں کی چہ میگوئیاں، اس قدر ذلت اتنی توہین اسکا دل کیا اسی لمحے زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔
آپ سب ابھی جائیں کل آئیے گا۔ اس نے بچوں کو منظرِ عام سے غائب کرنا چاہا۔
کیوں؟ کیوں جائیں یہ سب؟ انہیں بھی تو اپنی برگزیدہ استانی محترمہ کے بارے میں پتہ لگے، انہیں بھی تو پتہ لگے انکی نیک پروین ٹیچر کیا گل کھلا رہی ہیں؟ اپنے ہی گھر میں ڈاکہ توبہ توبہ۔۔۔
میں نے کہا نا آپ سب جائیں۔ ایمان نے اس مرتبہ اونچی آواز میں کہا۔ بچے تیزی سے اپنی چیزیں سمیٹنے لگے کچھ ہی دیر میں کمرہ خالی ہو گیا۔
بھابھی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟ مجھے آپکی کسی رنگ کے بارے میں معلوم نہیں۔ بچوں کے جانے کے بعد وہ کمال تحمل سے اپنی صفائی دینے لگی۔
اب تو تم یہی کہو گی کہ تم نے دیکھی تک نہیں میں کہتی ہوں شرافت سے میری انگوٹھی نکال ورنہ میں تیرا حشر نشر کر دونگی۔ تیرے مردہ باپ کو بھی قبر سے اکھاڑ لاؤنگی اگر تو نے نہیں دیکھی تو کیا تیری ماں قبر سے نکل کر آئی تھی چرانے؟
بھابھی بس کردیں۔۔۔ خدا کے لئیے بس کر دیں۔۔۔ میں نے آپکو ہزار بار کہا ہے جو کہنا ہے آپکو مجھے کہا کریں میرے فوت شدہ پیرنٹس کو درمیان میں مت گھسیٹا کریں۔ اسے خود نہیں معلوم تھا اس پل اس میں اتنی جرات کہاں سے آ گئی کہ وہ بھابھی بیگم کو منہ در منہ جواب دے بیٹھی اور یہ بہادری اسے بہت مہنگی پڑی۔ اپنے ماں باپ کا دفاع کرنا غضب ڈھا گیا۔ بھابھی بیگم نے آگے بڑھ کر اسے بالوں سے پکڑا اور پے درپے چٹاخ چٹاخ کئی تھپڑ اس پر تابڑ توڑ برسائے۔
زبان چلاتی ہے چورنی؟ تیری تو نظریں نہیں اٹھنی چاہئیے جسکا کھاتی ہے اسی پر غراتی ہے اور اسی گھر سے چیزیں چراتی ہے۔ نکال میری انگوٹھی۔۔۔ تو کیا تیرا تو باپ بھی نکالے گا۔
شور کی آواز سن کر فاروق بھائی بھی اٹھ کر آگئے۔
کیا ہو رہا ہے یہاں؟ میری تو جان عذاب میں ڈال کر رکھ دی ہے تم لوگوں نے روز ایک نیا تماشہ ہوتا ہے روز ایک نیا تھیٹر لگا ہوتا ہے یہاں۔۔۔ بندہ دو گھڑی آرام بھی نہیں کر سکتا۔ آفس سے جلدی چلا آیا کہ طبیعت خراب ہے، تھوڑا آرام کر لونگا مگر نہیں سکون تو میری قسمت میں ہے ہی نہیں۔ ابھی سوئےبمشکل دس منٹ نہیں ہوئے کہ شور شرابا شروع ہو گیا۔ زندگی اجیرن کر رکھی ہے تم دونوں نے میری دل چاہتا ہے گھر ہی نہ آؤں
زندگی تو آپکی بہن نے میری اجیرن کر رکھی ہے۔
اب کیا کر دیا اس نے؟ سوتی جاگتی کیفیت میں وہ معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
فاروق وہ جو آپ نے مجھے اینی ورسری پر ڈائمنڈ رنگ گفٹ کی تھی نا، وہ آپکی اس حاجن پرہیزن بہن نے چرا لی ہے۔ اوپر سے مان بھی نہیں رہی۔ قسمیں کھا کھا کر کہہ رہی ہے کہ اس نے وہ رنگ دیکھی تک نہیں۔ اب آپ ہی مجھے بتائیے میری رنگ زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا؟
گھر میں اس کے اور ہمارے علاوہ کوئی تیسرا فرد نہیں محترمہ کا پرس پیسوں سے بھرا ہڑا ہے اور بقول اِن کے ان سے زیادہ کوئی پارسا نہیں تو بتائیں پھر میری رنگ کہاں گئی؟ بھابھی بیگم غصے میں گرج رہی تھیں اور وہ انکے اس الزام پر ساکت و صامت جامد کھڑی تھی۔
ایمان آپکی بھابی کیا کہہ رہی ہیں؟ اس نے وضاحت دینے کے لئیے لب وا کئیے مگر بھائی کے اگلے جملے اسکے لبوں پر قفل ڈال گئے۔
کہاں ہے وہ رنگ؟ وہ چپ کھڑی رہی۔ اسکے ماں جائے کو بھی اس پر اعتبار نہ تھا۔ وہ بولتی بھی تو کیا؟
کچھ پوچھا ہے میں نے تم سے؟ اس بار وہ غصے سے دھاڑے۔
بھائی مُجھے کچھ نہیں پتہ مجھے نہیں پتہ بھابھی کی رنگ کہاں ہے؟ وہ منمنائی
کیسے معلوم ہو گا فاروق؟ بیچ جو چکی ہے وہ انگوٹھی اسکا بیگ چیک کریں آپ، ابھی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ بھابھی بیگم نے خود ہی آگے بڑھ کر اسکی الماری کا دروازہ کھولا اور اندر سے اسکا ہینڈ بیگ نکال کر فاروق صاحب کو تھمایا۔ پرس کھولتے ہی فاروق صاحب کا دماغ بھک سے اڑا۔ بیگ ہزار ہزار کے نوٹوں سے بھرا ہوا تھا۔ بھابھی بیگم نے فاتحانہ نگاہ فاروق صاحب پر پھر ایمان پر ڈالی۔
شرم سے ڈوب مرو ایمان ابھی تم چوریاں بھی کرنے لگیں؟ اور کس حد تک گرو گی تم؟ آج بابا زندہ ہوتے نا تو تمہارے کرتوتوں سے جیتے جی مر جاتے۔
بھائی میں نے کوئی چوری نہیں کی۔ میں نے عمرے کی غرض سے کمیٹی ڈالی تھی، میری کمیٹی نکلی ہے۔
عمرہ؟ کمیٹی؟ واہ ایمان واہ کتنی جلدی تم نے کہانی گھڑ لی اور کتنا پارسائی کا ڈھونگ رچاؤ گی؟ شرم آنی چاہئیے تمہیں۔ اپنے ہی گھر میں ڈاکہ ڈال کر تم عمرے پر جاؤ گی؟ اوہ بی بی حرام مال سے کی گئی نیکی کو مقبولیت نہیں ملتی۔ ایسے حج اور عمرے کسی کام کے نہیں منہ پر ماری جائینگی ایسی ڈھونگی عبادات، چوری کے پیسوں پر لنگڑا لنگڑا کر اب عمرے کئیے جائینگے۔ بھابھی بیگم زہر میں ڈوبے نشتر اسے چبھو رہی تھیں۔ فاروق بھائی کی شرمندگی کے مارے نظریں نہیں اٹھ رہی تھیں۔
کالک ہو تم میرے لئیے دین کے نام پر بھی دھبہ ہو، داغ ہو میرے لئیے تم داغ وہ داغ جس نے میری زیست بدنما بنا دی ہے، نفرت ہے مجھے تم سے۔۔۔ شرم آتی ہے تمہیں اپنی بہن کہتے ہوئے۔۔۔ اللہ کرے تم مر جاؤ۔ دل سے تو تم میرے بہت پہلے اتر گئیں تھیں آج نظروں سے بھی گر گئیں۔ اب تم زندہ رہو یا مرو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
پیسے بھابھی بیگم کو تھماتے بیگ ایمان کے منہ پر مارتے پُر تاسف نگاہ اس پر ڈالتے وہ چلے گئے۔ ایک تضحیک آمیز نگاہ ایمان پر ڈالتی بھابھی بیگم بھی انکے پیچھے چل دیں۔
ان دونوں کے جانے کے بعد وہ بری طرح پھوٹ پھوٹ کر روئی۔ آج اس کی ضبط کی تمام طنابیں چٹخ گئیں۔ دل کی گھٹن تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ آنسو پلکوں کی باڑ سے کود کر دھڑا دھڑ خودکشی کرنے لگے۔ دونوں ہاتھ لرزیدہ لبوں پر رکھ کر اس نے اپنی چیخوں کا گلا گھونٹا۔ اللہ تو جانتا ہے ناں کہ میں چور نہیں ہوں؟ ایمان بے بس کمزور مجبور و مقہور ضرور ہے مگر اسکا ایمان کمزور نہیں تو جانتا ہے ناں کہ میں جھوٹی نہیں ہوں؟ وہ زار و قطار رو رہی تھی اور اللہ سے باتیں کر رہی تھی۔ باہر سے کھیل کر آتا خزیمہ ایمان کے کمرے کے باہر سے گزرا تو اسے گھٹی گھٹی رونے کی آواز سنائی دی۔ وہ بلا وہیں پھینک کر تیزی سے اندر آیا تو دھک سے رہ گیا۔ سامنے زمین پر بیٹھی ایمان تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی۔ اپو کیا ہوا آپکو؟ ایسے کیوں رو رہی ہیں؟ مت روئیں ایسے اپو مت روئیں۔اس نے ایمان کے آنسو پونچھے۔ خزیمہ کیسے نہ رؤوں؟کیوں نہ رؤوں؟ ایک بے بس انسان اب کیا رو بھی نہیں سکتا؟ خزیمہ آپ سچے ہوں کوئی آپکو جھوٹا کہے، آپ بے قصور ہوں، کوئی آپ کو چور ثابت کرے آپکے دین پر انگلی اٹھائے، آپکے ایمان کو جج کرے، آپکی معذوری پر آپکو طعنے دے، آپ پر یقین نہ کرے، آپ پر اعتبار نہ کرے، آپکی ہستی کو بے مول کر جائے، کوئی آپکو اپنی زیست کا داغ سمجھے، آپکو موت کی بدعائیں دے تو کیا آپ روئیں بھی نہ؟ خزیمہ یہ جو اپنے ہوتے ہیں یہ کیوں اپنے نہیں ہوتے؟؟؟ آج وہ درد کی انتہاء پر کھڑی تھی۔ عمومًا وہ خزیمہ سے ایسی باتیں نہ کرتی تھی مگر آج دل اتنا شکستہ تھا کہ زرا سی ہمدردی پاتے ہی وہ خزیمہ کے سامنے پھٹ پڑی۔
اپو ہوا کیا ہے؟ کس نے آپ کو یہ سب کہا؟
خزیمہ ناسمجھی سے اس سے پوچھنے لگا۔
آپکی ماما کی رنگ گم ہو گئی ہے۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ میں نے وہ رنگ چوری ہے۔ خزیمہ میں نے چوری نہیں کی۔ میں کیسے یہ الزام برداشت کروں؟ میرا دل پھٹ رہا ہے میں کیا کروں؟ وہ کرب کی انتہاؤں پر تھی۔
کونسی رنگ اپو؟ وہ جو بابا نے ماما کو اینی ورسری پر گفٹ کی تھی؟
ہاں وہی رنگ کیا تم نے دیکھی ہے کہیں؟
اپو وہ رنگ تو ماما نے خود سیل کی ہے کل وہ میرے ساتھ بازار گئی تھیں نا تو وہ رنگ انہوں تب بیچ دی تھی۔ میری آنکھوں کے سامنے انہوں نے انکل کو رنگ دی بدلے میں انکل نے انہیں پیسے دئیے۔
یہ کیا کہہ رہے ہو آپ؟ حد درجہ بے یقینی سے اس نے پھٹی آنکھوں سے خزیمہ کو دیکھا۔ اپو میں جھوٹ نہیں کہہ رہا میں سچ بول رہا ہوں بالکل سچ۔ کافی دیر تو ایمان ساکت بیٹھی رہی، اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ بھابھی بیگم اس حد تک بھی جا سکتی ہیں مگر خزیمہ کے لہجے کی سچائی نے اسے یقین کرنے پر مجبور کر دیا۔ کافی دیر بعد وہ بولی تو آواز میں بہت ٹھہراؤ تھا۔
خزیمہ جو بات آپ نے مجھے ابھی بتائی ہے اسکا ذکر کسی سے نہ کرنا۔
کیوں اپو؟ کیوں نہیں بتاؤں؟ میں پاپا کو بتاؤں گا، ضرور بتاؤں گا، ان سے کہوں گا جھوٹی اپو نہیں، ماما ہیں۔ آپ نے کوئی چوری نہیں کی۔
خزیمہ آپ ایسا کچھ نہیں کرو گے۔ اول تو بھائی آپکا یقین نہیں کریں گے اور بالفرض اگر کر بھی لیا تو پھر بھابھی پر غصہ کریں گے اور ایسے گھر میں جھگڑا ہو گا اور جہاں جھگڑا ہو وہاں سے برکتیں اٹھ جاتی ہیں
تو اپو وہ بھی تو آپ سے جھگڑا کرتی ہیں؟
خزیمہ جھگڑے کے جواب میں جھگڑا نہیں کرتے۔ برائی کو بھلائی سے دور کرتے ہیں، رشتوں کو جوڑے رکھنے کے لئیے بعض اوقات حق پر ہوتے ہوئے بھی چپ رہنا پڑتا ہے۔ جھگڑا چھوڑنا پڑتا ہے، سچے ہوتے ہوئے بھی جھکنا پڑتا ہے اور یہ کام ظرف والے، نصیبوں والے کرتے ہیں۔ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔
تمہیں پتہ ہے ہمارے نبی نے فرمایا: جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے میں اس جنت میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں۔
خزیمہ دنیا عارضی ہے۔ یہاں کے دکھ سکھ سب فانی ہیں اور جنت دائمی ہے تو کیوں نہ ہم فانی دنیا دے کر بقاء کا سودا کر لیں؟ بس زرا سا صبر اور بہت ساری ہمت بدلے میں ہمیشہ کا سکون۔ خزیمہ تم اپنی اپو کا ساتھ دو گے نا؟ یہ راز رکھو گے نا؟
جی اپو میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا مگر میری ایک شرط ہے۔
بہت چالاک ہو گئے ہو اب تم راز رکھنے کے بدلے اپنی شرائط منواؤ گے؟ اچھا بولو کیا شرط ہے؟
آپ اب نہیں روئیں گی۔
اوکے بابا نہیں روتی۔ تم ایسا کرو مجھے پانی لا کر پلاؤ گلا خشک ہو رہا ہے۔ اس نے اسکی شرط کے آگے سر تسلیم خم کرتے اسے پانی پلانے کا بولا۔
اوکے اپو ابھی لایا۔ وہ پانی لینے چلا گیا اور ایمان نے اپنے دونوں ہاتھوں پر اپنا سر گرا لیا۔
یہ امتحان جذب دل ہائے کیسا نکل آیا
الزام ہم کو دیتے تھے، قصور اپنا نکل آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨
مجیب الرحمان صاحب کو اللہ نے بے پناہ دولت و عزت سے نوزا تھا۔ گھر میں نوکروں کی فوج اور آفس میں ملازمین کی قطار کھڑی ہوتی۔ ہر قسم کا سامانِ زندگی جاہ و حشمت انکا مقدر تھی گویا دنیا حقیر کر کے انکے قدموں میں ڈال دی گئی تھی۔ اللہ نے دنیاوی زینت مال تو دیا مگر یہ گھرانہ اولاد جیسی عظیم نعمت سے محروم تھا۔
کوئی چیز انسان کے پاس ہو تو ویسی قدر نہیں ہوتی اور اگر وہی چیز نہ ہو جو اسکے دل کو بھاتی ہو تو یہ کمی حسرت بن جاتی ہے اور انسان کا دن کا سکون اور رات کی نیند غارت کر جاتی ہے۔ قبل اس کے کہ یہ تمنا کسک بنتی، اللہ نے اس گھرانے پر رحم کیا اور شادی کے دس سال بعد فارہ کو ماں بننے کی خوشخبری ملی۔ ان کا تو سر سجدے سے نہ اٹھتا تھا۔
مجیب صاحب کو بیٹی کی بہت چاہ تھی۔ جب فارہ کے ماں بننے کی خوشخبری ملی تو انہوں نے بہت دعائیں کیں کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے نوازنا مگر وائے رے قسمت ساری دعائیں معلق ٹھہریں اور فارہ نے عمر کو جنم دیا۔ فارہ کا کیس کافی کریٹیکل تھا۔ کچھ اندرونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ڈاکٹرز مایوس تھے کہ اب فارہ دوبارہ کبھی ماں نہیں بن سکتیں۔
مجیب صاحب پر یہ خبر پہاڑ بن کر ٹوٹی۔ انہیں تو بیٹی کی اس قدر شدید خواہش تھی کہ جہاں کوئی چھوٹی بچی دیکھ لیتے وہیں اٹک جاتے۔ شاپنگ مال میں بچیوں کی چیزوں، فراکوں، گڑیوں کو دیکھ کر رونے لگتے۔ وہ رب کی رحمت سے مایوس اب بھی نہیں تھے۔ رات کے آخری پہر اٹھ کر گریہ و زاری کرتے، دعا کرتے، خدایا تیرے خزانوں میں کوئی کمی نہیں، میں تیری رضا میں راضی ہوں مگر اس دل کا کیا کروں جس کی خواہش ہے کہ کوئی چڑیا میرے بھی آنگن میں چہچہائے۔
فارہ انکی یہ حالت دیکھ کر تڑپ اٹھتیں اور مشورہ دیتیں کہ آپ کوئی بچی ایڈاپٹ کر لیں مگر انکی ایک ہی ضد تھی کہ دنیا والوں سے نہیں مانگوں گا۔ میں اس شہنشاہ سے سوال کرتا ہوں جو سب کو دیتا ہے اور ساری مخلوق کو عطا کرنے کے بعد بھی اسکے خزانوں میں کمی نہیں ہوتی جس رب نے عمر دیا اسکے لئیے بیٹی دینا کوئی مشکل نہیں۔
وہ حرمت کے مہینے تھے جب مجیب صاحب فارہ اور عمر کو ساتھ لئیے بیت الحرم پینچ گئے۔ کعبے کے غلاف کو تھام کر اس تڑپ سے بیٹی کی دعا مانگی کہ فارہ کی آنکھیں بھی بھر آئیں۔
ربا صرف ایک بیٹی عطا کر دے تو مریم کنواری کو اولاد دے سکتا ہے، بانجھ کے بطن سے یحییٰ پیدا کر سکتا ہے، بڑھاپے میں ابراہیم کو اسماعیل جیسی نعمت سے نواز سکتا ہے تو میں بھی تو تیرا ہی بندہ ہوں تیرے در پر بھکاری بن کر آیا ہوں تو داتا ہے بس ایک بیٹی دے دے۔
حج سے واپس آنے کے بعد فارہ کی طبیعت گری گری رہنے لگی تو جب ڈاکٹر سے چیک اپ کروایا تو وہ ہو گیا جو ناممکن تھا۔ دعائیں انہونی کو بھی ہونی کر دیتیں ہیں۔ فارہ ایک بار پھر حاملہ تھیں۔ مجیب صاحب تو سنتے ہی سجدہ ریز ہو گئے۔ مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ ملازمین کی تنخواہ بڑھا دی گئی۔ کئی گھروں میں راشن بھجوایا گیا۔ کثرت سے صدقہ نکالا گیا۔ علماء سے دعائیں کروائی جانے لگیں۔
وہ رمضان کا مقدس مہینہ تھا جب مجیب صاحب کی دعاؤں کو اللہ نے شرفِ قبولیت بخشا اور ننھی ہادیہ نے دنیا میں آنکھ کھولی۔ کوئی جشن سے جشن کا سما تھا جو ہادیہ کی پیدائش پر منایا گیا۔ وسیع پیمانے پر دسترخواں سجائے گئے، پورا ماہ روزداروں کے روزے کھلوائے گئے۔ مجیب صاحب کی خوشی تو دیدنی تھی انکا بس چلتا تو اپنا آپ ہادیہ پر وار دیتے۔
عمر گھنٹوں ہادیہ کو گود میں لئیے بیٹھا رہتا۔ اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ تکتا رہتا۔ مجیب صاحب روز آفس سے آتے ہوئے اسکے لئیے ڈھیروں چیزیں اٹھائے لا رہے ہوتے۔ فارہ کو بھی اپنی چھوٹی سی گڑیا بہت عزیز تھی وہ اسے پیار سے دیکھتی جاتیں اور اسکے نصیبوں کی بھلائیاں طلب کرتی جاتیں۔ دیا بے پناہ خوبصورت تھی جو اسے دیکھتا پیار کرنے پر مجبور ہو جاتا
اور کیوں نہ ہوتا؟
جبکہ وہ مقبول دعا تھی، رب کی عطا تھی، وہ بخشش تھی اور قصرِ ہادیہ کی اکلوتی شہزادی تھی۔ گھر بھر کی اس میں جان تھی، بھلا کوئی اس سے بھی زیادہ خوش نصیب تھا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨
فاروق آپ میری بات کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لے رہے؟ میں آپکو بتا رہی ہوں میں ہر چیز برداشت کر سکتی ہوں مگر جہاں معاملہ میری اولاد کی تربیت اور بچوں کی تعلیم کا آئے گا تو میں کوئی کمپرومائز نہیں کرونگی۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے خزیمہ کو ہم بورڈنگ سکول میں ڈال رہے ہیں۔ بھابھی بیگم نے حتمی انداز میں اپنا فیصلہ صادر کیا۔ شیک پیتے فاروق صاحب کو غوطہ لگا۔ انہوں نے کھانستے کھانستے گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
واٹ؟ تم پاگل ہو؟ کیا کہہ رہی ہو یار خزیمہ اور بورڈنگ سکول؟ کیسے رہے گا وہ ہمارے بناء؟ اور چلو فرض کرو وہ رہ بھی لے تو ہم کیسے رہیں گے اسکے بغیر؟
فاروق ہم رہ لیں گے اور اسے بھی رہنا پڑے گا، اسی میں اسکی بھلائی ہے۔ میں ماں ہوں اسکی دشمن تھوڑی ہوں۔بس میں نے سوچ لیا ہے اب خزیمہ اس گھر میں نہیں رہے گا۔ انکے لہجے میں قطعیت اور انداز دوٹوک تھا۔
وجہ جان سکتا ہوں اس اچانک فیصلے کی؟
فاروق وہ اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دے رہا، ہر وقت ایمان کے کمرے میں گھسا رہتا ہے۔ ٹیوشن جانے کو بولو تو کہتا ہے سب بچے اپو کے پاس پڑھنے آتے ہیں مجھے بھی اپو سے پڑھنا ہے۔ میں ٹیوشن نہیں جاؤنگا۔ وہ میرے بچوں کو بگاڑ رہی ہے۔
اور تو اور وہ جو چھٹکی علایہ ہے، آج تو اس نے بھی مجھ سے خوب بدتمیزی کی۔ میں نے اسے مارا کہ آئندہ مجھے ایمان کے آس پاس دکھائی نہ دے تو آگے سے منہ در منہ جواب دینے لگی کہنے لگی۔
اپو اے میلی دھسون دی دھسون دی دھسون دی آپ تیا تر لین دی؟ (پھپو ہیں میری گھسوں گی گھسوں گی گھسوں گی آپ کیا کر لیں گی؟) اس قدر انسلٹ ہوئی میری ایمان کے سامنے وہ یہ سب اسی کی شہہ پر تو کر ہے ہیں۔ بھابھی بیگم علایہ کی بدتمیزی پر حد درجہ رنجیدہ غصے میں بپھری ہوئی فاروق صاحب کو شکایت لگا رہی تھیں اور انکی بات سن کر اور علایہ کی نقل اتارنے پر فاروق صاحب کی بے ساختہ ہنسی نکل گئ جس پر بیگم صاحبہ مزید تپ گئیں۔
ہنسیں آپ۔۔۔ آپ کے لئیے تو یہ سب کچھ جوک ہے نا؟ مگر میں ایک ماں ہوں اپنی اولاد کو یوں برباد نہیں ہونے دونگی پورا دن میں گھر بھر کی خدمت کروں، صلے میں اولاد بدتمیزی کرے اور باپ بیٹھ کر ہنسے۔
کیا ہو گیا ہے یار؟ میں آپ پر نہیں علایہ کی بات پر ہنسا ہوں اور جہاں تک خزیمہ کی بات ہے تو یار میرا نہیں دل مان رہا اسے تنہا چھوڑنے پر میں خود اسے بٹھا کر سمجھاؤں گا کہ پڑھائی پر توجہ دے وہ ذہین اور فرمانبراد بچہ ہے مان جائے گا۔فاروق صاحب نے رسان سے سمجھایا
مگر بھابھی بیگم کی سوئی اٹک چکی تھی۔ وہ فیصلہ کر چکی تھیں اور جو کام وہ ٹھان لیں کر کے ہی دم لیتی تھیں۔
فاروق آپ کےسمجھانےکا کیا فائدہ؟ وہ یہاں رہ کر نہیں پڑھ سکتا گھر کا ماحول اس قدر ٹیشن ذدہ ہے، روز آپکی بہن نے ایک نیا ہنگامہ کھڑا کیا ہوتا ہے۔ اس سب کی وجہ سے اسکی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔ اسکے لئیے ماحول کی تبدیلی از حد ضروری ہے۔
اوکے جناب! اگر آپ اسے گھر سے نکالنے پر تُل ہی گئی ہیں تو میں اسکا ایڈمیشن کروا دیتا ہوں مگر ایک بات میری یاد رکھنا اگر بعد میں رونا دھونا مچایا یا بار بار ملنے کی ضد کی تو میں نہیں ملوانے لیکر جاؤنگا۔ فاروق صاحب نے بالآخر ہار تسلیم کر لی۔
نہیں جاؤنگی بار بار ملنے میں اپنے بچے کے اچھے مستقبل کے لئیے دل پر پتھر رکھ کر صبر کر لونگی، آپ بس جلد از جلد اسکا داخلہ کروائیں۔ ان کا بس چلتا تو وہ آج ہی اسے چھوڑ آتیں۔ بس وہ کسی طرح ایمان کو چوٹ پہنچانا چاہتیں تھیں، چاہے بدلے میں اپنی ہی اولاد کو خود سے ہی کیوں نہ دور کرنا پڑے۔
کچن سے نکلتی ایمان نے اتفاقًا بھائی اور بھابھی بیگم کی یہ سب پلاننگ سن لی اور اس پر تو یہ باتیں گویا قیامت بن کر ٹوٹیں۔
خزیمہ کی جدائی کا خوف ہی اس قدر جان لیوا تھا کہ وہ حواس باختہ رہ گئی۔ اپنی وہیل چئیر گھسیٹتی وہ بھائی صاحب کے مقابل آ گئی۔
اسے لگا اگر آج وہ چپ رہی تو ہمیشہ کے لئیے اپنی قوتِ گویائی کھو بیٹھے گی
بھائی جان یہ ظلم مت کرئیے خزیمہ بہت چھوٹا ہے وہ کیسے اکیلے رہے گا؟ اسے مت بھیجیں بورڈنگ سکول میں اسے خود پڑھا لونگی۔ میں وعدہ کرتی ہوں اس بار وہ ٹاپ کرے گا بس آپ آخری موقع دے دیں اسے، پلیز یہ ظلم مت کریں۔ وہ ہاتھ جوڑے فاروق صاحب کے آگے گڑگڑائی۔
تم چھپ کر ہماری باتیں سن رہی تھیں شرم کرو ایمان؟ کیا تمہارے اسلام نے تمہیں یہ نہیں بتایا کہ شوہر اور بیوی کی باتیں چھپ کر نہیں سنتے؟ بھابھی بیگم نے زہریلا نشتر اسکی اوٹ اچھالا۔
بھابھی میں نے چھپ کر آپکی باتیں نہیں سنی وہ تو میں۔۔۔
دیکھو ایمان یہ ظلم نہیں ہم جو بھی کر رہے ہیں اپنے بچے کے بھلے کے لئیے کر رہے ہیں۔ سوال خزیمہ کے مستقبل کا ہے تو میں اس امر میں کسی بھی کسی کی کوتاہی کا متحمل نہیں ہو سکتا، جہاں تک بات ہے تمہارے پڑھانے کی تو میں اپنے بچوں پر تمہارا سایہ بھی نہیں پڑنے دینا چاہتا تم کیا تربیت کرو گی انکی؟ تمہیں تو خود تربیت کی ضرورت ہے۔ اب فضول بحث و مباحثے کی کوئی ضرورت نہیں، خزیمہ ہماری اولاد ہے اور ہم اسکے مستقبل کے بارے میں تم سے بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اب دفع ہو جاؤ یہاں سے، میں مزید تم سے الجھنا نہیں چاہتا۔ یہ اجنبی بیگانہ لہجہ اور سرد الفاظ اسکے سگے ماں جائے کے تھے۔ لفظوں کے دانت نہیں ہوتے مگر یہ کاٹ لیتے ہیں اور جب یہ کاٹتے ہیں تو روح تک لہولہان ہو جاتی ہے۔
اب کچھ کہنا عبث تھا وہ اپنی وہیل چئیر گھسیٹتی کمرے میں آ گئی۔
اس کا انداز ایسا جارحانہ تھا کہ گویا خود کو انہی پہیوں کے نیچے کچل ڈالے گی۔ آج اسکا دنیا فنا کر دینے کا دل چاہ رہا تھا۔ غم ہی اس قدر شدید تھا۔
بابا آپ کہتے تھے نا کہ ظلم کو صبر سے سہنے والا بھی ظالم ہوتا ہے۔
یہ ظلم نہ صرف خود پر ہوتا ہے بلکہ مقابل پر بھی ہوتا ہے۔ ظالم کو روک دینا چاہئیے، ٹوک دینا چاہئیے، اپنا دفاع کرنا چاہئیے، اپنے حق کے لئیے آواز اٹھانی چاہئیے تو بابا میں نے آپکی اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے آج آواز اٹھائی
نتیجہ کیا نکلا؟ فقط ذلت رسوائی طعنے اذیت ڈانٹ پھٹکار ہرزہ سرائی۔۔۔
بابا میں نے اب تک اپنی ذات پر ہوتا ہر ظلم لبوں پر قفل ڈالے، صبر سے سہا مگر اپنے پیارے پر ظلم کیسے برداشت کروں؟ خزیمہ میری جان ہے، نہیں رہ سکتی میں اسکے بناء۔۔۔ بابا میں نے آج تک رب رحمان سے کوئی شکوہ نہیں کیا ہر غم ہنس کر سہا آج دل چاہ رہا ہے چیخ چیخ کر پوچھوں
کہ کیوں اللہ تعالیٰ کیوں؟ یہ آزمائش کیوں ڈالی مجھ پر؟ اب میں شکستہ ہو چُکی ہوں، اب مجھ میں غم سہنے کی ہمت نہیں، اب ہلکی سی بھی ضرب لگی تو میں ٹوٹ کر بکھر جاؤنگی۔
آج تک ہر غم پر مجھے لگا کہ اس سے بڑی کوئی تکلیف نہ ہوگی، اس سے بڑی کوئی اذیت نہ ہوگی مگر ہر دکھ پہلے سے بڑھ کر شدید ہوتا ہے گویا کہ آزمائشات نے میرے قلب کا در کھوج لیا ہے۔ ہر سو بس سب عسر ہی عسر ہے ہر بار پہلے سے بڑی مشقت آتی ہے۔
خدایا! اب میں ٹوٹنے لگی ہوں۔ لحظہ بہ لحظہ شکستہ دل و تہی داماں رہ گئی ہوں۔ اب تو میرے جینے کا واحد سہارا بھی مجھ سے چھینا جا رہا ہے۔ میرا اکلوتا ہم درد، واحد مونس و غمگسار بھی مجھ سے دور جا رہا ہے۔ میں کیا کروں میرا دم گھٹ رہا ہے؟ میں مر رہی ہوں، دھیرے دھیرے اللہ اب بس تو رحم کر دے۔ خدایا! اب مزید کوئی دکھ میرے نصیب میں نہ لکھنا۔ اب میں کوئی وچھوڑا نہیں سہہ سکتی۔
تڑپ تڑپ کر روتے رحمان کے رحم کو ابھارتے وہ یہ بات جانے کیسے بھول گئی کہ رب رحمان ستر ماؤں سے زیادہ رحیم وہ اس وقت تک کوئی در بند نہیں کرتا جب تک نئے در وا نہ کر دے۔ وہ ایک راہ بند ہونے سے پہلے ہزار راستے بنا دیتا ہے، وہ درجے بلند کرنے کے لئیے آزمائشات میں ڈالتا ضرور ہے مگر غموں کے اندھیروں میں تنہا نہیں چھوڑتا۔ وہ غیور رب ہے، وہ قربانی مانگتا ضرور ہے مگر قربانی لیتا نہیں ہے۔ ابراہیم آگ میں کودے ضرور اسنے جلنے نہ دیا اور جب اسماعیل چھڑی تلے آئے اسنے ذبح نہ ہونے دیا۔ وہ اپنے بندوں کو لاوارث نہیں چھوڑتا۔ بس جانچ پرکھ کرتا ہے۔ وہ بھی کھرا کھوٹا الگ کرنے کے لئیے پھر جسے وہ چن لے رفعتیں بھی اس پر ناز کرتی ہیں۔ وہ غم پر غم ضرور دیتا ہے مگر ان تکلیفوں میں بھی ساتھ نبھاتا وہ با وفا رب ہے، نہ تنہا چھوڑتا ہے، نہ بیزار ہوتا ہے۔ جہاں غم کی انتہاء ہوتی ہے وہیں سے تو اسکے رحم کی ابتداء ہوتی ہے کہ اسنے اپنے نفس پر رحمت واجب کر لی جب کوئی غم کا مارا شکستہ قلب لئیے تہی داماں اسکے دامانِ رحمت میں پناہ لینے آتا ہے تو وہ رحیم و کریم رب تمام عیوب سمیت سمیٹ لیتا ہے۔ وہ کمال رفو گر ہے، بڑی ہی محبت سے ٹوٹے دل کو رفو کرتا ہے، شکستہ قلب جوڑ دیتا ہے۔
وہ بہت عظیم مصور ہے۔ اسنے بہت محبت سے دلوں کو بنایا ہے، انہیں رنجیدہ نہیں دیکھ سکتا کہ شکستہ قلوب ہی تو اسکا مسکن ہیں۔ ٹوٹے دلوں میں ہی تو وہ بستا ہے۔ تکلیفوں پر ہی تو وہ یاد آتا ہے۔
وہ بہت ہی عظیم خلَِاق ہے۔ اسے پتہ ہے اپنی تخلیق کو کب کیسے سنبھالنا ہے، کہاں کس طرح سہارا دینا ہے وہ جانتا ہے کب کونسا رنگ بھرنا ہے، اسے معلوم ہے بکھرے وجود کو کیسے سمٹنا ہے، کیا بھلا وہ نہیں جانے گا جس نے کمال محبت سے پیدا کیا؟ صرف اسی کو ہی تو معلوم ہے کہ ادھڑی پیوند زدہ روح کا کونسا ٹانکا کہاں اور کیسےجوڑنا ہے؟
بس زرا سا صبر بہت ساری ہمت، قربانی، عزم اور حوصلہ کہ جبر کے دن قلیل اور رب کی محبت کثیر ہے۔ ❤️❤️
جب غم حد سے بڑھ جائےخوشی نزدیک ہوتی ہے
ہو ہی جاتا ہے سویرا رات جب تاریک ہوتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨
سہ پہر کا وقت تھا۔ سب باغ میں بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ساتھ ساتھ دیگر لوازمات سے بھی خوب انصاف ہو رہا تھا۔ ان سب سے زرا فاصلے پر قصرِ ہادیہ کی اکلوتی شہزادی سنہری زنجیروں سے لٹکے جھولے پر جھول رہی تھی۔ زنجیروں کو گلاب کی لڑیوں سے سجایا گیا تھا۔ پنک لباس زیب تن کئیے وہ اس وقت کوئی راجکماری لگ رہی تھی جسے نوراں دھیرے دھیرے جھولا دے رہی تھی۔ ہنیا کی نگاہ اس پر پڑی تو وہ بے خود اسے تکتی چلی گئیں وہ سنہری شام کا بے حد حسین منظر تھا بس لمحہ لگا انہیں فیصلہ کرنے میں اورپھر آن واحد میں انہوں نے مجیب صاحب سے دیا کا رشتہ مانگ لیا۔
بھائی جان بیٹیاں تو پرایا دھن ہوتی ہیں، امانت ہوتی ہیں، بہت لاڈ و چاہ سے ماں باپ پالتے ہی اس لئیے ہیں کہ وہ اک شان سے اپنی گڑیا وداع کر سکیں۔ میں جھولی پھیلا کر آپ سے دیا کا سوال کرتی ہوں، مجھے مایوس مت لوٹائیے گا۔
عمر نے حیرت سے پھپو کو دیکھا اور مجیب صاحب کے حلق میں سینڈوچ اٹکا، فارہ بالکل خاموش جہاں کی تہاں بیٹھی رہ گئیں ۔
واحد شاہ زر تھا جس کا دل یہ بات سن کر بلیوں اچھل رہا تھا۔ اس پر تو گویا شادئ مرگ کی کیفیت طاری تھی۔
محترمہ دیا صاحبہ ان سب کی باتوں سے یکسر انجان و بے نیاز نوراں سے اس کے گاؤں کی باتیں سنتی قہقے لگا رہی تھی ساتھ ساتھ جھولتی جا رہی تھی۔
بھائی جان آپ جانتے ہیں جب دیا پیدا ہوئی تھی، میں نے تو تب ہی اسے مانگ لیا تھا مگر بابا جان نے منع کر دیا کہ ابھی سے رشتہ جوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں اگر تمہارا بیٹا میری گڑیا کہ قابل ہوا تو میری اولین ترجیح میرا نواسہ ہو گا اور اگر وہ میری دیا کے قابل نہ ہوا تو میں اس سے بہتر اور مخلص شخص تلاش کرونگا۔
بھائی میں نے شاہ کو دیا کے شایانِ شان بنانے کے لئیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں۔ آج میرا شاہ زر اس قابل ہے کہ دیا کا ہاتھ تھام سکےآپ نہ مت کرئیے گا۔ میری دیرینہ آرزو ہے کہ ہادیہ میری بیٹی بنے۔
مجیب صاحب سے چائے پینا مشکل ہو گئ۔ انہوں نے کپ رکھ دیا۔
آہ۔۔۔ تو وہ وقت آ گیا جس سے وہ ساری زندگی ڈرتے رہے۔ کیسے وہ اپنے دل وجگر کا ٹکڑا اپنے ہاتھوں کسی کو سونپ دیں؟ دیا تو انکی جان تھی وہ کیسے اپنی جان نکال کر کسی دوسرے کا تھما سکتے تھے؟ جبکہ جان تو سب کو پیاری ہوتی ہے۔ اسکی تو اک مسکراہٹ پر وہ فدا ہو جاتے، دن بھر کی تھکان بھول جاتے، وہ صرف دو آنسو بہا کر اپنی ہر بات منوا لیا کرتی تھی، وہ تو انکی لاڈو تھی، شہزادی بیٹی تھی، وہ جس نے پہلا لفظ ہی بابا بولنا سیکھا تھا۔ ہنیا جانے کن الفاظ میں اپنا مدعا بیان کر رہی تھیں، وہ سن ہی کب رہے تھے؟
ان کی نگاہوں میں تو وہ دن گھوم رہا تھا جب گلابی کمبل میں لپٹی ایک ننھی پری انکی گود میں لا کر ڈالی گئی وہ انہیں اتنی حسین اور دل کے قریب لگی کہ بے ساختہ انہوں نے اپنے لب اس گڑیا کے ماتھے پر رکھ دیئے۔
انہیں تو وہ پہلا قدم یاد آ رہا تھا جو اس نے انکی انگلی تھامے اٹھایا تھا۔
وہ سکول کا پہلا دن جب وہ یونیفارم پہنے دو چوٹیاں باندھے کندھے پر بستہ لٹکائے انکے ہمراہ سکول پہنچی،
اس روز اسے سکول چھوڑتے ہوئے وہ کتنا روئے تھے۔ محض چند گھنٹوں کی جدائی پر اور آج اسے ہمیشہ کے لئیے وداع کرنے کا وقت آ گیا اتنی جلدی؟ یہ بیٹیاں اتنے جلدی کب کیسے کیوں بڑی ہو جاتی ہیں؟ وہ کیسے اسے خود سے جدا کریں بھلا کوئی اپنے ہی ہاتھوں اپنے سینے سے دل نوچ کر پھینک سکتا ہے؟ اسکی محبت تو انکی رگ رگ میں سمائی تھی تو وہ اپنی کس کس رگ کو جسم سے الگ کرتے؟ انکے حلق میں کوئی گولا سا اٹکا، ہنیا کا چہرہ نگاہوں کے سامنے دھندلانے لگا۔
بھائی صاحب آپ کچھ بولتے کیوں نہیں؟ دیکھئیے میں نے بہت مان سے اپنے بھائی کے سامنے دستِ سوال دراز کیا ہے انکار مت کرئیے گا۔ ہادیہ پر نگاہیں جماتے اس پل وہ خود بھی آس و نراس کے جھولے میں جھول رہی تھیں۔ شاہ کی تو گویا سانسیں مجیب صاحب کے جواب کی مرہونِ منت تھیں سماعتیں جواب کی منتظر تھیں۔ عمر اور فارہ اب بھی خاموش تماشائی بنے بیٹھے تھے۔
دیا سے پوچھوں گا بلکہ فارہ تم پوچھ لینا اگر وہ مان گئ تو میری طرف سے بھی ہاں ہے۔ ہنیا کی کب سے اٹکی سانس بحال ہوئی اور شاہ زر کے دل کے آنگن میں پھول کھل اٹھے۔ جواب دیکر مجیب صاحب رکے نہیں اٹھے اور دیا کی طرف چلے آئے۔ تیز تیز جھولا جھولتی اور پٹر پٹر بولتی دیا نے انہیں اپنی طرف آتا دیکھ جھولے کی رفتار کم کی۔ اسکے پاس آکر مجیب صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اور اپنے آنسو چھپاتے تیزی سے اندر کی جانب بڑھ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔ ✨✨
کیا آپ جانتے ہیں کہ ایمان ایک اپاہج و معذور عورت ہے جسکے چاند چہرے پر بدنما گرہن لگا ہوا ہے؟ فاروق صاحب نے ایک نظر مقابل کو دیکھتے چبھتے لہجے میں استفسار کیا۔
جی مجھے انکے بارے میں سب معلوم ہے اور اس حقیقت کا ادراک ہونے کے بعد ہی ادھر کا رخ کیا ہے، پراعتماد لہجے میں جواب دیتے انہوں نے اپنی قمیص کی نادیدہ شکن دور کی۔
پھر تو آپ یہ بھی جانتے ہونگے کہ اس کے ماں باپ مر کھپ گئے ہیں اور ہم عیالدار ہیں جہیز کے نام پر اسے پھوٹی کوڑی تک نہیں دے سکتے؟ اب کے طنزیہ سوال بھابھی بیگم کی طرف سے تھا۔
دیکھیں خاتون میرے پاس اللہ کا دی ہر شے موجود ہے۔ میں نے اب تک آپ سے کسی چیز کا تقاضہ نہیں کیا، سوائے ایمان کے، یہاں میں صرف آپکی نند کا طالبگار بن کر آیا ہوں۔ میں عزت و محبت سے رشتہ جوڑنے آیا ہوں، سودے بازی نہیں کرنے آیا۔ مجھے معلوم ہے ایمان کے پیرنٹس کی وفات ہو چکی ہے، مجھے اس کے بارے میں الف تا یے سب معلوم ہے اور ان تمام تلخ حقیقتوں سمیت میں دل سے ایمان کو اپنانا چاہتا ہوں۔ میں اس قدر کم ظرف نہیں کہ محض ظاہری شکل و صورت اور مال نہ ہونے کی بنیاد پر کسی لڑکی کو ریجیکٹ کر جاؤں۔ میں ایسے کسی کی ہستی بے مول نہیں کرسکتا۔ میں کیوں انہیں اس چیز کا موکلف ٹھہراؤں جس میں وہ سرے قصوار ہیں ہی نہیں؟ میری نگاہ میں جسمانی عیب کمزوری نہیں، اصل کمزوری کم ظرفی ہے۔ مجھے ایمان چاہئیے تو اس کا مطلب بس یہی ہے کہ میں ان سے نکاح کر کے اپنے ایمان کی تکمیل چاہتا ہوں۔ باقی آپ لوگ اسکے بڑے ہیں، ولی ہیں آگے جو آپ کا فیصلہ ہوا وہ مجھے قبول ہے۔
یہ شادی کرنے کی وجہ؟ میرا مطلب ہے صرف ایمان ہی کیوں؟ آپ اس قدر شاندار پڑھے لکھے ہیں، دھن دولت کی بھی کمی نہیں، مستقبل بھی بے حد تابناک ہے، نہ کوئی خامی، نہ کوئی عیب، نہ ہی کوئی عذر اس سب کے باوجود ایک معذور لڑکی ہی کیوں؟ فاروق جو کب سے اس مہربان دھیمے لہجے والے مشفق شخص کو سن رہے تھے، وہ اپنی سوچوں کو بالآخر سوال کی صورت لبوں پر لے آئے۔
دیکھئیے میں کوئی فرشتہ یا عیب سے مبراء تو ہوں نہیں، کمی کوتاہیاں عیب مجھ میں بھی ہونگے۔ میرے سیاہ بالوں میں جھلکتے چاندی کے تار دیکھ رہے ہیں آپ اس عمر میں کون مجھے اپنی جوان دوشیزہ دے گا؟ اور صرف اتنا نہیں کبھی کبھی مائیگرین کا شدید درد اٹھتا ہے تو ایسے میں مجھے ایک سہارا درکار ہے کوئی مونس ہمدرد و غمگسار خاتون مجھے کسی اپنے کی ضرورت تھی۔ جب مس ایمان کا پتہ لگا تو سوچا کہ کیوں نہ دو ادھورے لوگ مل کر زیست کی کٹھنائیوں کا مقابلہ کریں؟ بس پھر رشتہ لے آیا۔
ابراہیم صاحب یہ دردِ سر اور بڑھاپا تو وقت کی دین ہے۔ آپ نے عالمِ شباب میں کیوں نہ شادی کی؟ بھابھی بیگم کسی طور مطمئن نہ ہو رہی تھیں۔ مسز فاروق جوانی میں شادی اس لئیے نہیں کی کیونکہ میں ایک لڑکی کو چاہتا تھا۔ بہت بعد میں ادراک ہوا میری محبت یکطرفہ تھی، وہ لڑکی میری فقط عزت کرتی تھی، محبت اسے کسی اور سے تھی۔ اس لڑکی کی شادی ہو گئی، میں اس شہر کیا وطن سے بھی قطع تعلقی اختیار کر گیا۔ بس دم گھٹتا تھا میرا اس وطن کی فضاؤوں میں تو سوچا یہاں سے چلا ہی جاؤں کہیں ایسا نہ ہو میری وجہ سے وہ لڑکی رسوا ہو جائے تو میں یہاں سے چلا گیا میں جوگ لینے والوں میں سے نہ تھا کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ نکاح میرے نبی کی سنت ہے اور میری شادی کرنے کی میری والدہ کی بھی شدید خواہش تھی تو ماں کا حکم و اطاعت میری محبت پر بھاری تھی۔
والدہ نے ایک لڑکی حوریہ سے میرا رشتہ جوڑ دیا، میری منگنی کے کچھ عرصے بعد والدہ کو فالج کا اٹیک ہو گیا۔ پھر ایک دن حوریہ نے مجھے کہا کہ وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی وہ مجھے تو قبول کر رہی تھی مسئلہ اس کے لئیے میری والدہ تھیں۔ میں اسکے خاطر اپنی والدہ کو نہیں چھوڑ سکتا تھا کیونکہ میں بن باپ کی اولاد تھا۔ میری پیدائش سے قبل میرے والد کی روڈ ایکسیڈینٹ میں ڈیتھ ہو گئی تھی۔ مجھے میری والدہ نے ماں اور باپ دونوں بن کر پالا تھا۔ انہوں نے اکیلے جدوجہد کر کے مجھے معاشرے کا بہترین فرد بنایا، میری غیرت و اخلاص نے گوارہ نہ کیا کہ میں اپنی والدہ کو بیمار و لاچار تنہا چھوڑ کر اپنی خوشیوں کے بارے میں سوچوں۔
بس حوریہ کے جانے کے بعد میں نے شادی کا ارمان اپنے دل سے نکال دیا۔ ایک تجربہ میرے لئیے کافی تھا، ماں میری تھی تو انکی خدمت بھی مجھ پر ہی فرض تھی میں کیوں کسی لڑکی کی زندگی اجیرن کرتا؟
اگر کوئی لڑکی میری محبت یا میری ماں کو مجبور دیکھ کر ہمدردی میں مان بھی جاتی تو کیا گارنٹی تھی کہ وہ میری ماں سے حسنِ سلوک کرتی اور انہیں اپنے لئیے بوجھ نہ سمجھتی؟
میں نے عرصہ ہوا شادی کا خیال ترک کر دیا تھا چھ دن پہلے میری والدہ کا انتقال ہوا ہے۔ انکی خواہش پر انکی پاکستان میں تدفین ہوئی۔ یہاں آیا تو پتہ لگا ایمان بھی میری مانند تنہا اور بے سہارا ہیں تو رشتہ لیکر آ گیا۔ تفصیل سے جواب دیتے والدہ کے ذکر پر انکی آواز بھرا گئ
اوہ ایم سوری مجھے بالکل نہیں معلوم تھا کہ آپکی والدہ کی پچھلے ہفتے ڈیتھ ہوئی ہے۔ اللہ انہیں غریقِ جنت کرے اور آپکو صبر دے۔ ویسے اتنی جلدی شادی پر دنیا باتیں نہیں بنائے گی؟ منہ ہی منہ میں آمین آمین کہتے محمد ابراہیم صاحب فاروق صاحب کی بات پر ذرا سا مسکرائے۔
مجھے دنیا کی باتوں کی پروا نہیں فاروق صاحب جو رب سے ڈرتا ہے نا وہ باقی تمام خوف دل سے نکال باہر پھینکتا ہے۔ میرا گھریلو نظام درہم برہم ہے، ایمان بھی کافی کسمپرسی کی حالت میں ایامِ زیست بسر کر رہی ہے تو میں اب بس جلد از جلد شادی کرنا چاہتا ہوں وہ پرمتانت لہجے میں بولے۔
واہ ابراہیم صاحب واہ! آپ اپنے گھریلو نظام کو درست کرنے کے لئیے ایک اپاہج لڑکی سے بیاہ رچا رہے ہیں وہ جو اپنا آپ نہیں سنبھال سکتی وہ آپ کا گھر کیا سنبھالے گی؟ بھابھی بیگم کوئی وار خالی کہاں جانے دیتیں تھیں۔
مسز فاروق میں اپنے کام خود کرنے کا عادی ہوں۔ میں ایمان کو بیوی بنا کر لے جانا چاہتا ہوں، نوکرانی نہیں نوکر میرے گھر میں آل ریڈی موجود۔۔۔۔
اوکے ابراہیم صاحب ہمیں یہ رشتہ منظور ہے۔ آپ شام تک بارات لے آئیں، ہم سادگی سے مسجد میں نکاح کر دیں گے۔ فاروق صاحب اندرونی خوشی دبائے بظاہر نارمل انداز میں بولے۔
لیکن مجھے یہ رشتہ منظور نہیں ہے اگر بوجھ بن گئی ہوں تو اپنے ہاتھوں سے گلہ گھونٹ کر دفنا دیں مگر یوں مجھے عذاب کی صورت کسی دوسرے کے سر پر مسلط نہ کریں۔ دروازے کے عین وسط میں وہیل چئیر پر براجمان وجود جانے کب وہاں آیا کسی کو احساس تک نہ ہوا۔ چہرے پر زخمی تاثرات پر اذیت آواز اس کے لہجے سے اسکا تذبذب و ہیجان چھلک رہا تھا۔
محمد ابراہیم یکدم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ بھابھی بیگم نے آنکھیں پھاڑ کر بے یقینی سے ایمان کی جانب دیکھا اور فاروق صاحب نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی۔
کیا کمی ہے مجھ میں مس ایمان آپ ایسے کیوں مجھے منہ پر ریجیکٹ کر رہی ہیں؟ کس بنیاد پر آپ اس رشتے سے انکاری ہیں؟
کمی آپ میں نہیں، کمی مجھ میں ہے مسٹر ابراہیم۔ جانتے ہیں کیا مجھ میں کیا کمی ہے؟ میں عیوب کا مجموعہ ہوں، میں وہ ڈائن ہوں جو اپنے ہی ماں باپ کو نگل گئی، وہ بدنصیب ہوں جسکا اپنا ہی وجود اسکا بوجھ اٹھانے سے انکاری ہے، میں رحمان کی وہ بدصورت تخلیق ہوں جس کے چہرے پر صرف ایک ہی بار نگاہ ڈالی جا سکتی ہے اور واللہ اس نگاہ میں ترحم ، استحقار اور کراہیت میں دور سے پہچان لیتی ہوں۔ میں وہ مطلقہ ہو جسے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا گیا اس بات پر طلاق دے دی گئی کہ میں زندگی کی ریس میں اپنے لنگڑے وجود کے ساتھ اپنے ہمسفر کا ساتھ نہیں نبھا سکتی۔ میں ڈار سے بچھڑی وہ کونج ہو جس کے مقدر میں فقط پاتال ہے۔ میں وہ امر بیل ہوں جو کسی بھی ہرے بھرے درخت کو مرجھا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
میں چور ہوں، میں داغ ہوں، میں کلنک ہوں، میں عیب ہوں، میں وہ پچھل پیری ہوں جس کا سایہ مائیں اپنے بچوں پر نہیں پڑنے دیتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
قسط اگلے ہفتے یہیں سے شروع ہو گی۔ ان شاء اللہ
از قلم ✒️
ارویٰ رباب
Episode no 4
Click below
https://momnaawais.blogspot.com/2023/07/islamic-novel-in-urdu-episode-no-4.html


0 Comments