✨جو شکستہ ہو تو عزیز تر ✨
قسط
نمبر 2
از
قلم ✒️
ارویٰ رباب
ممّا ممّا وئیر آر یو مام جی؟ بلند آواز سے فارہ بیگم کو پکارتی وہ تیزی سے زینہ عبور کرتی جیسے ہی نیچے پہنچی تو اشتہا انگیز خوشبوؤں نے اسکا استقبال کیا
اس نے ایک اچٹتی نگاہ لاؤنج پر ڈالی پھر صفائیاں کرتی نوراں کو مخاطب کیا
نوراں مما کہاں ہیں؟
باجی وہ تو.... ڈسٹنگ کرتی نوراں نے جواب دینے کے لئیے جیسے ہی ہادیہ کی طرف دیکھا تو تکتی ہی چلی گئی ہادیہ ویسے ہی بہت خوبصورت تھی مگر آج تو تیاری قابلِ دید تھی۔ وہ لاپرواہ، بے نیاز سی لڑکی عید کے عید ایسے تیار ہوتی تھی۔ آج جانے کیا خاص بات تھی جو وہ یوں نک سک سے تیار ہوئی تھی۔
باجی قسمے خدا دی تسی بوت پیارے لگ رے او۔ بجائے ہادیہ کی بات کا جواب دینے کے وہ اپنا جملہ بھول کر اسکے قصیدے پڑھنے لگی۔
رئیلی؟؟ لگ رہی ہو نا انار کلی؟؟ کامدار سیاہ فراک کو چٹکیوں سے تھامے وہ اتراتی ہوئی گول گھومی نوراں کی نگاہوں میں بے پناہ ستائش تھی وہ زور و شور سے اسکی تائید کر رہی تھی
اور اپنی تعریف کس ناداں کو نہیں پسند؟؟؟ دیا پھولے نہیں سما رہی تھی مگر اس پل وہ بھول گئی کہ حسن کے ڈھلنے لذتوں کے ختم ہونے اور خواہشوں کے فناء ہونے میں بس لمحہ درکار ہے۔ وہ گھڑی جب آتی ہے تو آن واحد میں غرور خاک میں ملا جاتی ہے۔
نوراں بس تم یہ دعا کرو کہ آج میں کامیاب ہو جاؤں پھر تم جو فرمائش کرو گی ما بدولت عطا کریں گی
سچی باجی جو میں مانگوں گی وہ آپ دیں گی؟
ہاں بابا لے لینا فی الوقت بتاؤ مما کہاں ہیں؟ اس نے اپنا سوال دہرایا۔
باجی وہ گرین والا سوٹ ہے نا آپکا وہی جو آپ نے اپنی سالگرہ پر پہنا تھا وہ مجھے بہت پسند ہے میں نے سوچا تھا آپ کو کہونگی جب بھی وہ دینا ہو تو مجھے دینا کسی اور کو نہ۔۔۔۔
نوراں۔۔۔ نوراں۔۔۔ عین اسی وقت کچن سے فارہ بیگم کی آواز آئی
جی بیگم صاحبہ آئی۔۔۔ وہیں سے اس نے اونچی آواز لگائی
باجی بس وہ سوٹ مجھے دے دینا میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں آپ ضرور کامیاب۔۔۔۔
نوراں۔۔۔ آواز ایک بار پھر آئی
بس آ گئی بیگم صاحبہ۔ وہ بات ادھوری چھوڑ کر کچن کی سمت بھاگی ہادیہ بھی اسکے پیچھے چلی آئی
ہائے او میرے ربا یہ میری گناہگار آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں؟ میری اکلوتی والدہ محترمہ خود بنفسِ نفیس کچن میں جلوہ افروز ہیں لگتا ہے محترمہ نے کہیں وہ مقولہ پڑھ لیا ہے جس میں لکھا ہے شوہر کے دل کی راہ معدے سے ہو کر گزرتی ہے۔ پر فار گاڈ سیک ڈئیر اپنے حربے اور تجربے آزماتے ہوئے ہم دو معصوموں کا خیال رکھئیے گا کیونکہ وہی ملغوبہ پھر مجھے اور عمر بھائی کو بھی زہر مار کرنا ہوگا۔ آخر کفرانِ نعمت پر والدِ محترم کا اتنا لمبا اور بورنگ لیکچر کون سنے؟
قصرِ ہادیہ نے عرصۂ دراز ہوا وہ خوش نصیب دن نہیں دیکھا تھا جب فارہ بیگم اور ہادیہ کی نوک جھونک نہ ہوئی ہو فارہ کو ستائے بنا ہادیہ کا کھانا نہیں ہضم ہوتا تھا اور دوسری جانب فارہ کا یہ حال تھا کہ ادب کی لاٹھی ہر وقت اٹھائے رکھتی تھیں کیونکہ انہیں لگتا تھا مجیب صاحب کے بے جا لاڈ پیار سے دیا بگڑ رہی ہے تو وہ تھوڑی سختی برتتی تھیں نتیجتًا ہادیہ انہیں زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی تھی۔ ابھی بھی انکو کچن میں کھڑا دیکھ کر چھیڑنے سے باز نہ آئی کیونکہ عموماً کچن کک یعنی شرفو بابا اور بوا جی دیکھتی تھیں۔
بیٹا جی منہ دھو کر رکھئیے یہ سب میں نہ آپکے کے لئیے بنا رہی ہوں نہ آپکے والدِ محترم کے لئیے یہ تو میں اپنے بہت ہی خاص مہمانوں کی خاطر مدارت کرنے کے لئیے بنا رہی ہوں۔ مصروف انداز میں جواب دیتیں وہ قیمے کا پراٹھا بیلنے لگیں۔
اوہ۔۔۔ خاص مہمان۔۔۔ اور اب یہ آپکے خاص مہمان ہیں کون؟ سسپنس کری ایٹ کرنا تو خاتون کوئی آپ سے سیکھے۔
ویسے محترمہ آپس کی بات ہے، میں آپکے ان خاص مہمانوں کو اکیس توپوں کی سلامی پیش کرونگی جنہوں نے وہ کام کر دیا جو نانو بھی نہ کر سکیں۔
اچھا بیٹا جی پوچھ سکتی ہوں وہ کونسا کام ہے جو آپکی نانی جان سے نہ ہو سکا؟ آخر مجھے بھی تو پتہ لگے میری مرحومہ والدہ کونسا کام نہ کر سکیں؟ توے پر پراٹھا ڈالتے انہوں نے رسان سے استفسار کیا۔
یہی کہ سدا کی کام چور پھوہڑ سست الوجود کاہل اور آرام پرست میری والدہ کو۔۔۔ اسکی فراٹے بھرتی زبان پر یکدم بریک لگے کیونکہ فارہ بیگم بیلن پکڑے پلٹیں
دیا پٹوگی مجھ سے۔۔۔جونہی وہ اسے بیلن دکھانے کے لئیے مڑیں سامنے نک سک سے تیار ہادیہ کو دیکھ کر بیلن فضاء میں ہی معلق رہ گیا۔ سامنے انکی بیٹی نہیں مغلیہ شہزادی کھڑی تھی بلکہ یوں لگتا تھا کوئی بہت ہی حسین پری راہ بھٹک کر قصرِ ہادیہ میں آ گئی ہو۔
رہ گئیں ناں حیران؟ جو حال ابھی آپکا ہوا ہے ناں وہی آج پارٹی میں سب کا ہونے والا ہے۔ آخر میں ہوں ہی اتنی حسین کہ جو ایک دفعہ دیکھ لے نظر پھیرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس نے فرضی کالر کھڑے کئیے
ہاں اگر دل پر جبر کرتے نگاہ پھیر بھی لے تو بار بار دیکھنے کی حسرت کرتا ہے۔ مجیب الرحمان کی اکلوتی شہزادی جو ٹھہری فخریہ انداز میں اپنی تعریف کرتے اس نے بات کے اختتام پر عین فارہ بیگم کی نگاہوں کے سامنے چٹکی بجائی اور کب سے مارنے کے لئیے بیلن بلند کئیے ساکت کھڑی فارہ بیگم گڑبڑا کر ہوش میں آئیں
انکا بیلن تھاما ہاتھ جس تیزی سے نیچے گرا غصے کا گراف اسی تیزی سے ساتویں آسمان کو چھونے لگا۔
کہاں جانے کی تیاری ہے؟ کڑے تیوروں سے پوچھتی وہ توے پر ڈالا پراٹھا بھی بھول گئیں۔ وہ ممی۔۔۔ وہ۔۔۔ انگلیاں مڑوڑتی ہادیہ اب نروس دکھائی دے رہی تھی۔ کچھ دیر پہلے کی خود اعتمادی ہوا ہو چکی تھی۔
کیا وہ وہ کی رٹ لگا رکھی ہے کچھ پوچھا ہے میں نے جواب دو کیوں اتنا سج دھج کر کھڑی ہو؟ چبا چبا کر کہتی اِن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ہادیہ کو نگاہوں سے بھسم کر ڈالیں۔ ہادیہ نے اِدھر اُدھر جائے فرار تلاش کی مگر وائے افسوس نہ عمر بھائی نہ مجیب صاحب موجود تھے۔ وہ روہانسی ہو گئی۔
اچانک اسکی نگاہ توے پر جلتے پراٹھے پر پڑی
ممی وہ پراٹھا جل گیا۔ اس نے انکی توجہ پراٹھے کی جانب مبذول کروائی تو وہ تیزی سے پلٹیں اور پراٹھا توے سے اتارا جلنے کی ناگوار بو پورے کچن میں پھیلی ہوئی تھی۔ انہوں نے تاسف سے ایک نظر پراٹھے کو دیکھا اور دوبارہ اسکی جانب مڑیں
ہادیہ مجیب میں نے آپ سے کچھ پوچھا ہے؟ وہ اکثر غصے میں اسکا پورا نام لیا کرتی تھیں۔ وہ نا ممّا آج کالج میں فنکشن ہے اور میں نے انار کلی کا رول پلے کرنا ہے۔ میں نے دو ہفتے پہلے آپکو اور بابا جانی کو بتایا تھا ناں؟ گھبرائے لہجے میں تھوک نگلتی وہ اٹک اٹک کر بول رہی تھی۔
جی بیٹا صرف بتایا تھا کہ پارٹی ہے اور یہ نہیں بتایا تھا کہ تم اس پارٹی میں انارکلی کا کردار ادا کر رہی ہو۔ بتانے اور اجازت لینے میں فرق ہوتا ہے۔ کہیں نہیں جانا جاؤ ڈریس چینج کرو۔ حکمیہ انداز میں کہتی وہ پلٹ کر پیڑہ بنانے لگیں۔
ممی مجھے کیا پتہ تھا کہ آپ اتنی سی بات پر اتنا ایشو کری ایٹ کریں گی۔ چلیں اب اجازت دے دیں۔ اب تو پرمیشن مانگ رہی ہوں نا؟ جاؤں؟ اس نے پیچھے سے انکے گلے میں بانہیں ڈالیں۔ فارہ بیگم نے کندھے جھٹکے اور اسے خود سے دور کرنے کی ناکام کوشش کی
"کہا نا دیا آپ کہیں نہیں جائینگی"
ممی وہاں سب میرا ویٹ کر رہے ہونگے پلیز جانے دیں نا۔۔۔وہ منتوں سماجتوں پر اتر آئی
ہادیہ میں نے کہا نا کہ نہیں جانے دونگی اب بھلے سارا کالج ہی کیوں نہ ویٹ کرے، بھلے پرنسپل صاحب خود ہی کیوں نہ تمہیں لینے آئیں۔ آج تو میں کسی کی نہیں سنوں گی تمہارے باپ کی بھی نہیں۔
شکریہ مادام بہت اچھا آئیڈیا دیا۔ گھی سیدھی انگلیوں سے نہیں نکل رہا اب انگلیاں ٹیڑھی کرنی پڑیں گی۔
کیا مطلب؟
مطلب یہ کہ آپ نے خود راہ سجھائی ہے بابا سے اجازت لینے لگی ہوں۔ آپ ہمیشہ یہی کہتی ہیں تمہارے باپ کی بھی نہیں سنوں گی۔ یہ الگ بات ہے کہ سنتی آپ صرف انہی کی ہیں۔ اپنی بات کے دوران ہی وہ کلچ سے موبائل نکال کر نمبر ڈائل کر چکی تھی بیل جا رہی تھی۔
دیا انہیں ڈسٹرب مت کرو میں نے کہا نا آج میں انکی بھی نہیں مانوں گی
السلام علیکم بابا جانی۔ کال ریسیو کی جا چکی تھی۔ اس نے سپیکر آن کر دیا۔ باباجانی وہ نا میرے کالج میں آج فنکشن ہے۔ میں نے ایک ڈرامے میں پارٹی سپیٹ کیا ہے۔ سب کالج میں میرا ویٹ کر رہے ہیں۔ آخری لمحات میں آپکی بیگم صاحبہ اڑ گئی ہیں کہ مجھے نہیں جانے دیں گی۔۔۔
"مجیب صاحب میں آپکو بتا رہی ہوں اگر آج اپنے اِس کو اجازت دی تو اچھا نہیں ہوگا "
اور بابا جانی میں آپکو بتا رہی ہوں میں بھوک ہڑتال کر دونگی پھر کسی سے بات بھی نہیں کرونگی آپ سے بھی نہیں۔
بابا پلیز سمجھائیں نا انکو۔ آخر میں وہ روہانسی ہو گئ۔
اِدھر اسکی آواز رندھی اُدھر مجیب صاحب کی جان پر بن آئی۔ فارہ جانے دیں اسے۔۔۔ ہادیہ کا بجھا لہجہ یکدم بحال ہوا۔ تھینک یو پاپا تھینک یو۔ اس نے بنا کوئی اگلی بات سنے کال کاٹ دی۔
دیکھا مادام آپکے شوہر کتنی محبت کرتے ہیں مجھ سے؟
میں بھی آپکی دشمن نہیں بس اسلئیے منع کیا تھا کیونکہ گھر میں مہمان آئے ہوئے ہیں اور آپکے والدِ محترم نا صرف خود میٹنگ کا کہہ کر نکل گئے بلکہ بیٹی کو بھی اجازت دے دی۔ آخر آیا کون ہے؟ اب بلی کو تھیلے سے باہر نکال بھی دیں۔
ہنیا آئی ہے کل رات کو، گیسٹ روم میں ہے۔ ابھی نہ جانا سو رہی ہوگی کافی لیٹ نائٹ پہنچی تھی۔
ممی پھپو جی رات سے آئی ہوئی ہیں کسی نے مجھے انفارم تک کرنا گوارہ نہ کیا اور میں کیوں نہ اٹھاؤں؟ اکلوتی پھپو ہیں ہادیہ مجیب کی وہ اور بناء بتائے آنے کی اتنی تو سزا ملنی چاہئیے انہیں۔ وہ گیسٹ روم کی جانب دوڑی۔ دیا مت اٹھانا کچھ دیر پہلے ہی سوئی ہے اور شاہ زر بھی وہیں سو رہا ہے۔ فارہ بیگم اونچی آواز میں بولیں۔ آخری جملے پر اسکے قدموں کو بریک لگی
لنگور شاہ بھی آیا ہے؟
یہ لنگور شاہ کیا ہوتا ہے؟ اتنا پیارا نام ہے اسکا شاہ زر اور کیوں نہیں آ سکتا اسکے ماموں کا گھر ہے؟ انہوں نے سوال کے بدلے سوال داغا
آ سکتا ہے، بالکل آسکتا ہے۔ جب دل چاہے آئے مگر پہلے کبھی آیا جو نہیں تو بس حیرت ہوئی اس لئیے پوچھ لیا۔
ہوں۔۔۔ ملنے آیا ہے ویسے اسکے آنے کی ایک اور وجہ بھی ہے۔
اچھا وہ کیا؟ وہ متجسس ہوئی
ہنیا چاہتی ہے کہ شاہ زر کی شادی کسی پاکستانی لڑکی سے ہو تو اس بار دونوں ماں بیٹا اکٹھے اسی خاص مشن پر نکلے ہیں۔
ہو ہی نہ جائے اس لنگور کی شادی آخر کون دے گا اس کمپلیکس کے مارے کو بیٹی آپکو یاد نہیں جب دس سال پہلے آیا تھا کتنا جیلس ہوتا تھا مجھ سے بس قسمت ہی پھوٹے گی اس لڑکی کی جس کا نصیب بنے گا وہ اللہ جی اس بدنصیب لڑکی پر رحم کرنا۔ اس نے باقاعدہ دعائیہ انداز میں ہاتھ بلند کئیے پھر منہ پر ہاتھ پھیر کر سامنے پڑی فروٹ باسکٹ سے ایک سیب نکال کر دانت گاڑ دئیے۔ اففف ہادی بکواس بند کرو اتنا اچھا لڑکا ہے۔ ہینڈسم لونگ اینڈ کئیرنگ۔۔۔ میں تو چاہتی ہوں تمہارا رشتہ اس سے ہو جائے اس جیسا داماد تو ہمیں چراغ لیکر بھی ڈھونڈنے سے نہ ملے گا۔ سیب کھاتی ہادیہ کی آنکھیں باہر کو ابلیں اور اگلے ہی پل اسے پھندہ لگا اس نے سیب واپس رکھ دیا
واٹ؟؟؟ ممی۔۔۔ میں اور شاہ زر؟؟؟ خاتون فوری طور پر کسی اچھے ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لیجئیے آپکو دماغ کے علاج کی ضرورت ہے۔ یہ کیسی الٹی سیدھی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہیں آپ؟ میں اور وہ لنگور ناممکن واقعی آپکو چراغ لیکر ڈھونڈنے سے بھی ایسا نادر نمونہ نہیں ملے گا۔ فی الوقت تو میں کالج جا رہی ہوں۔ آپ نے میرا اتنا قیمتی وقت برباد کر دیا۔ آ کر بابا جانی سے آپکی یہ سوچیں شئیر کروں گی۔ تم کیا میری شکایت لگاؤ گی؟ تمہارے بابا جانی کو بھی شاہ زر بہت پسند ہے۔ وہ خود یہی چاہتے ہیں۔
اففف ممی آئی ایم گیٹنگ لیٹ بس کر دیں یار میں جا رہی ہوں اس نے سٹپٹا کر تیزی سے باہرکی جانب قدم بڑھائے
دیا چادر لیکر جانا انہوں نے آواز لگائی
جاؤ نوراں اسے چادر دو ایسے ہی نکل جائے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کو بھابھی کے میکے والوں کی دعوت تھی۔ برتنوں کا ایک انبار اسکے نام پر جمع تھا۔ ٹیوشن کے بچوں کو چھٹی دیتے ہی وہ کچن میں آ گئی اور برتن دھونے لگی۔ وہ برتن دھوتی جا رہی تھی اور مسلسل روتی جارہی تھی آنسو اپنی ناقدری پر شکوہ کناں کبھی پانی میں مل جاتے تو کبھی آستین میں جذب ہو جاتے۔ وہ اردگرد سے بیگانہ اپنے ماضی کے دھندلکوں میں گم تھی۔ ایک وہ بھی وقت تھا جب اسکی ماں تھیں تب وہ کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتی تھی اور اسکی والدہ کی خواہش تھی کہ سلیقہ شعار ہو۔
کاش امی آپ زندہ ہوتیں تو دیکھتیں کہ آپکی ایمی کتنی سگھڑ و سلیقہ شعار بن گئی ہے مگر ایسی سلیقہ مندی کس کام کی جس کا بدل صرف ذلت و حقارت ہو؟ اندر کی شکست و ریخت نے اسے لخت لخت کر رکھا تھا۔ اپنے میکے والوں کے سامنے بھابھی کا اس کے لئیے استہزائیہ انداز اور طنزیہ جملے یا پھر سرے سے ہی نظر انداز کر دینا اسے بہت برا لگتا تھا اور کیوں نہ برا لگے؟
یہ احساس کتنا اذیت ناک ہوتا ہے کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے نا یہ بات کہ آپ موجود ہوں اور کوئی آپکو عدم کر دے؟ آپکی ذات کی نفی کر دے، آپکو تہی داماں کر دے۔
اپو اپو کیا ہوا آپ کو؟ ماما نے پھر کچھ کہا ہے نا؟ ننھا خزیمہ جانے کب ٹیوشن سے پلٹا پانی پینے کچن میں آیا تو ایمان کو روتا دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ ایمان نے اسکی آواز سنتے ہی فورا آنسو پونچھ ڈالے۔ اپو ماما گندی ہیں وہ ہمیشہ آپکو ستاتی ہیں، ڈانتی ہیں۔ جب وہ آپکو برا بھلا کہتی ہیں نا تو میرا دل چاہتا ہے میں آپکو لیکر کہیں بہت دووور چلا جاؤں غائب ہو جاؤں۔ خزیمہ کے لہجے میں محبت کا سمندر موجزن تھا۔ اس نے ایک تشکر بھری نگاہ اپنے معصوم بھتیجے پر ڈالی۔ مہرباں رب کبھی تنہا نہیں چھوڑتا کوئی نا کوئی ہمدرد ضرور بناتا ہے ظالموں میں سے ہی حمایتی اٹھاتا ہے۔ یہی تو اسکی صفت ہے وہ غموں کے اندھیروں میں بھی کبھی تنہا نہیں چھوڑتا امید کی ایک کرن باقی رکھتا ہے تو وہ بھی اکیلی نہ تھی۔ خزیمہ اسکے درد کا ساتھی تھا۔ نہیں بیٹا بھابھی جان نے مجھے کچھ نہیں کہا وہ تو بہت اچھی ہیں اور بری بات خزیمہ ماما کو ایسے گندہ نہیں کہتے۔ مائیں بہت اچھی ہوتی ہیں۔ سب کی ماما اچھی ہوتی ہیں آپ کو پتہ ہے ابھی میں کیوں رو رہی تھی؟
مجھے اپنی ماما یاد آ رہی تھیں اس لئیے میں رو پڑی۔
اپو کیا آپ کی ماما بہت اچھی تھیں؟ میں نے تو دادی جان کو دیکھا ہی نہیں وہ کیسی تھیں؟ اس نے مزید قریب ہو کر تجسس سے پوچھا ساتھ ساتھ وہ دھلے ہوئے برتن سٹینڈ میں لگانے لگا۔
خزیمہ کے سوال پر ایک مہربان چہرہ ایمان کی نگاہوں کے سامنے آیا اور آن واحد میں اسکے ہاتھ سے گلاس چھوٹ کر فرش پر کرچیوں کی صورت بکھر گیا۔ خوف کے آہنی شکنجے میں جکڑی وہ جہاں کی تہاں کھڑی رہ گئی۔ ذلت و وحشت کا سانپ پھن پھیلائے اسکی گردن کے گرد بل کھا رہا تھا اور بھابھی بیگم کے خوف سے اسکا دم گھٹنے لگا۔ کچھ ٹوٹنے کی آواز سن کر بھابھی بیگم بھی کچن میں آ گئیں۔ ایمان گھبرا کر کرچیاں سمیٹنے لگی۔ ہاں ہاں توڑو برتن۔۔۔۔ سارے توڑ دو باپ کی کمائی کے ہیں ناں؟ کوئی کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا اماں باوا خود تو مر کھپ گئے
اور اس عذاب کو میرے اوپر مسلط کر گئے۔
آہ ۔۔۔سی ۔۔۔ایک کانچ کا ٹکڑا ایمان کے ہاتھ میں چبھا خون تیزی بہنے لگا۔ اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے زخم کو دبایا۔ ذات کے آئینے پر مسلسل پتھر برس رہے تھے اور وہ چکنا چور ہو رہی تھی۔ بھابھی جان کو ٹوٹے گلاس کے ٹکڑے تو دکھائی دے رہے تھے مگر اس جیتے جاگتے وجود کا بہتا لہو نہ دکھائی دیا۔ بےجان گلاس نے زرا سی لغزش پر اتنا شور و احتجاج بلند کیا اور وہ جاندار ہو کر بھی ساکت لبوں پر قفل ڈالے جبر کو صبر سے سہہ رہی تھی۔ ایک جامد سناٹا اسکے اندر اتر چکا تھا۔ ندامت خجالت سے اس کا سر نہ اٹھ رہا تھا۔ بہرحال غلطی اسی کی تھی وہ تو بناء کسی جرم چپ چاپ ہر اذیت برداشت کر لیتی تھی، اس وقت تو پھر مجرم تھی۔ عرصہ ہوا وہ جائز بات پر بھی اپنا حقِ دفاع بھول چکی تھی۔ ابھی تو پھر لغزش پر معتوب ٹھہرائی جا رہی تھی۔
"ایک کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا آنے دو زرا تم آج فاروق کو بتاتی ہوں انکی لاڈو کے کارنامے ایک ایک روپیہ نہ بھروایا تو بات کرنا نیا سیٹ برباد کر دیا "۔ یہ رویہ، یہ دھتکار، یہ نفرت، یہ حقارت نیا کچھ بھی تو نہیں تھا۔ اس کے حلق میں آنسؤوں کا پھندا پڑ گیا۔ بے بسی کمزوری اہانت احساسِ توہین وہ بہت سی ان دیکھی زنجیروں میں جکڑا ہوا خود کو محسوس کر رہی تھی۔ انسان کو اپنے ہی جیسے انسان سے ناروا سلوک رکھنے کا حق آخر کس نے دیا ؟ دوسروں پر رعب جماتے لوگ کیوں منصفِ اعلیٰ کو بھول بیٹھتے ہیں؟
بس کر دیں ماما کیوں اپو کو ڈانٹے جا رہی ہیں؟ گلاس مجھ سے ٹوٹا ہے بلاوجہ آپ اپو کے پیچھے پڑ گئی ہیں۔ کب سے خاموش کھڑے خزیمہ کی برداشت جواب دے گئی۔ ایمان کی آنکھوں میں اضطراب در آیا۔ اسے یقین تھا کہ اب خزیمہ کی مار پکی ہے یہ طرفداری اسے بہت مہنگی پڑے گی۔
اور پھر وہی ہوا جس کا اسے ڈر تھا بھابھی بیگم نے آگے بڑھ کر خزیمہ کو دو چار دھموکے جڑے تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اندر چلو بتاتی ہوں تمہیں۔۔۔ آنے دو زرا پاپا کو تمہارا بھی بندوبست کرواتی ہوں۔ وہ بکتی جھکتی اسے لیکر کچن سے نکل گئیں۔
وہ وہیں زمین پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
ماں اکیلی کیوں چلی گئیں؟ مجھے بھی ساتھ لے جاتیں نہیں برداشت ہوتی مجھ سے یہ روز روز کی ذلت۔۔۔ ماں میں پل پل مرتی ہوں۔۔۔ میرا دل لہولہان ہے۔۔۔ کوئی مٹھی میں لیکر روز میرا قلب بھینچتا ہے اور قطرہ قطرہ لہو بہتا ہے۔ میری روح زخمی ہے۔
تذلیل و تحقیر تو برداشت کر بھی لوں عزتِ نفس کا سودا کیسے کروں؟ ماں کیسے آخر کیسے اور کب تک؟ ماں کیوں مجھے بے سائباں کر گئیں؟ اذیت پھن پھیلائے اسکے وجود سے لپٹی ہوئی تھی۔ آنکھوں سے بے رنگ مائع رواں تھا اور وہ اپنی مری ماں سے شکوے کر رہی تھی۔
اپو یار بہادر بنیں۔ دیکھیں مجھے تو ماما نے مارا بھی ہے میں تو نہیں رویا اور آپ زرا سی ڈانٹ پر اتنا برا رو رہی ہیں یار شیر بنیں شیر ۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ پھر ایمان کے پاس ماجود تھا۔ ایمان نے اسے دیکھ کر پھر سے آنسو پونچھ لئیے۔ خزیمہ کی سوجی ہوئی آنکھیں رونے کی چغلی کھا رہیں تھیں۔ ایمان نے نگاہیں چرائیں پھر سخت لہجے میں بولی:
خزیمہ آپ نے جھوٹ کیوں بولا ماما سے؟ اچھے بچے جھوٹ نہیں بولتے اپنا غم بھلا کر وہ اسے سرزنش کرنے لگی۔ بھابھی زیادہ سے زیادہ کیا کر لیتیں؟ مجھے بھائی سے ڈانٹ پڑوا دیتیں تم نے کیوں میرا جرم اپنے سر لیا؟کیوں جھوٹ بولا تم نے؟
سوری اپو۔۔۔ وہ آپ کو ڈانٹ رہی تھیں نا تو مجھے اچھا نہیں لگا تو آپکو بچانے کے لئیے میں نے جھوٹ بولا۔
خزیمہ جھوٹ بچاتا نہیں رسوا کرتا ہے۔ دیکھو ابھی تمہیں تمہارے جھوٹ کی وجہ سے مار بھی پڑی ہے۔ اگر تم چپ رہتے تو بھابھی تمہیں کچھ نہیں کہتیں۔ خزیمہ مومن جھوٹا نہیں ہوتا۔ اپو ناراض ہیں آپ سے اور شاید اللہ تعالی بھی وہ جھوٹ بولنے والے سے راضی نہیں ہوتے۔ ایمان نے خفگی ظاہر کی۔
سوری اپو آئندہ جھوٹ نہیں بولوں گا۔۔۔ کبھی بھی نہیں پلیز اپو سوری۔۔۔ مجھے معاف کر دیں۔ اس نے کانوں کو ہاتھ لگائے اور بات کے اختتام پر روہانسا ہو گیا۔ اٹس اوکے میری جان۔ اس نے بھینچ کر خزیمہ کو گلے لگا لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨
میز پر پُرتکلف ناشتے کے لوازمات سجے ہوئے تھے۔ ہنیا نے کرسی گھسیٹتے ایک نظر یہاں سے وہاں تک سجے انواع و اقسام کی ڈشز پر ڈالی۔
بھابی اتنے تکلف کی کیا ضرورت تھی؟
ارے تکلف کہاں؟ ابھی تو کچھ کیا ہی نہیں۔ بس تمہاری پسند کی چند ڈشز بنائی ہیں۔ تکلف تو رات کے کھانے پر کرونگی۔
ابھی یہ تکلف نہیں ہوا؟ بس کریں بھابی۔ اب رات کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ڈنر میری طرف سے ہو گا۔ رات کو ہم سب باہر کھانا کھائیں گے۔ بھائی صاحب اور دیا کہاں ہیں؟ ابھی تک سو رہے ہیں دونوں ؟ تمہارے بھائی صاحب آج زرا جلدی نکل گئے ہیں۔ انکی کوئی امپورٹنٹ میٹنگ تھی۔ وہ تو فجر کے بعد سوتے ہی نہیں علی الصبح ہی ان کے دن کا آغاز ہو جاتا ہے۔ باقی اپنی بھتیجی کے کان تم خود کھینچ لینا اسکے کالج میں کوئی فنکشن تھا۔ میرے لاکھ منع کرنے کے باوجود مجیب صاحب سے اجازت لیکر چلی گئی ہے۔ بہت ہی ضدی ہو گئی ہے۔ اپنی ہر بات منوا کر دم لیتی ہے اور اسے بگاڑنے میں سو فیصد ہاتھ تمہارے بھائی صاحب کا ہے۔ ہر فرمائش بے جا ضد پوری کرتے ہیں اسکی اور انہی کے لاڈ پیار نے اسے نخریلا بنا دیا ہے۔ اتنا سمجھاتی ہوں لڑکی ذات ہے بیاہ کر اگلے گھر جانا ہے مگر نہ جی نہ وہ کہتے ہیں میری اکلوتی شہزادی ہے، میرا رب اسے اگلے گھر میں بھی بے پناہ خوش رکھے گا۔ تم ہم باپ بیٹی کے درمیان نہ آیا کرو آج بھی دیکھ لیں دو آنسو بہائے نہیں موصوفہ نے کہ ابا جان نے فورًا اجازت دے دی۔ فارہ بیگم اچھا خاصہ دونوں باپ بیٹی پر تپی بیٹھیں تھیں۔ موقع ملتے ہی شروع ہو گئیں۔
ممانی جان آپ نے اسے ہمارے آنے کے بارے میں بتایا تھا؟ بریڈ پر چھری سے مکھن لگاتے شاہ زر نے موضوع تبدیل کرنا چاہا۔ ہاں بیٹا بتایا تھا اور وہ تو اتنا خوش ہوئی کہ سنتے ہی تم لوگوں کو اٹھانے جا رہی تھی۔ وہ تو میں نے منع کیا کہ اتنا لمبا سفر کر کے آئے ہیں، اوپر سے رات کو سوئے بھی تاخیر سے تو مت اٹھاؤ ورنہ وہ تم لوگوں کو صبح سات بجے اٹھا چکی ہوتی۔
اٹھانے دیتیں نا بھابی کیوں منع کر دیا؟ میرا تو دل تھا میں رات کو ہی اس سے مل لوں وہ تو بھائی صاحب نے منع کر دیا کہ اسکے آرام میں خلل نہ ڈالوں ورنہ میں تو اسے رات کو ہی اٹھوا لیتی۔ ہنیا کو اپنی اکلوتی بھتیجی بےحد عزیز تھی ابھی بھی لہجے میں محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن تھا۔
ابھی تھوڑی دیر تک آ جائے گی وعدہ کر کے گئی ہے کہ جلدی لوٹوں گی پھر جب آ جائے تو تم اسکی خوب خبر لینا۔
شاہ زر بیٹا آپ یہ پراٹھا تو لیں میرے ہاتھ کے قیمہ بھرے پراٹھے تو آپکی مما کے فیورٹ ہیں۔ اپنی شادی سے پہلے یہ ضد کر کے مجھ سے بنواتی تھی۔ کیوں ہنیا؟ انہوں نے شاہ زر کے آگے ڈھکن کھول کر ہاٹ پاٹ کیا جس میں سے اس نے ایک پراٹھا نکال لیا۔
جی بھابی! وہ بھی کیا دور تھا جو چاہا پا لیا ہر خواہش پوری کروا لی سارے عیش ماں باپ کے گھر ہوتے ہیں، آگے تو بس ذمہ داریاں پوری کرتے وقت بیت جاتا ہے۔ ہنیا دلگرفتگی سے بیتا دور یاد کر کے مسکرائیں۔
واہ ممانی جان آپکے ہاتھ میں تو بڑا ذائقہ ہے۔ ٹوں۔۔۔ ٹوں۔۔۔ بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اسکا موبائل بجنے لگا۔ اس نے لائن ڈراپ کر دی مگر مقابل بھی خاصہ ڈھیٹ تھا بار بار کال آنے لگی
شاہ زر کال کیوں نہیں ریسیو کر رہے؟ کون فون کر رہا ہے؟
مما فرینڈ کی کال ہے ناشتہ کر لوں پھر بات کرتا ہوں۔ ہنیا کو جواب دیتے اس نے چائے کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگایا۔ ایک تو یہ تمہارے دوست بھی نا۔ ہنیا نے تاسف سے سر ہلایا۔
بھابی اتنا وسیع اسکا حلقۂ احباب ہے نا کہ میں عاجز آ چکی ہوں۔ ہر وقت گھر میں اسکا کوئی نہ کوئی دوست آیا رہے گا اور اگر کبھی اتفاقیہ ایسا معجزہ نہ ہو تو پھر موبائل پر دوستوں سے باتوں میں مگن رہے گا۔
مما آپ بھی نا۔۔۔ ایک بار پھر اسکا موبائل بجا۔ اس نے کال کاٹ کر موبائل سائلنٹ موڈ پر لگا دیا۔
یقین کریں بھابی جو لوگ کہتے ہیں نا امریکی معاشرے میں بےحسی ہے کوئی کسی کو منہ نہیں لگاتا میں کہتی ہوں وہ مجھ سے رابطہ کریں میں انہیں بتاؤں گی کہ میرے بیٹے کے کتنے دوست ہیں اتنے ہیں نا ماشاء اللہ کہ موصوف کے پاس ماں باپ اور رشتے داروں کے لئیے بھی وقت نہیں۔ شاہ زر نے ایک شرمندہ سی نگاہ ماں اور ممانی پر ڈالی پھر سر کھجانے لگا۔ فارہ بیگم مسکراہٹ چھپاتی ہنیا کے کپ میں چائے ڈالنے لگیں۔
مما یہ پاکستانی فرینڈ ہے۔ پڑھنے امریکہ آیا تھا میرا کلاس فیلو تھا تو دوستی ہو گئی۔ اب اسے بتایا ہے کہ پاکستان آیا ہوا ہوں تو ملنے کے لئیے بےچین ہے۔۔۔ موبائل کی سکرین ایک بار پھر روشن ہوئی
شاہ زر بیٹا آپ کال پک کر کے بتا دو اپنے دوست کو کہ آپ ناشتہ کر رہے ہو۔ وہ بے چارہ بار بار کال کر رہا ہے پریشان ہو رہا ہو گا بیچارہ۔ فارہ بیگم کے کہنے پر اسنے کال اٹینڈ کر لی اور معذرت کرتا ہوا ان دونوں خواتین سے تھوڑی دور چلا آیا۔
ہاں بول کمینے دو منٹ صبر نہیں ہوتا تجھ سے ناشتہ کر رہا تھا میں یار اگر بندہ کال کاٹ رہا ہے تو اسکا مطلب یہی ہوتا ہے نا کہ وہ ابھی مصروف ہے نہیں فون اٹھا سکتا فون اٹھاتے ہی بناء سلام کے اسنے خفگی سے مقابل کو لتاڑا
زیادہ بک بک نہ کر نہیں ہوتا اب مزید صبر۔۔۔ نگاہیں دیدارِ یار کو ترس گئی ہیں اور دل ملنے کو بے قرار ہے اور تجھے تو معلوم ہے اپن مطمئن ڈھیٹ ہے نہ اٹھاتا فون تو میں تیری ناک میں دم کئیے رکھتا۔ کب آرہا ہے ملنے؟
شٹ اپ بند کر اپنی یہ ڈائیلاگ بازی بلکہ ڈرامے بازی تجھے اگر اتنی محبت ہوتی نا مجھ سے تو کل ائیر پورٹ پر استقبال کرتا میرا اب میرے اوپر تیری اس لولو پوچو کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ بڑا آیا یار دلدار سترہ گھنٹے بیت چکے مجھے پاکستان تشریف لائے ہوئے
بس کر اوئے روٹھی حسینہ۔۔۔۔
میں ضرور آتا اگر جو کل میں شہر میں ہوتا ایک ضروری کام کے سلسلے میں آؤٹ آف سٹی تھا میں اور اگر میں آ بھی جاتا تو تو نے کونسا ساری رات وہیں بیٹھ کر مجھ سے گپیں مارنی تھیں۔ تو نے تو بیٹھنا تھا اپنے ماموں کی بڑی سی گاڑی میں پھر یہ جا اور وہ جا۔ فی الوقت میں نے تجھے انوائیٹ کرنے کے لئیے کال کی ہے میرے کالج میں فنکشن ہے آ جا دونوں ملکر انجوائے کریں گے۔
اور تجھے کیا لگتا ہے تو مجھے بلائے گا فنکشن کا بتائے گا اور میں سر کے بل دوڑا چلا آؤں گا؟
خوش فہمی ہے تیری میں تجھ جیسے بےغیرت کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتا۔
ٹھیک ہے نہ آ میں کونسا مرا جا رہا ہوں تجھے بلانے کے لئیے یا تجھ سے ملنے کے لئیے وہ تو میں نے سوچا کہ چلو تو اس بہانے تو اپنی بھابی بھی دیکھ لے گا مگر تجھے کہاں عزت راس آتی ہے؟
ابراہیم نے ترپ کا پتہ پھینکا۔ اسے یقین تھا اب شاہ زر دوڑتا آئے گا مگر مخالف پر الٹا ہی اثر ہوا
بھابی؟ تونے شادی کر لی اور مجھے بلانا تو دور کی بات بتانا تک گورا نہ کیا۔۔۔
او بریک مار یار کونسی شادی؟ کس کی شادی؟ میری بارات تیرے بناء بھلا جا سکتی ہے؟ ابھی تو بس پیار ہوا ہے۔
تجھے پیار ہو گیا ہے نہ کر یار۔۔۔
کب؟؟؟ کس سے؟؟؟ کون ہے وہ؟؟؟ کہاں ملی؟؟؟ کولیگ ہے تیری؟؟؟ نام کیا ہے؟؟؟ شاہ زر نے متجسس ہو کر ایک ہی سانس میں کئی سوال داغے۔
یار تو کیا عورتوں کی طرح تفشیش کر رہا ہے؟ کالج آنا تو مل لینا اور لگے ہاتھوں نام بھی پوچھ لینا میں تو نہ انکا نام بتا سکتا ہوں نہ شان۔۔۔
اوئے ہوئے لڑکا گیا کام سے۔ شاہ زر اسے فل چھیڑنے کے موڈ میں تھا۔
شاہ مجھے تنگ نہ کر تو ناشتہ کر رہا تھا نا تو چپ کر کے ناشتہ کر میں بھی کالج کے لئیے نکلتا ہوں۔ بائے اسے بےچین کر کے وہ کال کاٹنے لگا۔ ارے یار سن تو سہی کالج کا ایڈریس سینڈ کر دے۔ اس سے پہلے کہ لائن ڈسکنیکٹ ہوتی شاہ زر بول پڑا۔ محمد ابراہیم نے مسکراتے ہوئے کال کاٹی اور اسے ایڈریس بھیج دیا۔ دوسری جانب شاہ زر اسکی چالاکی پر ہنس رہا تھا۔ بےغیرت کا بلانے کا بہانہ تو دیکھو کیا میں نہیں تجھے جانتا کہ تو صنفِ نازک سے کس قدر چالو ہے۔ اگر صرف اتنا کہہ دیتا کہ کالج آ جا میرا ملنے کا دل چاہ رہا ہے تو پروفیسر صاحب کی شان میں کمی آ جاتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انار کلی کو شاہی دربار میں حاضر کیا جائے۔ مغل اعظم کی پاٹ دار آواز گونجی۔ عائشہ جلال الدین اکبر کا روپ دھارے کمال پرفارمنس دے رہی تھی۔ آداب شہنشاہِ عالم کنیز ناچیز حاضر ہے۔ انار کلی بنی ہادیہ ایک شان سے سٹیج پر نمودار ہوئی۔ سر کو زرا سا خم دے کر ہاتھ کو ماتھے تک لے جا کر بادشاہ کی شانِ اقدس میں سلام پیش کیا پھر الٹے قدموں پیچھے ہٹتی عین سٹیج کے وسط میں جا کھڑی ہوئی۔ انارکلی صاحبِ عالم کا فرمان ہے کہ انکی پڑھائی میں عدم دلچسپی کی وجہ تم ہو۔ بادشاہ کے نام کی طرح اسکی آواز بھی جلالی ہوئی۔ گستاخی معاف جائے پناہ! قصور سارا صاحبِ عالم کا ہے۔ کنیز ناچیز کی جرأت ہی کیا کہ وہ آپکے برخوردار کو بہکا سکے آخر کب تک۔۔۔ کب تک یہ ادنیٰ باندی دوسروں کے گناہوں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھائے جھکے سر اور زخمی دل کے ساتھ جداروں کے پیچھے اپنی تقدیر پر ماتم کناں گھٹ گھٹ کر مرے گی؟ ہر بار قصور کمزور طبقے کا ہی کیوں ہوتا ہے؟ظالم ہر بار کیوں طاقتور ہوتا ہے؟ یا طاقت کا نشہ ہی ایسا خطرناک ہے کہ انسان کو انسان پر حاکم بنا دیتا ہے آخر کب تک بناء کسی قصور کے یہ کنیز اپنے ناکردہ جرائم کی سزا۔۔۔۔ اپنی جاندار ایکٹنگ کے دوران اسکی نگاہ اچانک داخلی دروازے پر پڑی اور لفظوں سے اسکا ناتا ٹوٹ گیا پلکوں نے اٹھنے سے انکار کر دیا۔ چہرے پر ایسا خوف نمودار ہوا گویا کہ وہ کوئی ہراساں ہرنی ہو اور جنگل میں شکاری کے نرغے میں کھڑی ہو ساری خود اعتمادی ہوا میں تحلیل ہو گئی۔ مجمعے میں بے چینی پھیلنے لگی
دیا بولو۔ مسفرہ نے اسے ٹہوکا دیا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی ساکت و جامد نظریں جھکائے کھڑی رہی۔ انار کلی ظل الہی شہنشاہِ عالم جلال الدین اکبر صاحب آپ سے مخاطب ہیں۔ جب وہ کافی دیر کچھ نہ بولی تو مسفرہ مجمعے کا خیال کئیے بناء مائیک میں بول پڑی
اس پر اب بھی اثر نہ ہوا۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئی سنگی مجسمہ سٹیج کے عین وسط میں نصب کر دیا ہو
برابر میں کھڑی وانیہ نے اسکی کہنی ہلائی۔ اس بار بھی اسکے ساکت وجود میں کوئی جنبش نہ ہوئی
انار کلی۔۔۔۔ عائشہ کی آواز کا رعب ختم ہو چکا تھا۔ انداز میں عجیب بوکھلاہٹ تھی۔ میم نشاط ہکا بکا کھڑی تھیں
بلآخر گندے انڈے اور ٹماٹروں سے ان سب کا سواگت ہونے لگا اور پردہ برابر کر دیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کالج کے دروازے پر محمد ابراہیم شاہ زر کا انتظار کر رہا تھا۔ بالآخر انتظار کی طویل گھڑیاں ختم ہوئیں اور دور سے شاہ زر آتا دکھائی دیا۔ قریب آنے پر دونوں نے زوردار معانقہ کیا اور ایک دوسرے سے حال احوال پوچھا۔ پھر وہ اسے ساتھ لئیے اندر آگیا۔ ہال میں قدم رکھتے ہی اسکی نگاہ سٹیج پر اداکاری کے جوہر دکھاتی ایک اجنبی حسینہ پر ٹھہر گئی۔ قدموں نے اٹھنے اور نگاہوں نے پھرنے سے انکار کر دیا۔ شاہ زر نے آج تک صرف مشرقی حسن کا چرچا سنا تھا، آج اس حسن کو مجسمِ حقیقت دیکھا تو دنگ رہ گیا
کوئی بشر اتنا بھی خوبصورت ہو سکتا ہے؟ اس نے خود سے سوال کیا۔ لگتا ہے خالق نے بڑی فرصت سے بنایا ہے۔
وہ جو کوئی بھی تھی، بے مثال تھی، حسن کا پیکر، خالق کا شاہکار، پرستان کی پری، آسمان کی اپسرا یا پھر "حور" ہاں یہی نام اسے اسکے لئیے مناسب لگا۔ وہ بالکل حوروں جیسی تو دکھتی تھی۔ گھٹنوں تک لمبے سیدھے آبشار کی مانند گرتے سیاہ ریشمی بال، گول پُرکشش سا چہرہ، شہابی رنگت پر عنابی کٹاؤدار ہونٹ ، ہیزل گرین آنکھوں پر سیاہ لانبی پلکوں کی باڑ، متناسب سراپا، دراز قد، مخروطی انگلیاں، کتابی چہرہ اور اوپر سے اس مہتابی مکھڑے پر پھیلی حد درجہ معصومیت اسے سب میں ممتاز و نمایاں کر رہی تھی۔
زیور کے نام پر ایک ہاتھ میں پلاٹینم کا نفیس سا بریسلٹ اور دوسرے ہاتھ میں زنانہ برانڈڈ گھڑی، کانوں میں ڈائمنڈ کے خوبصورت سے ائیر رنگز اور ماتھے پر چھوٹی سی بندیا۔ اسکی دراز گردن ہر قسم کے زیور سے عاری تھی۔
انار کلی فراک پہنے سر پر دوپٹہ ٹکائے اپنی آنکھوں سے ذہانت چھلکاتی وہ اک شان سے سٹیج پر نمودار ہوئی اور پھر تو گویا چراغوں میں روشنی ہی نہ رہی۔ سارے مجمعے کو سانپ سونگھ گیا وہ آئی اور چھا گئی۔
ایک شان سے جھک کر اسنے بادشاہ کو سلام کیا۔ آداب شہنشاہِ عالم! جیسے ہی اسکی مترنم و پُرمتانت آواز آئی بےپناہ ہونٹ سکڑے اور بےتحاشہ نگاہوں میں ستائش ابھری آداب پیش کرتی وہ زرا سا مسکرائی اور اسکے دونوں گالوں میں گڑھے ابھر آئے گویا کہ وہ مسکراہٹ بھی ایسا بھنور تھی جس میں ہر کوئی بخوشی ڈوبنا چاہے اسکی اس ادا پر ہر طرف تالیاں بجنا شروع ہو گئیں۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹی اور سٹیج کے عین وسط میں یوں جا کھڑی ہوئی کہ اسکے مقابل ہر شے مدھم دکھائی دینے لگی۔
وہ چلتی تو فلک اسکے پابۂ رکاب چل پڑتا رکتی تو ماہ وسال کی گردشیں ساکن ہو جاتیں۔ اسکی ہر جنبش بے مثال تھی، ہر ادا منفرد و باکمال تھی، وہ بولتی تو گویا کانوں میں رس گھولتی کہ سماعتیں وہ دلکش آواز سننے کی بار بار تمنا کرتیں اور اگر وہ چپ ہو جاتی تو مدلل گفتگو اسکی خامشی کے آگے بےکار ٹھہرتی ہمت جواں، ارادے فولادی، پر عزم، کچھ پا لینے کا یقین، کچھ کر گزرنے کا حوصلہ اور سب سے بڑھ کر اسکی خود اعتمادی اسکی چال میں وقار، انداز میں ٹھہراؤ تھا گویا وہ زندگی کی تپتی دوپہر میں شجرِ سایہ دار اور حقیقتوں کے تلخ ادوار میں موسمِ بہار تھی۔ شاہ زر بت بناء اسے تکتا ہی رہ گیا۔ محمد ابراہیم اسے ہاتھ پکڑ کر گھسیٹ رہا تھا مگر اسکے قدموں میں جان ہی نہ تھی۔ اب اس لڑکی پر فردِ جرم عائد کیا گیا مگر اس بار وہ ایک کمزور کنیز نہیں بلکہ خودشناس انارکلی تھی۔ مضبوط و ناقابل تسخیر چٹان جو اس ٹکراتا پاش پاش ہو جاتا۔ اس بار اسے جھکانا مغلیہ سلطنت کے بس کا روگ نہ تھا۔ وہ نہ ڈری نہ سہمی بلکہ کمال جرأت سے اپنا موقف واضح کرتی مجمعے کو ورطۂ حیرت میں ڈال گئی۔ اپنی جاندار اداکاری کے دوران اسکی نگاہ بالکل اچانک داخلی دروازے پر ایستادہ شاہ زر پر پڑی
نگاہ سے نگاہ ملی اور بے اختیار شاہ زر کے منہ سے آئی لو یو انارکلی نکلا۔ یہ سب اچانک اور بالکل غیر ارادی طور پر وقوع پذیر ہوا۔ شاہ زر کوئی دل پھینک قسم کا عیاش انسان نہ تھا بلکہ مغربی ماحول میں پرورش پانے کے باوجود بھی وہ اپنی مشرقی اقدار کا پاسدار تھا۔ بس اس لمحے اسکا خود پر اختیار ہی نہ رہا۔ اسے خود نہیں معلوم تھا یہ الفاظ کیسے اسکےلبوں سے پھسل گئے۔ محمد ابراہیم نے ایک غصیلی نظر ہادیہ پر ڈالی۔ اسے ایسے خود کی نمائش کرتی لڑکیاں ایک آنکھ نہ بہاتی تھیں۔ اس پل بھی انہیں اس مغرور امیر زادی پر بے پناہ غصہ آیا اور اگلے ہی پل شاہ زر کو بازو سے گھسیٹتے وہ سیٹس کی جانب بڑھے۔ شاہ زر ابراہیم کے ساتھ گھسٹتا جا رہا تھا مگر نگاہ اب بھی سٹیج ہر نصب جھکی نگاہوں والی مورتی سے ہٹنے کو تیار نہ تھیں۔ چونکا تو وہ تب جب لوگ گندے انڈے،، ٹماٹر اور جوتیاں سٹیج کی سمت پھینکنے لگے اور پردہ برابر کر دیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨
پردہ برابر ہوتے ہی تمام لڑکیاں اس پر چڑھ دوڑیں سب ہی اسے کوس رہی تھیں۔
ہو کیا گیا تھا تمہیں دیا؟ ذلیل کروا دیا ہمیں۔ ایک ماہ سے پریکٹس کر رہے تھے ہم۔ سب کئیے کرائے پر آن واحد میں تم نے پانی پھیر دیا تکلیف کیا ہوئی تھی تمہیں؟ اب بولو بھی؟ علیزہ بناء ہادیہ کے آنسؤوں کی پروا کئیے اسے بری طرح لتاڑ رہی تھی۔ نشاء بھی خاصی بدلحاظی سے بول رہی تھی۔ باقی سب کا بھی تاسف سے برا حال تھا۔ بہت غرور تھا نا محترمہ کو خود پر اسی لئیے یہ سب ہوا ہے۔ غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہی ہوتا ہے۔ فاطمہ نے بھی حصہ ڈالا۔ وہ کہاں پیچھے رہتی۔ آئی تھنک یہ سب ہادیہ کے ایکسٹرا کانفیڈینس کا رزلٹ ہے، یہ نادر خیال عیشاء کا تھا۔
ہر کوئی اسے برا بھلا کہہ رہا تھا اور وہ محترمہ چپ کا روزہ رکھے رونے کا شغل فرما رہی تھی جبکہ مسفرہ اسکے برابر میں بیٹھی اسے چپ کروانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔
اب بولو بھی دیا کیا ہوا تھا تمہیں کیوں چپ ہو گئیں تھیں؟ عائشہ کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ اس لئیے کڑے تیوروں سے پوچھنے لگی مگر وہ اب بھی کچھ نہ بولی بس روتی ہی رہی۔
یار اب بتا بھی دو کیا ہوا ہے؟ جتنا ذلیل کروانا تھا وہ تو تم کروا چکی اب یہ رلائی کس بات پر آ رہی ہے؟ وہاں تو نظریں سٹیج پر ایسے جمی تھیں جیسے نگاہوں سے سٹیج کھودنے کا ارادہ ہو۔ آئی تھنک کوئی خزانہ دفن ہو گا نیچے وہی تم تلاش کر رہی ہو گی۔ حناء کی بات پر علیزے اور فاطمہ ہنسنے لگیں۔
شٹ اپ حناء تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ میری فرینڈ کا مذاق اڑاؤ۔ ہو سکتا ہے کہ دیا کہ پاؤں میں کسی نے چھپکلی ڈال دی ہو۔ یار تم لوگوں کو پتہ ہی ہے نقلی چھپکلی بھی دیکھ لے تو دیا کی جان پر بن جاتی ہے۔
اوہ اچھا تو محترمہ وہ چھپکلی ہم میں سے کسی کو کیوں نہیں دکھائی دی؟ وہ نادیدہ چھپکلی صرف آپ کی اس خاص الخاص دوست کو ہی کیوں نظر آئی جواب علیزے کی طرف سے آیا۔
میرے خیال میں یہ سب باتیں چھوڑ کر فی الوقت ہمیں یہ سوچنا چاہئیے کہ ہم مس نشاط کو کیا جواب دیں گے۔ وہ تو ہمارا قیمہ بنا دیں گی۔ وانیہ کو نئی فکر ستائی اور وہ باقی سب کو بھی ہولانے لگی۔
ہم کیوں جواب دیں گے؟ یہی محترمہ جواب دیں گی جنکی وجہ سے آج ہماری اس قدر بے عزتی ہوئی ہے۔ عائشہ نے تنک کر بولا
نہیں یار ڈانٹ تو سب کو ہی پڑے گی شاید۔۔۔۔
مسفرہ وہ دیکھو مس نشاط آ رہی ہیں۔ میں تو کھسکنے لگی ہوں بڑی عزت ہونے والی ہے آج۔ سب کو خبردار کر کے وانیہ جانے لگی تو حناء نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
محترمہ کہاں چلیں؟ بےعزتی ہو گی تو سب کی برابر، میں یوں تمہیں منظرعام سے غائب نہیں ہونے دونگی۔ وانیہ ہاتھ چھڑوانے لگی اسی دوران میم نشاط سر پر پہنچ گئیں۔ سب سیدھی ہو گئیں۔
ہادیہ مجیب کہاں ہیں؟ انہوں نے آتے ہی غصیلی آواز میں پوچھا۔
میم وہ بیٹھی ہوئی رو رہی ہے۔ جواب مسفرہ نے دیا وہ ہادیہ کے پاس پہنچ گئیں۔ باقی سب بھی دائرے کی صورت جمگھٹا لگائے کھڑی ہو گئیں۔
کیا ہوا ہے آپکو مس ہادیہ؟ اچھی بھلی پرفارمنس دیتے دیتے آپ چپ کیوں ہو گئیں تھیں؟ روتی ہوئی ہادیہ نے میم نشاط کی رعب دار آواز سن کر سر اٹھایا۔ وہ کھڑی ہو گئی نروس سی ہادیہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی اور مسلسل انگلیاں مڑوڑ رہی تھی۔ آنسو اب بھی رواں تھے۔ مس نشاط کو اسے دیکھ کر احساس ہوا کہ کوئی نہ کوئی گڑبڑ ضرور ہے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا اور نرم لہجے میں بولیں:
ہادیہ بیٹا مجھے بتائیں کیا ہوا ہے آپ کیوں رو ری ہیں؟
وہ مم۔۔۔ میم۔ میں اچھے بھلے اپنے ڈائیلاگز بول رہی تھی، اچانک سر ابراہیم کے ساتھ ایک لڑکا ہال میں داخل ہوا۔ میم اداکاری کے دوران میری غیرارادی نظر۔۔۔ اس پر پڑی۔۔۔میم اس نے مجھے دیکھتا پا کر آئی لو یو بولا میں اسکی اس جرات پر گھبرا گئی۔ اوپر سے سر ابراہیم بھی مجھے گھورنے لگے۔ میم میں سر کی نظروں سے کنفیوژ ہو گئی پھر مجھ سے کچھ نہیں بولا گیا۔۔۔ میم میری کوئی مِس ٹیک نہیں۔۔۔
کون تھا وہ لڑکا؟ ہمارے کالج کا تھا کوئی؟ میم نشاط نے تفتیشی انداز میں پوچھا۔ باقی لڑکیاں حیران کھڑی ان دونوں کی گفتگو سن رہی تھیں۔
آئی ڈونٹ نو میم میں نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا کالج میں۔
اوکے ڈونٹ وری میں سر ابراہیم سے خود بات کرونگی فی الحال آپ اپنی حالت درست کریں اور مسفرہ آپ اپنی فرینڈ کو پانی پلائیں اور گرلز یہ بات اسی گروپ میں رہے میں کسی کے منہ سے دوبارہ یہ بات نہ سنوں۔
اوکے میم سب نے باجماعت سر ہلایا۔ جیسے ہی مس نشاط گئیں سب ہادیہ کے پیچھے پڑ گئیں۔ اب وہ اس سے تفصیل جاننا چاہ رہی تھیں۔
کوئی ضرورت نہیں ان سب کے فضول سوالوں کے جواب دینے کی چلو کینٹین چلتے ہیں۔ مسفرہ نے ہادیہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے وہاں سے لے گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایمان سٹوڈینٹس کے ٹیسٹ چیک کرنے میں مصروف تھی جب روتی ہوئی علایہ نے آکر اسکا بازو ہلایا۔
اپو میمہ دندہ اے۔۔۔ میمہ اچھا نئیں اے۔
ایمان نے ٹیسٹ سائیڈ پر رکھے اور اسکے پھولے گالوں پر تواتر سے گرتے آنسو صاف کئیے وہ ہو بہو اسی کی کاربن کاپی تھی۔ کیوں خزیمہ کیوں گندہ ہے؟ بھیا نے کیا کیا میری گڑیا کیوں رو رہی ہے؟ نرمی سے پوچھتے اسنے چٹاچٹ علایہ کے گال چومے اس پر وہ مزید بھاں بھاں کر کے رونے لگی۔
کیا ہوا ہے میری گڑیا کو؟
اپو میمہ نے علایہ کو مارا اے۔۔۔ میمہ دندہ اے۔۔۔ ہچکیوں کے درمیان اس نے اٹک اٹک کر خزیمہ کی شکایت لگائی اور اس کی بات سن کر ایمان کا دماغ گھوم گیا۔ اس نے وہیں سے بآوازِ بلند خزیمہ کو پکارا۔ جی اپو؟ آواز سنتے ہی خزیمہ دوڑتا ہوا ہانپتا کانپتا اس کے سامنے کھڑا تھا۔ آپ نے گڑیا پر ہاتھ اٹھایا ہے؟ بہن کو مارا ہے؟ خزیمہ کیوں؟غصیلے لہجے میں استفسار کرتے اسے خود بھی نہیں پتہ لگا کب اسکی آواز بلند ہو گئی۔ خزیمہ سہم گیا۔ اس نے پہلی بار ایمان کو اتنے غصے میں دیکھا تھا۔
اپو ماما نے کہا تھا۔ اس نے ماما کا سارا میک اپ توڑ دیا اپنے منہ پر میک اپ کر رہی تھی۔ میں نے ماما کو جاکر بتایا تو باہر بھاگ گئی۔ ماما نے کہا اسے دو لگا کر لے کر آؤ۔خزیمہ ڈرتے ڈرتے اپنی صفائی پیش کرنے لگا۔
خزیمہ چیزیں واپس آجاتی ہیں۔ ایک میک اپ کی کٹ ٹوٹی بھابھی نئی لے لیں گی پر دل ٹوٹ جائیں نا تو جڑتے نہیں ہیں۔ اتنی سی بات ہر تم بہن پر ہاتھ اٹھاؤ گے؟ ایک معمولی سے میک اپ کے پیچھے بے غیرت ہوتے ہیں وہ بھائی جو بہنوں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ مجھے آپ سے یہ امید نہ تھی بےحد تاسف سے بولتے اس نے علایہ کی سمت دیکھا جو خزیمہ کو ڈانٹ پڑتا دیکھ کر سہم گئی تھی۔
اپو ماما نے کہا تھا۔۔۔ وہ منمناتا ہوا وضاحتیں دینے لگا۔ ماما کو چھوڑو وہ تو ایویں غصے میں کچھ بھی بول دیتی ہیں تو کیا انکے کہنے پر تم اپنے سارے اخلاق و آداب بھلا دو گے؟ ماما کی ایسی فضول باتیں نہیں مانتے جس پل اس نے یہ جملہ ادا کیا عین اسی لمحےفاروق بھائی بچوں کو لینے کے لئیے آئے۔ ایمان کی آدھی ادھوری بات سن کر انکا پارہ ہائی ہو گیا ۔ ان کے ہاتھ میں چائے کا خالی کپ تھا، انہوں نے وہی ایمان کو دے مارا۔
کپ ایمان کے ماتھے سے ٹکراتا ہوا زمین پر گرا اور کرچیوں کی صورت جا بجا ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ اس کے ماتھے پر خون کی ہلکی سی لکیر ابھری۔ علایہ ڈر کر ایمان سے لپٹ گئی۔ خزیمہ بھی ہراساں ہو گیا۔
بھائی۔۔۔ ایمان نے ایک بے یقین نظر فاروق بھائی کے قہر برساتے چہرے پر ڈالی۔ ان کی آنکھوں میں چھلکتی نفرت دیکھ کر الفاظ اسکے لبوں پر دم توڑ گئے۔ آنکھوں میں آنسو امڈ آئے اور فاروق بھائی کا چہرہ اسکی نگاہوں کے سامنے دھندلانے لگا۔ وہ کوئی وضاحت نہ دے سکی۔
مت کہو مجھے بھائی نہیں ہے میرا تم سے کوئی رشتہ۔ میرے ہی گھر میں رہ کر میرے ہی بچوں کو انکی ماں کے خلاف ورغلاتی ہو شرم سے ڈوب مرو۔ تم ڈائن ہو ڈائن۔۔۔ اگر تمہاری بھابھی یہی بات مجھے کہتیں تو مجھے یقین نہ آتا مگر اپنے کانوں سنے کو کیسے جھٹلاؤں؟ آج پتہ لگا وہ جو بھی کہتی ہے ٹھیک کہتی ہے۔ تم ہو ہی احسان فراموش اپنی محرومیوں کا بدلہ میرے بچوں سے لے رہی ہو۔ ارے مجھے بتاؤ تمہاری معذوری میں میرا یا میری فیملی کا کیا ہاتھ ہے؟ کس بات کا بدلہ لے رہی ہو ہم سے؟ جس تھالی میں کھاتی ہو اسی میں چھید کر رہی ہو۔شرم آنی چاہئیے تمہیں ارے تمہیں تو چاہئیے تھا کہ پاؤں دھو دھو کر پئیو اس عورت کے جس نے طلاق کے بعد بھی تمہیں اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے۔ الٹا تم اسی کے خلاف زہر اگل رہی ہو معصوم بچوں کے ذہنوں میں خناس بھر رہی ہو۔ اگر وہ نہ ہوتی تو تم رل جاتی کسی دارالامان میں دھکے کھا رہی ہوتی اس وقت۔ یہ اُسی کا جگرا ہے کہ تم جیسی فتنہ کو، بوجھ کو اس نے اپنے سر پر مسلط کر رکھا ہے۔ نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔ حقارت سے بولتے غصے میں دھاڑتے وہ آگے آئے اپنے ایک ہاتھ سے اسکے دونوں گالوں کو پکڑ کر بھینچا ایمان نے تکلیف سے آنکھیں میچ لیں۔ خزیمہ نے دکھ سے منہ پھیر لیا۔ تم ہوتی کون ہو میرے بچوں پر رعب جمانے والی اور انہیں ماں کے خلاف ورغلانے والی؟ سمجھتی کیا ہو خود کو لاوارث نہیں ہیں میرے بچے ابھی انکا باپ زندہ ہے، زندہ ہوں میں آئی سمجھ؟ اگر آئندہ کوئی ایسی حرکت کی نا تو منہ توڑ کر رکھ دوں گا۔ انہوں نے ایک جھٹکے سے اسکا منہ چھوڑا۔ خزیمہ کو ڈپٹ کر اندر بھیجا اور ایمان سے چمٹی علایہ کو کھینچ کر الگ کیا اور گود میں اٹھا کر لے گئے
پیچھے ایمان ساکت بیٹھی اپنا جرم سوچتی رہ گئی۔
اہانت، تکلیف، تذلیل، تحقیر انکا بولا ایک ایک جملہ کوڑوں کی صورت اس پر اب تک برس رہا تھا۔
"ابھی انکا باپ زندہ ہے" سماعت میں فاروق بھائی کا آخری جملہ گونجا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔اسے اپنے والد صاحب اس پل بے پناہ یاد آئے۔
ابو میرا کیا جرم تھا مجھے کیوں آپ بے سائباں کر گئے؟ مجھے کس کے آسرے پر چھوڑ گئے کس کے سہارے؟
ابو میں ہر تکلیف برداشت کر لیتی ہوں پر تذلیل نہیں برداشت کر سکتی۔ کس قدر تحقیر تھی بھائی کے لہجے میں۔ مجھے ساتھ لے جاتے آپ لوگ مجھے کیوں چھوڑ گئے؟ اسے ہر درد میں اپنے ماں باپ یاد آتے ماں باپ سے ہوتا ہی ایسا رشتہ ہے کہ تکلیف میں لبوں پر پہلا نام انکا آتا ہے۔ روتے روتے سر میں ٹیس سی اٹھی اس نے ہلکا سا انگلیوں سے ماتھے کو چھوا تو چپچپاہٹ اور نمی کا احساس ہوا سرخ مائع اسکے پورے رنگین کر چکا تھا۔ وہ بے اختیار اپنی انگلیاں تکتی چلی گئی
یہ خون۔۔۔ کیا اسکا اور فاروق بھائی کا خون ایک ہی نہ تھا؟ یا پھر اب خون کا رنگ اب سرخ نہ رہا تھا؟ سوچوں کے گرداب میں الجھے اسے احساس ہی نہ ہوا کب خزیمہ آیا اور دھیرے سے اس نے اس کے آنسو پونچھے ماتھے سے خون نکلتا دیکھا تو تیزی سے باہر گیا کچھ دیر بعد لوٹا تو اسکے ہاتھ میں سنی پلاسٹ تھا۔ اس نے سنی پلاسٹ کھولا اور ایمان کے بال پیچھے کر کے لگانے لگا تو وہ دل سوز انداز میں دھیمے سے بولی:
خزیمہ جسموں کے زخم نظر آ جاتے ہیں روحوں کے گھاؤ کیوں نہیں کسی کو دکھائی دیتے؟ یہ معمولی سا زخم ہے بھر جائے ایسے کتنے ہی زخم مجھے روز لگتے ہیں اور بھر جاتے ہیں۔ انکی تو اب میں نے پروا بھی کرنا چھوڑ دی پر روح کا کیا کروں؟ میری روح زخمی ہے کیا تم میری روح کے زخم بھر سکتے ہو؟ کیا تم میرا روحانی علاج کر سکتے ہو؟
وہ دلگرفتہ تھی کہ اسے پتہ ہی نہ چلا کہ وہ کیا بول رہی ہے اور کس سے بول رہی ہے؟ آواز اس قدر مدھم تھی کہ اس کے اپنے کانوں تک بھی نہ پہنچ پائی
جی اپو؟ کیا آپ مجھ سے کچھ کہہ رہی ہیں؟ سنی پلاسٹ لگاتے خزیمہ نے اسکے ہلتے لب دیکھے تو پوچھا یکدم ایمان حواس میں لوٹی۔
ہاں خزیمہ میں تم سے ہی مخاطب تھی۔ بس تمہیں یہ کہہ رہی تھی کہ کبھی اپنی ذات سے اپنی بہن کو تکلیف مت پہنچانا یہ بہنیں بہت نازک آبگینے ہوتی ہیں۔ انہیں بھائیوں سے مان کے سوا کچھ نہیں چاہئیے ہوتا۔ انہیں بہت مان ہوتا ہے بھائیوں پر خود سے بھی بڑھ کر۔ تم سمجھ رہے ہو نا میری بات؟ یہ بہنیں بہت حساس دل کی مالک ہوتی ہیں۔ یہ بھائیوں کی بےحسی، بے رخی، عدم توجگی برداشت نہیں کر پاتیں۔ ان کے احساس پر ہلکی سی بھی ضرب پڑے تو یہ نازک گڑیائیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ خزیمہ کبھی بہن پر ہاتھ نہ اٹھانا بس اتنا یاد رکھنا کہ بھائی بہنوں کے محافظ ہوتے ہیں۔ انہیں ہر سردوگرم سے بچاتے ہیں نا کہ خود انہیں رسوا کرتے ہیں۔ اندر کے کرب کو چھپاتی وہ دھیمے لہجے میں خزیمہ کو سمجھا رہی تھی۔
شیور اپو میں آئندہ کبھی گڑیا کو نہیں ماروں گا اور بابا کو بھی سمجھاؤنگا کہ بہنوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے۔ اپو میں بہت برا ہوں۔ آج جو بھی ہوا میری وجہ سے ہوا۔ میری وجہ سے بابا نے آپ پر ہاتھ اٹھایا۔ سوری اپو۔۔۔۔ وہ رو ہی پڑا۔
مت رو میری جان آپ بہت اچھے ہو، اپو کی بیٹے ہو۔ اپو کی ہر بات مانتے ہو اور بابا سے کچھ نہیں کہنا غلطی میری تھی۔ مجھے بھابی کے بارے میں آپ سے ایسے بات نہیں کرنی چاہئیے تھی۔ بڑوں کی عزت کرتے ہیں۔ وہ ایسی ہی تھی ہر فردِ جرم کو چپ چاپ تسلیم کر لینے والی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
Episode no 3
Click below
https://momnaawais.blogspot.com/2023/06/blog-post_11.html


0 Comments