✨جو شکستہ ہو تو عزیز تر✨

قسط نمبر 5

از قلم 

ارویٰ رباب✒️



قصر ہادیہ میں آج پھر ہنگامہ برپا تھا کیونکہ ہادیہ مجیب نے ضد پکڑ لی تھی کہ وہ اپنے پیرنٹس کو تنہا چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گی، اسلئیے اس سے پہلے عمر کی شادی کی جائے مدعا صرف یہاں تک ہی ہوتا تو قابلِ عمل بھی ہوتا مگر آگے جو فرمائش اسنے کی وہ پوری کرنا فارہ کے لئیے ممکن نہ تھا۔ وہ ناصرف عمر کی شادی کروانا چاہتی تھی بلکہ اسکی دلہن بھی اپنی مرضی کی لانا چاہتی تھی۔ 

دیا میں نے کہا نا تمہاری یہ خواہش پوری کرنا میرے بس میں نہیں یہ گڈے گڑیا کا کھیل نہیں جس میں اگر کسی کی گڈی پسند آ گئی تو آناً فانًا شادی رچا لی جاتی ہے بلکہ شادی دو زندگیوں بلکہ دو خاندانوں کے ملاپ کا نام ہے۔ نہ تو میں اتنی جلدی عمر کی شادی کرونگی اور نہ ہی تمہاری پسند کی لڑکی سے کرونگی۔ سنا تم نے؟

جی خاتون میں نے آپکی بات پوری دلجمعی سے سن لی ہے اور میں آپکی اس رائے سے قطعًا متفق نہیں۔

اب آپ بھی میری ایک بات سن لیں۔ عمر بھائی کی زوجہ مسفرہ کے علاوہ اور کوئی نہیں بن سکتی۔ وہ میری بیسٹ فرینڈ ہے اور وہی میری بھابھی بنے گی۔ یہ میرا حتمی اور اٹل فیصلہ ہے۔ اسکے ضدی انداز پر فارہ کا دماغ گھوم گیا۔ 

ہوتی کون ہو تم یہ فائنل کرنے والی کہ عمر کی بیوی تمہاری دوست کے علاوہ اور کوئی نہیں بن سکتی؟ کس نے اجازت دی تمہیں کہ تم عمر کی زندگی کا اتنا اہم فیصلہ اپنی مرضی سے  کرو؟ عمر کی شادی میں اسکی مرضی سے کرونگی۔ اب جاؤ یہاں سے۔ غصے سے اسے ڈانتے ہوئے فارہ بیڈ پر دھرے کپڑے سمیٹنے لگیں۔ 

اوہ محترمہ ابھی میں اس گھر سے گئی نہیں، ابھی سے میں کون ہو گئی۔ چلیں میں آج آپکو بتا ہی دیتی ہوں میں کون ہوں؟ 

میں دیا ہوں، عمر مجیب کی اکلوتی بہن اور مجیب الرحمان کی لاڈلی شہزادی اور قصرِ ہادیہ کی اکلوتی ملکۂ عالیہ ہوں اور ابھی اسی گھر میں ہوں، اسلئیے فی الوقت میرا حکم چلے گا اور جہاں تک بھائی کی مرضی کی بات ہے، انکی اور میری پسند نا پسند ملتی جلتی ہے اور جب تک میں یہاں ہوں بلکہ شادی کے بعد بھی میری ہر خواہش پوری کرنا ان پر لازم ہے۔ اسلئیے آپ شرافت سے مسفی کے گھر رشتہ لے جائیں۔ امید ہے عمر بھائی کو بھی میری پسند پر اعتراض نہ ہو گا اور اگر میری بات نہ مانے گی تو بھوک ہڑتال کے لئیے تیار رہئیے اور ایک اور بات۔۔۔ پھر مجھ پر بھی واجب نہیں کہ میں آپ لوگوں کی بات مانوں میں بھی شاہ سے شادی کے لئیے انکار کر دونگی۔

اسکی بکواس کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالتی اپنا کام کرتی فارہ نے جب اسکا آخری جملہ سنا تو ان کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ گیا۔ بکواس بند کرو دیا ورنہ لگاؤں کی دو ہاتھ کیا فضول ضد باندھ لی ہے؟ دفع ہو جاؤ یہاں سے، نہیں تو پٹو گی مجھ سے اور یہ جو آخر میں دھمکی دی ہے نا یہ اپنے باپ کو دینا، مجھ پر نہیں ان دھمکیوں کا اثر ہو گا۔ خدارا بڑی ہو جاؤ۔ فارہ نے اسے بری طرح ڈپٹا۔ اسکا منہ پھول گیا۔

میری ایک معمولی سی خواہش آپکو ضد لگ رہی ہے؟ خاتون آج آپ مجھے بتا ہی دیں میں آپکی سگی اولاد ہوں یا کسی سے لے کر پالا ہے مجھے؟ یا پھر کہیں سے اٹھایا ہے؟ لڑکیوں کی شادی کے دن پڑتے ہی انکی اہمیت بڑھ جاتی ہے، ساری آرزوئیں پوری کی جاتی ہیں اور ایک میں ہوں۔ جب سے نکاح کا دن فائنل ہوا ہے میری تو جو پہلے اہمیت تھی، اس سے بھی محروم ہو گئی۔ اب تو یہ دور آ گیا ہے کہ مجھ سے پوچھا جا رہا ہے میں کون ہوں؟ منہ بسورے وہ نروٹھے لہجے میں تاسف بھرے انداز میں بولتے بولتے اچانک پرجوش ہوئی۔

خیر اب اگر آپ اسے ضد سمجھ رہی ہیں تو ضد ہی سہی۔ دیا مجیب نے ہارنا نہیں سیکھا۔ میں بابا جانی اور بھائی سے بات کرتی ہوں اس بارے میں، آپکو تو پتہ ہے وہ دونوں میری ہر خواہش پوری۔۔۔

شٹ اپ دیا۔۔۔ خبردار جو تم نے مجیب صاحب یا عمر سے اس بارے میں کوئی بات کی، اگر میں نے ایسا ویسا کچھ سنا تو منہ توڑ دونگی تمہارا۔ بہت کر لی فضول بکواس اب میں اس موضوع پر کسی کی ایک نہ سنوں گی۔ اس سے پہلے کہ میرا بی پی مزید ہائی ہو دفع ہو جاؤ یہاں سے۔ انکے لہجے میں چٹانوں سی سختی اور تحکم تھا۔ درشتی سے اسے جھڑکتے انہوں نے ہاتھ میں موجود کپڑے بیڈ پر پٹخے۔ 

دیا اس رویے اور لہجے کی عادی نہ تھی۔ وہ روتے ہوئے کمرے سے نکل کر بالائی منزل پر موجود اپنے کمرے کی سمت دوڑی۔

آنکھوں کے آگے آنسوؤں کی چادر سی تنی ہوئی تھی، اسلئیے نظر نہ آیا تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی وہ عمر سے بری طرح ٹکرائی۔ عمر نے بروقت اسے گرنے سے بچایا۔ 

پھر جب اسکے چہرے پر نظر پڑی تو بوکھلا گیا۔ دیا بری طرح سسک سسک کر رو رہی تھی۔ 

کیا ہوا ہے گڑیا؟ پھر مما جان سے کوئی جھگڑا ہوا ہے؟ نرمی سے پوچھتے وہ اسکے لئیے بےحد فکرمند لگ رہا تھا۔

کچھ نہیں ہوا مجھے اوپر جانا ہے، روہانسے لہجے میں بولتے اسنے سائیڈ سے نکل کر اوپر جانا چاہا۔ عمر نے اسے کلائی سے تھام کر روک لیا۔ 

چلو میرے ساتھ نیچے۔ وہ اس کا ہاتھ تھامے نیچے اترنے لگا۔ دیا مسلسل اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی مگر اسنے اسکی ایک نہ چلنے دی، یہاں تک کہ اسے لئیے فارہ کے بیڈروم میں آگیا۔ 

مما جانی یہ دیا کو کیا ہوا ہے؟ اسنے احترامًا دھیمی آواز میں ادب سے پوچھا۔ کپڑے ہینگ کرتی فارہ عمر کی آواز سن کر الماری کا پٹ تھامے پلٹیں۔ گھور کر ہادیہ کو دیکھا اسنے نظریں جھکا لیں۔

کچھ نہیں ہوا اسے بس اسکے دماغ میں فتور آ گیا ہے اور کچھ نہیں بس دماغی علاج کی ضرورت ہے۔ کیا بکواس کی ہے اس نے تم سے؟

توبہ مما کیوں بدگمان ہو رہی ہیں آپ؟ بہنا نے مجھے کچھ نہیں کہا۔ وہ تو یہ روتی ہوئی اوپر جا رہی تھی عین اسی پل میں نیچے اتر رہا تھا۔ یہ مجھ سے ٹکرا کر گرنے لگی میں اسے بچانے کے لئیے رکا تو دیکھا اسکی آنکھوں میں آنسو تھے تو میں اسے لئیے آپکے پاس چلا آیا۔ مجھے لگا شاید پھر آپ دونوں کی لڑائی ہوئی ہے تو سوچا صلح کروا دوں ہوا کیا ہے؟ تفصیل سے جواب دیتے اسنے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا۔

کچھ نہیں ہوا دفع کرو اسے اور اسکے مسئلوں کو روز کوئی نہ کوئی نیا ایشو کھڑا کئیے رکھتی ہے۔ تم بتاؤ کہیں جا رہے تھے کیا؟ انہوں نے بات بدلنا چاہی۔ 

جی مما ایک دوست کی طرف جانے کا سوچا تھا مگر راستے میں یہ کالی بلی راستہ کاٹ گئی۔ 

ویسے ہوا کیا ہے اسے؟ عمر بار بار ایک ہی سوال پوچھ رہا تھا۔ فارہ نے سر تھام لیا، اس سے پہلے کہ فارہ کچھ بولتیں۔ دیا نے چپ کا روزہ توڑ دیا بھائی میں مما اور آپکو اکیلے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی۔ میں نے مما سے کہا وہ مسفی سے آپکی شادی کر دیں۔ بس اتنی سی بات پر انہوں نے مجھے اتنا برا ڈانٹا کہ میں بتا نہیں سکتی۔ شکایات کی پٹاری کھل چکی تھی۔ عمر مسئلہ سن کر بھونچکا رہ گیا۔ 

میری شادی؟ اور یہ کون ہے مسفی؟

کوئی نہیں ہے۔ عمر تم جاؤ اپنے فرینڈ کی طرف۔ فارہ بیگم نے اسے منظرِ عام سے غائب کرنا چاہا۔ 

مما یار بات تو کر لینے دیں۔ عمر فارہ کی بات سنی ان سنی کرتے دیا سے مخاطب تھا۔

 دیا بیٹا یہ مسفی کون ہے؟

بھائی ایک اکلوتی تو میری دوست ہے وہی جس کے گھر آپ مجھے چھوڑنے جاتے ہیں۔

اوہ اچھا وہ چھپکلی جو ہر وقت نا گہانی آفت کی مانند ہمارے سروں پر منڈلاتی رہتی ہے، چوبیس گھنٹے تو یہیں پائی جاتی ہے۔ اب کیا تم تا عمر اسے میرے سر پر مسلط کرنا چاہتی ہو؟ یار اس سے شادی کرنے سے بہتر ہے بندہ پھانسی کا پھندہ گلے میں ڈال کر لٹک جائے۔ نہ بابا نہ باز آیا میں ایسی سر پھری لڑکی سے رشتہ جوڑنے سے۔ عمر نے باقاعدہ کانوں کو ہاتھ لگائے۔ 

بھائی۔۔۔ دفع ہو جائیں میں آپ سے بھی بات نہیں کرونگی۔ وہ پہلے ہی تپی ہوئی تھی، عمر کی بات پر پیر پٹختی باہر نکل گئی۔

پیچھے عمر فارہ کو راضی کرنے لگا کہ آپ پلیز مسفرہ کے گھر رشتہ لے جائیں۔ 

عمر یہ زندگی بھر کا سوال ہے کوئی چاکلیٹ نہیں جو اسے پسند آ گئی اور تم نے لا کر تھما دی۔

نہیں مما میں اسے یوں روتا نہیں دیکھ سکتا۔ ہم نے ہمیشہ اسکی ہر خواہش، ہر خواب پورا کیا ہے۔ میں اسے یوں روتا نہیں دیکھ سکتا۔

 وہ ہم سے اتنی شدید محبت کرتی ہے، ہمیں تنہا چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی۔ اسی لئیے یہ سب کر رہی ہے تو ہمیں بھی اسکی مان لینی چاہیئے۔ 

عمر اسکی ہر خواہش مت پوری کیا کرو۔ لڑکی ذات ہے اسے ناں سننے کی بھی عادت ڈالو۔ وہ رو کر اپنی ہر بات منوا لیتی ہے، اس رویے کے ساتھ گھر کیسے بسائے گی؟

مما بسا لے گی اور ایسا بسائے گی کہ ہم سب فخر کریں گے کیونکہ میری بہن محبتوں سے گندھی پرخلوص اعلی ظرف اور سمجھدار لڑکی ہے، بس آپ اس کی یہ خواہش پوری کر دیں۔ میں نہیں چاہتا دیا اس گھر سے کوئی تشنگی لے کر جائے۔

لیکن عمر۔۔۔۔

 مما کوئی لیکن ویکن نہیں بس آپ بابا جانی سے بات کر کے اللہ کا نام لیکر مسفرہ کے گھر رشتہ لے جائیں۔ عمر نے حتمی انداز میں کہا۔ 

اوکے بات کرونگی تمہارے بابا جان سے وہ بھی یہی کہیں گے کہ اگر دیا کی خواہش ہے تو لازمی پوری کرنی چاہئیے۔ تم لوگوں کی ہی سر چڑھائی ہوئی ہے تبھی تو ہر ضد پوری کروا لیتی ہے۔ 

بس مما غصہ تھوک دیں نا فی الوقت آگے کی پلاننگز کریں میں زرا فہد سے مل کر آیا۔ 

جلدی آجانا۔ فارہ گھڑی کی سمت دیکھتے بولیں۔ 

اوکے مام ان شاء اللہ۔ فارہ کو یقین دہانی کرواتا وہ باہر نکل گیا۔ پیچھے فارہ سر تھامے بیٹھی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨

اگلے ہی روز سہہ پہر کے وقت فارہ بیگم مجیب صاحب اور اپنی نند ہنیا کی معیت میں مسفرہ کے گھر پہنچ گئیں۔

رسمی سلام دعا کے بعد سب کو بٹھا کر رافعہ مہمان نوازی کی غرض سے جونہی کچن کی جانب جانے لگیں فارہ نے انہیں روک لیا۔ 

رافعہ یہاں بیٹھ کر ہمارا مدعا سنو۔ ہم آج یہاں مہمان بن کر نہیں بلکہ سائل بن کر آئے ہیں۔

میں سمجھی نہیں فارہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ رافعہ واقعی اس غیر متوقع آمد سے بوکھلا گئی تھیں۔ فارہ اور دیا تو پھر آتی جاتی رہتی تھیں مگر مجبیب صاحب اور عمر  بہت کم آیا کرتے اور یوں اندر نہیں آیا کرتے تھے۔ باہر سے ہی دیا کو لیکر چلے جاتے تو آج کیسے سب یوں پھلوں اور مٹھائیوں کے ٹوکروں کی ہمراہی میں چلے آئے۔ 

رافعہ آج ہم ایک خاص مقصد سے آئے ہیں۔ ہم عمر کے لئیے مسفرہ کا ہاتھ مانگنے آئے ہیں۔ کچھ لمحوں کے لئیے ڈرائنگ روم میں گہری خاموشی چھا گئی، پھر فرید صاحب نے بولنے میں پہل کی۔ 

بھابھی مسفرہ کا رشتہ؟ مسفی تو ابھی بہت چھوٹی ہے، ابھی تو  وہ پڑھ رہی ہے۔ 

دیکھیں فرید بھائی بچیوں کی شادی کی یہی مناسب عمر ہوا کرتی ہے۔ حدیث میں بھی تو یہی ہے نا کہ جب اولاد بلوغت کو پہنچ جائے تو اسکی شادی کرو ہمارے معاشرے میں بے راہ روی اسی لئیے بڑھ رہی ہے کہ ہم سنتوں سے اعراض برتنے لگے ہیں۔ اگر ہم سنت کے مطابق بروقت اولاد کو جائز اور حلال بندھن میں باندھ دیں تو انہیں حرام اور ناجائز ریلشن میں مبتلا ہونے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ اب آپ میری ہی مثال لے لیں، میری دیا بھی تو چھوٹی ہے، وہ بھی تو پڑھ ہی رہی ہے۔ میں اسکی بھی شادی کر رہا ہوں۔ جواب فارہ کے بجائے مجیب صاحب نے دیا۔ متانت سے سمجھاتے انہوں نے غیر محسوس انداز میں اپنی انگشتِ شھادت سے اپنی آنکھ کے کنارے پر ٹکا آنسو صاف کیا۔

جانے کیوں جب سے دیا کے نکاح کا دن فائنل ہوا تھا بات بے بات انکی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔ 

دیا کی شادی؟ کب کر رہے ہیں؟ اور کس سے کر رہے ہیں؟ رافعہ بیگم نے سوالات کی بوجھاڑ کر دی اور انکی مخاطب فارہ تھیں مگر جواب مجیب صاحب نے ہی دیا۔ 

یہ میری چھوٹی سسٹر ہیں ہنیا انکے بیٹے شاہ ذر کے ساتھ اس جمعے ہادیہ کا نکاح کر رہا ہوں۔ ماشاء اللہ بہت اچھا بچہ ہے، خاص طور پر ہنیا نے تربیت بہت اچھی کی ہے۔ اللہ میری بیٹی کے نصیب اچھے کرے۔ سب کے منہ سے اکٹھا آمین نکلا۔

ویسے بھائی جان میں سوچ رہی تھی کہ ہم ہمیشہ لڑکیوں کے لئیے ہی کیوں یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ انکے نصیب اچھے کرے جبکہ بخت تو لڑکے کے بھی پھوٹ جاتے ہیں اگر اچھی لڑکی نہ ملے۔ یہ سوال ہنیا نے اٹھایا 

بس بہن یہ سب ہی تو ہمارے معاشرے کے فرسودہ خیالات و روایات ہیں۔ جسے دیکھو یہی کہتا دکھائی دیتا ہے کہ اللہ سب بچیوں کے نصیب اچھے کرے جبکہ ہمیں لڑکوں کے نصیبوں کی بھی دعا مانگنی چاہئیے کیونکہ اگر بیٹے کے نصیب خراب ہو جائیں، غلط انتخاب ہو جائے، کوئی خود غرض و بے حس لڑکی خاندان میں شامل ہو جائے تو دو خاندان متاثر ہو جاتے ہیں کیونکہ ایک عورت ہی نسلوں کی امین ہوتی ہے، اسی کی گود میں نئی نسل پروان چڑھتی ہے تو بہن جی میں بھی آپکے خیال سے متفق ہوں کہ ہمیں لڑکوں کے نصیبوں کی بھی بھلائی رب سے اسی طرح مانگنی چاہئیے جیسے لڑکیوں کی مانگتے ہیں۔ فرید صاحب ہنیا کی بات کا جواب دے رہے تھے، اسی اثناء میں مسفرہ چائے کی ٹرالی گھسیٹتی ہوئی اندر داخل ہوئی شائستگی سے سب کو سلام کیا اور چائے کے لوازمات ٹیبل پر رکھنے لگی۔

تم چھوڑ دو یہ میں دے دیتی ہوں تم ادھر آ کر بیٹھو۔ رافعہ نے اسکے ہاتھ سے چائے کی ٹرے پکڑی اور سب کو فردًا فردًا پیش کرنے لگیں۔ 

ادھر آؤ میرے پاس آ کر بیٹھو۔ ہنیا نے اسے اپنے پاس بلایا تو وہ جھجھکتی ہوئی ہنیا اور فارہ کے درمیان بیٹھ گئی۔ 

ماشاء اللہ میری دیا کا انتخاب تو بہت اچھا ہے۔ مجیب صاحب بے ساختہ بولے، مسفرہ نے سر جھکا لیا۔ وہ نروس ہو رہی تھی۔ یوں کبھی کسی کے سامنے جو نہیں آئی تھی 

اور بیٹا آپ کیا کرتی ہو؟ ہنیا نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ 

جی میں پڑھتی ہوں۔ دھیمی سی آواز میں مسفرہ نے جواب دیا۔

پھر بھائی صاحب کیا خیال ہے آپکا ہمارے عمر کے بارے میں؟ چائے کا کپ پرچ میں رکھتے فارہ نے پوچھا۔ 

مسفرہ شرما کر اٹھی اور باہر جانے لگی۔

مسفی بیٹے کہاں جا رہے ہو؟

بابا میرا ٹیسٹ ہے مجھے تیاری کرنی ہے، جھینپ کر کہتی وہ باہر نکل گئی۔ 

فارہ بہن ہمیں عمر پسند ہے۔ بس اعتراض یوں اچانک اتنی جلدی شادی پر ہے۔ چلیں ٹھیک ہے میں مجیب صاحب کے خیال سے اتفاق کرتا ہوں کہ بعد از بلوغت بچوں کو اپنے گھر کا کرنا چاہئیے مگر پھر بھی مجھے تھوڑا وقت درکار ہے لڑکی کی شادی ہے سو قسم کی تیاری کرنی ہوتی ہے۔

تیاری؟ کیسی تیاری؟ فرید بھائی آپکو کسی قسم کی تیاری کی ضرورت نہیں۔ اللہ کی دی ہر شے ہمارے گھر میں موجود ہے اور جو نہ ہوئی وہ مسفرہ کے آنے سے پہلے لے لیں گے۔ بس ہمیں مسفرہ بیٹی چاہئیے۔ فارہ بیگم نے قطیعت سے جہیز کا انکار کیا۔

بہن جی ہمیں پتہ ہے آپ کو کوئی لالچ نہیں، ہم تو اپنی بیٹی کو کچھ تحائف دینا چاہتے ہیں۔ یوں خالی ہاتھ تو کوئی بھی اپنی بچی کو رخصت نہیں کرتا۔ سرورِ کائنات نے بھی سیدہ فاطمہ کو ضروریاتِ زندگی کی چند اشیاء تو دی ہی تھیں۔ 

بھائی صاحب میں آپکی اس بات سے متفق نہیں فاطمہ کا جہیز پتہ کیا تھا؟ آقا علیہ السلام نے جنابِ علی سے پوچھا کہ تمہارے پاس میری بیٹی کو دینے کو کیا ہے؟ فرمایا: ایک زرہ۔ 

کہا جاؤ اسے بیچ کر ضروریاتِ زندگی کا سامان خرید لاؤ۔ نان نفقہ ضروریات پوری کرنا شوہر کی ذمہ داری ہوتی ہے، نا کہ لڑکی کے والد کی 

اور کچھ لوگ وقت پر تو منع کر دیتے ہیں۔ بعد میں طعنے دئیے جاتے ہیں، مجھے معاشرے کے ان فرسودہ رسم و رواج پر دلی دکھ ہوتا ہے۔ میں تو سوچ لیا ہے کہ میں اس لعنت کا قلع قمع اپنے گھر سے کرونگا نہ دیا کو جہیز دونگا اور نہ ہی عمر کی زوجہ کچھ لائے گی ان شاء اللہ۔ 

مجیب صاحب مجھے آپکی سوچیں بہت اچھی لگیں مگر پھر بھی اتنی جلدی کیسے شادی کر دوں؟ لوگ کیا کہیں گے؟

فرید صاحب پھر وہی بات لوگوں کی پروا چھوڑ دیں۔ لوگ کسی حال میں خوش نہیں ہوتے، بس رب العباد کو راضی کرنے کی فکر کریں۔ حدیث ہے جب کوئی ایسا رشتہ مل جائے جس کے دین و اخلاق سے تم مطمئن ہو تو ہاں کر دو اگر ایسا نہ کیا تو زمین پر فساد برپا ہو جائے گا۔ 

تو بس اب آپ تحقیقات کروا لیں، عمر سے مل لیں دل مطمئن ہو جائے تو استخارہ کر کے ایک دو دن تک ہمیں جواب دے دیں۔ 

مجیب صاحب کی باتوں میں دم تھا فرید صاحب سوچ میں پڑ گئے۔ عمر سے زیادہ موزوں رشتہ انہیں کہاں ملے گا؟ جن ماں باپ کی سوچیں اتنی اچھی ہوں انکی تربیت کتنی اچھی ہو گی۔ 

چلیں ٹھیک ہے بھائی صاحب ہم خاندان کے بڑوں سے مشورہ کر کے ایک ہفتے تک آپکو جواب دیتے ہیں ان شاء اللہ۔ فرید صاحب کچھ کچھ مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔

ایک ہفتہ؟ ایک ہفتہ تو بہت زیادہ ہو جائے گا آپ ایسا کریں ہمیں ایک دو روز تک جواب دیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں اس جمعے ہم دیا کے ساتھ ساتھ عمر کے فرض سے بھی سبکدوش ہو جائیں۔ مجیب صاحب کے مطالبے پر فرید صاحب پریشان ہو گئے۔ 

اس جمعے؟ اتنی جلدی

دراصل بھائی میں امریکہ رہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں اپنے اکلوتے بھتیجے کی شادی میں میں بھی موجود ہوں 

اور دیا کی بھی خواہش ہے اسکے جانے سے پہلے بھابھی آ جائے تو اگر آپ زرا جلدی شادی کر دینگے تو ہم لوگ بھی شامل ہو جائینگے ورنہ اتنی دور سے کچھ کچھ عرصے پر آنا تو ممکن نہیں ویسے بھی نیک کام میں تاخیر نہیں کرنی چاہئیے۔ مجھے یقین ہے عمر مسفرہ کو بہت خوش رکھے گا۔ ہنیا کی بات پر فرید صاحب ایک بار پھر سوچ میں پڑ گئے۔ 

چلیں ٹھیک ہے ہم ایک دو دن تک آپ کو بتاتے ہیں۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ فقط اتنا ہی بول پائے۔

آپ نے چائے تو پی نہیں، ایسا باتوں میں سب مگن ہوئے کہ سب کچھ ٹھنڈا ہو گیا۔ میں گرم کر کے لاتی ہوں۔ رافعہ اٹھنے لگیں تو ہنیا نہیں انہیں روک دیا اور اٹھتے ہوئے بولیں، 

نہیں بہن آپ بار بار تکلیف نہ کریں۔ اب بس ہمیں اجازت دیں اور جواب زرا جلدی دے دیجئیے گا۔

ہاں کافی ٹائم ہو گیا، وقت بیتنے کا پتہ ہی نہیں لگا۔ دیا تو جلے پیر کی بلی کی مانند پورے گھر میں چکرا رہی ہوگی۔ ہمیں اب چلنا چاہئیے۔ فارہ بھی اٹھ کھڑی ہوئیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨✨✨

قصرِ ہادیہ بقعۂ نور بنا ہوا تھا۔ ہر طرف رنگ و بو کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ آرائش و زیبائش اس قدر خوبصورت تھی کہ دور سے ہی مسحور کر رہی تھی، اشتہا انگیز کھانوں کی خوشبو ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ 

خوبصورت سی سجاوٹ پر پھولوں سے سجے سٹیج پر ہلکے گلابی اور پستہ رنگ کے دیدہ زیب ملبوسات زیب تن کئیے ہادیہ اور مسفرہ سجی سنوری سٹیج کی زینت بنی بیٹھی تھیں۔ ابھی کچھ دیر قبل ہی دونوں کا نکاح ہوا تھا۔ شرمیلی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے وہ دونوں سب سے مبارکباد وصول کر رہی تھیں۔ اردگرد کزنز اور سہیلیوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا۔ ایسے میں عائشہ تیزی سے سٹیج کی جانب آئی، وہ لیٹ ہو گئی تھی، اس لئیے تقریبا دوڑتی ہوئی سٹیج پر آئی۔ ایک نظر دونوں پر ڈالی 

دیا تم زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو، خوبصورت تو تم ہو ہی مگر آج تو غضب ڈھا رہی ہو۔ میک اپ نے تمہارے حسن کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔ یہ کلر تو یہ سمجھو بنا ہی تمہارے لئیے ہے۔۔۔ ہادیہ شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ تعریف وصول کر رہی تھی۔ جو اسے دیکھ رہا تھا بےاختیار اسکے حسن کو خراج پیش کر رہا تھا۔ دیا کی تعریف سے فارغ ہو کر عائشہ مسفرہ کی جانب متوجہ ہوئی۔

اور مسفی تم۔۔۔ تم تو یار حور کے پہلو میں لنگور لگ رہی ہو۔ مسکراتے ہوئے اس نے مسفرہ کو چھیڑا مسفرہ کے دل میں عائشہ کا یہ جملہ نیزے کی انی کے مانند پیوست ہو گیا۔ پچھلے دو گھنٹوں سے تقریبا سب ہی لفظوں اور رویوں کے ہیر پھیر سے اسے یہ احساس دلا رہے تھے کہ دیا بہت زیادہ خوبصورت ہے اور ایک ہی بیوٹیشن سے تیار ہونے اور ایک جیسا لباس پہننے کے باوجود وہ ہادیہ کے مقابلے میں بہت معمولی لگ رہی ہے۔ ابھی بھی اسنے صبر کے گھونٹ پیتے مصلحت کے تحت عائشہ کی بات برداشت کی مگر ہادیہ اتنی تحمل مزاج نہ تھی۔ وہ ہتھے سے اکھڑ گئی۔

شٹ اپ عائشہ! تمہاری اتنی جرات کیسے ہوئی کہ تم میری بھابھی کو لنگور کہو؟ لنگور ہو گی تم، تمہارا پورا خاندان، تمہیں کس نے اختیار دیا کہ تم ایسے کسی پر تبصرہ کرو؟ شکل و صورت اللہ کی دین ہے نہ مسفی کا اس میں کوئی ہاتھ ہے اور نہ میری خوبصورتی میں میرا کوئی کمال۔ سوری کرو مسفی سے۔ مسفرہ کا ہاتھ دباتے وفورِ جذبات سے مغلوب اسنے عائشہ کو ڈپٹا۔ یار مذاق کر رہی ہوں۔ مجھے لگا آج کے دن تم لوگوں کے منہ پر چپ کا قفل ہو گا مگر تم تو آج بھی جنگلی بلی کی مانند پنجے جھاڑ کر میرے پیچھے پڑ گئی ہو۔ میری توبہ جو آئندہ تم دونوں سے کوئی مذاق کروں۔ جوابا عائشہ بھی دوبدو جواب دینے لگی۔ 

یار کیا ہو گیا ہے تم دونوں کو آج کے دن تو نہ لڑو۔ حناء نے سیز فائر کرانے کی ناکام کوشش کی۔ 

میں لڑ رہی ہوں؟ لڑ تو یہ محترمہ رہی ہیں۔ جن کا کچھ دیر پہلے نکاح ہوا ہے بڑی طرفداری کر رہی ہے نا اپنی بھابھی کی جلد ہی اسے معلوم ہو جائے گا کہ بھابیاں کیا چیز ہوتی ہیں۔۔۔

عاشی میں نے کہا نا چپ کر جاؤ۔ اب اگر ایک لفظ بھی کہا نا تو میں بھول جاؤنگی کہ تم ہمارے گھر کھڑی ہو۔ مقابل بھی دیا تھی جو اپنے حریف کے چھکے چھڑانے کی اہلیت رکھتی تھی۔

توبہ توبہ کس قدر منہ پھٹ دلہن ہے مجھے تو افسوس ہو رہا شاہ زر بھائی کی قسمت پر۔ عائشہ نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ جوابا ہادیہ بھی کراری سنانے ہی لگی تھی کہ اچانک سر ابراہیم کو سٹیج کی سیڑھیاں چڑھتا دیکھ کر چپ ہو گئی۔ 

ہائے گرلز کیا ہو رہا ہے یہاں؟

سر کچھ نہیں بس آپکا ہی ویٹ کر رہے تھے۔ ہم نے سوچا آپ کے ساتھ ایک یادگار تصویر بنوائیں گے۔ حناء نے چہکتے ہوئے جواب دیا جبکہ مسفرہ اور ہادیہ نظریں جھکائے بیٹھی رہیں۔

سر آپکو پتہ ہے ابھی دیا آپکا ہی تذکرہ کر رہی تھی۔ پیچھے سے ماریہ اونچی آواز میں بولی۔ ہادیہ بےچین سی ہوئی اور دل میں دعا مانگی کہ اللہ کرے اب یہ مزید کچھ نہ بولے۔

میرا تذکرہ؟ خیریت؟ ابراہیم نے حتی المقدور لہجہ نارمل رکھا ورنہ وہ اس بات پر چونکے ضرور تھے کہ ہادیہ کیوں انکا ذکر کر رہی تھی۔

جی سر خیریت ہی ہے بس دیا شکوہ کر رہی تھی کہ سر کو دیکھو کیسے اجنبیوں کی طرح بی ہیو کر رہے ہیں گویا کہ ہمیں جانتے ہی نہ ہوں، نہ سلام نہ دعا اور نہ ہی مبارکباد دی۔ ہادیہ نے اسے گھرکا بھی مگر پھر بھی وہ چپ نہ ہوئی۔ ماریہ کی زبان جب ایک بار چلنا شروع ہو جاتی تو اسے چپ کروانا ناممکن ہو جاتا۔ 

آپ کا شکوہ بجا ہے مسز شاہ زر مگر میں زرا مصروف تھا۔ آپکو معلوم ہی ہے آپکے شوہر میرے بیسٹ فرینڈ ہیں تو بس جو حال ایک دوست کا ہوتا ہے دوسرے دوست کی شادی پر وہی میرا ہے۔ مجھے تو اپنا ہوش نہیں۔ خیر! اب مبارکباد دے دیتا ہوں۔ 

بہت بہت مبارک ہو مسفرہ آپکو بھی اور مسز شاہ زر آپکو بھی۔ مسز شاہ زر کہنے پر ہادیہ کے دل میں اتھل پتھل ہوئی۔ ایک خوشگوار سا احساس اسکی رگ و پے میں سرایت کر گیا۔ اسنے زرا کی زرا پلکیں اٹھا کر سر ابراہیم کی جانب دیکھا۔ اسی لمحے انکی بھی نادانستہ نظر اس پر پڑی، آن واحد میں دونوں کی نظریں ملیں۔ دیا نے شرما کر پھر سے پلکیں جھکا لیں جبکہ ابراہیم یکمشت اٹھ کھڑے ہوئے۔ 

اوکے سٹوڈینٹس آپ لوگ انجوائے کریں۔ اب میں چلتا ہوں بہت ہو گئیں تصویریں مجھے ابھی بہت سے کام ہیں۔عجیب لہجے میں کہتے وہ جانے لگے پیچھے سے مسفرہ نے دھیمے سے سر ابراہیم کو مخاطب کیا۔ 

سر دعا تو دیتے جائیں۔ ابراہیم کے قدم زنجیر ہوئے وہ پلٹے اور دونوں کے سر پر ہاتھ رکھا انکے ہاتھوں کی لرزش کسی سے مخفی نہ تھی۔

اللہ آپ دونوں کو بے انتہا خوش رکھے۔ لڑکھڑاتی آواز میں دل سے دعا دیتے وہ اگلے ہی پل سٹیج کی سیڑھیاں اتر گئے۔ 

یار یہ سر کو کیا ہوا؟ طبیعت تو ٹھیک ہے انکی؟ اچھے بھلے باتیں کر رہے تھے۔ اچانک ہی اٹھ کر چلے گئے۔ ربیکا نے حناء سے استفساریہ انداز میں پوچھا۔  

مجھے کیا معلوم؟ کوئی کام یاد آ گیا ہو گا۔ اب اس بات پر نہ کوئی بحث چھیڑ دینا۔ آؤ سٹیج پر بھی کھانا لگوائیں، مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔ وہ دونوں ویٹر کو آوازیں دینے لگی اور باقی سب مختلف زاویوں سے اپنی تصویریں بنانے لگیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ✨✨

ہادیہ مسفرہ اور عمر کی ایک خفیہ ملاقات کروانا چاہتی تھی۔ وہ مسفرہ کو اپنے کمرے میں بٹھا کر پورے گھر میں عمر کو تلاش کر رہی تھی۔ ہر جگہ عمر کو ڈھونڈنے کے بعد وہ عمر کی پسندیدہ جگہ چھت پر چلی آئی۔

 لو آپ یہاں ہیں اور میں پورے گھر میں آپکو ڈھونڈتی پھر رہی تھی۔ میری بات سنیں۔۔۔ ہادیہ نے عمر سمجھ کر پشت موڑے شاہ زر کا ہاتھ عقب سے تھاما۔

وہ کیوں بھول گئی تھی اسکی اور مسفرہ کی طرح آج عمر اور شاہ زر نے بھی ایک جیسا لباس پہنا تھا۔ لباس تو لباس ان دونوں کا تو قد کاٹھ بھی سیم تھا۔ اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس پل شاہ یہاں کھڑا ہو گا اور نہ ہی شاہ زر کو توقع تھی کہ دیا یوں اوپر چلی آئے گئی۔ وہ تو شور سے بچ کر کال سننے کے لئیے اوپر آیا، اپنے پیچھے دیا کی آواز سن کر اور اپنے بائیں بازو پر اس کے لمس محسوس کر کے اس نے لائن ڈراپ کی اور مڑا۔ اسے دیکھ کر دیا ششدرہ رہ گئی۔

وو۔۔ہ ۔۔مم میں سس سمجھی بب۔۔۔ بھائی۔۔۔ وہ اٹک اٹک کر وضاحتیں دینے لگی۔

اوہ تو میری انارکلی صاحبہ شرماتی بھی ہیں اور آپ ہمیں ڈھونڈ بھی رہی تھیں مگر کیوں؟ شاہ زر شوخ ہوا۔ 

منہ دھو کر رکھئیے جناب، آپکو نہیں عمر بھائی کو ڈھونڈ رہی تھی۔

بہانہ اچھا ہے دیا جی! ویسے آپکو کیا ضرورت تھی اتنا بھاری بھرکم ڈریس پہن کر یوں پورے گھر میں چکرانے کی؟ ایک بار حکم کرتیں بندہ ناچیز سر کے بل آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ بات کے اختتام پر اس نے دل پر ہاتھ رکھ کر سر کو تھوڑا سا خم دیا۔ دیا نے ملکاؤں کی مانند گردن اکڑائی۔

خوش فہمی ہے جناب یہ آپکی کہ میں آپکو ڈھونڈ رہی تھی اور اس سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ میں نے آپ سے ملنے کے لئیے یہ جواز تلاش کیا۔ آپکی محبت دیا مجیب کا حق ہے اور اپنے حق کو حاصل کرنے کے لئیے مجھے کوئی بہانہ درکار نہیں۔ وہ بہت استحقاق سے بول رہی تھی۔ 

ابھی تو حقیقتًا میں بھائی کو ڈھونڈتی ہوئی یہاں تک چلی آئی کیوں کہ نیچے سے مجھے آپ کی پشت دکھائی دی تو میں سمجھی شاید عمر بھائی ہیں اوپر کیونکہ چھت کا یہ کونہ انکا پسندیدہ ترین ہے۔

 دراصل میں بھائی کو مسفی سے ملوانا چاہ رہی تھی۔ مجھے کیا پتہ تھا میری نیکی میرے ہی گلے پڑ جائے گی۔ خیر اب میں چلتی ہوں، دیکھوں تو زرا بھائی کہاں ہیں؟ مسفی انکا ویٹ کر رہی ہے۔ دونوں چٹکیوں سے لہنگے کو تھامے تفصیل سے جواب دینے کے بعد وہ اک ادا سے جانے کے لئیے پلٹی، اچانک شاہ زر نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔

بہت فکر ہے اپنے بھائی جان اور بھابھی کی، وہ جن کی دو دن بعد رخصتی ہو ہی جانی ہے۔ کچھ ہم غریبوں کے دل کا بھی احساس کیجئیے ملکۂ عالیہ، کب سے آپکی ایک نظرِ کرم کے منتظر ہیں۔ شاہ زر نے پکے مجنونوں کی مانند آہ بھری۔

محترم سنبھال کر رکھئیے اپنے اس ناتواں دل کو۔۔۔ دل کے پیچھے چلنے والے اکثر رسوا ہوا کرتے ہیں۔

"ہائے ۔۔ کیا خوب فرمایا آپ نے مگر مجھے نہیں لگتا میری مسز مجھے کبھی رسوا ہونے دیں گی۔"

محترم آپ بہت خوش فہم ہیں۔۔۔ 

"اسے خوش بختی کہتے ہیں۔ وہ تارہ دیکھ رہی ہو؟ شاہ زر نے انگشت سے آسمان کی جانب اشارہ کیا، تم میرے نصیب کا وہ چمکتا تارہ ہو۔"  

کل تک لوگ ہمیں جنگلی بلی سے تشبیہ دیتے تھے، ایک ہی روز میں اس قدر تبدیلی۔۔۔ یا خدایا یہ کیا ماجرا ہے؟ 

کل تک آپ بھی مجھے ریچھ، بن مانس کہتی تھیں۔ شاہ زر نے حساب بے باق کیا۔ 

وہ تو میں اب بھی کہتی ہوں۔ اپنا جملہ مکمل کر کے وہ کھلکھلا کر ہنسی۔ 

"دیا " اس نے اسے گھور کر دیکھا۔ چاند کی پر نور مدہم روشنی میں کھلکھلا کر ہنستی وہ اسے اس پل اتنی اچھی لگی کہ وہ سب کچھ بھول گیا اور بے اختیار اسکے گال پر ابھرنے والے گڑھے پر اپنی انگلی رکھ دی۔

مسز شاہ زر کیا آپکو معلوم ہے آپکے گالوں پر موجود یہ ڈمپل آپکے شاہ کو زیست کی تمام تر رعنائیوں سے زیادہ پسند ہے۔ گھمبیر لہجے میں دھیمے سے بولتے اسکی آواز جذبات سے بوجھل تھی۔ دیا گھبرا گئی۔ 

شاہ۔۔۔ وہ دیکھیں عمر بھائی۔۔۔ اس نے یکدم شاہ زر کا دھیان بٹایا۔ شاہ زر گڑبڑا کر پیچھے مڑا اور وہاں کسی ذی روح کو نہ پاکر مصنوعی غصے سے پلٹا، تب تک دیا اسکی پہنچ سے بہت دور جا چکی تھی۔ 

پھر ملیں گے مسٹر شاہ۔ وہ اسے انگوٹھا دیکھاتے ہنستے ہوئے سیڑھیاں اتر رہی تھی۔ 

میں آپکا انتظار کروں گا انارکلی۔ اس نے وہیں سے جواب دیا۔ 

فی الوقت میرا ایک کام کرئیے عمر بھائی کو کال کر کے کہئیے کہ جلدی سے میرے روم میں آئیں۔

اوکے۔ آپکا حکم سر آنکھوں پر ابھی کال کئیے دیتے ہیں۔مسکرا کر اسے کہتے اس نے عمر کا نمبر ڈائل کیا۔ طمانیت کا خوشگوار احساس لئیے ہادیہ نیچے اتر گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨✨

ہادیہ آج پورے تین دن بعد کالج آئی تھی اور سونے پر سہاگہ پانچ منٹ لیٹ بھی تھی۔ وہ تو شکر ہے پہلا پریڈ سر ابراہیم کا تھا اور وہ شاہ زر کے دوست تھے تو اسے یقین تھا وہ اسے رعایت بخشیں گے۔ تقریبا دوڑتے ہوئے وہ کلاس روم تک آئی۔

سر مے آئی کم ان؟  پھولے تنفس کے ساتھ ہانپتی کانپتی سانسوں کے ساتھ اسنے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ 

نو۔ جواب ہادیہ کی توقع کے برعکس تھا، یک لفظی نفی میں جواب دیکر وہ کلاس کی جانب متوجہ ہو گئے۔ 

پر کیوں سر؟ روہانسے لہجے میں اسنے معصومیت سے پوچھا۔

یہ آپ مجھ سے پوچھ رہی ہیں؟

تین دن بعد اگر کالج آنے کی زحمت گوارا کر ہی لی تھی تو وقت پر تشریف لاتیں نا اور ویسے بھی میں سر وہاب کی اجازت کے بناء آپکو کلاس روم میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ جائیں پہلے ایڈمن آفس میں جا کر تین دن غیر حاضر رہنے کی وجہ بتائیں۔ فائن بھریں پھر پرنسپل صاحب کے آفس میں جائیں اور ان سے پرمیشن کارڈ لیکر آئیں۔ تب آپ میری کلاس میں بیٹھ سکتی ہیں۔ درشت لہجے میں اسے جواب دیکر وہ اسے نظر انداز کرتے لیکچر دینے لگے۔ 

سر آپکو معلوم ہے میں نے جان بوجھ کر چھٹیاں نہیں کیں۔ میرا نکاح تھا، آپ بھی تو آئے۔۔۔ قبل اسکے کہ وہ جملہ مکمل کرتی، سر ابراہیم نے اسے بری طرح جھڑک دیا۔

شٹ اپ مسز ہادیہ۔۔۔ میرا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں، نکاح آپکا ذاتی مسئلہ ہے۔ فی الوقت آپ ادارے میں ہیں اور ہر ادارے کے کچھ رولز اینڈ ریگولیشن ہوتے ہیں اور یہ بات آپکو معلوم ہی ہے کہ میں اصولوں کے معاملے میں کتنا سخت ہوں۔ جو کہا ہے وہ کریں نہیں تو چپ کر کے باہر کھڑی رہیں۔ پوری کلاس کے سامنے اس قدر ذلت اور انکے لہجے میں اس قدر سختی تھی کہ ہادیہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ سر ابراہیم تھوڑا سا نرم پڑے، انہیں اپنے لفظوں کی درشتی کا احساس ہوا۔

دیکھیں ہادیہ رونا ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتا، اپنی بقاء کی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے۔ بجائے یہاں کھڑے ہو کر آپ وقت ضائع کریں، اپنی بھی بےعزتی کروائیں اور مجھے بھی سخت بولنے پر اکسائیں جا کر ایڈمن آفس سے پرمیشن کارڈ لے آئیں۔  نرمی سے اسے سمجھا کر سر ابراہیم کلاس سے مخاطب ہوئے۔ ہاں تو گرلز کل ہم تقدیر کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ ارکان ایمان کا چھٹا رکن تقدیر اکثریت پہلے پانچ ارکان ایمان باللہ، ایمان بالرسل، ایمان بالکتب، ایمان بالملائکہ، ایمان بالاخرہ پر ایمان لے آتے ہیں مگر جہاں معاملہ ایمانیات کے چھٹے رکن اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے کا ہو وہاں ہمارے معاشرے کی اکثریت شکوہ کناں اور نالاں۔۔۔

سر پلیز۔۔۔ دیا اب تک وہیں کھڑی تھی دو منٹ چپ کر کے اسنے انتظار کیا کہ شاید  سرابراہیم اسے اندر بلا لیں مگر جب وہ اسکی جانب پشت کئیے ایمانیات سمجھانے لگے تو اسنے مجبورًا انکی بات کاٹی۔ 

شٹ اپ ہادیہ مجیب۔۔۔ گیٹ لاسٹ فرام ہئیر۔۔۔ آپکو پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی؟ یہ آپکے والد کا محل نہیں کالج ہے، یہاں آپکی من مانی نہیں چلے گی جائیں یہاں سے۔۔۔یک لخت وہ بآوازِ بلند دھاڑے ہادیہ سہم گئی۔ اسنے وہاں سے  جانے میں ہی عافیت جانی 

 ہاں تو سٹوڈینٹس میں کیا کہہ رہا تھا؟

سر آپ تقدیر پر ایمان کے بارے میں بتا رہے تھے۔ سعد نے یاد دلایا۔

جی میں یہ کہہ رہا تھا کہ تقدیر پر ایمان لانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کاتبِ تقدیر پر ایمان لانا تقدیر کبھی آپکو تختِ شاہی پر جلوہ افروز فرماتی ہے اور کبھی قدموں میں رول دیتی ہے تو جب تقدیر مہربان ہو تب شکر واجب ہے۔ اسکے برعکس جب تقدیر آپ کے حق میں اچھی ثابت نہ ہو تو صبر کا دامن تھامے رکھیں یاد رکھیں۔۔۔

پر سر کچھ لوگ اتنے لکی ہوتے ہیں کہ انہیں زندگی میں ہر شے میسر ہوتی ہے۔ فاطمہ نے سر ابراہیم کے نکتۂ نظر سے اختلاف کیا۔ 

نہیں مس فاطمہ ایسا نہیں ہوتا، جب ایک پھول کھلتا ہے نا اسکی کچھ پتیاں ضرور بکھرا کرتی ہیں۔ بالکل ایسے ہی انسان کی ہر خواہش کا پورا ہونا ناممکن ہے، بظاہر خوش دکھنے والے بھی اپنے اندر بہت سی جنگوں سے لڑ رہے ہوتے  ہیں اور اگر کسی کو دنیا میں ہر خوشی مل بھی جائے تو کیا فائدہ؟ یہاں کی خوشیاں بھی عارضی، دکھ بھی فانی، یہ میرے رب کی تقسیم ہے کسی کو دنیا میں سب دے دیتا ہے اور کسی کی دعائیں آخرت کے لئیے محفوظ فرما لیتا ہے اور بعض ایسے بھی خوش نصیب ہوتے ہیں جنہیں دنیا اور آخرت دونوں میں نوازتا ہے۔ بس ہمارے کرنے کا یہ کام ہے کہ ہم ہر حال میں خوش رہیں۔ یہی تقدیر پر ایمان ہے کہ خالق جس حال میں رکھے اسی پر راضی رہیں۔ دنیا خواہشوں اور آرزؤوں کے پورا ہونے کی جگہ نہیں، یہاں کسی سے کچھ لیکر آزمایا جا رہا ہے اور کسی کو بے تحاشہ دے کر آزمایا جا رہا ہے۔ دنیا تو بس آزمائش کدہ ہے، خواہشوں اور آرزؤوں کی تکمیل کی جگہ تو جنت ہے۔ سر ابراہیم نے رک کر کلاس کا جائزہ لیا کچھ سٹوڈینٹس منہمک ہو کر سن رہے تھے اور کچھ تیزی سے نوٹ بکس پر اہم پوائنٹس نوٹ کر رہے تھے۔ انکے خاموش ہونے پر سٹوڈینٹس نے انکی سمت دیکھا۔ انہوں نے مسکرا کر سلسلۂ کلام وہیں سے جوڑا جہاں سے توڑا تھا۔ ڈئیر سٹوڈینٹس! انسانی رویے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں اگر ان پر آزمائش آئے تو وہ مسکرا کر صبر کرتے ہیں اور صابرین کے ساتھ انکا رب ہوتا ہے، ایسے لوگوں کو انکے صبر پر بےشمار اجر سے نوازا جاتا ہے 

اور دوسری قسم ان لوگوں کی ہوتی ہے جن کے لبوں پر ہر دم شکوے مچلتے رہتے ہیں، ادھر کوئی تکلیف آئی نہیں ادھر جزع فزع شروع۔ ایسے لوگ ہر وقت شکایات کا پنڈورا بکس کھولے رکھتے ہیں اور یہ شکوے انکی آزمائش ختم نہیں کرتے بلکہ انہیں اور برباد کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نہ دنیا میں کچھ بنتا ہے نہ آخرت میں کوئی حصہ ہوتا ہے۔ یہ بے صبری انکا رہا سہا سکون بھی برباد کر دیتی ہے۔

اسکے برعکس خوشی انسان کے اپنے اندر چھپی ہوتی ہے جسے خود تلاشنا ہوتا ہے، جہاں تک میرا خیال ہے خوشی اور سکون کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے اور سکون تقدیر پر راضی رہنے سے ملتا ہے، تقدیر کو بدلنا یا اس سے جیتنا ناممکن ہے مگر ایک ایسی بھی چیز ہے جو تقدیر کو بھی ہرا دیتی ہے۔ سب نے چانک کر سر ابراہیم کی سمت دیکھا۔ سر ابراہیم کچھ لمحوں کے لئیے پھر چپ ہو گئے اور سب سٹوڈینٹس بےچینی سے انکے بولنے کا انتظار کرنے لگے۔ بالآخر فاخرہ بول پڑی 

سر وہ کون سی شے ہے جو اتنی طاقتور ہے کہ اللہ کا لکھے کو بھی ہرا سکتی ہے؟ 

آپ لوگ بتائیں؟ سر ابراہیم نے سوال کے بدلے سوال داغا۔ مختلف لوگ مختلف تُکے لگانے لگے۔ سر ابراہیم مسکرا کر نفی میں گردن ہلاتے رہے۔ اچانک ایک آواز پر چونکے۔ سر دعا؟ پچھلی رو سے ہلکی سی آواز آئی۔ 

کس نے بولا ہے یہ؟ سر ابراہیم نے پورے کلاس روم میں نظریں دوڑائیں۔

سر یہ نیرش بولی ہے۔ اسکے برابر میں بیٹھی ماہم نے بآواز بلند بتایا۔ جی مس نیرش آپ نے بالکل صحیح جواب دیا ہے۔ 

✨دعا ✨

دعا دنیا کی سب سے طاقتور چیز ہے جو تقدیر کو بھی بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہ دنیا کی سب سے تیز رفتار شے بھی ہے جو دل سے زبان تک پہنچنے سے پہلے ساتوں آسمان کا سینہ چیرتی خالقِ کونین کے عرش تک پہنچ جاتی ہے اور مقبول ٹھہرتی ہے۔ دعا مومن کا ہتھیار ہے یہ دعا ہی تو ہے جو عبادات کا مغز ہے، نہ یہ معلق ٹھہرتی ہے، نہ رد کی جاتی ہے بلکہ یہ تو پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

یہ دعا ہے جو عبد اور معبود کے درمیان ایک مضبوط تعلق کی علمبردار ہے۔ یہ دعا ہی ہے جو تقدیر کے مقابل آ ٹھہرنے کی ہمت رکھتی ہے اور پھر اسے ہرا بھی دیتی ہے۔

یہ ہو نہیں سکتا کہ بندہ یقینِ کامل سے دعا مانگیں اور اللہ اسے رد کر دے۔

یہ ہو نہیں سکتا کہ بندہ تڑپ کر ربِ کونین کو پکارے اور اور وہ اسے مایوس لوٹا دے۔ دعا کے ذریعے تو وہ سب بھی مل جاتا ہے جو تقدیر میں نہ لکھا ہو، جو بظاہر ناممکن ہو۔ 

سر آپکی ہر دعا قبول ہوتی ہے؟ سر ابراہیم کا دعا پر اس قدر پختہ یقین دیکھ کر زائشہ ہوچھے بنے نہ رہ سکی۔

سر ابراہیم ایک لمحے کے لئیے چپ ہو گئے اور جب بولے تو آواز بہت ہموار تھی۔ 

میری کیا یقینِ کامل سے مانگی گئی ہر بندے کی دعا لازمی قبول ہوتی ہے۔ میں نے جب جب شدت سے اپنے رب کو پکارا تب تب میرے رب نے مجھے نوازا۔ میں اس سے مانگ کر کبھی مایوس و محروم نہیں لوٹا۔ الحمدللہ 

زبردست سر ہمارے لئیے بھی دعا کر دیں۔ نتاشہ فورا بولی۔ 

مس نتاشہ انسان جتنا خود سے مخلص ہوتا ہے، جتنی تڑپ سے اپنے لئیے دعا مانگ سکتا ہے، اتنے دل سے کوئی دوسرا اس کے لئیے دعا نہیں کر سکتا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کسی سے دعا نہیں کروانی چاہئیے۔ کچھ بندے مستجاب الدعوات ہوتے ہیں ان کا رب سے اتنا مضبوط تعلق ہوتا ہے کہ جو وہ مانگے رب لازمی دیتا ہے۔ ایسے لوگوں سے لازمی دعا کروانی چاہئیے مگر اسکے ساتھ ساتھ اپنے لئیے خود بھی تڑپ کر گریہ وزاری کے ساتھ  رب سے دعا مانگنی چاہئیے اور جتنا فائدہ ڈائیریکٹ خود رب سے مانگنے سے ہوتا ہے، اتنا اثر کسی دوسرے کی دعا سے نہیں ہوتا۔

نوید نے ہاتھ بلند کیا 

جی نوید؟ سر  میرا سوال یہ ہے کہ ہم اپنے لئیے جو دعا مانگیں گے وہ ساری دعائیں قبول ہوتی ہیں؟ 

نہیں نوید بعض دعائیں غافل دل سے نکلتی ہیں مطلب انسان بے توجگی سے دعا کرتا ہے تو اللہ غافل اور بے پروا دل کی پکار نہیں سنتا۔ اسی طرح بعض دعائیں شر پر مبنی ہوتی ہیں جو انجام کار کے لحاظ سے ہمارے حق میں بہتر نہیں ہوتیں تو اللہ ایسی دعا قبول نہیں فرماتا بلکہ اسے آخرت کے لئیے ذخیرہ کر دیتا ہے۔ یہ بات میں آپ کو مثال سے سمجھاتا  ہوں۔

ایک بچے کو آگ کا انگارہ دکھائی دیتا ہے وہ اسے چمکتی چیز سمجھ کر پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ ماں اسے وہ انگارہ کیا پکڑنے دے گی؟

نو سر۔ پوری کلاس نے کورس کی شکل میں جواب دیا۔

جی بالکل ماں بچے کا رونا تڑپنا تو برداشت کر لے گی مگر اسے وہ چیز نہیں پکڑنے دے گی، جس میں اس کے لئیے خطرہ ہے کیونکہ اسے معلوم ہے بچہ جس چیز کی خواہش کر رہا ہے وہ آگ ہے۔ 

بالکل اسی طرح بعض دعائیں ہمارے لئیے انگارے کی مانند ہوتی ہیں تو ہمارا رب ہمارا رونا تڑپنا تو برداشت کر لیتا ہے مگر جس چیز میں ہمارے لئیے شر ہو وہ ہمیں نہیں تھماتا کیونکہ رحمت کا ایک حصہ اس نے ماں کے دل میں ڈالا۔ ننانوے حصے اپنے پاس رکھے تو وہ رحیم رب ہمیں کیسے برباد ہوتا دیکھ سکتا ہے؟

اچھا یہاں میں ایک اور بات بتا دوں دعا کی قبولیت کے تین درجے ہیں۔ 

1: کچھ فوری پوری ہو جاتی ہیں۔

2: کچھ تاخیر و التواء کے بعد پوری ہوتی ہیں، مناسب وقت پر۔ 

3: کچھ شر پر مبنی دعائیں ہوتی ہیں جو دنیا میں پوری تو نہیں ہوتی، آخرت کے لئیے محفوظ کر لی جاتی ہیں۔ 

مگر تینوں صورتوں میں دعا رد نہیں ہوتی۔ رب جو نہیں دیتا اس کے بدلے بہتر سے نوازتا ہے۔ دعا رائیگاں نہیں جاتی کیونکہ رب رحمان نے دعا کی قبولیت خود پر فرض کر لی ہے۔ اسکے گھر دیر ہے، اندھیر نہیں۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ اس سے گڑگڑا کر کچھ مانگے اور وہ تہی داماں چھوڑ دے۔ ہاں بعض دعائیں التواء کا شکار ہو جاتی ہیں تب انسان مایوس ہونے لگتا ہے وہی تو اصل امتحان کا لمحہ ہوتا ہے۔

ہو سکتا ہے وہ اس لئیے دعا قبول نہ کر رہا ہو اسے یوں ہمارا ہاتھ پھیلانا، اس سے جڑنا صرف اسی سے مانگنا پسند آ رہا ہو۔ وہ شہ رگ سے قریب رب پکارنے والے کی پکار لازمی سنتا ہے اور اگر جو کبھی نفس یہ احساس دلائے کہ میری دعا رائیگاں جا رہی ہے تو آنکھیں بند کر کے دل میں یقین سے وہی الفاظ دہرایں جو ابراہیم علیہ السلام نے کہے۔ 

میں اپنے رب سے مانگ کر کبھی مایوس نہیں ہوا۔ 

آپ کو کیا لگتا ہے کہ اس کے بعد بھی وہ نہ سنے گا جبکہ اسکا نام السمیع ہے، وہ تو سب کی پکار یکمشت سنتا ہے اور یہ شے اس پر گراں بھی نہیں گزرتی۔ وہ ضرور سنے گا کہ دعا کی قبولیت اسنے خود پر فرض کر لی ہے۔ 

بس آپ کے کرنے کا کام یہ ہے کہ خود کو اسکی مرضی کے سانچے میں ڈھال کر اسکی رضا پر سر تسلیمِ خم کرتے یقینِ کامل سے اس سے دعا مانگتے رہیں۔ وہ آپکی تمام ناآسودہ خواہش پوری کر دے گا۔ اگر پھر بھی کہیں کوئی تشنگی رہ جائے تو خود کو دل کی خوشی سے  رب کے سپرد کر دیں۔ اسکے حوالے کی شے ضائع نہیں ہوتی تب وہ آپکو وہ نوازے گا، جو آپکے لئیے بہتر اور اسے پسند ہو تب وہ صرف ادھوری خواہشیں نہیں پوری کرتا بلکہ کامل خوشیوں سے نوازتا ہے۔  جس لمحے وہ یہ بات کہہ رہے تھے، اسی پل ہادیہ ایک بار پھر کلاس روم کے دروازے پر نمودار ہوئی۔ بات کے اختتام پر  سر ابراہیم نے دھیرے سے آنکھ کے کنارے سے پھسلتا اشک نامحسوس انداز میں صاف کیا۔

جی  ہادیہ مجیب؟

سر میں نے فائن جمع کروا دیا ہے اور یہ رہا سر وہاب کا پرمیش کارڈ۔۔۔

ٹرن ٹرن ٹرن۔۔۔ اسی لمحے اگلے پریڈ کی بیل ہوئی۔ 

اوہ نو۔۔۔ سر۔۔۔ آپ نے میرا پریڈ مس کروا دیا۔ وہ روہانسی ہو گئی۔

ہاں تو کلاس آج کی گفتگو کا خلاصۂ کلام یہ رہا کہ تقدیر ایمانیات کا لازمی جزء ہے اور بندہ مومن ہر حال میں تقدیر پر راضی برضا رہتا ہے مگر بعض اوقات انسان تقدیر کے آگے بےبس ہو جاتا ہے۔ اس لمحے کامل یقین سے دعا کا ہتھیار تھامنا چاہئیے اور جب یہ محسوس ہونے لگے کہ دعا بھی قبول نہیں ہو رہی تو اس پل خود کو تقدیر کے دھارے پر چھوڑتے خود کو رب کے حوالے کر دینا چاہئیے۔ میرا ایمان ہے رب کے حوالے کی چیز ضائع نہیں ہوتی۔ اب میں چلتا ہوں فی امان للہ۔ ایک منٹ میں پورے لیکچر کا خلاصہ بتاتے وہ ہادیہ کے برابر سے گزرتے کلاس سے چلے گئے۔

ہادیہ نے انکے جانے کے بعد اندر آ کر زور سے اپنی کتایں کرسی پر پٹخیں اور دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر بیٹھ گئی۔ 

یار دیا کیا ہوا؟ ایسے کیوں بیٹھ گئی ہو؟ سنو تو آج کا لیکچر ایمانیات اور دعا پر تھا۔ سر نے بہت کمال کی باتیں بتائی ہیں۔ میں تو ایک ایک لفظ نوٹ کیا ہے۔ 

یار مجھے تو اب تک یقین نہیں آرہا اتنا ہسنے مسکرانے والے سر اتنی گہری سوچ بھی رکھ سکتے ہیں۔ کتنے خوش قسمت ہیں نا سر انکی ہر دعا پوری ہوتی ہے۔ کوئی خواہش کبھی ادھوری نہیں رہی۔ کاریڈور سے گزرتے سر ابراہیم نے حناء کی مکمل بات سنی اور اک شکستہ سی مسکراہٹ انکے لبوں پر سج گئی۔

انسان کس قدر ظاہر پرست ہوتا ہے۔ چہروں سے خوشی غمی تلاش کر لیتا ہے۔ ضروری تو نہیں جو ہر وقت مسکراتا ہو وہ خوش بھی ہو زندگی بعض لوگوں سے انکی بساط سے بڑھکر امتحان لیتی ہے۔ ایسے لوگ اپنی ذات کی کرچیاں سمیٹے دوسروں کے لئیے لبوں پر مسکراہٹ سجائے ہر پل ہشاش بشاش رہتے ہیں کیونکہ وہ دوسروں کا حوصلہ ہوتے ہیں وہ کیسے کسی کو اپنے زخم دکھائیں۔ بقول شیکسپئیر دنیا ایک سٹیج ہے اور یہاں ہر کوئی اداکاری کر رہا ہے اور بعض لوگ تو اتنے بڑے فنکار ہوتے ہیں کہ دوسروں پر زرا بھی اپنی ذات کا بھید عیاں نہیں کرتے 

مجھے کیا ہو گیا؟ میں یہ سب کیوں سوچ رہا ہوں؟ مجھے پر امید رہنا چاہئیے۔ 

اپنی ہی سوچوں کو خود جھٹکتے انہوں نے آگے قدم بڑھا دئیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨✨✨✨


ایمان کی زندگی کے وہ عجیب بے کیف سے دن تھے۔ نہ منظروں میں کوئی کشش تھی، نہ موسموں میں کوئی جمال تھا۔

ہر سو جمود ہی جمود تھا۔ ایمان نہ زندوں میں تھی اور نہ ہی مُردوں میں۔ نہ اسے کھانے پینے کا ہوش تھا، نہ پڑھانے میں دلچسپی۔ بس روبوٹ کے مانند وہ اپنی زیست کے باقی مانندہ ایام بسر کر رہی تھی۔ 

آج بھابھی نے پھر اپنی دوستوں کو اکٹھا کر رکھا تھا۔ وہ عموما بھابھی کی فرینڈز کے سامنے آنے سے احتراز برتا کرتی تھی کیونکہ وہ اسکی زندگی سے بخوبی واقف تھیں۔ جب وہ سب ملکر اس پر قہقے اور ٹھٹھے لگاتیں تو اسکا دل چاہتا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔ 

بعض نظروں میں تمسخر ہوتا، بعض میں تاسف اور بعض اسی پل اس سے ہمدردی جتاتیں تو وہ لخت لخت ہو جاتی۔ ابھی بھی وہ ان سب سے بچ کر کمرے میں چھپی بیٹھی تھی۔ اچانک بھابھی بیگم اسے آوازیں دینے لگیں۔

جی بھابھی۔ وہیل چئیر گھسٹتی وہ مجرمانہ انداز میں اندر داخل ہوئی۔

یہ کھانے میں کیا زہر گھولا ہے۔ کڑے لہجے میں استفسار کرتی بھابھی دہاڑیں تو انکی دوست نے انکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر ٹھنڈا کرنے کی ناکام کوشش کی۔ 

کیا ہوا بھابهی؟ وہ مزید سہم گئی۔

کیا ہوا؟ تمہیں نہیں معلوم کیا ہوا؟ وہی ہوا ہے جو تم نے کیا ہے۔ بتاؤ مجھے تم نے جان بوجھ کر نمک تیز کیا ہے نا تاکہ مجھے میری دوستوں کے سامنے رسوا کر سکو؟ تم یہ سب مجھے دوسروں کی نظروں میں ذلیل کروانے اور اپنی مظلومیت ثابت کرنے کے لئیے کرتی ہو ہے نا؟

نہیں بھابھی میں نے تو مناسب ہی ڈالا تھا، مجھے نہیں معلوم نمک کیسے تیز ہو گیا؟

تمہارے کہنے کا کیا مطلب ہے میں نے نمک تیز کیا ہے۔۔۔

چھوڑو یار تم کیا اس سے الجھنے لگیں، دفع کرو ہم باہر سے کچھ آرڈر کر دیتے ہیں۔ اسے بس جلدی سے اسکے گھر کا کرو۔ نرمین نے ایمان کو بھابھی کے عتاب سے بچانے کی ناکام کوشش کی۔ 

کون سا رشتہ؟ اس نے نہیں جانا کہیں، ساری زندگی عذاب بن کر مجھ پر مسلط رہنا ہے۔ مسز فاروق دلگرفتگی سے بولیں۔

یار تم ہی تو پرسوں کال پر بتا رہی تھی کہ اسکا کوئی رشتہ آیا ہے۔ نرمین نے اسے یاد دلایا۔

اس کا؟ یہ تو اپاہج ہے اسکا رشتہ کیسے آگیا؟ نمل حیرت سے متجسس انداز میں استفسار کرنے لگی۔ ایمان کو اپنا وجود انتہائی ارزاں لگا۔ اسکا دل چاہا یہاں سے بھاگ کر کہیں دور چلی جائے مگر وہ بھابھی بیگم کی اجازت کے بناء وہاں سے ہل بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ اگر وہ ایسا کرتی تو نیا کیس تیار ہو جاتا کہ میری دوستوں کے سامنے میری بے عزتی کی ہے۔ اس لئیے وہ چپ چاپ ان سب کی بکواس سننے پر مجبور تھی۔ 

ہاں یار آیا تھا اس کا رشتہ، ایک خدا ترس انسان نے رحم کھا کر اس منحوس سے رشتہ جوڑنا چاہا آگے سے مہارانی کے مزاج ہی نہ ملے۔ پتہ نہیں کس شہزادہ سلیم کی راہ تک رہی ہے ٹکا کر بیچارے کو منہ پر انکار کر دیا۔ 

یار سچ میں، میں تو عاجز آ گئی ہوں اس فتنی سے، اول تو کوئی اسے تھوکتا پوچھتا ہی نہ تھا اب خدا خدا کر کے ایک نجات دہندہ آیا تو اسے بھی اس زبان دراز عورت نے بھگا دیا۔ 

اس نے بھگا دیا؟ لگتی تو نہیں زبان دراز، حیرت ہے۔

ویسے کیوں انکار کیا وجہ پوچھی؟ نرمین نے حیرت سے ایمان کو دیکھا۔ بھابھی کے منہ کے زاویے بگڑے۔

میری کہاں جرات کے میں اس سے کچھ پوچھ سکوں۔ 

میں نے تو سوچا تھا اسکی شادی کر کے خود فیملی سمیت باہر شفٹ ہو جاؤنگی مگر افسوس میری قسمت ہی خراب۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ پچھل پیری تاحیات اس گھر میں ڈیرے ڈالے رکھنے کا منصوبہ بنائے بیٹھی ہے۔ کام کی نہ کاج کی دشمن اناج کی نرا بوجھ۔۔۔ اس قدر اہانت ایمان کی برداشت جواب دے گئی۔ وہ خاموشی سے وہیل چئیر گھسٹتی باہر نکل آئی پیچھے سے اسے بھابھی کی آواز سنائی دی، تیور دیکھی ہیں لنگڑی کے؟

پتہ نہیں کس بات کا گھمنڈ ہے؟

وہ تیزی سے کمرے میں آئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ پانچ منٹ رونے کے بعد ایک خیال بجلی کے کوندے کی مانند اس کے ذہن میں لپکا۔ آن واحد میں اس نے ایک فیصلہ کیا اور اگلے ہی پل اس پر عمل بھی درآمد کر دیا۔ اگلے چند منٹوں میں وہ  سر ابراہیم کی کزن سے ان کا نمبر لے چکی تھی۔ اس نے بناء کچھ سوچے سمجھے نمبر ڈائل کر دیا۔ 

السلام علیکم۔۔۔

وعلیکم السلام۔ حتی المقدور اس نے اپنے لہجے کی نمی چھپائی۔

جی کون؟ ایک شناسا سی آواز اسکے کانوں میں گونجی۔ 

ابراہیم صاحب میں ایمان بات کر رہی ہوں۔ ڈھیر ساری ہمت مجتمع کرتے اسنے اپنا تعارف کروایا جو مقابل پر بجلی بن کر گرا۔ کچھ دیر بعد جب وہ بولنے کے قابل ہوئے تو فقط اتنا کہا۔ 

جی مس ایمان کہیے کیسے کال کی؟ 

سر آپ نے کہا تھا نا کہ اپنی بقاء کی جنگ خود لڑنی چاہئیے، غموں میں شکستہ دلی کے بجائے امید کی شمع فروزاں کرنی چاہئیے، اپنے عزم سے قسمت کی کایا پلٹنی چاہئیے، اپنے ماضی پر واویلا کرنے کے بجائے مستقبل سنوارنا چاہئیے، دعا سے اپنی بری تقدیر کو شکست دینی چاہئیے۔

آپ نے ہی مجھے کہا تھا نا کہ مجھے بناء متزلزل ہوئے ہر طوفان کا مقابلہ کرنا چاہئیے۔ آپ نے ہی مجھے حوصلہ دیا تھا نا کہ مجھے مصائب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انکا مقابلہ کرنا چاہئیے۔ آپ نے ہی مجھے مشورہ دیا تھا نا کہ خوشیاں میرے در پر دستک دے رہی ہیں مجھے اپنے دل کے زنگ آلود بند کواڑ کھول دینے چاہئیے۔ آپ نے مجھ میں ایک نئی امنگ جگائی، مجھ میں جینے کی طلب پیدا کی، آپ کی دی جرات پر  آج میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب مجھے زندگی سے اپنے حصے کی خوشیاں ہر صورت وصولنی ہیں، اب مجھے زیست کی پرپیچ راہوں پر آپکا ہاتھ تھام کر چلنا ہے۔ اب بتائیں کیا آپ زندگی کے اس سفر میں میرا ساتھ دینگے؟

ابراہیم اتنی اچانک ایمان کے فیصلے پر انگشت بدنداں رہ گئے۔ انہیں اپنے کانوں پر یقین نہ آ رہا تھا۔ انہیں لگا جیسے وہ محوِ خواب ہیں۔ کیا دعائیں یوں بھی مستجاب ہوتی ہیں؟ وہ کچھ بول ہی نہ پائے۔ بولتے بھی تو کیا وہ یوں اچانک قسمت کی کایا پلٹ پر حد درجہ متحیر تھے۔ انکی خاموشی ایمان کے لئیے پل صراط پر چلنے کے مترادف تھی۔ اپنی عزتِ نفس روند کر اسنے خود سے ابراہیم کو کال کی تھی اور جو اگر آج انہوں نے مجھے ٹھکرا دیا تو کیا میں اپنی ہی نظروں میں پھر کبھی اٹھ پاؤں گی؟ اسنے خود سے سوال کیا۔ کافی دیر بعد ابراہیم کی آواز اسکی سماعتوں میں رس گھول گئی۔ 

الحمدللہ ایمان میں مشکور ہوں اپنے رب کا بھی اور آپکا بھی کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا۔

میں کون ہوتا ہوں آپکا ساتھ دینے والا؟ کاتبِ تقدیر نے آپکو ازل سے میرے نصیب میں لکھ دیا تھا اور میں رحمان کے اس فیصلے پر دل سے راضی ہوں۔ مجھے اس پل اپنے مقدر پر کتنا رشک آرہا ہے میں آپکو بتا نہیں سکتا پھر کب آؤں بارات لیکر  آپکو لینے؟ 

وہ آپ بھائی سے پوچھ لیں۔ ہموار لہجے میں کہتے اس نے لائن ڈراپ کر دی۔ عرصۂ دراز بعد آج وہ بہت پرسکون تھی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨✨✨

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

از قلم ✒️

ارویٰ رباب

Next episode

Click below

https://momnaawais.blogspot.com/2023/07/islamic-novel-in-urdu-episode-no-6.html