✨جو شکستہ ہو تو عزیز تر ✨
قسط نمبر 1
فضاء میں خنکی رچ بس چکی تھی تاریک رات میں تارے اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ چمکتے تیرگی کا سینہ چاک کرنے کی کوششوں میں مگن تھے جبکہ چاند دھیرے دھیرے اپنی آخری سفری منازل طے کر رہا تھا اسی پرسکون ماحول میں ارضِ مقدس کے ایک بابرکت شہر میں بیت اللہ کے عین سامنے ایک مقدس وجود سر بسجود آہ و فغاں میں مگن دو عالم سے بیگانہ تھا
کیا شان تھی اس پیکرِ خاکی حیاء جسکے گہنے ۔۔ایمان جسکا زیور ۔۔آداب توکل و رضا جسکی کل متاع ۔۔صبر جسکا شیوہ اور شکر جسکی عادت تھی وہ جو جادۂ ایمان کی راہی تھی وہ قیل وقال کے میداں کی نہیں بلکہ رزمِ عمل کی غازیہ تھی وہ خالی ہاتھ تھی مگر کائنات اسکے تابع تھی وہ چلتی تو فلک اسکے پابۂِ رکاب چل پڑتا رکتی تو کائنات ساکن ہو جاتی جھکتی تو اسکی ہر ادا میں عاجزی ہوتی کہ کائنات اسکی ہر ہر جنبش پر عالم ورطۂِ حیرت میں غوطہ زن تھی
جب وہ نگاہ اٹھا کر آسمان کو تکتی تو تارے اپنی کم مائیگی پر شکوہ کناں اِدھر اُدھر چھپتے دکھائی دیتے بھلا افق پر پھیلے بادلوں میں کہاں تاب تھی کہ وہ ان حسین آنکھوں سے بہتے عظیم پانی کا مقابلہ کر پاتے کہ وہ ایک قطرہ آنسو جو سمندروں کے رب کو اپنی بندی کی آنکھ سے بہتا محبوب تھا
جب وہ بولتی تو الفاظ اسکے منہ سے ادا ہو جانے کو اپنی خوش بختی گردانتے وہ زمین زاد تھی مگر فلک ذاد اسکی رفعتوں پر رشک کرتے کیونکہ وہ اشرف المخلوقات تھی اور یہی شرف اسے ممتاز کرتا تھا
وہ کون تھی ؟؟کیا تھی ؟؟اسکا نام اسکی ذات کیا تھی؟؟ یہ سب بے معنی ٹھہرا بس اتنا کافی نہیں کہ وہ خدا کا انتخاب تھی اور اللہ جب کسی کو بہت ہی خاص سمجھتا ہے تو ہی اپنے لئیے منتخب کرتا ہے وہ رب کی چنیدہ تھی
مگر وہ اپنے بارے میں اتنا واقف ہی کہاں تھی وہ تو بس اتنا جانتی تھی وہ خاکی ہے اور خاک یعنی مٹی ہی اسکی اوقات ہے وہ حقیر ہے بے بس و عاجز ہے
اور اسکی یہی عاجزی تو اسے کائنات میں ممتاز ٹھہراتی ہے عبایے میں ملفوف وہ جسدِ خاکی اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتی ہے بہت خالی ہاتھ تہی دست و تہی داماں۔۔۔کچھ پل وہ اپنے بدنما سیاہ ہاتھوں کو تکتی ہے کچھ بھی تو نہیں اسکے پاس لٹانے کو ایک تن ہے وہ بھی داغ داغ ۔۔وہ رو پڑتی ہے اور پیشانی زمین پر ٹیک دیتی ہے
بندگی کی بساط پر ایک طویل سجدہ اور سجدے میں بہتے اشکِ ندامت زمین کو تر کرنے لگے مگر اسکے لبوں سے بکھرنے والے تشکر کے موتی فلک کی اوٹ بلند ہو رہے ہیں
کچھ دیر بعد وہ اپنا سر اٹھاتی ہے اور وہی بدنما ہاتھ دستِ دعا پھیلا دیتی ہے
اے الہ العالمین ! یا خدایا ایک تو ہی تو ہے میرا جس پل دنیا نے اپنے دروازے بند کر دئیے تھے مجھ پر اور باوجود فراخی کے زمین تنگ ہو گئی تھی مجھ پر تو تیرا در وا ہو گیا کائنات نے جب ٹھکرا دیا رسوا کیا تو ایک توہی تھا جس نے پناہ دی اپنی چوکھٹ پر لا بیٹھایا جب سب نے دھتکارا تونے اپنایا جب مجھے توڑ دیا گیا تو واحد تو تھا جس نے مجھے سمیٹا میرے کرب کو سمجھا رات کا آخری پہر ہے آسمانِ دنیا پر تیری آمد ہے تو شہنشاۂِ دو جہاں میں بندئِ مسکین ۔۔۔نہ مانگنے کا آدابِ سلیقہ نہ تجھے تیری شایانِ شان پکارنے کا طریقہ کس منہ سے تیرا شکر ادا کروں کہ تونے میری غموں سے تپتی زندگی کو نخلستاں بنا دیا قرآن کو میرے دل کی بہار بنا دیا میری راہ کے حجر کو شجر اور ظلمات کو نور سے بدل دیا میں پور پور تیرے احسانوں تلے ڈوبی ہوں
آج تجھ سے تیرے گھر میں ایک وعدہ کرتی ہوں زندگی اور وقت نے گر مجھے مہلت دی اور میرے گناہ گار میرے سامنے جھکی گردن لئیے معافی کے طلبگار بن کر آئے تو میں لا تثریب علیکم الیوم کہتی سب کو معاف کر دونگی
بدلے میں تجھ سے یہ چاہتی ہوں کہ بس تو مجھے معاف کر دے اور اس دنیائے فانی میں موجود ہر شے سے بے نیاز کر دے
مجھ کن سے قریب تر کر کے اپنے در کی گدائی دے دے مجھے اِس جہاں کی طلب نہیں رہی بس اُس جہاں تک رسائی دے دے مجھے کبھی تیرے سوا کسی کے آگے جھکنا نہ پڑے بس تو میرے لئیے کافی ہو جا مجھے ہدایت دے دے بس ہدایت دے دے ۔۔
دعا مانگ کر اسنے اپنے بیگ کی زپ کھولی اور چھوٹی پاکٹ سائز کتاب نکالی جس کا عرض اسکے طول سے زیادہ تھا کتاب نکال کر اسنے مضبوطی سے اسے تھاما اور سینے سے لگا لیا ہاں یہی کتاب تو اسکی زیست کی بہارِ پُر آفریں تھی اسکے درد کی درماں اسکے دکھوں کی مسیحا اسکے غموں کا علاج اسکے زخموں کا مرہم ہاں یہی قرآن تو اسکی تپتی حبس ذدہ زندگی میں ابرِ کرم تھا
اسی مصحفِ آسمانی میں ہی تو اسکی نجات کا راز پنہاں ہے ہاں اسی نورِ مبین میں اس کے قلب کا سکون پوشیدہ ہے
اسنے الکتاب کو کھول لیا اور محبت سے اسپر ہاتھ پھیرنے لگی اچانک ہوا کا ایک لطیف جھونکا آیا اسکے مصحف کے صفحات پھڑ پھڑائے اور اسکے سامنے خود بخود ایک آیت کھل گئی
لن تنالوا البرحتی تنفقوا مما تحبون ۔۔۔
ہر گز نہیں تم کامل نیکی کو پہنچ سکتے یہاں تک کہ اپنی سب سے پسندیدہ شے راہِ خداوندی میں نہ دے دو
اسنے دو تین بار آیت پڑھی ذہن میں ترجمہ دہرایا مگر اسے سمجھ نہ آیا کہ یہ آیت آج ہی کیوں اس کے سامنے کھلی اس پل جب وہ ربِ کبریا سے ہدایت مانگ رہی ہے تو وہ یہ آیت کیوں اسکے سامنے لا رہا ہے
آیت سمجھنے کی کوشش میں وہ خود سے الجھنے لگی اور جب اسی تگ و تاز نے اسے تھکا ڈالا تو بےبس ہو کر اسنے ایک بار پھر ہاتھ اٹھا دیے
یا رب الھادی !جہاں انسانی سوچ کی انتہا ہوتی ہے وہیں سے تیری تدبیر کی ابتداء ہوتی ہے مجھے کامل یقین ہے اس آیت میں میری ہدایت کا راز پوشیدہ ہے تیری آیات پرحکمت تیرا کلام فصیح اور میری عقل ناقص ہے میں نہیں جانتی کہ جس پل میں تجھ سے ہدایت طلب کر رہی ہوں اسی پل یہ آیت کیوں میرے سامنے کھلی مجھے رتی بھر ادراک نہیں کہ اب تو مجھ سے میری کس محبوب شے کی قربانی مانگ رہا ہے میں نے تو اپنا سب کچھ تیری راہ میں وقف کر دیا میری ذات سے لیکر زیست تک ہر شے پر صرف تیرا ہی تصرف ہے جب سب تیرا تو قربانی کیسی؟؟پھر آج اس آیت کے کھلنے کا کیا مقصد ہے ؟؟
یا رب السموات والارض مجھ پر اس آیت میں چھپا اسرار منکشف فرما وہ دعا میں مگن تھی کہ موذن نے صدائے تکبیر بلند کی اسکے کانوں میں صلاۃِ فجر کی آواز گونجی اسکا رب اسے کامیابی کی جانب بلا رہا تھا اس نے محبت سے مصحف بند کر دیا اور اذان کا جواب دینے لگی
رات دھیرے دھیرے فناء ہوچکی تھی اور ظلمات کا انجام فناء کے سوا بھلا اور ہو بھی کیا سکتا ہے؟؟
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اب وہ فجر سے قبل وہ دوگانہ سنت ادا کر رہی تھی جو دنیا و ما فیھا سے بہتر ہے ماہتاب کا سفر بھی اب تمام ہوا چاہتا تھا اسنے سلام پھیرا تو اسے دور سے اپنے محبوب شوہر محمد ابراہیم آتے دکھائی دئیےوہ تیز قدم اٹھاتے نماز کے لئیے ہی آ رہے تھے رات وہ ان سے اصرار کر کے حرمِ پاک میں رکی تھی اب انکو آتا دیکھ کر وہ دل سے مسکرائی یہ شخص تو اس کے صبر کا انعام تھا محمد ابراہیم کی بھی اس پر نظر پڑ چکی تھی اب انکے قدم اسی کے جانب تھے
اپنے پنجے دراز کرتی سیاہ رات جو ہر شے پر سایہ فگن تھی وہ دم توڑنے لگی اچانک دور افق کے اس پار روشنی کی ننھی کرن نمودار ہوئی اور اس نے شبِ ظلمات کا سینہ چیر دیا
بالکل باریک ناتواں نحیف سی وہ کرن دیکھتے کے دیکھتے پورے فلک پر چھا گئی اندھیرا چھٹ چکا تھا اب ہر منظر صاف تھا نیلگوں فضاء میں پرندوں کی تسبیح و تحمید کی چہچہاہٹ گونج رہی تھی اسنے ایک نظر روشن آسمان کو دیکھا دوسری نگاہ اپنے پہلو کے ساتھی پر پڑی ایک سکون سا اسکے اندر اترتا چلا گیا
آخری سوچ جو اس کے دماغ میں آئی وہ یہ تھی کہ شبِ تاریک جتنی مرضی طویل ہو صبح ہو ہی جاتی ہے تنگی کے ساتھ آسانی ہوتی ہے اور رب سے اگر امید رکھو وہ راضی کر ہی دیتا ہے شبِ غم ڈھل ہی جاتی ہے رات کے بعد دن لازم ہے دکھ کے بادل گِھر کر آئیں تو بارش برس ہی جاتی ہے اور بارش تو رحمت کی علامت ہے نا اور بارش کے بعد آسمان زیادہ اجلا اور روشن ہوتا ہے
✨۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔✨
دیا انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے عالیشان آفس میں پرنسپل سیٹ پر بیٹھی ہادیہ تیزی سے لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کر رہی تھی دفعتًا انٹرکام کی بیل نے اسکا ارتکاز توڑا مصروف سی ایک نگاہ سکرین پر ڈالتے اسنے ریسیور اٹھایا اور کان اور بائیں کندھے کے درمیان پھنسایا
یس؟ مصروف سے انداز میں شائستگی سے وہ بولی
میم!آئی ایم سپیکنگ حمزہ رضوی فرام دا ایڈمن آفس ۔۔
حمزہ آئی ایم ویری بزی رائٹ ناؤ ایکسیپٹ فار دا امپورٹنٹ ورک ڈو ناٹ ڈسٹرب می ۔
سوری میم ۔۔۔ مگر میں کیا کروں ؟آپکے کزن شاہ زر صاحب آئے ہیں اور بضد ہیں کہ آپکو انکی آمد سے مطلع کیا جائے وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں کیا میں انہیں آپکے آفس میں بھیج دوں ؟؟
کون آیا ہے؟ اسے لگا شاید اسکی سماعت نے اسے دھوکہ دیا ہے اس لئیے اس نے حیرانگی سے پوچھا
"میم اپنا نام شاہ ذر بتا رہے ہیں"
شاہ۔۔زر ۔ لفظ اسکے منہ سے دو حصوں میں ٹوٹ کر ادا ہوا آنکھوں میں بے پناہ تنفر در آیا بے اختیار وہ سیدھی ہوئی اور اپنا نچلا لب دانتوں تلے بری طرح کچل ڈالا یہاں تک کہ ہونٹ سے خون چھلکنے لگا وہ اذیت کی انتہاء پر تھی بس لمحہ لگا تھا اسے بکھرنے میں اور اس سے بھی کم عرصے میں اسنے خود کو سمیٹ لیا
پھر بولی تو لہجہ سرد اور بے تاثر تھا
پلیز سیٹنگ دیم ان دا ویٹنگ روم اینڈ ان لیس آئی ہیو این آرڈر نو ون نیڈز ٹو بی سینڈ ٹو مائی آفس ۔ اوکے؟؟
یس میم تابعداری سے کہتے حمزہ نے ریسیور رکھ دیا
سر میڈم ابھی تھوڑی مصروف ہیں کائنڈلی آپ ویٹ کیجئیے جیسے ہی وہ فری ہونگی ہم آپکو انفارم کر دیں گے پیشہ وارانہ مسکراہٹ سجائے شاہ ذر کو انتظار کا کہتے حمزہ نے بیل کا بٹن پریس کیا
گلاس ڈور کے اس پار بیل کی آواز سنتے ہی ایک معمر یونیفارم میں ملبوس خاتون چہرے پر مسکراہٹ لئیے اندر آئیں
نسرین یہ میڈم ہادیہ کے کزن ہیں آپ انہیں ویٹنگ روم میں بیٹھائیے
محترم میں یہاں انتظار کرنے نہیں آیا میری بیٹی موت و حیات کی کشمکش میں ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے پلیز آپ میری بات سمجھنے کی کوشش کیجئیے میرا اس وقت ہادیہ سے ملنا بہت ضروری ہے۔ شاہ زر کے لہجے میں حد درجہ بےقراری تھی
سر میں آپکی بات سمجھ رہا ہوں میں نے آپکے اصرار پر میڈم کو انفارم بھی کیا مگر انکا کہنا ہے ابھی وہ بہت مصروف ہیں جو کوئی بھی ہے انتظار کرے شائستگی سے مدھم لہجے میں جواب دیتے حمزہ نے ایک نگاہ مقابل پر ڈالی
پرشکن لباس بڑھی شیو مضمحل حالت اور آنکھوں کے گرد حلقے وہ اسے صدیوں کا بیمار لگا حمزہ نے نگاہوں کا زوایہ بدل کر فائل کی جانب دھیان مرکوز کرنا چاہا مگر ناکام رہا
حمزہ صاحب! میں بہت بےبس ہو کر یہاں آیا ہوں ایک مجبور و بےبس باپ ہوں ہاتھ جوڑ کر آپ سے درخواست کر رہا ہوں میری ایک بار ہادیہ سے بات کروا دیں انتہائی بے بسی و لاچارگی سے ہاتھ جوڑتے اپنی بات کے اختتام پر وہ رو پڑا
اس پل حمزہ نے جانا کہ اولاد کی محبت کسی روگ سے کم نہیں یہ الفت بھلے چنگے شخص کو بھکاری بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے
کوئی مرد بھلا اتنا لاچار و بےبس کیسے ہو سکتا ہے؟اس چھ فٹے مرد کو بچوں کی مانند روتا دیکھ کر حمزہ کو بےحد رنج ہوا اس پل اسے شاہ ذر آفاق پر بے پناہ ترس آیا اور اسنے اپنے دل میں ہمدردی کا جذبہ امڈتا محسوس کیا بس لمحہ لگا اسے فیصلہ کرنے میں پھر اسنے نسرین کو جانے کا عندیہ دیا اور ایک بار پھر کال ملا کر ریسیور اس بار شاہ زر کو تھما دیا
حمزہ وین آئی آلریڈی انفارم یو آئی ایم ویری بزی وائے یو آر ڈسٹربنگ می اگین اینڈ اگین ؟؟ائیر پیس سے ابھرتی اشتعال انگیز آواز نے شاہ ذر کو سن کر دیا اسقدر حقارت اتنی اہانت ۔۔۔ کوئی کیسے اتنا کٹھور ہو سکتا ہے؟بمشکل اپنی تمام تر ہمت جمع کرتے اسنے اپنا تعارف کروایا
مم ۔۔میں شش۔۔شاہ ذ۔۔ر آفاق
تین لفظ اسکے منہ سے بمشکل تمام قسطوں کی صورت ادا ہوئے اور یہی سہہ لفظی تعارف اور شاہ زر آفاق کی آواز مقابل پر بم کی صورت بلاسٹ ہوئی آن واحد میں اسکا سارا وجود دھماکوں کی زد میں آ گیا اسے لگا کوئی تیز رفتار ٹرین گزری ہے اور اسکے پرخچے اڑا گئی ہے اور اسکے وجود کے چیتھڑے سرد خانے میں پڑی لاش کی مانند اکڑ رہے ہیں چند لمحے لگے اسے اپنے حواس بحال کرنے میں اور پھر اگلے ہی پل اسے حمزہ پر بےتحاشہ غصہ آیا
ہادیہ پلیز لائن مت ڈراپ کرنا۔۔۔ پلیز میری ایک بار بات سن لو ۔۔۔ بس ایک بار ۔۔میری بیٹی حبہ ۔۔۔ہادیہ وہ میری جان ہے۔۔۔میرا تم سے ملنا اشد ضروری ہے ۔۔دیا صرف دو منٹ۔۔۔بے ربط جملوں میں لجاجت سے دومنٹ کی بھیک مانگتے وہ کہیں سے بھی شاہ زر آفاق نہیں لگ رہا تھا اس پل وہ بس ایک مجبور باپ تھا جسے ہر قیمت پر ہادیہ کے فقط دومنٹ درکار تھے
ہادیہ کو بے اختیار ایسا ہی ایک پل یاد آیا جب وہ گڑگڑائی تھی کہ شاہ صرف ایک بار میری بات سن لو
جانے جملے پرحدت تھے یا لہجے کی آنچ کہ برف کی وہ چٹان پگھلنے لگی
اوکے ۔یک لفظی جملے میں اسنے بات ختم کر دی
پھر بولی تو لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی
وئیر از حمزہ؟؟
شاہ زر نے خاموشی سے ریسیور حمزہ کی جانب بڑھا دیا
حمزہ واٹ از دس؟؟ڈو یو وانٹ ٹو لیو یور جاب؟؟ ہوں؟؟ برفیلے لہجے میں بے پناہ خفگی سے استفسار کرتی یہ وہ ہادیہ تو نہ تھی جو اپنے سٹاف کا بے پناہ خیال رکھتی تھی
سوری میم ۔۔۔ایم ایکسٹریم لی سوری۔۔
شٹ اپ۔۔ آئی ول ڈیل یو لیٹر اینڈ سینڈ ہم ٹو مائی آفس۔سخت لہجے میں شاہ زر کو بھیجنے کا حکم دیتے اسنے بناء حمزہ کا جواب سنے ریسیور رکھ دیا
اگلے دو منٹ بعد شاہ زر اسکے آفس میں تھا تب تک وہ خود کو بہت حد تک نارمل کر چکی تھی
جی مسٹر شاہ زر آپکے پاس صرف دو منٹ ہیں کہئیے آپ نے کیا کہنا ہے؟؟
ہاتھ میں بندھی رسٹ واچ کی جانب دیکھتے اسنے بےحد سفاکی سے کہا
ہادیہ تم جانتی ہو میری بیٹی ہاسپٹل میں موت و حیات کی جنگ لڑ رہی ہے اور تم یہ بھی جانتی ہو وہ تم سے بہت اٹیچڈ ہے بقول ڈاکٹرز جبتک تم اس سے ملنے آتی رہیں اسکی ہمت و حوصلہ بڑھاتی رہیں وہ تیزی سے صحت یابی کی جانب گامزن تھی اسے اپنی بیماری حالات اورلوگوں کی ترحم آمیز نگاہوں سے لڑنا تم نے سکھایا اس میں جینے کی امنگ زندگی کا جذبہ تم نے بیدار کیا اسے مایوسی کے اندھیروں، موت کے خوف اور تنہائی کی دلدل سے تم نے نجات دلوائی اس میں زیست کی رمق جگانے والی تم تھیں اور پھر جب وہ تم پر بھروسہ کرنے لگی تم سے جڑ گئی تمہارا انتظار کرنے لگی تو تم اسے بیچ منجھدار میں چھوڑ گئیں تمہاری جدائی اس پر منفی اثر ڈال رہی ہے دن بدن اسکی صحت گر رہی ہے وہ پھر سے موت کے دہانے کی جانب قدم بڑھانے لگی ہے میں باپ ہوں میں اسے یوں مرتا نہیں دیکھ سکتا پلیز ۔۔۔اسے بچا لو۔۔ میرے ساتھ ہاسپٹل چلو ۔۔۔ پلیز ہادیہ جملے کے اختتام پر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونےلگا
ہادیہ نے سائیڈ پر پڑا ٹشو باکس اٹھا کر اسکے سامنے رکھا اسنے رندھی آواز میں شکریہ کہتے ایک ٹشو نکالا اور آنسو پونچھے پھر سلسلۂ کلام وہیں سے جوڑا جہاں سے ٹوٹا تھا
وہ دن رات تمہیں یاد کرتی ہے خدا کی قسم میں نے کئی بار تکلیف کی انتہاء پر اسکے لبوں سے تمہارا نام سنا ہے ڈاکٹرز تو صرف اسکے جسم کے زخم بھر رہے ہیں اسکی روح کی مسیحا تو تم ہو میں چاہے دن رات اسکے پاس بیٹھا رہوں تمہاری کمی نہیں پوری کر سکتا
وہ ہر لمحہ تمہارا انتظار کرتی ہے ہر آہٹ پر چونک جاتی ہے مجھ سے ہر پل تمہاری باتیں کرتی ہے بہت آس سے تمہارے آنے کا پوچھتی ہے ۔۔ تم سن رہی ہو نا میری بات؟؟؟
اسے گمان ہوا جیسے وہ کسی پتھر کی بےجان مورت سے ہمکلام ہے جو نہ سن سکتی ہو نہ بول سکتی ہو گویا کہ قوتِ گویائی ہی سلب ہو
اور ہادیہ کو لگ رہا تھا جیسا وہ برفانی تودہ ہو اگر جو کوئی اس پل اسے چھو لیتا تو جان جاتا کہ برف بھی اس قدر ٹھنڈی نہیں ہوتی جتنی ٹھنڈی وہ پڑ رہی تھی
ہاں وہ سن تو سب رہی تھی مگر جواب دینے کے لئیے ہمت درکار تھی جو وہ اس پل مجتمع کر رہی تھی
دیا تم سن رہی ہو ناں؟ اسنے ایک بار پھر جملہ دہرایا اس بار بھی جواب میں خاموشی تھی
کیوں کر رہی ہو ایسا؟ یا تو روزِ اول سے تم اسے اپنا عادی نہ بناتیں یا پھر اس تکلیف دہ موڑ پر تنہا مرنے کے لئیے نہیں چھوڑتیں کیوں کیا تم نے ایسا ؟؟ بتاؤ مجھے؟تم بدلہ لے رہی ہو نا مجھ سے؟
تو لو بدلہ ۔۔۔
مجھ سے لو نا بدلہ
مگر میری بیٹی کو درمیان میں نہ لاؤ وہ معصوم ہے اگر حبہ کو کچھ ہوا تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا بہت غلط طریقہ اختیار کیا ہے تم نے بدلہ لینے کے لئیے تمہیں مجھے برباد کرنا تھا نا؟ تو کر لیتیں میری بیٹی کو کیوں سزا دے رہی ہو؟! اب وہ الزام لگا رہا تھا
ہادیہ کی رگیں تن گئیں لب بھنچ گئے آنکھوں میں نفرت ہلکورے کھانے لگی مگر وہ بولی اب بھی نہیں چپ کی بکل مارے جامد بیٹھی رہی
دیا میری زندگی میں حبہ میرا واحد رشتہ بچا ہے میں اسے کھونے کی خود میں تاب نہیں رکھتا اسے کچھ ہوا میں بھی نہیں بچوں گا میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں پلیز میرے ساتھ ہسپتال چلو۔۔۔ میں اسے اذیت میں یوں پل پل مرتا نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔ پلیز ۔۔وہ اسکے آگے ہاتھ جوڑے رو رہا تھا ہادیہ یک ٹک اسے دیکھے گئ
کبھی یہ شخص میرا محبوب ہوا کرتا تھا اسکی خوشیوں پر میں جشن مناتی تھی اور اسکی تکلیف پر تڑپتی تھی آج بھی تو یہ دکھی ہے پھر آج کیوں میرے پاس اسکے لئیے دو بول تسلی و ہمدردی کے نہیں ؟؟کیوں اسکے آنسوؤں اور ہاتھ جوڑنے پر بھی میرا دل نہیں پسیج رہا ؟؟کیوں یہ دل شاہ زر آفاق کے معاملے میں اس قدر بے درد بےحس بے رحم و کٹھور بن گیا ہے؟چلو دل کو مارو گولہ انسانیت کے ناتے بھی کیوں نہیں مجھے اس پر رحم آ رہا ؟؟اپنے اندر پنپتے سرد جذبوں پر اسے بے پناہ حیرت ہوئی میں ایسی تو نہ تھی پھر کیوں میں اس قدر سنگ دل بن رہی ہوں
وہ مسلسل منت سماجت کر رہا تھا گڑگڑا رہا تھا مگر وہ سن کر بھی ان سنی کر رہی تھی بلکہ اس پل تو وہ خود کو سمجھنے کے مراحل سے گزر رہی تھی مگر مقابل بھی خاصہ ڈھیٹ واقع ہوا تھا اسپر ہادیہ کی بے رخی بیگانگی بدتمیزی کچھ بھی تو اثر انداز نہ ہو رہی تھی
دیا پلیز میرے ساتھ چلو ۔۔پلیز ۔۔میں حبہ سے وعدہ کر کے آیا ہوں کہ تمہیں لازمی لاؤں گا پلیز دیا۔۔۔
بس مسٹر شاہ ذر بس ۔۔
لسن مائی نیم از ہادیہ مجیب اوکے ؟؟
تو اگر آپ مجھے ہادیہ کہیں گے تو مجھے زیادہ اچھا لگے گا کیونکہ دیا کہنے کا حق عرصہ ہوا آپ کھو چکے
اور جہاں تک آپکی یہ درخواست ہے کہ میں حبہ سے ملنے چلوں تو آپکی اطلاع کے لئیے عرض ہے میرے نہ ملنے میں ہی حبہ کی بھلائی ہے یہ بات آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی اس سے بخوبی واقف ہوں
رہی بات موت زندگی شفاء تندرستی کی تو واللہ یہ سب میرے اختیار سے باہر کی چیزیں ہیں اگر خدا نے آپکی بیٹی کی زندگی لکھی ہے تو قسم ربِ کعبہ کی وہ بناء ہادیہ مجیب بھی زندہ رہے گی اور ان شاء اللہ جلد صحت یاب ہو جائے گی
اور جہاں تک آپکا یہ الزام ہے کہ میں آپ سے بدلہ لے رہی ہوں یا جان بوجھ کر اسے میں نے خود سے جوڑا ہے تو میرا رب گواہ ہے جس پل میں نے محسوس کیا کہ وہ بہت زیادہ میرے قریب آ رہی ہے تو میں خود پیچھے ہٹنے لگی اور جہاں تک ڈاکٹرز کا یہ کہنا ہے کہ میرے نہ ملنے کی وجہ سے اسکی صحت ڈاؤن ہو رہی ہے تو جا کر کہہ دیں ان مسیحاؤوں سے کہ کسی کے بچھڑنے سے کوئی مرتا نہیں خدا کی قسم جدائی جان لیوا نہیں ہوتی میں نے آزما کر دیکھا ہے اندر ابلتے غصے پر قابو پاتے وہ نا چاہتے ہوئے بھی بہت کچھ جتا گئی
ہادیہ میں تمہارا مجرم ہوں اپنے تمام جرائم کا اعتراف کرتا ہوں مجھے جو مرضی سزا دو مگر حبہ کو میرے کئیے کی سزا نہ دو اسکا کیا قصور؟
قصور ؟ دیا دبی آواز میں غرائی
قصور تو میرا بھی کوئی نہ تھا مسٹر شاہ زر میں نے بھی اپنے ناکردہ جرائم کی سزا ہی تو بھگتی تھی ایک تلخ مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا آنکھیں اب بھی بے تاثر تھیں
اور خدا کی قسم کیا خوب سزا کاٹی سی تک نہ کی اف تک نہ کہا میرا برا وقت تمام ہوا اب تمہاری باری ہے جب میں نے تمہاری دی عنایتوں کا صبر سے سہا تو تم کیوں اس قدر واویلا کر رہے ہو؟؟
رہی بات بدلے کی تو میں کون ہوتی ہوں بدلہ لینے والی یا جزا و سزا مقرر کرنے والی؟؟ منصف تو اوپر بیٹھا ہے نا اسنے انگشت شھادت بلند کی اور یہ اسکا انصاف ہی تو ہے کہ آج تم میرے سامنے اسی طرح گڑگڑا رہے ہو جیسے کبھی میں گڑگڑائی تھی
ہاں شاہ زر انصاف کی یہ گھڑی ہے جو رکتی نہیں جو آپ کرتے ہو وہ لوٹ کر آتا ہے مکافاتِ عمل کی چکی جب چلتی ہے تو بہت باریک پیستی ہے کیونکہ میرا رب ایک کا بدلہ ستر سے لیتا ہے وہ بھولتا نہیں بھول تو ہم جاتے ہیں کہ ہماری پکڑ ہو گی اسکی دی ڈھیل کو ہم اپنی کامیابی سمجھتے ہیں مگر وہ بےتاج بادشاہ لازمی انصاف کرتا ہے
سنو جب وہ انصاف کرتا ہے نا تو جزا و سزا پر بھی اسی کا حق ہے ۔۔۔صرف اسی کا ۔۔۔تو برسوں پہلے میں نے تمہارا معاملہ اس کے سپرد کر دیا تھا
رہا میرا معاملہ تو میں بدلہ لینے سے زیادہ معاف کر دینے کو پسند کرتی ہوں
اور کر بھی چکی میں تمہیں معاف اور اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کر سکتی ۔۔
کچھ بھی نہیں ۔۔
اب آپ جا سکتے ہیں
اپنی بات مکمل کر کے اسنے مقابل کے چہرے کی جانب دیکھنے سے گریز کرتے لیپ ٹاپ کھول لیا اور ٹچ پیڈ پر انگلیاں پھیرنے لگی گویا خود کو مصروف ظاہر کر رہی ہو مگر یہ بات تو طے تھی کہ اسکی سوچیں منتشر ہو چکی تھیں اور اب وہ کوئی کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی لیپ ٹاپ کھولنے کا واحد مقصد اس پل شاہ زر کو احساس دلانا تھا کہ اب وہ جا سکتا ہے اس سے زیادہ نہ وہ ایک بھی لفظ کہنے اور نہ سننے کی روادار ہے ۔آفس میں اب حزن میں لپٹی خاموشی پھیلی ہوئی تھی
شاہ زر نے ایک بے بس نگاہ اس پتھر دل عورت پر ڈالی اور مایوسی سے قدم باہر کی جانب بڑھا دئیے
اسکی چال کی شکستگی ہادیہ کی نگاہوں سے مخفی نہ رہ سکی گویا کہ وہ آبلہ پا ایسا مسافر تھا جسنے وسطِ صحرا میں اپنی کل متاع اور سواری کھو دی ہو
کیا مجھے حبہ سے ملنے جانا چاہئیے ؟؟ شاہ زر کی پشت تکتے یہ وہ سوال تھا جو اسنے خود سے کیا اور انگلیوں سے ٹیسیں اٹھتے سر کو دبانے لگی
از قلم ✒️
ارویٰ رباب
Episode no 2
https://momnaawais.blogspot.com/2023/06/islamic-novel-in-urdu-episode-no-2.html


0 Comments