✨ جو شکستہ ہو تو عزیز تر ✨

قسط نمبر 8 

Last episode 

از قلم ✒️

ارویٰ رباب 



اپنے چاہے اچھے ہوں یا برے پر وہ مضبوط سہارا ہوتے ہیں۔ بقول اقبال 

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے اندرونِ دریا بیرونِ دریا کچھ نہیں

  غموں میں عمومًا اپنے ہی یاد آتے ہیں۔ دیا نے بھی بیوہ ہونے کے بعد پہلی کال عمر فاروق کو ملائی۔ فون مسفرہ نے اٹھایا۔ 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ 

وعلیکم السلام! دیا تمہیں چین نہیں ہے؟ منع کیا ہے نا کہ یہاں کال مت کیا کرو، ہر دو دن بعد فون ملا لیتی ہو۔ عمر تمہاری شکل تک نہیں دیکھنا چاہتے۔ مت کیا کرو ہمیں کال۔ ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں۔ مسفرہ کی پاٹ دار آواز ائیر پیس سے ابھری۔

بھابھی بھائی کہاں ہیں؟ اب۔۔۔ ابراہیم۔۔۔ ابراہیم نہیں رہے۔ سر مجھے چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے چلے گئے، ان کا جنازہ ہے دو بجے۔۔۔ بھابھی ایک بار پھر میں تنہا رہ گئی۔وہ سسکی گویا ضبط کی انتہاء پر کھڑی اپنی چیخوں کا گلہ گھونٹ رہی ہو۔

کیا؟ ابراہیم کو بھی کھا گئی ڈائن۔۔۔ تیرا سایہ ہی منحوس ہے۔ پہلے ماں باپ کھا گئی اور اب شوہر نگل گئی۔ تو ہے ہی پچھل پیری۔ خبردار جو اب میرے گھر کا رُخ کیا یا یہاں کال کی۔ ہمارا تجھ سے کوئی رشتہ نہیں۔ مسفرہ حد درجہ بےحس تھی۔ تکلیف کی گھڑی میں بھی نشتر چبھونے سے باز نہ آئی۔ 

بھابھی میں بہت مصیبت میں ہوں، مت دیں آپ میرا ساتھ مگر میرے بھائی کو تو بھیج دیں۔ میں تنہا عورت کیسے غسل، تجہیز و کفن دفن کا بندوبست کرونگی؟ کپکپاتی آواز میں اس نے آنسو صاف کرتے مسفرہ سے رحم کی، اپنے بھائی کے ساتھ کی بھیک مانگی۔ 

اوہ۔۔۔ تو یہ مسئلہ ہے بھائی کی اب بھی یاد نہ آئی، تمہیں تو اپنے شوہر کی لاش ڈھونے کے لئیے مزدور چاہئیے۔ بس تو بی بی نہایت معذرت کے ساتھ عمر یہ سب نہیں کریں گے۔ 

سنا ہے تمہارے گھر میں بہت سے نوکر ہیں تو کسی سے بھی اپنے شوہر کو خاک برد کروا لو۔ 

مالی، باورچی اور چوکیدار تین کندھے یہ ہوگئے چوتھا خود دے دینا۔

 اوہ۔۔۔ بلکہ تم کیسے کندھا دو گی؟ تم تو خود لنگڑی ہو۔ اچھا خود نہ دے پاؤ تو ہمسایوں سے کہہ دینا کوئی نہ کوئی تو ہیلپ کر ہی دے گا بلکہ ڈرائیور بھی تو ہو گا تو چار کندھے پورے ہوئے۔ اب یہاں کال نہ کرنا۔ ترش لہجے میں کہتے مسفرہ نے بناء اسکی بات سنے لائن کاٹ دی۔ اسنے دوبارہ کال ملائی تو نمبر بند جا رہا تھا۔ اسکے آنسو ٹپاٹپ گرنے لگے۔ یہ تھے اسکے اپنے جو غم کی انتہا پر بھی بجائے ساتھ دینے کے کچوکے لگا رہے تھے۔ وہ تڑپ تڑپ کر رونے لگی۔ اذیت سی کوئی اذیت تھی۔ اچانک کسی میسحا کی باتیں اسکے کانوں میں گونجیں۔

دیا وعدہ کرو تم صبر کرو گی، تم مضبوط بنو گی، ہمت نہ ہارو گی، اپنا خیال رکھو گی۔ یہ ابراہیم کے ہی آخری الفاظ تھے جو اسکی تشفی کا باعث بن رہے تھے۔ اسنے روتے ہوئے سامنے پڑے ابرہیم کے بےجان لاشے کو دیکھا۔

ایمی وعدہ کرو تم آئندہ نہیں رؤو گی۔ دیا یہ دنیا ہنستے ہؤوں کا ساتھ دیتی ہے۔ رونے والے کے تو اپنے آنسو بھی اسکا ساتھ نہیں دیتے، وہ بھی پلکوں کی باڑ سے کود کر خودکشی کر جاتے ہیں تو کسی سے کیا امید رکھنا۔ میری جان! اپنی بقاء کی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے۔ دل شکستہ نہ ہوا کرو۔ مصائب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کر کے اسے شکست دیا کرو۔ غموں سے خوشیاں کشید کیا کرو۔ رونے سے دکھ کم نہیں ہوتے، الٹا اچھے بھلے بندے کو نڈھال کر دیتے ہیں، ڈپریشن کا شکار کر دیتے ہیں، توڑ دیتے ہیں۔ مت رویا کرو مضبوط بنو۔ اپنے قدموں پر کھڑی ہو۔ میں تمہیں ناقابلِ تسخیر دیکھنا چاہتا ہوں۔ ابراہیم کی کہی ایک ایک بات اسے اس تکلیف دہ موڑ پر یاد آ رہی تھی۔ اس نے بے دردی سے خود اپنے آنسو پونچھے کیونکہ اسنے جان لیا تھا اب کوئی اس کے اشک صاف کرنے نہیں آئے گا۔ اسکے آنسو پونچھنے والا ابدی نیند سو چکا تھا۔ اب اسے اپنی بقاء کی جنگ تنہا لڑنی ہے۔

اس روز اس نے اپنے محبوب شوہر کی میت کے سرہانے بیٹھ کر خود سے یہ عہد کیا کہ اب کبھی وہ کسی مخلوق سے کوئی امید نہ لگائے گی۔

اب وہ اپنی بقاء کی جنگ خود لڑے گی۔ ہاں اب وہ ہادیۃ الایمان ہے، ایک مضبوط چٹان۔ اب کوئی اسے پاش پاش نہ کر سکے گا۔ اب وہ کسی صورت اپنا دیا بجھنے نہیں دے گی۔ 

سر آج کے بعد آپکی دیا کو لوگوں کی بےحسی اور بیرونی حالات نہیں توڑ سکیں گے۔ میں جئیوں گی تنہا اور آپکی اولاد کو جنم دیکر اسکی کمال تربیت کر کے اسے آپکا صدقۂ جاریہ بنا کر لوگوں کو بتاؤں گی کہ اگر  عورت ہار ماننے پر نہ آئے تو دنیا کی کوئی  بھی طاقت اسے ہرا نہیں سکتی کہ وجودِ زن ناقابلِ تسخیر چٹان ہے۔ مجھے اب رب کے سوا کسی کی ضرورت نہیں اور جس کے ساتھ رب ہو اسے وقتی سہاروں اور بے وفا لوگوں کی خواہش نہیں رہتی۔

سر میں آپکی مانند ابراہیم نہیں بن سکتی کیونکہ میں عورت ہوں مگر مریم تو بن سکتی ہوں نا۔ وہ مریم جو نہ نبیہ تھی نہ ولیہ مگر اسکی گود میں نبی نے پرورش پائی اور اسنے ولی کی انگلی پکڑ کر اسے چلنا سکھایا۔

شکریہ میرے محسن مجھے ہمت بخشنے اور طاقت دینے کے لئیے۔۔۔ الوداع پیارے۔۔۔ اب رب کی جنتوں میں ملاقات ہو گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨✨✨

آخری ماہ دیا نے جس کرب میں گزارا اس بات سے واقف یا وہ تھی یا اس کا رب۔ ہر موقعے پر اسے ابراہیم کی کوئی نہ کوئی بات یاد آ جاتی۔ کبھی آنکھیں نم ہو جاتیں اور کبھی وہ ابراہیم کے پڑھائے گئے اسباق سے خود کو مضبوط تر بنا لیتی۔ وہ وقت جب عورت کو ایک مضبوط سہارے اور سائباں کی ضرورت ہوتی ہے، اس لمحے دیا نے اپنے پاس رب کے سوا کسی کو نہ پایا۔

ابراہیم جاتے جاتے بھی اس کی ایک پریشانی کم کر گئے تھے۔ آخری سفر میں بھی اسے ایک راہ سجھا گئے تھے، اسے سمجھا گئے تھے کہ اپنے ساتھ نوراں کو رکھ لینا۔ 

ابراہیم کی وفات کے چار دن بعد نوراں ایک بار پھر اسکی چوکھٹ پر آئی تو اسنے بناء کسی تاخیر کے نوراں اور اسکی بیٹی کو اپنے پاس ٹھہرا لیا یوں نوراں کی بھی پریشانی ختم ہو گئی اور اسے ایک وفادار ملازمہ بھی مل گئی۔ 

ابراہیم جدی پشتی رئیس تھے۔ وہ بےپناہ دولت اپنے پیچھے چھوڑ گئے۔ دیا اس تمام جائداد و دولت کی اکلوتی محافظ تھی۔ اس نے جانا کہ دنیا صرف دولت مندوں کی ساتھی ہے۔ اس کے اردگرد خوشامد پسندوں اور مطلبیوں کا جمگھٹا لگا رہتا مگر وہ اپنے دو تین وفادار ملازمین کے علاوہ کسی پر بھروسہ نہ کرتی۔ وہ ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھاتی۔ اب وہ ماضی کی، وہ ٹوٹی پھوٹی دیا نہ تھی جس کی لو چراغِ سحری کی مانند ٹمٹماتی ہے۔ اب وہ ایک مضبوط ورکنگ وویمن تھی۔  

دنیاداری کے ساتھ ساتھ اسنے رب سے اور قرآن سے بھی اپنا رشتہ مضبوط کر لیا تھا۔ اب وہ توازن کے ساتھ دین اور دنیا دونوں کو لیکر کر چل رہی تھی۔

زندگی کسی کے جانے سے رکتی نہیں، وقت رواں چشمے کی مانند بہتا رہا۔ بالآخر اس پر خوش بختی تمام ہوئی اور اس نے ایک گل گوتھنے سے ننھے نومولود کو جنم دیا۔ اپنے بچے کو جب پہلی بار اسنے گود میں لیا تو بے اختیار اشکوں نے بہہ کر اس کے ضبط کی توہین کر ڈالی۔ وہ بچہ پورا بنا بنایا ابراہیم تھا۔ ہر شے اسکی باپ پر تھی۔ اسے دیکھ کر دیا کو ابراہیم بہت یاد آئے۔ تکلیف کے اس لمحے بھی اس نے رب کا بے پناہ شکر ادا کیا کہ اس نے جازل کو بھیج کر ابراہیم کی تشنگی سے اسے سیراب کر دیا تھا۔  

جازل ابراہیم نین نقش سے لیکر رنگ و روپ، عادات تک میں ابراہیم کی کاپی تھا۔ دیا کی ویران زندگی میں وہ بچہ بہار کی نوید بن کر آیا۔   

اسکے آنگن میں قلقاریاں گونجنے لگی۔ اسکی زندگی میں بھی رنگوں کی برسات برسنے لگی۔ جازل کی آمد کے ساتھ ہی اس کی ادھوری ذات کی تکمیل ہو گئی۔

جازل کی وجہ سے اگرچہ وہ بے پناہ مصروف ہو گئی تھی۔ اسے اپنی تعلیم، قرآن کلاسسز، یونیورسٹی، گھر بار کے ساتھ اب اسے بھی سنبھالنا پڑتا مگر وہ اس مصروفیت کے عالم میں بھی از حد خوش باش و مطمئن تھی۔ وہ رب کا شکر ادا کرتے نہ تھکتی تھی، جس نے اس کی غموں سے تپتی حبس زدہ زندگی میں جازل کو فرحت بخش جھونکا بنا کر بھیجا تھا۔ 

دیکھتے کے دیکھتے جازل تین سال کا ہو گیا۔ اسکی ننھی منی شرارتوں اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے دیا کا دل باغ باغ رہتا۔

دیا کی مصروفیت کے باعث زیادہ تر جازل نوراں کی بیٹی شازیہ کے پاس رہتا مگر دیا کی حتی الامکان کوشش ہوتی کہ وہ اپنا زیادہ تر وقت جازل کے ساتھ صرف کرے، اسکی بہترین تربیت اور اچھی پرورش کرے۔

آج اتوار تھا۔ ہادیہ کی چھٹی تھی۔ وہ لان میں بیٹھی چائے پی رہی تھی۔ سامنے ہی جازل اور شازیہ کھیل رہے تھے۔ جازل فٹبال پکڑے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا بھاگ رہا تھا اور شازیہ اسکے پیچھے پیچھے تھی۔ اچانک ایک خیال آنے پر چونکی۔

 جازل پڑھنے لکھنے کے قابل ہو گیا ہے۔ مجھے اس کے لئیے کسی ٹیوٹر کا بندوبست کرنا چاہئیے۔ خود سے ہمکلامی کرتے اس نے نوراں کو آواز دی۔

جی بی بی۔ وہ اپنے سب کام چھوڑ کر دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتی تیزی سے دوڑی چلی آئی۔

نوراں کیا تمہاری نظر میں کوئی اچھی ٹیچر ہے؟ ایسی استانی جو میرے جازل کو پڑھائے بھی، اسکی اچھی تربیت بھی کرے۔ 

بی بی جی جازل میاں تو ابھی بہت چھوٹے ہیں۔ نوراں نے لان میں ادھر ادھر بھاگتے جازل کو دیکھ کر دیا کو باز رکھنا چاہا۔

نہیں نوراں یہی مناسب عمر ہوتی ہے۔ پورا دن شرارتوں میں مگن رہتا ہے۔ میں نے تو سوچ رکھا ہے اس سال اس کا سکول میں بھی ایڈمیشن کروا دونگی۔ 

جیسے بی بی جی آپ کو مناسب لگے۔ میں شکور سے کہونگی اپنے حلقۂ احباب میں پتہ کرے کوئی استانی جو گھر آ کر پڑھا دے، بات کرتے کرتے وہ ایک دم سے چونکی۔ 

ویسے بی بی جی یہ ساتھ والے بنگلے میں بھی تو ایک استانی آتی ہے مسز شہروز کے بچوں کو پڑھانے۔ آپ اس سے کیوں نہیں بات کر لیتیں اگر جو اسکے پاس وقت ہو تو وہ اپنے جازل میاں کو بھی پڑھا دے۔ 

اچھا میں بات کرتی ہوں مسز شہروز سے۔ ویسے تم یہ بتاؤ

نوراں تم نے شازیہ کا کسی سکول کیوں نہیں ایڈمیشن کروایا؟ 

بی بی جی ہم غریبوں کی قسمت میں کہاں تعلیم؟ کہتی تو بہت ہے شازیہ کہ اماں سکول جانا ہے۔ میں ہی کہتی ہوں چپکی پڑی رہ۔ بی بی جی کہاں سے اتنا خرچہ پورا کروں؟ فیسیں، کتابیں، کاپیاں سو بکھیڑے ہیں۔ ویسے بھی کیا فائدہ پڑھائی لکھائی کا؟ اسنے کونسا آپکی طرح ماسٹرنی لگنا ہے۔ پڑھ لکھ کر بھی چولا چوکی سنبھالنی ہے۔ بہتر ہے نہ ہی پڑھے۔ نوراں نے اپنے مخصوص سرائیکی لہجے میں جھٹکے مارتے ہوئے جواب دیا۔

نوراں مجھے تمہاری سوچ سے اختلاف ہے۔ چاہے لڑکیوں کو کچن ہی کیوں نہ سنبھالنا ہو پھر بھی انہیں علم کے زیور سے ضرور آراستہ کرنا چاہئیے۔ خدانخواستہ زندگی میں اگر کٹھن ایام آ جائیں تو یہ تعلیم ہی ہے جو انسان کو شعور دیکر حالات سے لڑنا سکھاتی ہے۔ اب تم میری ہی مثال لے لو۔ آج میں جس مقام پر کھڑی ہوں رب کے بعد اگر کسی نے مجھے عزت بخشی ہے تو وہ میرا علم ہے۔ سب میرے آگے پیچھے پھرتے ہیں تو بچی چاہے امیر کی ہو یا غریب کی اسے دینی اور دنیاوی علوم سے ضرور بہرہ مند کرنا چاہئیے۔ جہاں تک رہی اخراجات کی بات تو وہ تم مجھ پر چھوڑ دو، میں وہ سب دیکھ لونگی بس تم شازیہ کو سکول داخل کرواؤ۔ اپنے مخصوص پُرشفقت لہجے میں اسنے نوراں کی برین واشنگ کی۔ 

اچھا بی بی جی میں بات کروں گی شکور سے پھر جو وہ کہے گا وہ بتاؤں گی۔ 

 صرف بات نہ کرنا اسے سمجھانا تعلیم ہر انسان کے لئیے بے حد ضروری ہے۔ اس نے پر زور انداز میں کہا۔

اچھا بی بی جی اور کوئی حکم؟

نہیں بس اب تم جاؤ اور میرا موبائل پکڑا جاؤ میں مسز شہروز سے تو بات کروں کہ کون آتی ہے ان کے گھر۔ اگر اچھی قابلِ بھروسہ ٹیچر ہوئی تو جازل کے لئیے بھی بلوا لیا کرونگی۔ 

بہتر بی بی جی۔ میں دیتی ہوں فون۔ وہ سر ہلاتی فون لینے چلی گئی اور دیا نے کرسی سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔

تو ابراہیم اب آپ کا بیٹا سکول جانے کے بھی قابل ہو گیا۔بہت مشکل ہوتا ہے میرے لئیے کبھی کبھی اسے ماں باپ بن کر پالنا مگر الحمدللہ میرا رب ہر معاملے میں مجھے سرخرو کر دیتا ہے۔ آج آپ ہوتے تو میں ان سب فکروں سے آذاد ہوتی۔ وہ تصور میں ابراہیم سے مخاطب تھی۔ وہ اکثر اپنے دل کی باتیں اسی طرح تصور میں ابراہیم سے کر لیا کرتی تھی۔ 

یہ لیں بی بی جی۔ نوراں موبائل تھامے اس کے سر پر کھڑی تھی، اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔

لاؤ دو۔ اسنے موبائل پکڑ کر مسز شہروز کو کال ملائی جو کہ دوسری ہی بیل پر ریسیو کر لی گئی۔ کافی دیر وہ مسز شہروز سے گفت و شنید کرتی رہی جب وہ مسز شہروز کی باتوں سے مکمل مطمئن ہو گئی کیونکہ وہ اس ٹیچر کی کارکردگی سے خوش تھیں تو پھر اس نے انہیں یہ کہہ دیا  کہ وہ اس ٹیچر سے بات کریں اور اسے اس کی طرف بھی بھیجیں۔

چلو ٹھیک ہے میں اس کو آپکا میسج دے دونگی اور آپ سنائیں کیا چل رہا ہے آج کل؟

بس کچھ خاص نہیں وہی لگی بندھی مصروفیات۔ وہ دونوں اب ادھر ادھر کی باتوں میں مصروف ہو چکی تھیں۔ مزید کچھ دیر بات کرنے کے بعد دیا نے رسمی سلام دعا کر کے لائن منقطع کر دی۔

........✨✨✨✨

ہادیہ خوش الحانی سے کلام پاک کی تلاوت کر رہی تھی جب ہانپتی کانپتی نوراں نے آ کر اسے اطلاع دی۔

بی بی جی کوئی عورت آئی ہے کہہ رہی ہے مسز شہروز نے اسے بھیجا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے وہی استانی ہے، آپ چھیتی چھیتی قرآن پڑھ کر آ جاؤ میں نے اسے ڈرائنگ روم میں بٹھایا ہے۔

آیت کے اختتام کے بعد دیا نے قرآن بند کر دیا اور مسکراتے ہوئے نوراں کو اپنے پاس بلایا۔

نوراں قرآن ایک بہت مقدس کتاب ہے جس کا نزول ترتیل کے ساتھ 23 سال کے طویل عرصے میں ہوا۔ یہ جلدی جلدی پڑھنے والی کتاب نہیں اس لئیے یہ کہنا درست نہیں کہ چھیتی چھیتی قرآن پڑھ کر آ جائیں 

اگر وقت قلیل ہو یا کوئی مصروفیت آڑے آ جائے تو بجائے اس کے کہ جلدی جلدی پڑھا جائے کم پڑھ لینا چاہئیے۔ ٹھیک ہے میری بات سمجھ آئی آپ کو؟

جی بی بی جی! آئندہ خیال رکھونگی۔ نوراں کی یہ عادت بہت اچھی تھی وہ اپنی غلطی کا بہت جلد اعتراف کر لیا کرتی تھی۔ 

ہاں اب بتاؤ کیا کہہ رہی تھی تم؟ 

وہ جی وہ استانی آ گئی ہے جو آپ نے جازل میاں کے لئیے بلائی تھی، ڈرائنگ روم میں بیٹھی ہے۔

اچھا میں آتی ہوں۔ مسکرا کر کہتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

جونہی ہی وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو حق دق رہ گئی۔

جو کیفیت اسکی تھی اس سے بھی بدتر کیفیت مقابل کی تھی۔ اسکے ہاتھ سے گلاس چھوٹا اور فرش پر گر کر جابجا کرچیاں میں تقسیم ہو گیا۔ اندر موجود مشروب بھی زمین پر ادھر ادھر بہنے لگا۔ صوفے پر بیٹھی عورت نے تیزی سے اپنا منہ ڈھانپا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

دروازے کے عین وسط میں کھڑی دیا نے چند گہری سانسیں لیکر خود کو اس عجیب صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئیے تیار کیا پھر سہج سہج کر قدم اٹھاتی وہ صوفے پر براجمان ہو گئی۔

 تو اتنی جلدی وہ وقت آ ہی گیا جس کا سامنا کرنے سے وہ ڈرتی تھی۔ 

چند لمحے وہ اندر  کی شکست و ریخت پر قابو پاتی رہی اور پھر اسنے خود کو سنبھال ہی لیا۔ مقابل پر عجب بوکھلاہٹ طاری تھی، وہ گڑبڑا کر اٹھی اور باہر کی جانب قدم بڑھانے لگی مگر دیا کی درشت آواز نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا۔  

ٹھہر جائیں محترمہ آپ کو مسز شہروز نے بھیجا ہے۔ 

جی بیگم صاحبہ۔۔۔ اوہ نہیں بیگم صاحبہ۔۔۔ وہ مجھے نہیں پڑھانا۔۔۔ وہ میں چچ۔۔۔ چلتی ہوں۔۔۔ تکلیف کی معذرت۔۔۔

 گھبرائے لہجے میں اٹک اٹک کر  بولتی وہ نقاب پوش عورت بےحد بوکھلاہٹ کا شکار تھی۔

مگر کیوں؟ آئی تو تم اسی غرض سے تھی نا کہ میں تمہیں جازل۔۔۔

وہ کہا نا اب نہیں پڑھانا۔۔۔ مم میں چلتی ہوں۔ وہ تیزی سے ہادیہ کے برابر سے گزرتی باہر کی سمت بڑھنے لگی۔ ہادیہ نے یکدم اسکا بازو پکڑ کر روکا۔ 

کہیں نہیں جائیں گی آپ۔ اب نادانستگی سے پہلی بار میرے گھر میں قدم رکھ ہی دیا ہے تو کھانا کھا کر جائیے گا۔ دیا نے نرم لہجے میں روکا۔ 

نن۔۔۔ نہیں۔۔۔ وو۔۔ وہ۔۔۔

  بس کر دیں بھابھی۔۔۔ بس کردیں۔ خدا کے لئیے اب تو بس کر دیں۔ میں آپ کو پہچان چکی ہوں۔

آپ آج بھی نہیں بدلیں، آج بھی آپکے اندر کی اناء، اکڑ، غرور سب ویسا ہی ہے۔ آج بھی آپ اسی قدر کٹھور ہیں۔ آج بھی آپ مجھے اپنا نہیں سمجھتیں۔ مجھے بتائیں تو سہی بھائی ٹھیک ہیں؟  آپ کیسی ہو؟ کتنے عرصے کے بعد میری کسی اپنے سے ملاقات ہو رہی ہے۔ کم ازکم ایک وقت کا کھانا تو میرے ساتھ کھا لیں اور مجھے بتائیں آپ اس مقام تک کیسے پہنچیں؟ یوں گھر گھر جا کر ٹیوشن پڑھانا آپ کو تو نہیں زیب دیتا۔ دیا بہت دلگرفتہ تھی۔ یکدم مسفرہ اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ 

بھابھی ایسے کیوں رو رہی ہیں؟ کچھ بتائیں تو سہی ہوا کیا ہے؟

بھابھی میرا دل بیٹھ رہا کچھ بولیں تو سہی یوں تو نہ روئیں۔ ہادیہ نے نوراں کو آواز دے کر پانی لانے کا بولا۔ 

پانی پی کر مسفرہ کچھ سنبھلی پھر وہ کچھ لمحے کچھ سوچتی رہی اور پھر اسنے اچانک دیا کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے۔ 

دیا مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمہارے ساتھ بہت برا کیا۔

دیا نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ تھام لئیے۔ بھابھی جو ہوا بھول جائیے بس یہ بتائیے بھائی اور بچے کہاں ہیں؟ وہ ٹھیک تو ہیں؟ سب خیریت ہے؟ اسے صرف اپنے خونی رشتوں کی اس پل فکر تھی۔

دیا کچھ نہیں بچا میرا سب کچھ برباد ہو گیا۔ دیا مجھے لگتا تھا میں تمہیں کھلا رہی ہوں مگر دیا میں بھول گئی شاید جو رزق میرے گھر آ رہا تھا وہ رب تمہارے نصیب کا ہم سب کو دے رہا تھا۔ تمہارے رخصت ہونے کے بعد بدحالی نے گھر کی راہ دیکھ لی۔ 

ابوجی کی وفات کے بعد تو کاروبار ویسے ہی دن بدن گھاٹے میں جا رہا تھا تمہارے سامنے ہی تو سب ملازمین کو فارغ کر دیا گیا تھا مگر تمہاری رخصتی کے بعد تو کاروبار مکمل ہی ڈوب گیا۔ تنگدستی اس قدر کہ بتا نہیں سکتی۔ مجبورًا عمر نے سیٹھ نیاز کی فیکٹری میں ملازمت اختیار کر لی۔ کچھ عرصے تو سب ٹھیک رہا پھر وہ عمر سے جعلی دستاویزات پر سائن کروانے لگا۔ عمر نے انکار کیا تو اس نے غبن کا الزام لگا کر جیل بھجوا دیا۔ گھر نیلام کروا دیا ہم سڑکوں پر آ گئے۔ اوپر سے چھوٹی کو پولیو ہو گیا۔ اس کے علاج کے لئیے پیسوں کی ضرورت تھی، میں ٹیوشنز پڑھانے لگی مگر گزارا اب بھی نہ ہوتا تھا۔ گھر کا کرایہ، یوٹیلیٹی بلز اور ہسپتال کے اخراجات مجبورًا میں نے خزیمہ کو کام پر ڈال دیا۔

 تم نے خزیمہ کو بھی کام پر لگا دیا؟ عمر دیکھی ہے اسکی؟ افف خدایا! ہادیہ نے سر پکڑ لیا۔ بھابھی ایک بار صرف ایک بار تو آپ مجھ سے رابطہ کرتیں۔ 

یا خدایا! بھائی جانے کس حال میں ہونگے؟ 

اٹھیں میرے ساتھ چلیں مجھے ابھی کے ابِھی بھائی سے ملنا ہے۔ وہ اپنوں کے زوال پر تڑپ اٹھی۔ 

دیا ملاقات کا وقت نہیں ابھی۔ مسفرہ کے بتانے پر وہ باز آئی۔ دل اب بھی عمر سے ملنے کو بےقرار تھا۔

 اچھا خزیمہ اور گڑیا کہاں ہے؟ اسکے لہجے سے اسکی بےقراری عیاں تھی۔ 

گڑیا ہاسپٹل میں اور خزیمہ کام پر ہے۔ مسفرہ نےدکھی لہجے میں جواب دیا۔

چلو پھر میں عبایا پہن کر آتی ہوں۔ چلو میرے ساتھ ہم سب سے پہلے خزیمہ کی ورکشاپ پر جائیں گے اسے لیکر پھر گڑیا کے پاس ہسپتال جائیں گے۔ 

اب تم فکر مت کرنا خالی کر دو وہ کرائے کا مکان۔ آج سے تم میرے ساتھ رہو گی اور کوئی ضرورت نہیں مسز شہروز کی غلامی کرنے کی تم چھوڑ دو ان کے بچوں کو پڑھانا۔ میں ان سے خود بات کر لوں گی 

اور ہم گڑیا کو سرکاری ہسپتال سے اٹھا کر اس کا شہر کے سب سے اچھے معالج سے علاج کروائیں گے، بس اب آنسو پونچھ لو۔ آج سے تم میری ذمہ داری ہو۔ میں سب دیکھ لونگی، بھائی بھی بہت جلد باہر ہونگے۔ تم رب پر بھروسہ رکھو۔ اس نے مسفی کو گلے لگاتے تسلی دی۔ وہ دیا کے  اس حسنِ سلوک پر بے حد شرمندہ ہوئی۔ اسے اپنی ہر ہر زیادتی ہر ہر خطا اس پل  یاد آئی۔

دیا مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتی کی۔ تم تو میری دوست تھی، میں نے تو دوستی تک کا مان نہ رکھا۔ دیا مجھے اس حد تک برا بنانے میں مجھ سے زیادہ معاشرے کا کردار تھا جسے دیکھو تمہاری تعریف کرتا۔ میں تمہاری دوست تھی، ہر جگہ تمہارے ساتھ ہوتی مگر کوئی مجھے نظر اٹھا کر نہ دیکھتا جسے دیکھو تمہاری تعریف میں رطب اللسان۔ تمہارے سامنے میری ہر خوبی حتی کہ میری ذات تک پسِ پشت چلی جاتی پھر میری شادی ہو گئی۔ شادی کے اوائل دنوں میں میں نے اندازہ لگا لیا کہ میں کبھی بھی قصرِ ہادیہ میں وہ مقام نہیں حاصل کر سکتی جو تمہارا ہے۔ عمر امی ابو سب کی زبان پر صرف تم ہوتی تو میں دل ہی دل میں تم سے حسد کرنے لگی۔ میں نے تم سے بیر باندھ لیا۔ مجھے تم سے شدید نفرت ہو گئی پھر جب قسمت نے مجھے تم سے بدلہ لینے کا موقع دیا تو میں نے گن گن کر اپنی ہر اہانت کا تم سے بدلہ لیا، ہر تذلیل کے بدلے میں میں نے تمہیں دگنی ذلت دی مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھو کہ اسنے مجھے آج تمہارے در پر لا پٹخا دیا میں بہت بری۔۔۔

بس کرو مسفرہ مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں وہ سب میری قسمت میں تھا۔ الحمدللہ وہ وقت گزر گیا۔ ماضی کو کریدنے سے وہ دکھ جو راکھ میں دب گئے ہوتے ہیں وہ آنچ دینے لگتے ہیں تو بہتر یہی ہوتا ہے کہ ہم اپنے ظرف سے اس آنچ پر حسنِ سلوک اور اخلاق و محبت کا پانی ڈال کر اسے بجھا دیں۔ تم پر کوئی مواخذہ نہیں میں نے دل سے تمہیں معاف کیا۔ 

اب دیر نہ کرو چلو میرے ساتھ ابھی بہت سے کام مجھے نبٹانے ہیں۔ بھیا کے لئیے بہترین وکیل ہائر کرنا ہے۔ خزیمہ کو واپس لانا ہے اور گڑیا کا علاج کرانا ہے۔ اٹھو یہ وقت گلے شکوؤں روٹھنے منانے کا نہیں، یہ وقت اپنوں کو گلے لگانے کا ہے۔ اسے تسلی دیتی وہ عبایا لینے چل دی۔ پیچھے مسفرہ نظریں جھکائے بیٹھی کی بیٹھی رہ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨

خزیمہ کو وہ اسی روز کام سے اٹھا لائی۔ دونوں پھوپھی بھتجا ایک دوسرے کے گلے لگ کر بہت روئے پھر اس نے خود خزیمہ کے آنسو صاف کئیے۔

اپو کی جان اب رونے کے دن گئے۔ آپکی اپو ہیں نا اب وہ آپ پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گی۔ 

کل سے آپ کام پر نہیں سکول جاؤ گے۔ 

سنا آپ نے؟ 

جی اپو خزیمہ نے تابعداری سے سر ہلایا اور اگلے ہی روز ایمان خود جا کر شہر کے سب سے اچھے سکول میں اسکا داخلہ کروا آئی۔ خزیمہ کی جانب سے مطمئن ہو کر وہ عمر سے ملنے چلی آئی۔ پہلے تو وہ حیران رہ گیا اتنے سال بعد ماں جائی پر نظر پڑی تو وہ خود پر کنٹرول کھو بیٹھا اور بے اختیار اسکی سمت بڑھا۔ اس کی کسمپرسی دیکھ کر دیا کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔

بھائی۔۔۔ ہادیہ بھی تڑپ کر اسکی جانب بڑھی۔

دیا کیوں آئی ہو تم یہاں؟ جاؤ یہاں سے۔۔۔ دیا یہاں انسان نما بھیڑئیے ہیں۔ یہ جگہ عورتوں کے لئیے موزوں نہیں۔ 

میں کہیں نہیں جاؤنگی آپکو لئیے بغیر بھائی۔ میں آپکی ضمانت کروا لونگی، بہت جلد آپ باہر ہونگے۔ اسنے عمر سے زیادہ خود کو تسلی دی۔ کتنا اذیت ناک ہوتا ہے نا وہ لمحہ جب آپکا کوئی پیارا تکلیف میں ہو۔ انسان خود پر بیتی تو سہہ جاتا ہے مگر جب خود سے وابستہ کسی جان سے پیارے کو درد ناک کیفیت میں دیکھتا ہے تو اشک آنکھوں سے گر کر انسان کی بےبسی کا مذاق اڑاتے ہیں۔ 

ہاں ایمان مجھے نکال لو یہاں سے۔۔۔ پلیز مجھ نکال لو۔۔۔ مجھ سے یہاں نہیں رہا جاتا۔۔۔

جی بھائی میں آپ کو نکال لونگی بہت جلد آپ ہمارے ساتھ ہونگے، اس نے عمر کو تسلی دی۔ 

عمر پر گھڑوں پانی گر گیا۔ کس قدر محبت کرنے والی میری بہن ہے اور میں نے اس کے ساتھ کیا کیا۔۔۔ ایمان مجھے معاف کر دو میں نے تم پر بہت مظالم ڈھائے۔ اپنے ہی گھر میں تم قیدی کی مانند رہتی تھیں۔ اب مجھے اندازہ ہوا تنہائی کی اذیت اور قید کی صعوبت کیا ہوتی ہے؟ 

گڑیا میں تمہارا مجرم ہوں۔ میں نے بابا جان کی جائداد میں جو تمہارا حصہ بنتا تھا وہ ناجائز ہڑپ کر لیا۔ حیلے بہانوں سے تمہیں تمہارے ہی باپ کی وراثت سے محروم کر دیا۔ میں دولت کے لالچ میں اندھا ہو گیا، حقداروں کا حق ضبط کر بیٹھا اور رب نے مجھے دولت سے ہی آزمایا۔ پہلے دے کر پھر لے کر۔ دیا میرے پاس کچھ نہیں بچا۔ تہی دست، خالی ہاتھ رہ گیا ہوں۔ وہ دولت جو میں نے تم سے ہتھیائی میرے رب نے میرے پاس بھی نہیں رہنے دی۔ وہ بہت انصاف پسند ہے۔ میں نے تمہارا حق دبایا اس نے میرے پاس بھی کچھ نہ رہنے دیا۔

ایمان میں نے غبن نہیں کیا تم جانتی ہو تمہارا بھائی سب کچھ ہو سکتا ہے خائن نہیں۔ دیا اس نے میرے پر جھوٹا الزام لگایا ہے۔ دیا یہ سب مکافاتِ عمل ہے جو میں نے تمہارے ساتھ کیا وہ قسمت نے سود سمیت مجھ سے وصول کیا۔ میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا جو کانٹے میں نے تمہارے لئیے بوئے آج وہ خود کاٹ رہا ہو۔ مجھے معاف کر دو ایمان، مجھے معاف کر دو۔ شاید ایسے میری اذیت ختم ہو جائے، عمر نے اسکے آگے ہاتھ جوڑ دئیے۔ ہادیہ کے آنسو ٹپاٹپ گرنے لگے۔ اس نے کب چاہا تھا کہ وہ عمر کو اس حال میں دیکھے وہ مرد ہو کر رو رہا تھا۔ دیا کے لئیے ضبط مشکل ہونے لگا۔ 

وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اسنے عمر کے بندھے ہاتھ پکڑ کر کھولے۔

مت جوڑیں ہاتھ بھائی یوں مجھے شرمندہ نہ کریں۔ آپ تو میرا مان ہیں مجھے پتہ ہے آپ غبن نہیں کر سکتے۔ میں نے بہت اچھا وکیل کیا ہے بہت جلد میں۔۔۔

آپ کی ملاقات کا وقت ختم ہو گیا۔

 اوئے چل اوئے فراڈیے۔ پولیس اہلکار نے اسے دیا کے سامنے دھکا مارا۔ چھوڑو میرے بھائی کو، دیا دہاڑی۔ 

بی بی یہاں کوئی بھائی وائی نہیں ہوتا۔ یہ قانون کی نظر میں مجرم ہے اور ہمیں معلوم ہے ہمیں اس جیسے مجرموں کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا ہے۔ 

اوئے چل اوئے۔ اسنے عمر کو گھسیٹا۔ 

دیا مت الجھو اس کے ساتھ جاؤ یہاں سے اور بس مجھے جلد از جلد یہاں سے نکالو۔ میں تاحیات تمہارا مشکور رہوں گا۔ بھائی میں وعدہ کرتی ہوں۔۔۔

اس سے پہلے کے وہ جملہ مکمل کرتی پولیس والا اسے گھسیٹ کر وہاں سے لے گیا۔ دیا بوجھل دل لئیے روتی ہوئی باہر نکل آئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨

عمر سے ملاقات کے بعد دیا کے روز و شب ایک بار پھر مصروف ہو گئے۔ وہ کئی وکلاء سے ملی۔ اسے جلد از جلد عمر کو سلاخوں سے آذاد کروانا تھا۔ عمر کی رہائی کے ساتھ ساتھ 

یونیورسٹی کے مختلف امور، گھر میں قرآن کلاس اور جازل کی دیکھ بھال کے علاوہ اسکے دن رات ہسپتال کے چکر بھی لگ رہے تھے۔ وہ ودیعہ کے علاج کے سلسلے میں اچھے سے اچھے معالج کے پاس جا رہی تھی۔ آج بھی وہ یونیورسٹی سے جلدی نکل آئی اور اب مسفرہ کی ہمراہ  ہسپتال کی سمت رواں دواں تھی کیونکہ اسے ڈاکٹر واسع سے ملنا تھا۔ 

ہسپتال میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر سامنے سے آتے ایک اجڑے حلیے والے مفلوک الحال شخص پر پڑی۔ یہ چہرہ وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی۔ اس کے قدموں نے اٹھنے نگاہوں نے پھرنے سے انکار کر دیا۔ 

ملگجے حلیے، بڑھی شیو، شکن آلود لباس اور مضمحل حال والا وہ شخص کوئی اور نہیں شاہ زر تھا۔ شاید وہ بھی انہیں دیکھ چکا تھا اسی لئیے انہی کی جانب آ رہا تھا۔ پاس آ کر اسنے مسفرہ کو سلام کیا۔ 

بھابھی آپ یہاں؟ سب خیریت تو ہے نا؟ وہ دونوں آپس میں باتیں کرنے لگے اور دیا اس دوران مسلسل اپنے ہاتھ مڑوڑ رہی تھی اور اپنے اندر کے ابلتے فشار پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی جب کہ  مسفرہ شاہ زر  کے سوال کا جواب دے رہی تھی۔ 

جی خیریت ہے بس ودیعہ کے علاج کے سلسلے میں ڈاکٹر واسع سے ملنے آئی ہوں۔ کچھ عرصے پہلے پولیو ہوا تھا اسے بس اسی سلسلے میں آئی ہوں۔ 

اوہ! اب کیسی ہے وہ؟ شاہ زر نے پر تاسف لہجے میں پوچھا۔

بہتر ہے تم بتاؤ تم یہاں کیا کر رہے ہو اور یہ حالت کیا بنا رکھی ہے؟ مسفرہ نے لگے ہاتھوں اس کا بھی حال احوال دریافت کر لیا۔

بھابھی بس کیا بتاؤں پچھلے چھ ماہ سے بہت اذیت میں ہوں۔ 

کیوں کیا ہوا سب خیر ہے نا؟

خیریت ہی تو نہیں ہے۔ 

بھابھی وہ میری وائف تھی نا نرمین۔۔۔ وہ ہیٹر جلتا چھوڑ کر سو گئی۔ چھوٹے مبارز نے اس سے کاغذ جلا جلا کر نیچے کارپٹ پر پھینکے۔ آگ بھڑک گئی میں کام پر تھا جب تک گھر پہنچا ہر شے جل کر بھسم ہو چکی تھی۔ سارا گھر شعلوں کی لپیٹ میں تھا۔ بہت مشکلوں سے ہم صرف حبہ کی جان بچا سکے اور اسکی بھی ایسی درگوں حالت ہے کہ دیکھ کر رونا آتا ہے۔

پچھلے چھ ماہ سے مستقل ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہا ہوں۔

بہت تکلیف میں ہوں۔ اسکے لہجے سے اسکی اذیت چھلک رہی تھی۔ اولاد کا غم بہت مہلک شے ہوتا ہے، یہ مسفرہ سے بہتر کون جان سکتا تھا۔ وہ بھی تو اپنی اولاد کے خاطر دن رات ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہی تھی۔

اللہ تمہیں سکون دے۔ اب ہم چلتے ہیں کہیں ڈاکٹر صاحب نہ اٹھ جائیں۔ اسے دعا دیتی مسفرہ آگے بڑھنے لگی۔

اوکے بھابھی بس ایک کام تھا آپ سے پھر آپ چلے جائیے گا۔

جی بولو؟ مسفرہ نے استفہامیہ انداز میں اسے دیکھا۔  

وہ بھابھی مجھے نا دیا اور ابراہیم کا ایڈریس چاہئیے۔ 

کیوں؟ مسفرہ کے ساتھ ساتھ دیا بھی اپنے ذکر پر چونکی مگر بولی کچھ نہیں۔

 وہ نا بھابھی جب جب حبہ کو زخمی حالت میں تڑپتا دیکھتا ہوں تب تب مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں نے دیا کے ساتھ بہت غلط کیا۔ حادثہ کسی کے ساتھ کسی بھی وقت پیش آ سکتا ہے، اپنی غلطی کا احساس ہونے کے بعد میں نے بارہا ابراہیم کے نمبر پر کالز کیں مگر اسکا نمبر مسلسل بند جاتا ہے۔ مجھے ہادیہ سے معافی مانگنی ہے۔ مجھے لگتا ہے میرے کئیے کی سزا میری بیٹی بھگت رہی ہے۔ پچھتاؤوں کے ناگ مجھے چین سے سونے نہیں دیتے۔ پلیز مجھے دیا کا ایڈریس دے دیں۔ ملتجیانہ انداز میں وہ بہت لجاجت سے کہہ رہا تھا۔ 

ابراہیم کی ڈیتھ ہو چکی ہے اور دیا تمہارے سامنے کھڑی ہے جو بات کرنی ہے یہیں کر لو۔ مسفرہ نے اس کے سر پر بم پھوڑا۔

کب؟ کب ہوئی ہے ابراہیم کی وفات؟ اور کہاں ہے دیا؟ مجھے تو نہیں دکھائی دی۔ اسنے ادھر ادھر نظر دوڑائی

یہاں وہاں کیا تلاش رہے ہو یہ رہی ہادیہ۔ اسنے عبایے میں ملفوف ایک عورت کی سمت اشارہ کیا جو ان دونوں کی گفت وشنید سے بےنیاز جانے کن سوچوں میں مستغرق تھی۔

دیا عبایے میں؟ اور یہ اپنے پیروں پر کیسے کھڑی ہے؟  کیا ہو گیا ہے بھابھی کیوں مذاق کر رہی ہیں؟ شاہ زر نے سر تا پا استعجابیہ نظروں سے اس برقع میں چھپی عورت کو دیکھا۔ 

مسفی مذاق نہیں کر رہی شاہ زر میں ہادیہ ہی ہوں اور آپکو مجھ سے معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں آپکو بہت پہلے معاف کر چکی ہوں۔ 

دیا تم۔۔۔ اور ابراہیم۔۔۔

اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے۔ میں ضرور آپکا پُرسہ قبول کرتی اگر جو لیٹ نہ ہو رہی ہوتی۔ فی الوقت مجھے ڈاکٹر واسع سے ملنا ہے اپائمنٹ لے رکھی ہے، اس لئیے ابھی ہمارا جانا ضروری ہے۔ معذرت ہم مزید یہاں نہیں ٹھہر سکتے اور ہاں بہت افسوس ہوا مجھے آپکی بیٹی کے بارے میں جان کر اللہ انہیں شفائے کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔پرتحمل لہجے میں بہت متانت سے کہتی وہ مسفرہ کی جانب مڑی۔ 

مسفی اب چلیں؟ اسنے مسفرہ کا بازو پکڑا اور مضبوط چال چلتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨

دیا کی کاوشیں رنگ لائیں اور عمر جیل سے رہا ہو گیا۔ 

عمر کی رہائی کے بعد اس نے اگلا کام یہ کیا کہ ابراہیم کی گاؤں والی کچھ زمینین بیچ کر قصر ہادیہ دوبارہ خریدا اور اپنی پوری فیملی لے کر وہاں شفٹ ہو گی۔

اب بس اسکی ایک ہی حسرت تھی کہ وہ جلد ازجلد ودیعہ کو اپنے قدموں پر کھڑا دیکھے۔ وہ روز خود اسکی ٹانگوں کی مالش کرتی، اسے اپنے ہاتھوں سے ادویات کھلاتی  اسکی ہمت بندھاتی، اسے اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی ترغیب دیتی، اس کا حوصلہ بلند کرتی۔ اللہ کے کرم اور ایمان کی دن رات کی کوششوں سے  وہ کافی حد تک بہتر ہو چکی تھی  

ابھی بھی وہ دور کھڑی ودیعہ کو اپنی جانب بلا رہی تھی۔

ادھر آؤ اپو کی جان میرے پاس آؤ۔ اسنے اپنی بانہیں وا کیں۔ 

ودیعہ چند قدم چلی پھر لڑاکھڑائی۔ ایمان مسلسل اسکا حوصلہ بڑھا رہی تھی۔ 

شاباش بیٹا اور آگے آؤ، اسنے پچکارا۔ ودیعہ نے چند قدم ڈولتے ہوئے مزید آگے بڑھائے۔ وہ بری طرح لڑکھڑائی وہ گرنے لگی ایمان سے فاصلہ کم رہ گیا تھا۔ اس لئیے اسنے تیزی سے اپنے ہاتھ ایمان کی جانب بڑھائے مگر اسنے ودیعہ کو نہ تھاما وہ منہ کے بل گری۔ اٹھو میری جان پھر ہمت کرو۔ 

اپو مجھے لگا آپ مجھے گرنے نہیں دیں گی، مجھے بچا لیں گی، پکڑ لیں گی۔ روہانسی ودیعہ نے منہ پھلا کر شکوہ کیا۔

میری جان۔۔۔ میں نے آپکو اس لئیے نہیں پکڑا کیونکہ میں آپکو اپنے قدموں پر کھڑا دیکھنا چاہتی ہوں۔ گڑیا سہارے وقتی ہوتے ہیں وقت پڑنے پر دغا دے جاتے ہیں۔ خود اپنے بل بوتے پر چلنا سیکھو۔ یہ دنیا بہت ظالم ہے، یہ گرتے ہؤوں کو تھاما نہیں کرتی بلکہ مزید دھکا دیتی ہے۔ کچل دیتی ہے، اٹھو میری جان تم روندے جانے کے لئیے نہیں بنی۔ اٹھو ہمت پکڑو اور خود اپنے قدموں پر چلتی مجھ تک آؤ۔ آپ تو بہت بہادر ہو۔ ایک بار پھر کوشش کرو۔ مت انتظار کرو کہ کوئی آئے گا، تمہیں سہارا دے گا، اٹھائے گا۔ اپنی ہمت خود بنو، خود کو خود سہارا دو، اٹھو اور چل پڑو۔

ودیعہ اسکی بات سن کر ایک بار پھر بمشکل تمام اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسکی ٹانگوں میں واضح لرزش تھی، اسکے باوجود وہ گرتی پڑتی ڈانواڈول چال چلتی ہوئی ایمان کے گلے آ لگی۔  

شاباش میری بیٹی تو بہت ہمت  والی ہے۔ ایمان کو گلے لگاتے اس نے اپنے آنسو پونچھے۔

"سر آپکے الفاظ مجھے آج بھی لفظ بلفظ یاد ہیں جانے آپکی تعلیمات اور کتنے گرتے ہؤوں کو حوصلہ دیں گی!؟ "

اپو آپ رو رہی ہیں؟ ودیعہ نے اسکی انکھوں میں آنسو دیکھے تو پوچھے بناء نہ رہ سکی۔ 

نہیں اپو کی جان اپو رو نہیں رہی۔ دیا نے تردید کی 

پھر آپکے آنسو کیوں بہہ رہے ہیں؟

یہ خوشی کے آنسو ہیں بیٹا۔ مجھے یقین ہے بہت جلد میری بیٹی بناء لڑکھڑائے بغیر سہارا لئیے اسی لان میں خزیمہ کے ساتھ ریس لگائے گی اور جیت جائے گی۔ 

ان شاء اللہ اپو ۔ ودیعہ نے ایک عزم سے اسکی تائید کی۔ 

ان شاء اللہ۔ اسنے بھی زیر لب یہ جملہ دہرایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨

رات کا آخری پہر تھا۔ دیا تہجد کی نماز پڑھنے اٹھی تھی۔ محبت کم بخت چیز ہی ایسی ہے رتجگے پر مجبور کر دیتی ہے۔ وہ اسکے در پر سر نہیں، دل جھکتا ہوا محسوس کرتی تھی۔

 نوافل ادا کر کے وہ جائے نماز پر بیٹھی سوچنے لگی 

آج اگر میں حساب کروں کہ میں نے پچھلے پندرہ سال میں کیا کھویا کیا پایا تو یقینا جو میں نے کھویا وہ سب فانی تھا اور جو میں نے پایا وہ بہترین تھا۔ میرا رب وہ رحیم ہستی ہے جو بہتر لیکر بہترین عطا کرنے والا ہے۔ 

آج میرے پاس دنیا جہان کی ہر خوشی ہے عزت، دولت، شہرت، اولاد، گھربار، تعلیم، قرآن اور سب سے بڑھ کر رب رحمان، کسی شے کی کمی نہیں زندگی میں۔ الحمدللہ 

ایک وقت تھا میں ٹھکرائی گئی، راندی گئی، رسوا ہوئی۔ میری ہر محبوب شے مجھ سے چھن گئی مگر آج الحمدللہ میرے رب نے مجھے ہر وہ شے دے دی جس کے لئیے میں کبھی تڑپائی گئی تھی، ترسائی گئی تھی۔ ایک وقت تھا  میں اپاہج معذور کہلائی اور آج میں جانے کتنے معذروں کی بیساکھی بنی ہوئی ہوں۔ الحمدللہ 

میرا رب کمال منصف ہے۔ وہ بھولنے والا نہیں۔ نہ مظلوم پر ہوا ظلم نہ ظالم کی کی ہوئی زیادتی۔ وہ آپکے ایک ایک آنسو کا بدلا لیتا ہے۔ اسکے ہاں انصاف کی چکی زرا دھیرے سے چلتی ہے مگر اس چکی کے پاٹوں جو پستا ہے وہ بہت باریک پستا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہوئی ایک زیادتی کا بدلہ  ستر سے لیتا ہے۔

وہ بہت انصاف پسند بادشاہ ہے۔ اس نے میرے ساتھ ہوئی ہر زیادتی کا احتساب کیا۔ مجھے معذوری کا طعنہ دینے والوں کی جب اپنی اولاد معذور ہوئی تب انہیں احساس ہوا کہ جسمانی اعضاء رب کی دین ہے، وہ جسے چاہے دے کر آزمائے کہ آیا میری دی نعمتوں پر مشکور ہوتا ہے یا نہیں اور جس سے مرضی لیکر آزمائے۔ وہ بے تاج بادشاہ مختارِ کل ہے۔ 

میری وہ عزیز دوست جسے میں بہت چاہت سے بیاہ کر لائی اور اس نے مجھ پر ہی عرصۂ حیات تنگ کر دیا، اب جب زیست نے اس پر تمام در بند کیئے تو میرے رب نے اسے میری ہی چوکھٹ پر لاپٹخا۔ وہ بھائی جو مجھ سے گلو خلاصی چاہتا تھا، آج وہ اپنی رضا سے میرے گھر میں مقیم ہے۔ کبھی میں جن رشتوں کے لئیے ترستی تھی آج میرے وہ تمام عزیز و اقارب میرے پاس ہیں۔

زندگی نے اگر کچھ لیا تو میرے رب نے اس سے بڑھ کر مجھے دیا۔ الحمدللہ

وہ شکوؤں سے شکر تک کا سفر طے کر چکی تھی اور یہ سفر آسان نہیں۔ بہت مشکل ہوتا ہے صبر کی پر پیج راہ پر برہنہ پا چلنا۔ یہ توفیق ہر کسی کو نہیں ملا کرتی۔ کوئی یونہی تو نہیں خاص ہو جاتا چنیدہ بننے کے لئیے خود کی نفی کرنی پڑتی ہے۔

کیا ہوا جو میرے پاس ابراہیم نہیں انکی باتیں، انکی اولاد اور انکی یادیں ہر سو بکھری پڑی ہیں۔ جب میرے ساتھ کوئی نہیں ہوتا تو چار سو بس انہی کا تو احساس ہوتا ہے۔ 

اللہ انہیں فردوس کے غرفے دے۔ انکی رفاقت نے ہی تو مجھے ہادیۃ الایمان بنایا ہے ورنہ میں تو اک ٹوٹی پھوٹی عام سی لڑکی تھی۔ آج جو میری معاشرے میں عزت ہی وہ ابراہیم کی ہی تو بدولت ہے۔ 

سر آپ کہا کرتے تھے نا کہ حالات کا رونا مت رویا کرو۔ حالات نے کس کا ساتھ دیا؟ تم خود کو بدل کر دیکھو حالات بدلتے جائینگے۔

بس میرے خود کو بدلنے کی دیر تھی میرے حالات بدلتے چلے گئے۔ اب مجھے کسی سے کوئی شکوہ نہیں۔ میں نے سب کو رب کی رضا کے لئیے معاف کر دیا۔

اس دشمنِ جاں کو بھی جس کو کبھی خوبصورتی سے بڑا پیار تھا۔ آج اسکی زیست کی تمام تر خوبصورتی جل کر مسخ ہو چکی۔ جسے کبھی زندگی کی ریس میں اپنے ساتھ دوڑنے والی چاہئیے تھی، 

آج دوڑنے والی تو اسکے ساتھ نہیں مگر وہ خود مسلسل دوڑتے دوڑتے ادھ موا ہو چکا ہے۔ ذرا نہیں جو رک کر سستانے کی مہلت ملے۔ بس بھاگ رہا ہے، بھاگ رہا ہے، بھاگ رہا ہے۔۔۔۔

کس قدر غرور تھا اسے اپنے۔۔۔ آپ پر کتنا گھمنڈ تھا اسے۔۔۔ خود پر کس قدر تکبر سے اس نے مجھے ٹھکرایا تھا۔ آج کیسے ہاتھ جوڑے میرے سامنے کھڑا تھا، کس قدر بےبسی تھی اسکے انداز میں، کتنا لاچار مجبور و مقہور تھا۔ پچھتاؤوں میں گھرا وہ کتنا پریشان حال دکھ رہا تھا۔  زندگی اس پر کتنی تنگ ہو چکی ہے۔

سر جب آپ مجھے کہا کرتے تھےنا کہ دنیا مکافات عمل ہے جس جس نے تمہارے ساتھ برا کیا وہ ایک روز جھکے سر کے ساتھ تمہارے سامنے گردن جھکائے ضرور آئے گا۔ 

تب میں سوچا کرتی تھی کہ زندگی میں جب کبھی  شاہ زر سے میرا آمنا سامنا ہوا تو میں طمانچوں سے اس کا منہ رنگ دوں گی، اس کا گریبان پکڑ کر اس سے اپنی محبت کی بےوفائی کا سوال کروں گی پر آج مجھے خود پر ہی حیرت ہو رہی تھی۔ اسے دیکھ کر میرے دل میں ذرا ہل چل نہ ہوئی۔ محبت کیا وہ تو مجھے نفرت کے قابل بھی نہ لگا میں جو اس کا گریبان پکڑنے کا سوچتی تھی آج وہ سامنے آیا تو مجھے بس وہ  ایک اجنبی، نامحرم اور خود غرض انسان لگا۔ مجھے خود پر حیرت ہو رہی ہے کبھی یہ دل جو شاہ زر کے نام پر دھڑکا کرتا تھا آج اس سے اس قدر بیزار تھا کہ بس جلد از جلد اسکے کاہی زدہ وجود سے دور ہونا چاہتا تھا۔ میرا تو اس کے مقابل کھڑا ہونا محال ہو گیا تھا۔ 

یہ قلب جو کبھی اس کی خوشیوں پر خوش، اسکی تکلیفوں پر کڑھتا تھا۔ آج جانے کیوں اسے تکلیف میں دیکھ کر مطمئن ہوا۔ الحمدللہ میرے رب نے میرا بدلہ لے لیا۔ میری قربانیاں رائیگاں نہ گئیں، میرے تکلیفات میں بیتے ماہ وسال کا میرے رب نے برابر حساب لیا۔ اس کا انجام دیکھا کر میرے رب نے میرے زخمی دل پر پھاہے رکھ دئیے میری ادھڑی روح کو سی دیا۔سر آج میں بہت خوش ہوں، بہت خوش۔ الحمدللہ 

دیا یہ کیا سوچے جا رہی ہو؟ کم ظرف ہوتے ہیں وہ جو کسی کے دکھ پر مسرت و شادمانی محسوس کرتے ہیں۔ اگر دکھوں میں اس کا ساتھ نہیں دے سکتی، اس کا درد نہیں محسوس کر سکتی تو تمہیں اس کی تکلیف پر خوش ہونے کا بھی کوئی اختیار نہیں۔ یہ اسکے ضمیر کی آواز تھی جس نے بروقت اسے سرزنش کی۔ 

میں کب اسکے غم پر خوش ہو رہی ہوں میں تو بس اپنے رب کے مکافاتِ عمل پر مسرت کا اظہار کر رہی ہوں۔ اسکے نفس نے اسکے ضمیر کو وضاحت دیتے تھپکی دے کر سلانا چاہا۔

یہ مکافاتِ عمل نہیں یہ تمہارے ظرف کا امتحان ہے دیا۔ یہی تو آزمائش کی گھڑی ہے۔ بھول گئیں سر کیا کہا کرتے تھے کہ جب مجرم سر جھکائے سامنے آئے تو وہ اسکی آزمائش نہیں خوش بختی ہوتی ہے کہ اسے معافی کی توبہ کی توفیق مل گئی مگر اسی  پل مقابل کے ظرف  کا امتحان ہوا کرتا ہے آیا وہ برائی کو بھلائی سے دور کرتا ہے یا معاف کرنے کا لمحہ جب خود پر آئے تو خدا سے بھی سخت بن جاتا ہے۔ وہ ایمان کا ضمیر تھا اتنی آسانی سے ہار کہاں ماننے والا تھا۔ 

تو میں نے معاف تو کر دیا ہے اسے۔ اسنے خود کو تسلی دی

اسے معاف کرنا نہیں کہتے، معاف کرنا تو وہ ہوتا ہے کہ جس نے تمہارے ساتھ برا کیا ہو تم اس کے ساتھ اچھا کرو۔ جس نے تمہیں اذیت پہنچائی ہو تم اسے بھلائی پہنچاؤ۔ اسے سکون دو جس سے تمہیں سکون نہیں ملا، اسے معاف کرو۔ جس نے تمہارے عیوب  سے چشم پوشی نہیں کی 

تو اب مجھے کیا کرنا چاہئیے؟ اسنے خود سے سوال کیا۔ 

اسکی تکلیف میں اسکا ساتھ دینا چاہئیے۔ اسکی مدد کرنی چاہئیے۔ برے کے ساتھ برا نہیں کرنا چاہئیے۔ اسکی بیٹی کرب کی انتہا پر ہے اور کچھ نہیں تو حبہ کی دیکھ بھال کرنی چاہئیے۔ ضمیر نے اسے ایک خوش نما راہ سجھائی۔

میں کل حبہ کو دیکھنے جاؤنگی۔ اس نے خود سے عہد کیا اور رب سے اپنے لئیے دعا مانگنے لگی۔

یا خدایا! مجھے باظرف لوگوں میں سے بنا دے اگر یہ بات میرے دل میں ڈالی ہے تو مجھے ثابت قدم رکھنا۔ مجھے اتنا حوصلہ دینا کہ میں اس امتحاں میں پورا اتر سکوں۔ دعا مانگ کر وہ کافی حد تک پرسکون ہو چکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨

آج دیا حبہ سے ملنے اسے دیکھنے ہسپتال آئی تھی  

جب اسنے اسکی حالت دیکھی تو خود پر ضبط نہ کر پائی۔ بے اختیار اشک اسکی آنکھوں سے رواں ہو گئے۔ اذیت سی کوئی اذیت تھی۔ اسے اپنا وقت یاد آنے لگا اسنے بھی جلنے کی تکلیف سہی تھی۔ اپنوں کی جدائی کا زخم، نلکیوں نالیوں کی اذیت اسنے بھی برداشت کی تھی۔ 

کسی کے درد اور تکلیف کا احساس آپ کو اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک کہ آپ پر وہی سب کچھ بیت نہ چکا ہو۔ 

دیا وجود کے مسخ ہو کر مزحف ہو جانے کا درد جانتی تھی۔ اسکی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ آنٹی جی آپ کون ہیں؟ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ آپ کو مجھے دیکھ کر رونا آ رہا ہے؟ میرے بابا بھی مجھے دیکھ کر روتے رہتے ہیں بلکہ سب مجھے دیکھ کر ایسے ہی روتے ہیں۔ میں بہت زیادہ جل گئی ہو نا اس لئیے۔۔۔ اور پتہ ہے شاہدہ آنٹی کیا کہتی ہیں۔۔۔ وہ کہتی ہیں میں زندہ نہیں بچوں گی، میں مر جاؤنگی۔ کیا میں واقعی مر جاؤنگی؟ اسکے لہجے کے درد اور اس پر اذیت سوال نے دیا کو بہت اذیت دی۔ کتنے ہی لمحے وہ سوچتی رہی کہ اسے کیا جواب دے پھر بمشکل تمام اپنی ہمتیں مجتمع کر کے بولی۔ 

نہیں بیٹا! آپ کو کچھ نہیں ہو گا۔ آپ بالکل ٹھیک ہو جاؤ گی۔۔۔ ان شاء اللہ  

آپکو پتہ ہے میں آپ کے بابا کی کزن ہوں اور آپ کا پتہ لینے آئی ہوں اور رو اس لئیے رہی ہوں کیونکہ جس تکلیف میں آپ ہیں وہی سب میں نے بھی برداشت کیا تھا۔ مجھے اپنا وقت یاد آ گیا جب میں جلی تھی۔۔۔

آنٹی جی آپ بھی جلیں تھیں؟ حبہ نے اس سے حیرانگی سے پوچھا۔

جی بیٹا! جی میں بھی جلی تھی، آپ جتنا تو نہیں مگر کافی زیادہ جلی تھی۔ 

پھر آپ ٹھیک کیسے ہوئیں؟ مجھے تو لگتا ہے میں اب کبھی نہیں ٹھیک ہونگی۔ کوئی درد سا درد تھا اس جملے میں۔ وہ بچی مایوسی کی انتہاء پر کھڑی تھی۔

نہیں بیٹا جیسے میں ٹھیک ہو گئی ہوں آپ بھی ہو جاؤ گی۔ اللہ تعالی کسی بندے پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ آپ کو پتہ ہے اللہ کے پیارے بندوں پر تکلیفیں لازمی آتی ہیں۔ آپ پتہ نہیں اللہ کو کتنی اچھی لگتی ہوگی کہ اس نے آپ کو اس درد میں مبتلاء کیا۔ پتہ ہے بچے اللہ کے ہر نیک بندے کی زندگی ہر دور میں مشکل ہی رہی ہے۔ دنیا مومن کے لئیے قید خانہ ہےاور جو اس دنیا کی تلخیوں پر صبر کرتے ہیں وہ رب کے محبوب بن جاتے ہیں۔ ان کا بہت اجر ہوتا ہے۔ تکلیف سب پر آتی ہے ہر ایک کی آزمائش مختلف ہوتی ہے تو بس جو صبر کے قائل ہوں رضائے الہی کی جانب مائل ہوں وہ نہ شکوے کرتے اور نہ ہی جزع فزع کرتے بلکہ وہ تو رب کی رحمت سے مایوس بھی نہیں ہوتے۔ بیٹا مایوسی کفر ہے۔ مت دل ہارو۔ اللہ ہے نا؟ وہ سب ٹھیک کر دے گا۔

اپنے جانتے بھر میں وہ حبہ کو تسلی دے رہی مگر اسے خود نہیں معلوم تھا کہ اسکی اپنی آنکھوں سے آنسو گر رہے ہیں۔ 

آنٹی جی آپ بہت اچھی باتیں کرتی ہیں۔ میری ماما بھی ایسے ہی مجھے سمجھاتی ہیں، وہ بھی بہت اچھی ہیں پر وہ مجھ سے ملنے یہاں نہیں آتیں۔ ایک بار بھی وہ یہاں نہیں آئیں۔

پتہ ہے کیوں؟

کیوں؟ نا چاہتے ہوئے بھی دیا پوچھ بیٹھی 

 کیوں کہ نا میرا چھوٹا بھائی مبارز بھی جل گیا ہے تو وہ اس کے پاس ہیں۔ میرے پاس بابا جانی ہوتے ہیں۔ میں کسی روز باباجانی  سے ضد کر کےماما کو بلواؤں گی تب آپ آنا میں آپکو اپنی ممی سے ملواؤں گی وہ بالکل آپ جیسی ہیں۔ مستقبل کی پلاننگز کرتی اس لڑکی پر ایمان کو بہت ترس آیا جسے یہ تک نہ معلوم تھا کہ اسکی ماں اور بھائی اب اس دنیا کے باسی نہیں رہے۔ اسکی حالت کے پیشِ نظر ڈاکٹرز کے کہنے پر شاہ زر نے اس سے یہ خبر چھپا لی تھی۔

اوکے میری جان میں ضرور آؤنگی بس آپ جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ۔ اسے یقین دہانی کرواتی وہ مزید کچھ دیر اسکے پاس بیٹھ کر اسے تسلی و حوصلہ دیتی رہی پھر اس نے گھڑی کی سمت دیکھا شاہ زر کے آنے کا ٹائم ہو رہا تھا، وہ بوجھل دل لئیے وہاں سے چلی آئی۔ 

یہ بچی مایوسی کی انتہاؤوں کو پہنچی ہوئی ہے۔ جب میں اس بستر پر بےبس پڑی تھی تو میں بھی اسی کرب سے گزرتی تھی۔ روز جیتی تھی، روز مرتی تھی تب میرے نصیب میں کوئی ہادیۃ الایمان نہیں تھی جو مجھے کرب کی اس جاں گسل کیفیت سے نکالتی مگر میں اسے ضرور اس تکلیف سے باہر نکالوں گی۔ شفایابی میرے ہاتھ میں نہیں مگر میں دعا تو کر سکتی ہوں۔ اپنے لفظوں سے اسکے رستے زخموں پر مرہم تو لگا سکتی ہوں۔ اسکی ہمت اور حوصلہ تو بڑھا سکتی ہوں۔ میں دیا ہوں اپنی روشنی سے اس بچی کی تاریک زندگی تو منور کر ہی سکتی ہوں۔ میں ضرور اس کا ساتھ دونگی۔ اب میں اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر ضرور بالضرور آدھا گھنٹہ اس لڑکی کے لئیے مختص کرونگی۔ میں تو بڑی تھی میں نے  تو خود اپنے ٹوٹے وجود کی کرچیاں سمیٹ لی تھیں مگر یہ ابھی بچی ہے کہیں یہ اس درد کی شدت سے خود کو لہولہان نہ کر بیٹھے۔ مجھے یہاں بار بار آنا ہو گا۔ چراغ سے چراغ جلانے کے لئیے کسی ڈوبتے کو بچانے کے لئیے۔۔۔ میں کل پھر آؤنگی ان شاء اللہ اور اب روز آؤنگی اور تب تک آتی رہونگی جب تک یہ صحت یاب نہیں ہو جاتی۔

ہسپتال سے نکلتے یہ آخری بات تھی جو اس نے خود سے کی اور اس بار وہ ان شاء اللہ کہنا بھول گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨✨

وہ حبہ کی چٹیا بنا رہی تھی ساتھ ساتھ اس سے باتیں بھی کر رہی تھی۔ کبھی اپنے گھر کی کبھی جازل کی، حبہ بہت خوش ہو کر اس کی باتیں سن رہی تھی۔ پچھلے کئی روز سے وہ مسلسل حبہ کے پاس آ رہی تھی 

 اور اس کا مقصد صرف یہی تھا کہ وہ حبہ کو زندگی کی جانب لے آئے۔ وہ اسے صحابہ اور نبیوں کی زندگی کے واقعات سناتی، ان کے غموں کی داستاں، انکے صبر کا طریقہ بتا کر اس کا حوصلہ بڑھاتی۔ وہ حبہ پر ان تھک محنت کر رہی تھی۔ 

 وہ جانتی تھی بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں اس لئیے وہ حبہ کو اپنی ہی بیٹی سمجھا کرتی تھی اور یہ بہت ظرف کی بات ہوتی ہے کہ کوئی دشمن کی بیٹی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، اسکی تیمارداری کرے، اسکا حوصلہ بڑھائے۔ وہ واقعی بہت باظرف تھی۔  

وہ روز حبہ کے لئیے کچھ نہ کچھ لے آتی، کبھی فروٹس کبھی جوسز کبھی چاکلیٹس کبھی پھولوں کے بکے اور کبھی اپنے ہاتھ کا پکا پرہیزی کھانا اور صرف لاتی ہی نہیں بلکہ اسے اپنے ہاتھوں سے کھلاتی بھی تھی۔ جب آتی اسکا منہ صاف کرتی، اسکے بال باندھتی، اسے اپنے لفظوں سے ہمت دیتی۔

اب تو حبہ خود اس کا انتظار کرنے لگی تھی۔ تین بجتے ہی اس کی نظریں گھڑی کا طواف کرنے لگتیں۔ اسے دیا کی عادت پڑنے لگی اور عادت محبت سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ 

دیا بھی چاہے کچھ دیر کے لئیے آتی پر وہ اس کے پاس آتی ضرور تھی۔ اسکا حبہ کے ساتھ دل لگ گیا تھا۔ دوسری جانب حبہ کی دیا سے اٹیچمنٹ بھی کسی سے مخفی نہ تھی۔ 

اس وقت بھی وہ حبہ کو بیٹھی جازل کی ویڈیو دیکھا رہی تھی جس میں وہ اسے پارہ پڑھا رہی تھی۔ اچانک اسے ایک خیال آیا۔ 

حبہ بیٹے آپ قرآنِ پاک نہیں پڑھتے؟ بیٹا قرآن ہی تو شفاء ہے۔ آپ کیوں نہیں اللہ کا کلام پڑھتیں؟ اگر پڑھو گی تو جلدی ٹھیک ہو جاؤ گی۔

آنٹی جی پہلے پڑھتی تھی قاری صاحب سے۔ وہ گھر آتے تھے پڑھانے پھر میں جل گئی میرا قرآن پاک بھی جل گیا۔ اب میرے پاس قرآن ہی نہیں اس لئیے نہیں پڑھتی۔ دیا کو اسکی توجیہہ پر ہنسی آئی۔

یہ تو کوئی بات نہ ہوئی آپ بابا سے کہو کہ وہ آپ کو نیا قرآن پاک لا کر دیں۔ اس نے اسے تہہ دل سے مشورہ دیا وہ جانتی تھی بحرِ غم سے نجات قرآن کے بناء ناممکن ہے۔ 

اوکے آنٹی میں قرآن منگوا تو لونگی پر پڑھائے گا کون؟ کیا میرے قاری صاحب ہسپتال میں آ جائیں گے؟ بےحد معصومیت سے پوچھتی وہ ہادیہ کو بہت اچھی لگی۔ 

میرا بیٹا میں پڑھاؤنگی نا آپ کو، میں ہوں نا۔ میں جازل کو بھی پڑھاتی ہوں تو آپ بھی تو میری بیٹی ہو آپ کو کیوں نہیں پڑھاؤنگی؟ بس آپ قرآن منگواو ہم کل سے روز قرآن پڑھا کریں گے ۔ اس نے خوشدلی سے اسے سمجھایا۔

اوکے آنٹی۔ حبہ دیا کی اس بات پر وہ بہت خوش ہوئی۔ اس کی بانچھیں چر گئیں۔

اچھا بیٹا اب میں چلتی ہوں۔ آپ اپنا خیال رکھنا۔ اوکے؟ وہ شاہ زر کے آنے سے پہلے وہاں سے نکل گئی۔ روز وہ یہی کرتی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اب اس کا زندگی میں اب دوبارہ کبھی شاہ زر سے سامنا ہو

مگر قسمت کی ستم ظریفی شاید اسی کو کہتے ہیں۔ حبہ کی اس سے اٹیچمنٹ دیکھتے ہوئے شاہ زر نے ایک بار پھر دیا کے لئیے رشتہ بھیج دیا۔ 

ہادیہ کے تو مانو سر پر لگی پیر پر بجھی وہ سر تا پا سلگ اٹھی۔ 

اسکی اتنی جرات؟ کیا سوچ کر اسنے یہ حر کت کی؟ منہ توڑ دونگی میں اسکا کیا سمجھتا ہے وہ خود کو؟ میں جو اس گھٹیا انسان کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی اس سے عمر بھر کا رشتہ جوڑوں گی؟ خوش فہمی ہے اس کی میرے لئیے میرا جازل کافی ہے۔ وہ بڑا ہو کر میرا سہارا بنے گا۔ میں دنیا کو بتاؤں گی کہ ایک بیوہ عورت بھی اگر کچھ کرنے کی ٹھان لے تو کوئی شے اس کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ دو حرف بھیجتی ہوں میں شاہ زر پر بھی اور اسکی بیٹی پر بھی۔ اب آئندہ میں حبہ سے بھی ملنے نہیں جاؤنگی۔ اس نے دوٹوک انداز میں مسفرہ کو اپنے عزائم سے خبردار کیا۔

دیا مت کرو ایسا۔ دیکھو اتنی لمبی زندگی تنہا نہیں گزرتی۔ مسفرہ نے اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کی۔ 

مسفی تم پر وہ سب بیتی نہیں نا جو کچھ میں نے سہا اس لئیے تمہیں یہ مشورے دینا آسان لگ رہا ہے۔ مجھ سے پوچھو ٹھکرائے جانے کی اذیت کیا ہوتی ہے؟ رد کئیے جانے کا درد کیا ہوتا ہے؟ اسکی آنکھیں آج بھی نم ہو گئیں۔

دیا تم تو شاید جازل کے سہارے جی ہی لو مگر اسکی بیٹی کو اگر اس وقت سہارا نہ ملا تو وہ مر جائے گی۔ مسفرہ اسے سمجھانے کی سرتوڑ کوششوں میں مگن تھی۔ وہ دل سے چاہتی تھی شاہ زر اور دیا ایک ہو جائیں۔ 

واہ مسفی واہ۔۔۔ یہ تم کہہ رہی ہو۔۔۔ تم واقف نہیں میرے درد سے؟ اپنی بیٹی پر پڑی تو آج اسے دیا یاد آئی۔ کیا میں کسی کی بیٹی نہ تھی؟ کیا میں نے اپنے ماں باپ اور اپنے وجود کا حصہ نہ کھویا تھا؟ کیا میں نے جدائی کا درد نہ سہا تھا؟ کیا میں نے ناآسودہ محبت کی تشنگی نہ برداشت کی تھی؟ 

بتاؤ کیا میں اتنی ہی ارزاں ہوں کہ جب اس کا دل چاہے اپنا لے جب مرضی مجھے ٹھکرا دے؟ 

کیا ایک عورت کا وجود اتنا ہی حقیر ہوتا ہے کہ جب چاہے وہ پامال کی جائے اور جب مرضی اپنی ضرورت کے تحت اپنا لی جائے؟ اسکے سارے سوالات مسفرہ کا دل مجروح کر رہے تھے، وہ لاجواب ہو گئی۔

مسفی وہ خود غرض ہے۔ وہ آج بھی اتنا ہی گھٹیا ہے۔ آج بھی وہ میرے لئیے نہیں، صرف حبہ کی وجہ سے مجھے اپنانے آیا ہے مگر اب میں ماضی کی وہ عام دیا نہیں کہ جب جس کا مرضی جی چاہے مجھے بجھا دے۔ نہیں اس بار میں اسکی چال کامیاب نہیں ہونے دونگی۔

اسنے جو کرنا تھا کر لیا۔ میری بربادی کے دن تمام ہوئے۔ اب میں ہادیۃ الایمان ہوں۔ اب میں اسے بتاؤں گی کہ میں کیا کر سکتی ہوں۔ وہ بے حد اشتعال انگیز انداز میں بولی۔ 

دیا اسے معاف کر دو وہ مجبور ہے، بےبس ہے۔ مسفرہ کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ وہ اس صورتحال کو کیسے سنبھالے۔

مجبور و مقہور میں بھی تھی مسفی اور اسے مجھ پر رحم نہ آیا تو میں کیوں اس پر ترس کھاؤں؟ اور تم کہہ رہی ہو میں اسے معاف کر دوں؟

کر دیا مسفی! ابھی نہیں بہت پہلے۔۔۔ میں نے اسے معاف  کر دیا تھا، پر اسے اپنا نہیں سکتی اور اس کے لئیے تم مجھے معاف کر دو۔ مسفرہ میں اس قدر باظرف نہیں۔ میں انسان ہوں خدا نہیں۔  یہ ظرف صرف میرے رب میں ہے کہ وہ خطائیں دیکھ کر بھی عطائیں نہیں روکتا۔ 

میرے اندر اتنا حوصلہ نہیں میں تو اب اسکی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی بلکہ وہ کیا میں تو اب اسکی بیٹی تک سے نہیں ملنے جاؤنگی۔ میری نیکی میرے گلے پڑ رہی ہے۔ میری ہمدردی کو اگر وہ غلط رنگ دے کر دل میں طمع رکھے گا تو بتا دو اسے کہ میں تھوکتی تک نہیں اس پر۔ میرے لئیے وہ اسی روز مر گیا جس دن وہ مجھے چھوڑ کر گیا تھا۔ اب تم جا سکتی ہو۔ اپنی بات مکمل کر کے اسنے مسفرہ کو باہر کی راہ دیکھائی۔ وہ مزید اس موضوع پر ایک لفظ نہیں سننا چاہتی تھی۔ مسفرہ بوجھل دل لئیے اسے اس کے حال پر چھوڑ گئی۔

اس نے غصے میں ناصرف یہ سب کہا بلکہ اس پر من و عن عمل بھی کیا اور حبہ سے ملنا ترک کر دیا۔ 

وہ بیچاری قرآن منگوا کر روز اس کا انتظار کرتی مگر وہ پلٹ کر دوبارہ ہاسپٹل نہ گئی۔ 

دیا کی جدائی میں حبہ گھلنے لگی۔ اس کی صحت دن بدن مزید گرنے لگی۔ وہ ہر وقت ہادیہ کو یاد کر کے روتی رہتی یہاں تک کہ شاہ زر مجبور ہو کر ہادیہ کی یونیورسٹی پہنچ گیا۔ اسنے دیا کے آگے ہاتھ جوڑے کہ ایک بار میری بیٹی سے مل جاؤ، وہ مر جائے گی۔ وہ اذیت کی انتہاؤوں پر کھڑی تمہیں پکار رہی ہے۔ تمہیں بدلہ لینا تھا تو مجھ سے لیتیں حبہ کو کیوں اپنا عادی بنایا؟ وہ نہ اب زندوں میں ہے نہ مردوں میں۔ میری بیٹی کی حالت پر رحم کھاؤ تمہاری جدائی اسے مار دے گی۔ 

تب دیا نے انتہائی کٹھور پن سے شاہ زر کو وہ وقت یاد دلایا جب وہ ایسے ہی شاہ زر کے آگے گڑگڑائی تھی اور وہ بے رحمی سے اسے ٹھوکر مار کر چل دیا تھا۔ 

اس نے شاہ زر کو دو ٹوک لفظوں میں بتایا کہ وہ اسے معاف تو کر سکتی ہے اور وہ اس نے کر دیا ہے پر وہ اس سے زیادہ اس کے لئیے کچھ نہیں کر سکتی۔ اس لئیے وہ اس سے کوئی امید نہ رکھے اور بناء تماشہ کئیے اس کے آفس سے چلاجائے۔ شاہ زر مایوس لوٹ گیا۔ اس کے جانے کے بعد اس نے خود سے سوال کیا۔ 

کیا پتہ میری جدائی واقعی حبہ کی حالت پر اثر انداز ہو رہی ہو۔ وہ بچی ہے اس کے سر پر تو ماں بھی نہیں، کیسے حالات کا مقابلہ کرے گی؟ کیا مجھے حبہ سے ملنے جانا چاہئیے؟

ہاں دیا تمہیں ضرور جانا چاہئیے۔ یہ وقت بدلہ لینے کا نہیں بلکہ ایک مرتی ہوئی بچی کی جان بچانے کا ہے۔ اسکے ضمیر نے اس بار بھی اس کا ساتھ نہ دیا۔

میں آج شام ضرور ہسپتال جاؤنگی۔ شاہ زر نے جو میرے ساتھ کیا اس میں اس بیچاری بچی کا کیا قصور؟ وہ تو پہلے ہی اپنے باپ کے جرائم کی سزا بھگت رہی ہے۔ میں اپنی ذات سے 

اسے کیوں مزید اذیت دوں؟ میں ضرور جاؤنگی۔ اس نے خود سے عہد کیا اور پرسکون ہو کر دوبارہ لیپ ٹاپ کھول کر اپنا کام کر نے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨✨

ایک بار پھر وہ اپنے دل کے خلاف جا کر حبہ سے ملنے آئی۔ حبہ کے چہرے کی پژمردگی اسے دیکھتے ہی بشاشت میں ڈھل گئی۔ 

آنٹی جی آپ آ گئیں۔ آپ کہاں چلی گئیں تھیں؟ آپ کیوں نہیں آتی تھیں؟ میں آپ کو بہت مس کرتی تھی۔ اس کے لہجے سے اسکی وہ خوشی چھلک رہی تھی جو اسے دیا کو دیکھ کر ہوئی تھی۔

بیٹا میں تھوڑا مصروف تھی اس لئیے نہیں آ سکی۔ میں بھی آپ کو بہت مس کرتی تھی۔ مسکرا کر جواب دیتے کرسی گھیسٹ کر اس کے پاس ہی بیٹھ گئی۔

آپکو پتہ ہے میں نے بابا جانی سے کہہ کر  قرآن بھی منگوا لیا ہے۔ آپ نے کہا تھا نا آپ مجھے قرآن پڑھائیں گی۔ حبہ نے اسے اس کا وعدہ یاد دلایا۔

جی بیٹا ضرور پڑھاؤنگی آپ کھولئیے قرآن کہاں سے پڑھنا ہے آپکو؟  

وہ آنٹی جی میں نے قاری صاحب سے تین پارے مکمل پڑھ لئیے تھے، اب چوتھے پارے سے پڑھنا ہے۔ اسے جواب دیتے ہوئے حبہ نے قرآن کھولا۔

تعوذ اور تسمیہ پڑھنے کے بعد دیا کی نظر جونہی پہلی آیت پر پڑی وہ چونک سی گئی۔ 

لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون 

ہر گز نہیں تم کامل نیکی کو پہنچ سکتے یہاں تک کہ اپنی محبوب شے نہ راہِ خداوندی میں دے دو۔ 

یہ وہ آیت تھی جو اسے ہمیشہ شش و پنج میں ڈال دیا کرتی تھی۔ 

حبہ کو سبق دے کر اس کے ساتھ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کر کے دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے وہ الجھے ذہن کے ساتھ گھر آ گئی۔ 

کچھ دیر سستانے کے بعد اسکی تفسیر کلاس کا وقت ہو گیا۔ اسکی حیرت کی انتہاء نہ رہی جب تفسیر میں بھی وہی آیت تھی۔ 

یا اللہ! آپ مجھے کیا سمجھانا چاہ رہے ہیں؟ یہ آیت بار بار میرے سامنے کھلنے کا کیا مقصد ہے؟ تب وہ اس آیت کے سامنے صحیح بےبس ہوئی جب رات کو وہ جازل کو قرآن پڑھانے بیٹھی تو یہی آیت کھلی۔ 

اس نے بےبس ہو کر قرآن بند کر دیا اور جازل کو چھٹی دے دی اور خود اس آیت پر غور و فکر کرنے لگی۔

میری کیا شے مجھے سب سے محبوب ہے؟ اس نے خود سے سوال کیا۔  

یکدم اس کے دماغ میں ایک جھماکا ہوا۔

کہیں میرا رب مجھ سے میری اناء کی قربانی تو نہیں چاہتا؟ 

مجھے سب سے محبوب اپنی عزتِ نفس ہے۔ کہیں وہ میری اکڑ تو نہیں توڑنا چاہتا؟؟؟

کہیں میرا رب یہ تو نہیں چاہتا کہ میں دل کے خلاف جا کر شاہ زر کو اپنا لوں کیونکہ مجھے سب سے زیادہ نفرت اسی سے ہے۔ باقی سب کو تو میں نے ایک لمحے میں معاف کردیا۔ اسکے معاملے میں یہ دل اس قدر بےرحم اس لئیے ہے کیونکہ اس سے امیدیں شدید تھیں اور اس نے میری ہر آرزو کو دفن کیا تو کہیں میرا رب یہ تو نہیں چاہتا کہ میں۔۔۔

نہیں نہیں یہ نہیں ہو سکتا اگر میں نے اپنا وقار، اپنا بھرم، اپنی اناء کھو دی تو میں تو جیتے جی مر جاؤنگی۔ 

نہیں میں یہ کر ہی نہیں سکتی۔ وہ جو ہر جنگ جیت آئی تھی، آج اپنے نفس سے ہارنے لگی۔ اس کے اندر ایک عجیب جنگ چھڑی تھی۔ انسان بیرونی محاذ پر تو جیت جاتا ہے مگر اگر کوئی شے اسے ہرا سکتی ہے تو وہ اس کا نفس۔۔۔اندر کی جنگ انسان کو توڑ پھوڑ کا شکار کر دیتی ہے۔ اس وقت دیا بھی اسی کیفیت سے گزر رہی تھی اور اس پر اس کا نفس غالب آ رہا تھا۔ 

نہیں میں اسے کبھی نہیں اپنا سکتی۔ میں اسے معاف تو کر سکتی ہوں، اس کی دی اذیت بھول نہیں سکتی۔ ریجیکشن کا درد، ٹھکرائے کی اذیت، اسکے دئیے زخم۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔ میں اسے نہیں قبول کر سکتی۔ یہ مجھ سے نہیں ہو گا۔۔۔ وہ ٹوٹنے لگی، بکھرنے لگی۔ 

تو مان لو دیا آج بھی تم بندگی کے اس مقام تک نہیں پہنچ سکیں جہاں محبوب کا حکم آئے تو گردن فورا جھکتی ہے۔ تم رب سے محبت کا دعوی تو کرتی ہو مگر اس کے خاطر اپنے نفس کے خلاف نہیں جا سکتی۔ مان لو تمہیں آج بھی صرف اپنا آپ عزیز ہے۔ محب تو محبوب کی ماننے والا ہوتا ہے۔ تمہیں یہ کیسی اس سے محبت ہے کہ تم اسکی نام لیوا بھی ہو اور اسی کی لاج نہیں رکھ رہی۔ وہ ضمیر کی عدالت میں کھڑی تھی جہاں نہ جھوٹے وکلاء کی فیس بھری جاتی ہے نہ ذاتی طرفداری کی بناء پر فیصلہ اپنے حق میں کروایا جا سکتا ہے۔ وہ رونے لگی۔

میں نے اسے معاف کیا۔ دل سے معاف کیا پر یہ کس جگہ پہ لکھا ہے کہ معاف کرنے کی شرط تعلق جوڑنا ہے؟ اسنے خود سے سوال کیا۔

اچھا معاف کرنے کی شرط تعلق جوڑنا نہیں ہے تو رب نے یہ خیال تمہارے دل میں ڈالا ہی کیوں اور صرف  شاہ زر سے ہی تعلق نہ جوڑنے کی کیا وجہ ہے؟ کیوں تم اسے اپنانا نہیں چاہتیں؟ کیوں اس کے ذکر پر تمہیں اس قدر تکلیف ہوتی ہے؟

مان لو اس کی واحد وجہ تمہارا نفس ہے۔ تم اسے اذیت میں دیکھنا چاہتی ہو یہ بھلا کیسی معافی ہوئی؟ یہ معافی نہیں، غرورِ نفس کا دھوکہ ہے۔ 

بتاؤ اسے سزا دے کر، اسے اذیت میں دیکھ کر کیا تمہارے گزرے ماہ وسال لوٹ آئیں گے؟ کیا تمہاری تکلیف کی تلافی ہو جائے گی؟ 

اگر اس کے ساتھ مکافاتِ عمل ہو بھی گیا تو کیا تمہارے ساتھ ہوئی زیادتی ختم ہو جائے گئی؟ 

کیا فائدہ اسے کوسنے، اسے بدعائیں دینے کا؟ مکافاتِ عمل تو ہونا ہی تھا۔ یہ میرے رب کی سنت ہے۔ اگر تم نہ بھی اسکی بدحالی چاہتیں تب بھی تمہارا رب تمہارا بدلہ ضرور لیتا۔ وہ کسی پر ہوا ظلم نہیں بھولتا پر کیوں تم نے اپنے اتنے قیمتی ماہ و سال برباد کر دئیے۔

تم نے صرف اپنا وقت  ہی نہیں بلکہ اپنی انرجی اور اپنا سکون بھی برباد کیا۔

تم آج بھی بے سکون ہو کیونکہ تم نے اسے دل سے معاف نہیں کیا تم نے برائی کو بھلائی سے رفع کرنے کی کوشش نہیں کی۔ خدا کی آیت بار بار تمہارے سامنے آتی رہی اور تم اپنے نفس کی پوجا میں مگن اسے نظرانداز کرتی رہی اور یہی تو آیات کا اعجاز ہے کہ وہ بےحسوں سے چشم پوشی کر لیتی ہیں۔ اسی لئیے تمہیں وہ آیت نہ سمجھ آتی تھی اور جب آئی تو تب بھی تمہاری اناء اسے ماننے میں مانع ہوگئی۔ تمہاری اکڑ تمہاری راہ میں حائل ہو گئی۔ آج بھی تم صرف اپنی خواہشات کی بندی ہو۔ رب آج بھی تمہاری نظر میں بے مول ہے۔ ارے اسے ماننے والے تو اپنی ضد، اکڑ، اناء، غرور سب ختم کر کے زمیں کے ہو رہتے ہیں۔ 

تم نے اسکی نہ مانی اس لئیے تم اضطرابِ مسلسل میں ہو۔ تم خود تو ہر پل اس سے معافیاں مانگتی رہتی ہو اور معاف کرنے کا لمحہ جب وہ تم پر لایا تو تم خدا سے بھی سخت ہو گئیں۔ یہ کیسی معافی ہے کہ تمہاری زباں تو معاف کیا معاف کیا کہہ رہی ہے اور تمہارا دل تمہارے اس عمل کی تصدیق نہیں کر رہا۔ تمہاری عقل اس معافی کو  تسلیم نہیں کر رہی۔ معافی فقط زبان سے نہیں ہوتی،

یہ تو رویے سے ظاہر ہوتی ہے اور تمہارا رویہ چیخ چیخ کر اس پل فقط یہی کہہ رہا ہے کہ تم رب کی نافرمان ہو۔ 

تم تو صبر کی قائل تھیں، رضائے الہی پر مائل تھیں تو اب اسکی ماننا کیوں دشوار ہونے لگا یا یوں کہو کہ تم منافقہ ہو۔ صرف اپنے مطلب کی بات مانتی ہو۔ ایمان والے تو ہر مقام پر اپنے رب کو عزیز رکھتے ہیں جسے رب سے زیادہ عزتِ نفس پیاری ہو وہ سب کچھ ہو سکتی ہے، مومنہ نہیں۔ اس کا ضمیر اسے آئینہ دیکھا رہا تھا۔ 

ہاں میں مومنہ نہیں ہوں۔۔۔ میں نہیں معاف کر سکتی اسے۔۔۔ میں نہیں بھول سکتی اس کی دی ذلت۔۔۔ ہاں میں منافقہ ہوں۔۔۔ میں دل سے نہیں اسے معاف کرونگی۔۔۔ اس نے ہذیانی انداز میں اپنے بال پکڑ لئیے۔ وہ اندر سے ٹوٹ رہی تھی اور یہ درد اس سے سہا نہیں جا رہا تھا، اس لئیے بری طرح رو رہی تھی۔

اچانک اس کے کانوں میں خزیمہ کی آواز پڑی۔ اس کے سکول میں مقابلہ تھا۔ وہ کلامِ اقبال کی پریکٹس کر رہا تھا۔ لاؤنج میں بیٹھا وہ بآوازِ بلند پڑھ رہا تھا: 

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے 

تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ 

جو شکستہ ہو تو عزیز تر 

ہے نگاہِ آئینہ ساز میں 

الفاظ تھے یا کسی ساحر کا منتر وہ ان لفظوں پر غور کرنے لگی۔ 

میں بھی تو یہی کر رہی ہوں۔ اپنی عزت، اپنی اناء، اپنا وقار بچا رہی ہوں جبکہ اگر یہ ٹوٹ جائے اگر میں شکستہ ہو جاؤں تو عزیز تر بن جاؤں۔ 

بس لمحے میں فیصلہ ہو گیا۔ وہ آیت کے آگے ہار گئی۔ 

اس نے اپنی محبوب شے رب کے حکم پر لٹانے کا فیصلہ کر لیا۔

کبھی کبھی رب کی نظر میں مقام بنانے اور خود کو بچانے کے لئیے انسان کو خود کو اذیت اور مشقت میں ڈالنا پڑتا ہے۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا وہ خود کو تکلیف میں ڈال کر رب کو محبوب رکھے گی اور خیر کی منبع بنے گی۔

اگرچہ یہ کام مشکل تھا پر ناممکن نہیں تھا۔ ایک عزم سے اس نے اپنے آنسو پونچھ ڈالے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨✨✨✨

بھائی بات سنیں۔۔۔ عمر بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا جب  ہادیہ نے اسے آواز دی۔ اسکی پکار پر وہ رک گیا۔ 

جی؟ اسفہامیہ انداز میں پوچھتا وہ بیٹ خزیمہ کی جانب بڑھا کر اسکی جانب مڑا۔ وہ مجھے نا آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔ 

جی بولو۔ میں سن رہا ہوں۔ عمر ہمہ تن گوش ہوا۔ ایسے کھڑے کھڑے؟ آپ بیٹھ جائیں دیا نے وہیں باغ میں دھری چیئرز کی جانب اشارہ کیا۔ عمر بچوں کو کھیل جاری رکھنے کا کہتے خود دیا کے پاس بیٹھ گیا۔

جی دیا کیا کوئی بہت ضروری کام ہے؟ 

وہ بھائی شاہ زر کا رشتہ آیا تھا نا میرے لئیے آپ اسے ہاں کر دیں۔ جھجھکتے ہوئے بمشکل تمام وہ ہکلا کر بولی۔ اسے اس موقع پر اپنی ماں کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔ ایسی باتیں باپ بھائیوں سے مائیں کیا کرتی ہیں مگر چونکہ اب وہ تھیں نہیں تو اسے خود یہ سب کرنا تھا۔ اس لئیے اس نے ہمت کرتے ہوئے کہہ ہی دیا۔

واٹ؟ دیا آر یو میڈ؟ تم شاہ زر سے شادی کرو گی جو تمہیں ایک بار چھوڑ کر جا سکتا ہے، وہ بار بار بھی یہ حرکت دہرا سکتا ہے۔ تم بھول گئی تم نے اسکی کتنی منتیں کیں تھیں اور اس نے تمہیں کس بےدردی سے ریجیکٹ کیا تھا۔ نہیں دیا میں تمہیں خود پر یہ ظلم نہیں کرنے دوں گا۔ اس نے قطیعت سے نفی میں گردن ہلائی پھر ایک خیال آنے پر چونکا۔ 

تم سے مسفی نے کچھ کہا ہے؟ اسی نے کہا ہو گا یقینا تم اسی کی وجہ سے یہ فیصلہ کر رہی ہو۔ کیا مجھے نہیں معلوم تم شاہ زر سے کتنی نفرت کرتی ہو؟ اس کا نام تک تو سننا پسند نہیں کرتیں۔ اب اچانک جو شادی کی بات کر رہی ہو تو ضرور اس کے پیچھے کوئی بڑی وجہ ہے۔  

دیکھو بیٹا اب تم پر کوئی دباؤ نہیں۔ تم کسی کی نہ ماننا۔ تمہارا بھائی ابھی زندہ ہے، میں مسفی کو خود سمجھا لونگا۔۔۔

بھائی مجھے مسفی نے کچھ نہیں کہا۔ میں نے اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کیا ہے۔ عمر کی بات کاٹتے اس نے پیار سے اسے سمجھایا۔

دیا مجھے پتہ ہے تم  بہت باظرف ہو۔ تم مسفی کا نام نہیں آنے دینا چاہتیں۔ اس سے تو میں خود پوچھ لونگا پر تم سے صرف اتنا کہونگا تمہیں اب  کسی کی ماننے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تم آذاد ہو، خود مختار ہو، اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنے کی مجاز ہو۔ برسوں پہلے اسے جس مان کی ضرورت تھی۔ وہ اسے آج میسر آیا۔ اسکی آنکھیں آنسؤوں سے لبریز ہو گئیں۔ 

بھائی میں کسی کی نہیں مان رہی، میں اس کی مان رہی ہوں جس کی مانے بناء کوئی چارہ ہی نہیں۔ میں اپنے رب کی مان رہی ہوں۔ میرے اللہ نے کہا برائی کو بھلائی سے دور کرو۔ بھائی جو اسنے میرے ساتھ کیا وہی سب میں اس کی بیٹی کے ساتھ نہیں دہرانا چاہتی۔ وہ مجبور ہے۔ یہ وقت بدلہ لینے اور اناء کا شکار ہونے کا نہیں۔ یہ وقت اجر کمانے کا ہے۔ رب کی مخلوق کے کام آ کر اسے خوش کرنے کا ہے۔ آپ پلیز اسے ہاں کر دیں۔ آخر میں اس نے منت بھرے انداز میں کہا۔

عمر کو اپنے سامنے بیٹھی اپنی چھوٹی بہن پر بہت فخر ہوا۔ وہ اس سے چھوٹی تھی مگر کتنی سمجھدار تھی۔ اس نے یکدم اٹھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔

اوکے میں ہاں کر دوں گا مگر ایک شرط پر؟

اب کیا ہے وہ شرط؟ وہ متجسس ہوئی۔ 

شادی کی شاپنگ ساری تم میرے پیسوں سے کرو گی کیونکہ اب تمہارے بھائی کا کام کاروبار چل پڑا ہے۔ آج ہی دو آرڈر آئے ہیں۔ اس نے خوش ہوتے ہوئے دیا کو بتایا۔ 

الحمدللہ۔ یہ تو بہت خوشی کی خبر ہے۔ ٹھیک ہے، ڈن ہو گیا۔ آپکے پیسوں سے کیا آپ کے ساتھ ہی جا کر ساری شاپنگ کرونگی مگر پھر میری بھی ایک شرط ہے۔

ہاں بھئ کھلا دونگا گول گپے وہ بھی ریڑھی والے سے۔ اسے آج بھی دیا کی فرمائش یاد تھی۔ ماموں میں بھی جاؤنگا آپ لوگوں کے ساتھ گول گپے کھانے اور ہاں میں آئس کریم بھی کھاؤنگا۔ بال تھامے جازل ان کے گول گپے کھانے کا پلان سن کر کھیل چھوڑ کر دوڑا چلا آیا۔ 

اوکے ماموں کی جان ماموں آپکو بھی لے جائیں گے۔ اس نے جھک کر جازل کے پھولے گال پر پیار کرتے ہوئے کہا 

بلکہ تم ابھی چلو میرے ساتھ میں اپنے بیٹے کو ابھی آئس کریم کھلا کر لاتا ہوں۔ 

اوکے ماموں بول کر عمر کی انگلی تھام کر چل دیا۔ ہادیہ نے مسکرا کر دونوں کو جاتے دیکھا۔

بھائی خدا کی کتنی بڑی نعمت ہوتے ہیں نا آپکے محافظ آپکا سائباں۔۔۔ کتنا خیال رکھتے ہیں نا بھائی جازل کا، اس کی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کا۔ اللہ میرے ویر کو ایمان اور صحت والی لمبی عمر دے۔ وہ دل سے اپنے بھائی کے لئیے دعا کر رہی تھی۔ اتنے میں خزیمہ پھولی سانسوں کے ساتھ وہاں آیا۔ 

اپو آپ نے جازل کو دیکھا ہے؟ 

بال لینے گیا تھا واپس ہی نہیں آیا، اسنے دیا سے پوچھا۔ جی وہ عمر بھائی کے ساتھ باہر آئسکریم کھانے گیا ہے۔ کیا؟ خزیمہ چلایا۔ اپو وہ ہمیں بتائے بناء ہمارے بغیر کیسے چلا گیا؟ اسکا صدمہ ہی نہ کم ہو رہا تھا۔ 

آئے تو پوچھ لینا بلکہ اچھی طرح اس کے کان کھینچنا۔ فی الحال تم ادھر آؤ میرے پاس۔ دیا نے اسے اپنے پاس بلایا۔ وہ بیٹ رکھتا دیا کے پاس چلا آیا۔ جی اپو! پھولے منہ کے ساتھ اسنے ہادیہ کو جواب دیا اور اسکے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ دیا نے مسکراتے ہوئے اس کے پھولے گالوں پر چٹکی بھری۔ 

ڈونٹ وری بیٹا ہم رات کو جائیں گے۔ ان شاء اللہ۔ تمہیں میں آئس کریم کھلاؤں گی۔ ابھی تم مجھے وہ نظم سناؤ جو کل رات کو پڑھ رہے تھے۔ اس کے دل میں وہی لفظ سننے کی خواہش پیدا ہوئی جنہوں نے اسے فیصلہ کرنے میں آسانی دی تھی۔

اپو کون سی نظم؟ میں تو کوئی نظم نہیں پڑھ رہا تھا۔ اس کا دھیان بٹ چکا تھا۔ 

بیٹا وہی والی تو بچا بچا کر نہ رکھ اسے۔۔۔ اس نے خزیمہ کو یاد دلایا۔ 

اپو وہ نظم نہیں کلامِ اقبال ہے۔ خزیمہ نے سر پر ہاتھ مارتے ہنستے ہوئے اسکی تصحیح کی۔

اوکے وہی سنا دو۔ دیا اسکے انداز پر دل سے مسکرائی۔

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے 

تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ 

جو شکستہ ہو تو عزیز تر

ہے نگاہِ آئینہ ساز میں 

کبھی اے حقیقتِ منتظر 

نظر آ لباسِ مجاز میں 

وہ خزیمہ کے ساتھ مل کر پڑھنے لگی

کبھی اے حقیقتِ منتظر 

نظر آ لباسِ مجاز میں

کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے 

ہیں میری جبینِ نیاز میں 

وہ مسکراتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی کیونکہ نعمتوں کی تکمیل ہوئی۔ اب سجدۂ شکر واجب تھا۔ بیٹا آپ کھیلو میں اندر جا رہی ہوں۔ خزیمہ کا گال تھپتھپاتی وہ اندر چلی آئی جہاں اسے سجدۂ شکر ادا کرنا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨

پندرہ سال بعد۔۔۔

آج پھر قصرِ ہادیہ میں جشن کا سا سماں تھا۔ ایک بار  پھر اس محل میں خوشیوں کی بارات اتری تھی۔ آج ڈاکٹر جازل کی شادی تھی۔ 

دیا آج بھی سیاہ خوبصورت سے گاؤن میں تھی۔ اسے یہ کلر بہت محبوب تھا کیونکہ یہ رنگ ابراہیم کو اس پر بہت اچھا لگتا تھا۔ وہ شاہ زر کو معاف کر کے اس سے رشتہ جوڑ چکی تھی مگر آج بھی اس کے دل کے نہاں خانوں میں ابراہیم اپنی پوری آن بان کے ساتھ براجمان تھے۔ 

اس نے سب سے پہلے ایک طویل سجدۂ شکر کیا اور پھر تصور میں ابراہیم سے مخاطب ہوئی۔ 

سر بہت مبارک ہو آپ کو۔۔۔ آج آپکے بیٹے کی شادی ہے۔ میں نے دن رات تگ و تاز کر کے اسے اس قابل بنا دیا ہے کہ آج دنیا اس پر رشک کرتی ہے۔ میں نے آپ سے کیا ہر ہر عہد پورا کر دیا۔ آج بفضلِ تعالیٰ میں سرخرو ہوئی الحمدللہ۔ اس نے ایک گہری سانس خارج کی گویا اپنی برسوں کی تھکن اتارنے کی ناکام کوشش کی۔

بیگم کس کس پر بجلیاں گرانے کا ارادہ ہے؟  اپنے عقب سے شاہ زر کی آواز سن کر وہ چونکی۔

آپ کب آئے؟ حبہ آ گئی؟ کیسی لگ رہی ہے وہ؟  شاہ زر حبہ کو پارلر سے لینے گیا تھا اس لئیے اس نے شاہ زر کے پہلے سوال کو نظر انداز کرتے حبہ سے متعلق استفسار کیا۔ 

 شاہ نے ایک گہری سانس بھری اور دیا کو جواب دینے لگا۔

میں کب آیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب آپ مراقبے میں گُم تھیں تب میری تشریف آوری ہوئی اور ہاں حبہ آ گئی ہے، اسی نے مجھے آپکو لینے بھیجا ہے۔ بہت پیاری لگ رہی ہے میری بچی۔ اللہ اس کے نصیب بھی اتنے ہی پیارے کرے۔ شاہ زر کے دل میں حبہ کے لئیے محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن تھا۔ 

آمین۔ دل سے شاہ زر کی دعا پر آمین کہتی دیا اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

 میں پھر نیچے جا رہی ہوں حبہ کے پاس۔ آپ بھی نیچے ہی آ جائیے۔ اس کے برابر سے نکلتی وہ تیزی سے نیچے کی سمت بڑھ گئی۔

 شاہ زر اسکی پشت دیکھ کر پچھتاتا رہ گیا۔ کتنے ظرف والی ہے نا یہ عورت۔ میں نے اس کے ساتھ کیا کیا اور اس نے میرے ساتھ کیا کیا۔ 

ناصرف اس نے میری بیٹی کی اچھی پرورش کی بلکہ اپنے ہیرے جیسے بیٹے کو بھی بناء عمر کا فرق گردانے میری بیٹی کا نصیب بنا دیا۔ کہاں میری حبہ اور کہاں ڈاکٹر جازل۔۔۔ ابراہیم میں چراغ بھی لیکر ڈھونڈتا تو مجھے ایسا داماد نہ ملتا۔ اتنی اچھی تربیت کی دیا نے اپنے بیٹے کی، اسے دینی اور دنیاوی ہر میدان کا غازی بنایا اور پھر میری بیٹی کی مانگ کا تارہ بنا دیا۔ 

  میں پاؤں بھی دھو دھو کر پئیوں تب بھی اس عورت کا قرض نہیں اتار سکتا۔ جس طرح اس نے میری بیمار بیٹی کو حیاتِ نو بخشی، اس کی کئیر کی، اسے اپنایا، اس کی پرورش و تربیت کی اور پھر اسے اپنی ہی بہو بنا لیا۔ آفرین ہے ہادیۃ الایمان تم  پر۔ دیا تمہاری خوبیاں مجھے اس قدر شرمسار رکھتی ہیں کہ میں تم سے نگاہ تک نہیں ملا پاتا۔ تم واقعی ہادیۃ الایمان ہو۔ اسم با مسمی ایمان کی طرف ہدایت دینے والی۔ لوگوں کی تاریک زندگیوں میں چراغ جلانے والی۔ تمہیں دیکھ کر اپنا عمل بدلنے کو جی کرتا ہے۔ شاہ زر کی زندگی میں بہت سے پچھتاوے تھے اور اس جیسے لوگوں کے نصیبوں میں فقط شرمساری اور پچھتاوے ہی رہ جاتے ہیں

جبکہ دیا آج بہت پرسکون تھی۔ اسنے اپنا فرض جو ادا کر دیا تھا۔ اس کے دل پر کوئی بوجھ نہ تھا۔ اسے کوئی قلق نہ تھا۔ 

زندگی کی پرپیچ راہوں پر اگر ظرف بڑا کر کے اپنوں کو معاف نہ کریں تو تنہائی اور بے سکونی مقدر بنتی ہے۔ انسان خدا نہیں ہے، اس کے لئیے معاف کرنا اتنا آسان نہیں جتنا رب کے لئیے۔ گناہگار کی خطاؤوں سے چشم پوشی کرنا ہے مگر پھر بھی اگر وہ دل بڑا کر کے قرآن کے اور رب رحمان کے حکم کو مان کر معاف کر دے تو معاف کرنے میں ہی دل کا سکون چھپا ہے۔ 

قرآن کے فرمان کو مان لینے میں ہی فلاح ہے۔ اگر دیا حکمِ ربی کو مانتے ہوئے اس روز اس ایک آیت پر عمل نہ کرتی تو آج اس کے گرد یوں اپنوں کا جمگھٹا نہیں ہوتا تو ثابت ہوا فاعفوا واصفحو پر عمل میں ہی نجات ہے۔ معاف کردیں انہیں جنہوں نے کبھی آپکا دل دکھایا، آپکو اذیت دی۔ معاف کر دیں انہیں جو آپکے اعتبار کے معیار پر پورے نہ اترے اور کم ظرف نکلے۔ معاف کر دیں ایسے جاہلوں کو  جنہوں نے آپ کو دکھ دئیے، آپ کو رلایا کہ جاہل کے ساتھ جاہل نہیں بنا جاتا کہ ظرف والے ہمیشہ ممتاز رہتے ہیں 

 اور اولولعزم لوگ ہمیشہ معافی کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ زندگی کے کچھ فیصلوں کو کرتے ہوئے چاہے بظاہر آپ کو تکلیف محسوس ہو رہی ہو مگر پھر بھی اگر وہ حکمِ ربی ہو تو کر گزریں کیونکہ آپ نہیں جانتے ایک شے بظاہر آپکو بری لگ رہی ہو مگر رب نے اسی میں آپ لئیے خیرِ کثیر رکھی ہو۔ ہمیشہ ناموافق حالات میں بھی رب کی مانیں۔ وہ ربِ کبیریا حالات آپ کے موافق کر دے گا اور جب حالات موافق ہو جائیں تو اس کے حضور جھک جائیں۔

جھک جائیں رب العباد کے آگے کہ جو جتنا اس کے آگے جھکتا ہے وہ اتنا ہی دنیا میں اوپر اٹھتا ہے۔ زندگی جینی ہے تو سعادت والی جئیں یا تو ابراہیم بن جائیں بناء کسی غرض اخلاص کے سراپا ءِ نور کہ آپ رہیں نہ رہیں آپ سے وابستہ لوگ ہر پل آپ کو یاد کرتے رہیں، آپکی یادیں خیر کی صورت جا بجا بکھری رہیں۔ آپ کا ذکر ہمیشہ بلند رہے 

اور اگر ابراہیم بننا مشکل ہو تو پھر ہادیۃ الایمان بن جائیں  اور لوگوں کی ہدایت کی جانب راہنمائی کریں، ہدایت پائیں اور ہدایت ہی پھیلائیں کیونکہ راہِ ہدایت میں ہی کامیابی مضمر ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اَلْحَمْدُ لِلَّٰهِ❤️

والسلام 

از قلم ارویٰ رباب