✨ جو شکستہ ہو تو عزیز تر✨

قسط نمبر 6 

از قلم ✒️

ارویٰ رباب



 فارہ بیگم اپنے اردگرد چیزوں اور شاپنگ بیگز کا انبار لگائے بیٹھی تھیں۔ وہ دیا کو چیزیں دکھا رہی تھیں کیونکہ جس وقت وہ شاپنگ کر کے آئی تھیں تب دیا اکیڈمی میں تھی اسلئیے ابھی وہ اسکے سامنے چیزیں کھولے بیٹھی تھیں اور وہ ہر شے پر  ناک بھوں چڑھا رہی تھی۔ اسکی چوائس بہت اعلیٰ تھی۔ اسے شاذ و نادر ہی کسی کی خریدی ہوئی کوئی چیز پسند آتی تھی۔ ابھی بھی زیادہ تر چیزوں کو مسترد کر کے اپنی رائے پیش کر رہی تھی۔ 

فارہ بیگم اسکی ان حرکتوں سے ہی تو عاجز تھیں۔ دیا خود تو تم جاتی نہیں ہو ساتھ اور دوسروں کی لائی چیزیں بھی ریجیکٹ کر دیتی ہو۔ اب کل تم کالج سے چھٹی کرنا اور چلنا میرے ساتھ اپنی شاپنگ خود کرنا پھر پتہ لگے گا کس قدر مشقت طلب کام ہے۔ 

میں؟ نہ بابا نہ میں کسی صورت نہیں جا سکتی آپکے ساتھ اور وہ بھی کالج سے چھٹی کر کے؟ کسی صورت نہیں آپ نہیں جانتی نکاح کے لئیے جو میں نے چھٹیاں کیں ان پر ہی میری کس قدر بےعزتی کی سر ابراہیم نے۔ اب تو ایک چھٹی ممکن نہیں۔ اس نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ 

کس نے؟ ابراہیم نے؟ وہ تو بہت شریف نیک اور بیبا بچہ ہے۔ فارہ کو دیا کی بات پر یقین ہی نہ آیا۔

وہ اور اچھے؟ شریف نیک بیبا بچہ؟ توبہ ہے والدہ۔ قبر کا حال مردہ جانتا ہے انکی اچھائی سے میں اچھے طریقے سے واقف ہوں۔

دیا نے ہاتھ میں موجود زیور ڈبے میں بند کرکے فارہ کی جانب کھسکایا۔ ساتھ ساتھ پٹر پٹر تردید بھی جاری تھی۔ 

ماں آپکو کوئی شدید قسم کی غلط فہمی ہوئی ہے۔ سر ابراہیم کسی جلاد، ظالم، ہٹلر اور ہلاکوں خان سے کم نہیں۔ مجھے تو لگتا ہے چینگز خان کے جانشین ہیں۔ میری بھولی ماں آپکو انسانوں کی پہچان ہی نہیں۔ آپ نہیں جانتی سر اکڑو کو صبح جو انہوں نے میری درگت بنائی ہے نا ساری کلاس کے سامنے وہ ناقابلِ بیاں ہے۔ 

اتنا ذلیل کیا مجھے اتنا رسوا کیا کہ بس دو لگانے کی کسر رہ گئی تھی شاید وہ بھی لگ ہی جاتی اگر جو۔۔۔

کسی کی اتنی جرات کہ عمر مجیب کی گڑیا  کو ذلیل کرے۔ بتاؤ وہ کون ہے جسکی اتنی جرات کے تم پر ہاتھ اٹھائے؟ باہر سے آتے عمر نے آدھی ادھوری بات سنی اور سیخ پا ہو گیا۔ 

بھائی وہ۔۔۔ دیا نے وہ کو خاصہ لمبا کھینچا۔ فارہ نے اکتائے انداز میں سامان سمیٹنا شروع کر دیا۔ ہادیہ چیزیں دیکھنے کے لئیے کھول تو لیتی پھر بند نہ کرتی۔ فارہ ہی ہر شے کو ترتیب سے رکھتی تھیں۔ ہاں وہی نام بتاؤ اسکا؟ عمر نام جاننے کے لئیے مصر تھا اور دیا جانتی تھی اگر جو اسنے ذرا بھی منہ سے بھاپ نکالی تو عمر جاکر ابراہیم کا گریبان پکڑ لے گا پھر چاہے سر ابراہیم پاتال میں بھی ہوتے وہ انہیں دیا کے قدموں میں لا کر پٹختا اور معافی منگواتا۔ وہ دیا کی محبت میں اتنا ہی جنونی تھا۔ 

بھائی وہ تو میں بابا جانی کی بات کر رہی تھی۔ پرسوں رات کو انہوں نے مجھے ڈانٹا تھا۔ اسنے روانی سے جھوٹ بولا اسے موقعے کی مناسبت سے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ میں بدلنے کا فن آتا تھا بلکہ اسے موقعوں پر تو اسکی ذہانت دگنی ہو جایا کرتی تھی مگر مقابل بھی اسکا ماں جایا تھا۔ اسے بالکل یقین نہ آیا۔ فارہ نے غصے سے دیا کو دیکھا۔ 

دیا اتنا پاگل دکھائی دیتا ہوں میں تمہیں؟ کیا مجھے نہیں معلوم کے بابا جانی نے تم کو ڈانٹنا تو دور کی بات کبھی اونچی آواز سے بھی تم سے بات تک نہیں کی۔ اب سیدھی طرح بتاؤ کیا بات ہو رہی تھی یہاں؟

بھائی ہم تو شاپنگ کی بات کر رہے تھے۔ مما کہہ رہی تھی کہ مسفی اور آپ کو ساتھ لے جا کر برائڈل۔۔۔ عمر کے گھورنے پر وہ گڑبڑا گئ۔

لگتا ہے ممی بھائی جان کا موڈ نہیں ہم خود چلے جائیں گے۔ دیا آپ اتنی چالاک ہو نہیں جتنی خود کو ثابت کر رہی ہو۔ آپ سے تو میں بعد میں نبٹوں گا۔ فی الوقت ممی آپ مجھے بتائیں کہ کس نے اس سے بدتمیزی کی ہے۔ اپنا روئے سخن اس نے چیزیں انکی جگہوں پر سنبھالتی فارہ کی جانب موڑا۔ وہ ایسا ہی ضدی تھا۔ اب وہ ٹلنے والا نہ تھا۔ 

فارہ نے ایک نظر دیا کو دیکھا جو آنکھوں ہی آنکھوں اسے نہ بتانے کا اشارہ کر رہی تھی پھر عمر کو دیکھا جو جواب طلبی کا منتظر کھڑا تھا۔ مطلب بتائے بناء کوئی چارہ نہ تھا اور جھوٹ وہ بولتی نہیں تھیں۔ وہ جو سر ابراہیم ہے ناں؟ شاہ زر کا دوست وہ اسکے کالج کا پروفیسر ہے۔ وہی جسنے تم دونوں کے نکاح پر سارا کام آگے بڑھ کر سنبھالا تھا اور آج جب شاپنگ مال سے واپسی پر ہماری گاڑی خراب ہوئی تو ہمیں گھر تک چھوڑ کر گیا ہے۔

 اسی نے آج اس کو کالج سے بنا بتائے غیر حاضر ہونے پر ڈانٹا ہے تو وہ ڈانٹ محترمہ کے طبعِ نازک پر گراں گزری۔ 

شکایات کا دفتر کھول کر بیٹھ گئی ہے اور تمہارے استفسار پر جھوٹ کے ذریعے پردہ پوشی کر رہی ہے۔ یہی تربیت ہے میری کہ بیٹی میرے سامنے بیٹھ کر جھوٹ بولے اور بیٹا لڑائی جھگڑوں کی بات کرے۔

 رہی سہی کسر تم پوری کر لو۔ جاؤ پکڑو اسکا گریبان یا گولی سے اڑا دو اسے۔۔۔ کوئی معمولی جرم تھوڑی نا ہے، آخر عمر مجیب کی لاڈو کی شان میں گستاخی کی جسارت کی ہے۔ تپ کر کہتیں انہوں نے غصے سے ہادیہ کو گھورا۔

ارے نہیں اماں کیا بات کر رہی ہیں؟ میں کیوں اسے ماروں گا؟ وہ تو بہت اچھا بندہ ہے اور مجھے نہیں معلوم تھا وہ اسکا ٹیچر ہے۔ استاد کو تو اتنا حق ہوتا ہے کہ وہ شاگرد کی اصلاح کے لئیے اسے ڈانٹے بلکہ استاد تو مار بھی سکتا ہے۔ اسنے فورًا پینترا بدلا۔

ویسے ماما یہ اچھا طریقہ ہے ایک طرف احسان گنوا کے خود ہی غصہ ٹھنڈا کر دو اور دوسری جانب خود گریبان پکڑنے کے مشورے دو۔ خاتون آج تو میں قائل ہو گیا آپکی ذہانت کا۔ اسنے فارہ کو سیلیوٹ پیش کیا۔ فارہ نے خفگی سے منہ موڑ لیا۔ 

اب کیا ہوا یار؟ اسنے فارہ کا منہ اپنی جانب کیا۔ عمر تم لوگوں نے اسے ناجائز ڈھیل دے رکھی ہے۔ میری تربیت یہ نہیں کہ استاد کے پیٹھ پیچھے اسکی برائیاں کرو اور پھر جھوٹ بولو۔ میں بہت پریشان ہوں، اس لڑکی کی وجہ سے عمر زندگی یوں من مانیاں کرتے نہیں بسر ہوتی۔ وہ دیا سے ناراض تھیں۔ 

گڑیا کیوں آپ مما کو ستاتی ہو؟ یار سوری بولو۔ عمر نے اسے مصنوعی خفگی سے ڈپٹا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں دیا کو سوری کہنے کا اشارہ کیا۔ 

سوری مما۔۔۔ سوری نا اب نہیں کرونگی۔ اسنے فارہ کے گلے میں بانہیں ڈالیں۔ 

پیچھے ہٹو مجھ سے۔ فارہ نے اسکے ہاتھ جھٹک دئیے۔

ممی پلیز معاف کر دیں نا اسے۔۔۔ عمر نے فارہ کی منت سماجت کی۔ 

ایک شرط پر کرونگی معاف۔۔۔ فارہ بیگم نے پکے بیوپاریوں کی طرح ڈیل کی۔ 

کس شرط پر؟ خاتون اب آپ یوں شرطیں طے کریں گی؟ عمر اور دیا یکمشت بولے۔ 

جی ورنہ تم دونوں قابو نہیں آتے۔ دن تھوڑے رہ گئے ہیں ابھی دونوں میرے ساتھ شاپنگ کرنے جاؤ گی۔ اسی شرط پر معافی ملے گی۔ کچھ ضروری کام ہیں وہ آج ہی نبٹا آتے ہیں۔ اوکے ماما انکی سوچ کے برعکس دونوں فورا راضی ہو گئے۔ 

دیا تیزی سے چپل اڑستی اوپر کی جانب اپنی چادر لینے دوڑی پھر آدھی سیڑھیوں پر رک کر بآواز بلند پکاری 

مگر میری بھی ایک شرط ہے۔ اسے لگا اسکی شرط پوچھی جائے گی مگر مقابل عمر مجیب تھا جو بناء کہے اسکے دل کی ہر بات ہر خواہش جان لیتا تھا۔ 

ہاں ہاں کھلا دونگا گول گپے وہ بھی کھٹے پانی کے ساتھ جلدی چادر لے آؤ۔

آپ کو کیسے پتہ میں یہ فرمائش کرنے والی تھی؟

ایک ہی تو فرمائش ہوتی ہے تمہاری بازار جاتے ہوئے اب تو اس گھر میں کام کرنے والوں کو بھی تمہاری یہ خواہش ازبر ہو گئی ہو گی۔ مسکرا کے جواب دیتا وہ باہر جانے لگا پھر پلٹا۔

خواتین جلدی کریں آپ لوگ۔ میں باہر گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨✨✨✨

آج مسفرہ کی رخصتی تھی۔ بارات جانے کے لئیے بالکل تیار کھڑی تھی عین ٹائم پر دیا منہ بسورے نیچے آئی۔ 

میں نہیں جارہی کسی شادی وادی میں۔ بآواز بلند بم بلاسٹ کرتی وہ دھپ سے صوفے پر بیٹھی۔ 

واٹ؟ کیوں؟ کیا؟ کس لئیے؟ ایک ساتھ کئی آوازیں گونجیں۔ سب اسکے اس نئے انکشاف پر دنگ رہ گئے۔ وہی تو مسفرہ کو رخصت کروانے کے لئیے سب سے زیادہ پرجوش تھی تو ابھی اچانک کیا ہوا؟ کیوں بیٹا کیوں نہیں جانا؟ ہنیا نے محبت پاش نظروں سے اپنی شہزادی کو دیکھا۔ وہ انہی کا پرتو تھی۔ نین نقش ہر چیز میں انکی کاربن کاپی تھی حتی کہ جلدبازی اور جذباتی پن میں بھی۔ انہوں نے تو پھر شادی کے بعد اپنی عجلت بازی اور جذباتی پن پر قابو پا لیا تھا پر وہ نہیں چاہتیں تھیں کہ دیا خود کو ذرا سا بھی تبدیل کرے۔ وہ انکو اپنی تمام تر حماقتوں سمیت قبول اور عزیز تھی۔ 

ہنی پھپھو میں نے اپنی ساڑھی دی تھی ٹیلر کو وہ اب تک نہیں۔۔۔

دیا تم اب تک نہیں تیار ہوئیں؟ نکلنے کا وقت ہو گیا ہے۔ تمہیں پتہ بھی ہے تمہارے والدِ محترم کتنے زیادہ وقت کے پابند ہیں۔ وہ تمہیں تو کچھ نہیں کہیں گے میری شامت آئے گی۔ اٹھو جلدی سے تیار ہو۔ عجلت بھرے انداز میں کہتی فارہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر لپ سٹک لگانے لگیں۔ 

 میں نہیں جا رہی آپ لوگ جائیں۔ اس نے نروٹھے لہجے میں منہ کے زاویے بگاڑتے کہا۔ لپ سٹک لگاتی فارہ لپ سٹک رکھ کر غصے سے مڑیں۔ 

کیوں نہیں جانا؟  دیا مسئلہ کیا ہے آپکے ساتھ؟ کیوں مجھے ستاتی ہو؟ کیا مجھے تنگ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے؟ اکلوتے بھائی کی شادی ہے پہلے تو خوب شور مچا رکھا تھا اب اچانک کیا مسئلہ لاحق ہو گیا تمہیں؟

مما میں نے آج کے فنکشن پر جو بلیک ساڑھی پہننی تھی وہ اب تک ٹیلر کے پاس سے آئی ہی نہیں اس لئیے مجھے نہیں جانا۔ پھولے منہ کے ساتھ وجۂ عظیم بتائی گئ۔

نہ دیا بیٹے ایسے نہیں کرتے آپ کچھ اور پہن لو ایک ہی ایک تو آپکا بھائی ہے۔ آپکا جانا ضروری ہے۔ ہنیا نے پیار سے ہادیہ کو سمجھایا۔

نہیں ہنی پھپھو مجھے۔۔۔

افف دیا تم بھی نا حد کرتی ہو تمہارے پاس کیا کپڑوں کی کمی ہے؟ وارڈ روب بھری پڑی ہے تمہاری۔ اوپر جاؤ کوئی بھی سوٹ نکالو اور شرافت سے زیب تن کر لو۔

مما مجھے وہی ساڑھی پہننی ہے۔ 

کہہ دیا تو کہہ دیا۔

دیا فضول ضد مت کرو۔ میں منہ توڑ دونگی تمہارا۔ شرافت سے جا کر تیار ہو۔ وہ جو پرپل فراک ہے وہ پہن لو۔فارہ نے اسے بازو پکڑ کر اٹھایا۔

عین اسی لمحے عمر اندر داخل ہوا۔

ماشاء اللہ چشم بدور میرا بیٹا تو دولہا بن کر بہت پیارا لگ رہا ہے۔ فارہ نے دیا کا بازو چھوڑا اور عمر کی بلائیں لینی لگیں۔ وہ ماں کے سامنے آکے جھکا۔ فارہ نے اسے گلے لگایا اور فرطِ محبت سے اسکا ماتھا چوما۔ 

گڑیا آپ نہیں اب تک تیار ہوئیں؟ عمر کی نظر ہادیہ پر پڑی تو ازلی فکرمندی سے اسکی جانب آیا۔

طبعیت تو ٹھیک ہے آپکی؟

بالکل ٹھیک ٹھاک ہے یہ۔ تمہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جواب فارہ کی طرف سے آیا 

کیا ہوا دیا بیٹے؟ عمر واقعی پریشان ہو گیا۔ 

عمر بھائی کچھ نہیں ہوا بس جو ساڑھی اس نے ابھی پہننی تھی وہ نہیں آئی ٹیلر کے پاس سے تو ضد لگا لی ہے وہی پہننی ہے ورنہ شادی میں ہی نہیں شامل ہو گی۔ ثناء نے ہنستے ہوئے بتایا۔ اوہ ہو گڑیا اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے؟ آپ مجھے کہتیں میں لے آتا بلکہ ابھی لاتا ہوں۔ دیا کو تسلی دیتا وہ باہر جانے لگا کہ دروازے پر اسکی شہروز کے ساتھ ٹاکرا ہوا۔ عمر بھائی مجیب چاچو کہہ رہے ہیں سب کو لیکر نکلنے کی کریں۔ 

اوہ۔۔۔ ممی آپ لوگ بارات لیکر نکلئیے میں ساڑھی لا کر دیا کو تیار کروا کر اسے ساتھ لیکر آتا ہوں۔ عمر کی بات پر فارہ کا پارہ ہائی ہو گیا۔

عمر دماغ خراب ہے آپ کا؟ یہ وقت ہے اسکی فضول ضدیں پوری کرنے کا؟ بہت کپڑے ہیں اسکے پاس کوئی بھی پہن لے گی آج وہی ساڑھی نہ پہنی تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی۔ چلو تم نکلنے کی کرو۔ فارہ جذباتی ہو گئیں۔ 

دیا بچے آج تو بخش دو بھائی کو اسکی زندگی کا اتنا اہم ترین دن ہے۔ نادیہ آپی نے دیا کو سمجھانا چاہا۔

نہیں آپا میرے لئیے میری بہن کی خوشی زیادہ اہم ہے۔ اب تو یہ بات ڈن ہے کہ دیا وہی ساڑھی پہنے گی۔ آپ لوگ جائیں ہم پیچھے سے آتے ہیں۔

لو یہ بھی خوب کہی آپ نے عمر۔۔۔ کیا ہم دولہے کے بغیر بارات لیکر جائیں گے؟ ہنیا کی بات پر سب کا قہقہ مشترکہ تھا۔

جی آج بارات دولہے کے بغیر ہی جائے گی ان شاء اللہ۔ حتمی انداز میں کہتا وہ دیا کی ساڑھی لینے چلا گیا۔ باقی سب پیچھے انگشت بدنداں رہ گئے۔ بھائی ہو تو عمر بھائی جیسا کتنی کئیر کرتے ہیں نا دیا آپی کی۔ شازیہ کی بات پر ہنیا نے اسے ٹوکا 

ماشاء اللہ بولو بیٹا محبتوں کو بھی نظر لگ جاتی ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨

دیا مجیب کی چھب ڈھب آج سب سے نرالی تھی۔ آخر دولہا کی اکلوتی لاڈلی بہن جو تھی۔ سیاہ کامدار ساڑھی میں لائٹ سا میک اپ کئیے نفیس سی جیولری پہنے اپنے بے پناہ حسن کی بدولت وہ سب میں نمایاں دکھائی دے رہی تھی۔

محترمہ کس کس پر بجلیاں گرانے کا ارادہ ہے؟ عقب سے آتی شاہ زر کی آواز پر وہ مسکراتی ہوئی پلٹی 

جس پر گرانی تھی اس پر گر چکیں آپ کے سوا اور  کسی پر بجلیاں گرانے کی مجھے تمنا بھی نہیں۔ دوبدو جواب حاضر تھا۔

تو یہ سارا اہتمام میرے لئیے ہے؟ شاہ زر نے نظر بھر کر اسے سر تا پا دیکھتے استحقاق سے پوچھا۔ 

جی! شاہ زر کو فرصت سے خود کو تکتا پا کر اسے ڈھیر ساری شرم نے گھیر لیا۔ 

ہائے بیگم آپ تو غضب ڈھا رہی ہیں جو رنگ پہنتی ہیں وہ آپ پر یوں سجتا ہے گویا قدرت نے ہر رنگ کو تخلیق ہی آپکے لئیے کیا ہے۔ سوچ رہا ہوں ممی سے کہہ کر آج ہی رخصتی کروا لوں میرا تو دل ہی گھائل کر دیا آپ نے۔۔۔ کیا خیال ہے پھر کروں رخصتی کی بات؟ اسنے شرم سے سر جھکائے کھڑی دیا کو چھیڑا۔ اسی اثناء میں سٹیج سے آوازیں آنے لگی۔ 

دیا۔۔۔ دیا۔۔۔

" آئی " اسنے وہیں سے بآواز بلند پکارا۔ اس قدر  شور و غل تھا کہ اسکی آواز دب سی گئی۔ اسنے پلکیں اٹھا کر شاہ کی سمت دیکھا۔

قابو میں رکھئیے اس دلِ ناداں کو سرکار اس سے پہلے کہ یہ مزید بے قرار ہوں میں چلتی ہوں۔

یار رکو ایک تصویر ہی ساتھ بنوا لو۔

شاہ زر نے اسے روکنے کی ناکام کوشش کی۔ 

آتی ہو جناب۔ وہ کہہ کر تیزی سے سٹیج کی سمت بڑھ گئی شاید وہ جلدی میں تھی یا اسکی قسمت ہی خراب تھی۔ اچانک اسکی ہیل رپٹی اسنے اپنا توازن کھو دیا اور سنبھلتے سنبھلتے بھی وہ منہ کے بل گرنے لگی۔ ڈوبتے کو تنکے کے مصداق اس نے برابر میں پڑی ٹیبل کا سہارا لینا چاہا تو اسکا صرف کور ہاتھ میں آیا وہ کور سمیت ہی زمین بوس ہو گئی۔ سب اسکی جانب متوجہ ہو گئے۔ اس قدر بے عزتی، وہ شرمندہ شرمندہ سی اٹھی اور مقابل جو اسکے اٹھنے کا انتظار کر رہا تھا کیونکہ ٹیبل پر پڑا اسکا قیمتی موبائل جو اسنے دو دن پہلے ہی خریدا تھا، وہ بھی دیا کے ساتھ زمین بوس ہوا تھا۔ جتنی دیر اسنے اٹھنے میں لگائی اتنی دیر تک وہ موبائل پکڑ کر الٹ پلٹ کر چیک کر چکا تھا کہ اس کا کچھ نہیں بچا

اور اب اسکے کھڑے ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ جیسے ہی اس کی نظر دیا پر پڑی  غصہ مزید دوچند ہوا۔ 

تم؟ ہادیہ مجیب کیا تم نے قسم کھا رکھی ہے میرا نقصان کرنے کی؟ آنکھیں ہیں یا بٹن فٹ کروا رکھے ہیں؟ بھائی کی شادی میں دیوانی آنکھیں بھی کیا اسی پارلر والی کو ڈونیٹ کر آئی ہیں جس سے یہ منہ پر ڈینٹنگ پینٹنگ کروائی ہے؟ 

اگر گرنا ہی تھا توذرا سائیڈ پر ہو کر یہ شغل پورا فرماتی۔ میری ٹیبل کو پکڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ اب کون بھرے گا میرا نقصان؟ لمحوں میں میرا اتنا مہنگا موبائل فنا کر دیا۔ 

وزن دیکھیں اپنا اور پھر اپنی اس پینسل ہیل کی سمت دیکھیں۔ اپنی  رسوائی کا سامان تو آپنے خود کیا ہے۔ انسان کو اپنی خواہشات سے زیادہ اپنی عزت عزیز رکھنی چاہئیے۔

ارے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا سیکھیں، یہ دنیا گرتے ہوؤں کا ساتھ نہیں دیتی بلکہ الٹا انہیں دھکا مارتی ہے۔۔۔

وہ غصے میں جانے کیا کیا بول رہے تھے۔ دیا سر جھکائے کھڑی سن رہی تھی جب اسنے معافی مانگنے کے لئیے نظر اٹھائی تو بہت سے لوگوں کو اپنی سمت دیکھتا پا کر وہ سیخ پا ہو گئی۔

انف از انف مسٹر ابراہیم یہ کالج کا کلاس روم نہیں جہاں میں چپ چاپ آپکی دی ہر ذلت کو عنایت سمجھ کر ہنس کر سہہ جاؤں۔ یہ میرج ہال ہے اور آج آپ کو یہاں میری فیملی نے مدعو کیا ہے۔ میرے بھائی کی شادی میں تو بہتر ہے کہ آپ شادی کھائیں اور چلتے بنیں۔

کیوں اتنے لوگوں کے درمیان میرا تماشہ بنا رہے ہیں آپکو اپنے موبائل کاغم ہے نا؟ 

تو یہ لیں میرا لاکٹ۔۔۔ اسنے اپنے  گلے سے اپنا ہر دلعزیز ڈائمنڈ کا  لاکٹ پکڑ کر بے دردی سے کھینچ کر اتارا۔ 

یہ پکڑیں اور اس سے اپنا نقصان پورا کر لیں اور خدارا اب یہ تماشہ ختم کریں کیونکہ یہاں میرے سسرالی بھی ہیں اور میں انکے سامنے کوئی تماشہ نہیں افورڈ کر سکتی۔

غصے سے انہیں بے نقط سنانے کے بعد لاکٹ تھما کر وہ تیزی سے سٹیج کی سمت بڑھ گئی۔

پیچھے ابراہیم ہکا بکا کھڑے اپنے ہاتھ میں موجود لاکٹ دیکھ رہے تھے۔ 

کچھ لمحے انہیں ہادیہ کی ٹون سمجھنے میں لگے اگلے ہی پل وہ اسے لاکٹ واپس کرنے اسکے پیچھے لپکے،

تیزی سے سٹیج کی سیڑھیاں چڑھتی دیا ایک بار پھر لڑکھڑائی مگر اس بار پیچھے ابراہیم تھے۔ انہوں نے اسے گرنے نہ دیا فورا سہارا دیا۔

شکریہ کہتے جیسے ہی اسکی نظر ابراہیم پر پڑی وہ غصے سے بے قابو ہو گئی۔

آپ یہاں بھی چلے آئے؟ دے تو دیا ہے لاکٹ کہ بھر لیں اپنا نقصان تو اب کیوں میرا پیچھا کر رہے ہیں؟ میں نے آپکا بگاڑا کیا ہے؟ کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہیں؟ کیوں مجھے رسوا کر رہے ہیں؟ اللہ کا واسطہ ہے جائیں یہاں سے۔ اسنے اپنے دونوں ہاتھ ابراہیم کے آگے جوڑے۔ ابراہیم نے ایک نظر اسے دیکھا پھر چپ چاپ الٹے قدموں وہاں سے پلٹ گئے۔ 

وہ تو چلے گئے مگر دیا کا موڈ خطرناک حد تک خراب ہو چکا تھا۔ وہ چپ چاپ مسفرہ کے ساتھ جا کر بیٹھ گئی۔

یار کیا ہوا ہے؟ آج بھی اتنی سڑی شکل بنا رکھی ہے آج تو تمہاری بیسٹ فرینڈ اور پیارے بھیا کی شادی ہے۔ آج تو تمہیں شادیانے بجانے چاہئیے۔ مسفرہ نے دھیرے سے سر جھکائے جھکائے اس سے موڈ کی خرابی کی وجہ دریافت کی۔

یار کیا کروں یہ سر ابراہیم میری آزمائش بن گئے ہیں۔ جب دیکھو بے عزتی کرتے رہتے ہیں۔ پہلے تو کبھی نہیں اتنی تذلیل کرتے تھے۔ اب پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے پچھلے ایک ماہ سے جان عذاب میں ڈال دی ہے میری۔

یار پہلے تم ہمیشہ ٹاپ کرتی تھیں، اس بار  تم سیکنڈ آئی ہو۔ شادی کے ہنگاموں کی وجہ سے تمہاری پڑھائی ڈسٹرب ہو رہی ہے۔ تم انکی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی شاید اس لئیے ڈانٹتے ہیں ورنہ یہ بات تو سارا کالج جانتا ہے تم انکی پسندیدہ ترین شاگرد تھیں۔ مسفرہ نے اسے سر ابراہیم کے غصے کی وجہ بتائی۔ 

تو یار میں کیا کروں آ گئی سیکنڈ پوزیشن اب۔۔۔

کیا کھسر پھسر چل رہی ہے۔ ایک دوسرے کے کانوں میں کچھ ہمیں میں بتایا جائے۔ ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ چپکے چپکے باتیں کرتا دیکھ کر حناء متجسس ہوئی۔ کچھ نہیں یار بس دودھ پلائی کرنے کا سوچ رہی ہوں۔ 

دودھ پلائی اور تم؟ وہ تو مسفرہ کی بہن کرے گی نا؟ حناء کو دیا کے جواب پر حیرت ہوئی۔ 

تو کیا ہوا دونوں مل کر کریں گے۔ میں بھی تو مسفی کی بہن ہوں۔ ہادیہ نے پیار سے مسفرہ کے ساتھ اپنا سر جوڑا۔ 

اللہ محبتیں سلامت رکھے۔ فارہ نے یوں انہیں ساتھ بیٹھے دیکھا تو دل سے دعا دی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨✨✨

بارات پر جسے دیکھو وہ دولہن سے زیادہ دیا کے قصیدے پڑھ رہا تھا اور وہ ہر ایک سے اپنی تعریف حق سمجھ کر وصول کر رہی تھی۔ ایک جانب وہ مسفرہ کی بہن بنی دودھ پلائی کے پیسوں پر جھگڑا کرتی دکھائی دی اور کچھ ہی گھنٹوں کے بعد وہ عمر کے کمرے کے آگے دروازہ روکے کھڑی تھی۔ 

لائیں گیٹ رکائی؟ اسنے ہتھیلی پھیلائی عمر کی آنکھیں باہر کو ابلیں۔ 

دیا بھائی کو اندر آنے دو مت ستاؤ۔ فارہ نے اندر سے آواز لگائی مگر وہ جوں کی توں راستہ روکے کھڑی تھی۔ 

تم تو سالی تھیں نا؟ عمر نے اسے یاد کروانا ضروری سمجھا۔ جی جی وہ سالی میں ہال تک تھی یہاں تو میں آپکی بہن ہوں نا؟ جلدی کہجئیے اندر میری دوست آپکا ویٹ کر رہی ہے اور آپ یہاں بحث میں لگے ہیں۔ دلکش انداز میں مسکراتی وہ تو آج عمر کا دیوالیہ نکالنے پر تلی تھی۔ 

عمر نے جیب سے پورا والٹ نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ وہ والٹ لیکر بچوں کی طرح اچھلتی ہوئی خوشی سے بھاگی۔ ساری کزنز اسکے پیچھے پیچھے دوڑ گئیں اور عمر مسکرا کر سر جھٹکتا اپنے کمرے کی سمت بڑھ گیا۔

جو حال بارات والے دن تھا وہی ولیمے والے دن بھی تھا۔ سب کی زبان پر دیا کہ حسن کے چرچے تھے۔ آج اسنے پیچ کلر میں میکسی پہنی تھی۔ میک اپ کے نام پر لائٹ سی نیچرل رنگ کی لپ سٹک لگائی تھی۔ اسکے باوجود اسکا چہرہ دمک رہا تھا اور گال گلابی لگ رہے تھے گویا بلش آن لگایا ہو حالانکہ اسنے آج کچھ نہ لگایا تھا۔

اسکے باوجود اسے نظر لگ گئی اور ولیمے سے واپسی پر اچانک وہ ہال کے باہر بے ہوش ہو کر گر گئی۔ عمر نے فورا دیا کو گود میں اٹھایا اور لیکر ہاسپٹل بھاگا۔ مجیب صاحب کی توجان پر بن گئی۔ فوری صدقہ نکالا۔ انکی ہر سانس دیا کی سلامتی کے لئیے دعاگو تھی۔ وہ بار بار عمر کو کال کر رہے تھے۔ 

 تفصیلی معائنے کے بعد ڈاکَٹر نے جب یہ بتایا کہ کوئی بڑی بات نہیں بس بی پی لو ہونے کی وجہ سے چکر کھا کر گری تھی تو عمر کی جان میں جان آئی۔ اسنے مجیب صاحب کو کال کی آپ سب لوگوں کو لیکر گھر واپس جائیں۔ میں اور دیا گھر ہی آ رہے ہیں، ہاسپٹل آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ دیا اب ٹھیک ہے مجیب صاحب کو حوصلہ ہوا

پھر جب دیا ہاسپٹل سے واپس گھر آئی تو مجیب صاحب اور عمر ساری مصرفیات پسِ پشت ڈالے اسکے سرہانے بیٹھے تھے۔ فارہ بھی بےحد پریشان تھیں۔ کبھی جوس دیتیں تو کبھی دودھ سر پر لئیے کھڑی ہوتیں۔

یار کیا ہو گیا ہے آپ لوگوں کو؟ میں ٹھیک ہوں دیا نے نقاہت ذدہ آواز میں بولا۔ 

جتنی تم ٹھیک ہو آواز سے پتہ لگ رہا چپ کر کے یہ دودھ پئو پھر میڈیسن کھا کر کپڑے چینج کر کے سو جانا۔ انہوں نے پیار سے اسکے بال پیچھے کئیے۔ 

اتنے میں مسفرہ اندر آئی۔

عمر بات سنئیے گا۔ اسنے دیا کے سرہانے بیٹھے عمر کو پکارا۔ یار کیا بات ہے یہیں پر بتا دو۔ عمر پر عجیب سے جھنجھلاہٹ طاری تھی۔ وہ دیا کے لئیے از حد فکرمند تھا۔ 

عمر امی آپکو اور مجھے لے جانا چاہتی ہیں۔ 

حد کرتی ہوں مسفی، دیا یہاں بیمار پڑی ہے اور تمہیں ہری ہری سوجھ رہی ہے۔ منع کر دو امی کو کہ جب تک دیا بیمار ہے میں کہیں نہیں جاؤنگا۔ تمہیں جانا ہے تو جاؤ۔ وہ غصے سے بآواز بلند بولا۔

نہیں میں بھی نہیں جاؤنگی۔ امی کو منع کر دیتی ہوں۔آہستگی سے کہتی وہ باہر نکل گئی۔

عمر حد کرتے ہو تمہیں جانا چاہئیے یار۔ مجیب صاحب نے اسے سمجھایا۔

جی بھائی آپ جائیں میرے پاس مما بابا ہیں۔ دیا نے بھی اسے جانے کا مشورہ دیا۔

مجھے کہیں نہیں جانا تم چپ کر کے آنکھیں بند کر کے لیٹ جاؤ۔ اسنے دیا کو مصنوعی خفگی سے گھورا۔

مسفی جب اپنے کمرے میں لوٹی تو اس کا منہ بنا ہوا تھا۔ 

کیا ہوا بیٹا؟ تم تو غالبا عمر کو لینے گئ تھیں نا؟

جی امی! گئی تھی بلانے مگر وہ میری سنیں تب نا۔ اپنی بہن کے پلو سے بندھ کے بیٹھے ہیں۔ صاف منع کر دیا کہ کہیں نہیں جانا۔

کیوں بیٹا؟ یہ تو رسم ہوتی ہے، ہر لڑکی جاتی ہے۔ 

رہنے دیں امی یہ لوگ صرف مطلب کی رسمیں مانتے ہیں۔ دیکھا نہیں بہن نے ہر رسم، ہر شوق پورا کیا ہماری دفعہ یہ ہوتا کہ رسم کوئی نہیں کرنی اور جہاں تک جانے کی بات ہے تو ہر لڑکی اس لئیے جاتی ہے کیوں کہ ان کے شوہر انکی تمام خواہشات پوری کرتے ہیں یہاں تو یہ حال ہے کہ میرے شوہر کے دل و دماغ سے انکی لاڈلی بہن چپکی ہے۔ جب سے آئی ہوں دیا دیا کی رٹ سن کر عاجز آ چکی ہوں

اور ان محترمہ کو دیکھیں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔ اپنی اہمیت بڑھانے کے لئیے اب نیا ڈھونگ رچایا۔ میری ساری خوشیاں غارت کر دیں۔ اس قدر بغض تھا اس کے دل میں ہادیہ کے لئیے کہ وہ بناء کسی کی پروا کئیے زہر اگل رہی تھی، یہ بھی نہیں سوچ رہی تھی کہ اگر کسی سسرالی نے سن لیا تو کیا ہو گا۔ اسے شروع سے دیا سے بہت حسد محسوس ہوتا تھا کیونکہ جہاں دیا ہوتی اسکی ذات پسِ پشت چلی جاتی اور ہر لب پر بس دیا ہی دیا ہوتا۔ اگر دیا کو معلوم ہوتا کہ مسفرہ اس سے اتنی نفرت کرتی ہے تو وہ  اسے اپنی بھابھی بنانے کی حماقت کبھی نہ کرتی۔ 

رافعہ بیگم مسفرہ کی حماقت پر سر پیٹنے لگیں۔ 

بیوقف لڑکی ایسے کھلے عام سسرال میں ہر بات نہیں کی جاتی، دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں اور کوئی ضرورت نہیں روزِ اول سے دیا سے بیر باندھنے کی۔ ابھی سے اسکے خلاف محاذ نہ کھڑا کرو۔ اسکی جڑیں اس گھر میں بہت مضبوط ہیں۔ کہیں اسے نیچا دکھانے کی کوشش میں خود نہ ہار جانا۔ مت بھولو تم اسکی خواہش پر ہی اس فیملی کا حصہ بنی ہو ورنہ کہاں تم اور کہاں عمر جیسا شاندار بندہ۔۔۔ بس آہستہ آہستہ عمر کو اپنے پیار کی ڈور میں باندھو پھر دھیرے دھیرے دیا کا پتا کاٹنا۔ آئی سمجھ؟

انہوں نے بجائے بیٹی کہ سرزنش کرنے کے الٹا اسے غلط پٹی پڑھائی۔ 

اوکے امی۔ ابھی تو آپ جا کر اس مہارانی کا پتہ لے آئیں۔ نہیں تو ایک اعتراض یہ بھی کھڑا ہو جائے گا تمہاری امی نے میری بہن کی خیریت نہیں دریافت کی۔ اسنے منہ بسورتے انکی توجہ دیا کی ناسازئ طبع کی جانب مبذول کی۔ 

ٹھیک ہے میں پتہ لیتی ہوں ہادیہ کا تمہارے میاں جی کے تو کمرے میں آنے کے کوئی آثار نہیں نظر آ رہے تم اب کپڑے تبدیل کر لو کب تک اتنا وزنی سوٹ پہنے بیٹھی رہو گی۔

اچھا امی کر رہی ہوں آپ جائیں۔ سر جھٹک کر وہ اپنی سیلفیاں لینے لگی۔ رافعہ بیگم دیا کے کمرے کی جانب چل دیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨✨✨

شادی کے فورا بعد ہی شاہ زر کو یونیورسٹی کی جانب سے کال موصول ہوئی کہ دس تاریخ کو اسکے پیپرز ہیں۔ اسنے ہنیا سے واپسی کا کہا تو انہوں نے منع کر دیا۔ 

شاہ بیٹے تم جاؤ دیا کے ابھی کاغذات نہیں بنے میں اسے چھوڑ کر نہیں جاؤنگی۔ بہو کو رخصت کروا کر اسے ساتھ لیکر ہی اب واپس جاؤنگی ویسے بھی اتنے عرصے بعد واپس لوٹی ہوں تو میرا دل نہیں چاہ رہا اتنی جلدی واپس جانے کا ابھی کچھ عرصہ میں اور رکنا چاہتی ہوں۔

اوکے پھر آپ رکیں اگلے ماہ میں آکر آپ دونوں کو لے جاؤنگا۔ اسنے مجبورًا ایک ہی ٹکٹ بک کروا لی اور واپسی کے لئیے رختِ سفر باندھا۔ آج اسکی روانگی تھی۔ 

صبح سے ہی دیا بات بے بات سب سے الجھ رہی تھی۔ کبھی کسی کو ڈانٹتی کبھی کسی سے لڑتی اور نہیں تو چھپ چھپ کر آنسو پونچھتی۔ دیکھتے کے دیکھتے شام کے پانچ بج گئے اور وقتِ جدائی آگیا۔ سب سے ملکر شاہ زر نکلنے لگا تو اسنے ادھر ادھر نظر دوڑائی دیا کہیں نہ تھی۔

بیٹے دیا اپنے روم میں ہے مل لو۔ فارہ نے اسکی بے چینی بھانپ لی۔ وہ کھسیاتا ہوا ہادیہ کے کمرے کی طرف آگیا۔ دروازہ مقفل تھا شاہ زر نے دروازہ بجایا مگر دستک کا کوئی جواب نہ آیا۔

دیا۔۔۔ دیا۔۔۔ اسنے عجلت بھرے انداز میں اسے پکارا

 جواب ندارد۔

دیا یار دروازہ کھولو میں جا رہا ہوں۔ شاہ زر اب جھنجھلا سا گیا تھا۔

جائیں شاہ الوداع میں نے آپ کو رب کی امان میں دیا۔ اس بار رندھی سی آواز باہر آئی مگر دروازہ اب بھی نہ کھلا۔ 

شاہ زر نے محسوس کر لیا کہ وہ رو رہی ہے۔ 

دیا میں ہمیشہ کے لئیے تو نہیں جا رہا بہت جلد تمہیں لینے آؤنگا۔ کیا تم میرا انتظار کرو گی؟

شاہ انتظار موت سے بھی شدید تر ہوتا ہے مگر میں آپکا کرونگی۔ بس لوٹنے میں دیر مت کر دیجئیے گا۔ 

اچھا دروازہ تو کھولو یار آخری بار تو اپنی شکل دکھا دو۔ مجھے چھوڑنے ائیر پورٹ نہیں جاؤ گی؟

نہیں شاہ مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ خود کو آپ سے دور جاتا دیکھ سکوں، آپ جائیے۔ خود پر ضبط کے پہرے بیٹھاتی وہ ہلکان ہو رہی تھی۔

اوکے پھر میں جارہا ہوں۔ رونا نہیں، میں بہت جلد واپس لوٹوں گا اور فون پر بھی رابطے میں رہوں گا۔

اوکے شاہ۔ فی امان اللہ۔ اسنے اسے جانے کا عندیہ دے دیا اور جب کچھ سیکنڈ بعد اسے شاہ زر کے قدموں کی چاپ اپنے دروازے سے دور ہوتی محسوس ہوئی تو اس کا دل چاہا وہ آواز لگا کر اسے روک لے۔ اسکا دل عجیب واہموں اور اندیشوں کی زد میں تھا۔ اسے لگا اس بار اگر اسنے شاہ کو جانے دیا تو پھر وہ کبھی لوٹ نہ پائے گا۔ اسنے اسے پکارنا چاہا پر اسکی آواز حلق میں ہی گھٹ گئی

اور وہ تکیے میں منہ دیے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ✨✨✨


شاہ کے جانے کے بعد دیا بہت اداس تھی۔ ہنیا اور فارہ سمجھ گئیں تھیں کہ دیا اتنی چپ چپ کیوں رہنے لگی ہے تو اس کا دل بہلانے کے لئیے ہنیا نے ایک رات کھانے کی میز پر اچانک اعلان کر دیا کہ وہ ہادیہ کو ساتھ لیکر شمالی علاقہ جات جانا چاہتی ہیں۔ 

انکا خیال تھا دیا کا دل بھی بہل جائے گا اور ماحول بھی بدل جائے۔ 

پھپھو نیک کام میں دیر کیسی؟ میں تو خود یہی چاہ رہا تھا آپ نے تو دل کی بات کہہ دی۔ عمر نے نوالہ منہ میں ڈالتے خوشی کا اظہار کیا۔

ارے اب کہاں تم ہمارے ساتھ جا کر خوشی محسوس کرو گے؟ تم ہمیں چھوڑو بیوی کو گھمانے لے جاؤ۔ 

پھپھو وہ تو جانا ہے عمرے پر، ابھی فی الوقت سب مل کر نادرن ایریاز گھومنے جاتے ہیں۔ 

بیوی کے ساتھ نہیں مجھے سب کے ساتھ مل کر سیر سپاٹے کا زیادہ مزہ آتا ہے۔ عمر نے ہنیا کی تردید کی مسفرہ کا منہ بن گیا۔

اوکے پھر مجیب بھائی اس ویک اینڈ پر نکلیں گھمنے پھرنے؟

جیسے آپ سبھی کا خیال ہو مجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔

خاموشی سے کھانا کھاتے مجیب صاحب نے بھی فورًا ہامی بھر لی۔ 

میں تو کسی صورت نہیں جا سکتی پھپھو میں بھائی کی شادی پر کالج سے بہت چھٹیاں کر چکی، اب ایک بھی کی نا تو سر وہاب مجھے کالج سے نکال باہر کریں گے۔ 

دیا بیٹے ان سے میں خود اجازت لے لونگا۔ مجیب صاحب نے اسکی مشکل کا حل پیش کیا کیونکہ وہ جانتے تھے دیا گھومنے پھرنے کی شوقین ہے۔ ابھی بھی انہوں نے صرف اسکی اداس صورت دیکھ کر جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

اوکے بابا جانی یاد سے سر کو بتا دیجئیے گا۔ میں تیاری کرتی ہوں جانے کی۔ وہ کھانا درمیان میں چھوڑ کر بھاگی۔

دیا بیٹے کھانا تو مکمل کر لو۔ فارہ نے اسے آواز دی۔ 

ماما میں نے کھا لیا آپ لوگ کھائیں۔ انہیں جواب دیتی وہ اپنے روم کی سمت بھاگی۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ زور و شور سے جانے کی تیاریاں کر رہی تھی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ اسکی قسمت اسے رسوا کرنے کے لئیے اتنی دور گھسیٹ کر لے جا رہی ہے۔ 

اگلے ہفتے دو گاڑیوں پر مشتمل یہ قافلہ تیزی سے منزلِ مقصود کی جانب رواں دواں تھا۔ 

ایک کار میں مسفرہ اور عمر تھے۔ دوسری گاڑی میں دیا، مجیب صاحب، فارہ اور ہنیا تھیں۔ 

دونوں گاڑیاں ناگن کی طرح بل کھاتی سرمئی سڑک پر تیزی سے سفری منزل عبور کر رہی تھیں۔ 

اسلام آباد سے آگے کے علاقے تو بہت ہی زیادہ خوبصورت تھے۔

قطار در قطار بادلوں سے باتیں کرتے اشجار بلند و بالا کوہسار، نگاہوں کو خیرہ کرتی حسین وادیاں ہر شے سے رحمان کی کاریگری ٹپک رہی تھی۔

بہتے جھرنے، تاحد نگاہ سرو و صنوبر کے درخت اور کہساروں پر کھلے پھول بے اختیار سبحان اللہ کہنے پر مجبور کر رہے تھے۔ 

حسیں چشمے ہرے بھرے پہاڑ اور درختوں پر بیٹھے خوبصورت پنچھی اور ہرے پہاڑ فردوسِ بریں کے خالق کے ہنر کا منہ بولتا ثبوت فطرت کی عکاسی کر رہے تھے۔ نیلگوں فضاء میں تیرتے بادل موسم کو مزید حسین تر بنا رہے تھے۔ دیا بےحد پرجوش تھی۔ وہ کھڑکی سے گردن باہر کئیے خوب اچھل اچھل کر واؤ، ماشاء اللہ اور ہائی اللہ کے نعرے لگا رہی تھی۔ 

دیا بیٹے سر اندر کرو۔ مجیب صاحب کے سمجھانے پر اس نے ناچاہتے ہوئے بھی سر اندر کر لیا۔ 

اچانک ہی ایک خوبصورت چشمہ دیکھ کر وہ چینخی۔ 

بابا جانی وہ دیکھیں کتنا پیارا چشمہ ہے نا؟ اس ناداں کو یہ نا پتہ تھا کہ ناگن کی مانند بل کھاتی یہ سڑک پھن پھیلائے کھڑی ہوتی ہے، ذرا کوئی چوکا تو گہری کھائی منتظر ہوتی ہے اور ایسی اونچی نیچی راہوں پر بلندیوں کا سفر طر کرتے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص کو مناظر نہیں دیکھایا کرتے۔ اس کی اس قدر پرجوش آواز پر مجیب صاحب کی نگاہ بھٹکی اور آن واحد میں گاڑی سامنے موجود پہاڑ سے ٹکرائی اور اگلے ہی لمحے گہرائیوں میں لڑھکتی چلی گئی۔

وہ بہت زیادہ بلندی پر تھے اور یہی قدرت کا اصول ہے جہاں بلندیوں کی انتہاء ہو وہیں سے پستیوں کا سفر شروع ہوتا ہے کہ جب کوہِ پیما پہاڑ کی ٹاپ پر پہنچ جائے تو واپسی لازم ہوتی ہے۔ ہر عروج کو زوال ہے۔ 

انکی گاڑی مختلف پہاڑوں اور درختوں سے ٹکراتی تیزی سے مسلسل کھائی میں اترتی چلی جا رہی تھی۔ گاڑی کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی تھی۔ دروازہ ٹوٹ چکا تھا۔  بیرونی توڑ پھوڑ جو تھی وہ الگ تھی، اندر چینخوں کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ اگلے ہی لمحے گاڑی میں آگ لگ گئی۔ 

ہر سو کہرام بپا تھا۔ دنیا سے قیامت دور تھی مگر دنیاوی قیامت آ چکی تھی۔ 

بلندی سے تنزلی کا سفر اس قدر اذیت ناک ہوتا ہے، گاڑی میں موجود لوگوں نے یہ پہلی بار جانا لمحے کی خطا نے چار جانوں کی زندگی یکمشت ہلاکت میں ڈال دی 

اور دیا نے تو اپنی زندگی میں لاڈ آسائش ہی دیکھے تھے۔ پہلی بار وہ زندگی کے اندوہناک حادثے سے دوچار ہوئی اسکی حالت متغیر ہونے لگی۔ اس نےعروج سے زوال کا سفر پہاڑوں پر لڑھکتے ہوئے کیا۔ زوال کس بلا کا نام ہے یہ اسے اس پل اچھے سے سمجھ آ رہا تھا۔

دیا دیا۔۔۔ فارہ کو ابھی بھی اسی کی پڑی تھی۔ 

وہ سب بال کی مانند ٹھوکروں کی زد میں تھے۔ گاڑی میں شور تھم گیا تھا۔ اب صرف دیا کی چینخیں سنائی دے رہی تھیں۔ کافی دیر بعد گاڑی ایک درخت سے ٹکرا کر رک گئی۔ دیا کو چند لمحے لگے خود کو سنبھالنے میں پھر اسنے اپنے حواس پر قابو پاتے فارہ، مجیب صاحب اور ہنیا کو پکارا۔ 

اسکی آوازیں گاڑی کی ٹوٹی پھوٹی دیواروں سے َٹکرا کر واپس پلٹ آئیں۔

ماما بابا۔۔۔ پھپھو وہ اپنی تکلیف بھلائے چلا چلا کر ان تینوں کو پکار رہی تھی مگر جواب ندارد اسے کچھ غلط انہونی کا احساس ہوا اور یکدم اسکا دل ڈوب کر ابھرا۔

ماما۔۔۔ ماما۔۔۔ بابا۔۔۔ وہ ہذیانی کیفیت کا شکار دہری حالت میں ہی انہیں بلا رہی تھی۔ اسکی پہلی پکار پر جواب دینے والے آج خاموش تھے۔ 

ہیلپ می۔۔۔ پلیز کوئی ہے؟ وہ چلائی اسکے گلے میں خراشیں پڑنے کی وجہ سے بے پناہ تکلیف ہو رہی تھی۔ اچانک اسے کراہ کی آواز آئی اسنے پلٹ کر دیکھنا چاہا مگر بےبسی اتنی کے اپنی گردن کو جنبش تک نہ دے سکی۔ بار بار کوئی کراہ رہا تھا۔ ملبے اور انسانی اعضاء کے نیچے دبی دیا نے اپنی تمام تر ہمت جمع کرتے نگاہ پھیری تو وہ دھک سے رہ گئی۔ اسکی نگاہوں کے سامنے فارہ کا مسخ لاشہ تھا۔ انکا سر ڈھڑ سے جدا اور جسمانی اعضاء بکھرے پڑے تھے۔ ہر طرف خون خرابہ، آگ اور وحشت تھی۔ وہ چلائی اور اسنے اٹھنے کی ناکام کوشش کی مگر وہ اس بری طرح دبی ہوئی تھی کہ اٹھ ہی نہ پا رہی تھی۔ 

بابا۔۔۔ پھپھو۔۔۔ اللہ۔۔۔ وہ رو رہی تھی۔ خون وہاں پانی سے بھی ارزاں تھا۔ اسکے چہرے پر اشک اور لہو یکساں تھے۔ کوئی فرق نہ تھا دونوں میں۔۔۔ انسانی گوشت کے جلنے کی ناگوار بو ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ اسے اپنے بائیں گال اور کندھے پر تپش کا احساس ہوا، اسکا گوشت کھال جھلس رہی تھی۔ اسنے جلنے کی اذیت سے بےچین ہو کر منہ موڑا تو وہ دنگ رہ گئی۔ اسکی دائیں جانب مجیب صاحب موجود تھے۔ جنکا پورا چہرا خون میں نہایا ہوا تھا۔ انکی بھی نظر دیا پر پڑی بےبس سی نظر، آنکھوں میں آنسو وہ دیا کی ہی جانب دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے اپنا ہاتھ دیا کی جانب بڑھانے کی کوشش کی گویا آخری لمحے بھی انہیں اسی کی فکر تھی۔ پھر بےبسی و تکلیف سے انہوں نے آنکھیں میچ لیں۔ 

بابا۔۔۔ باباجانی۔۔۔ اسکی آواز بیٹھ چکی تھی۔

دد۔۔۔ دی۔۔۔ وہ شاید اسے پکار رہے تھے مگر موت نے مہلت ہی نہ دی۔ آخری ہچکی لیتے انہوں نے جان جانِ آفریں کی سپرد کر دی۔ انہیں اپنی نگاہوں کے سامنے مرتے دیکھ کر دیا ہذیانی ہو گئی۔ اسنے فل طاقت لگا کر خود کو باہر نکالنا چاہا۔ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ یہ اندوہناک حادثہ عفریت کی مانند اسکے سب پیاروں کو نگل چکا ہے تو اب وہ خود کو بچانا چاہتی تھی جان تو سب کو پیاری ہوتی ہے تو اسنے سوچا آخری کوشش کر ہی لی جائے۔ اگرچہ اسے یہ سب عبث لگ رہا تھا۔ اسنے خود کو مکمل زور لگا کر کھینچا پر وہ دھک سے رہ گئی، جب اسے اپنی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹی اور گوشت لٹکتا دکھائی دیا۔ اسنے جنونی ہو کر گوشت کے ان ٹکڑوں کو نوچ کر خود سے الگ کیا۔ اسکا چہرہ، بال اور بازو جل چکا تھا۔

اسنے خود پر سے گاڑی کے ٹکڑے پتھر اور اپنی ماں اور پھپھو کے اعضاء دور پھینکے اور اٹھنے کی کوشش کی کہ شاید کسی طرح وہ اس جلتی قبر سے چھٹکارا پا سکے مگر بےسود۔ 

نہ اس ویرانے میں کوئی مدد کو آ رہا تھا اور نہ وہ خود وہاں سے نکل پا رہی تھی۔ اب موت ہی میرا مقدر ہے۔ 

گاڑی سے اٹھتے دھویں سے اسے بری طرح کھانسی کا غوطہ لگ گیا۔ شعلے اب بھی آسماں کی جانب بلند ہو رہے تھے۔ 

اللہ رحم۔۔۔ خدایا میں جینا چاہتی ہوں۔۔۔ اللہ۔۔۔ اسنے کرب کی انتہاؤں پر رب کو پکارا۔

اسے نہیں معلوم تھا وہ اپنے لئیے موت سے بدتر زندگی طلب کر رہی ہے اور وہ زندگی اسے دان دی جائے گی تو وہ موت کی تمنا اور آرزو کرے گی۔ 

  اللہ سے مدد مانگتے اسنے زندگی میں پہلی بار خود کو اندھیروں کی سپرد کر دیا اور ہوش وخرد سے بیگانہ ہو گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨

اسے نہیں معلوم تھا کہ اسکی جان کیسے بچی وہاں جلتی گاڑی سے اسے کس نے نکالا۔ جب اسکی آنکھ کھلی تو اسنے خود کو پٹیوں میں جکڑا پایا۔ 

کچھ دیر تو وہ غائب دماغی اور خالی الذہنی کی کیفیت میں ہسپتال کے در و دیوار کو تکتی رہی پھر آہستہ آہستہ اسکی یادداشت واپس آنے لگی۔ ذہن کے پردے پر ہنیا کا خون سے تر چہرا ابھرا شاید وہ پھپھو کا ہی بازو تھا جو اسنے خود پر سے ہٹا کر پھینکا تھا۔ اگلے ہی پل اسے فارہ کا تن سے جدا سر اور مسخ دکھائی دیا۔

اسے لگا کوئی اسکی دائیں جانب کراہ رہا تھا۔ اسنے گردن موڑنا چاہی تو اسکی گردن جکڑی ہوئی تھی۔ اسنے طاقت لگا کر منہ موڑا سامنے مجیب صاحب تھے اور انہوں نے اسکے سامنے آخری ہچکی لی۔ 

اگلے منظر میں وہ خود کو بچانا چاہ رہی تھی۔ وہ آگ اسے چاروں طرف سے لپیٹ رہی تھی، وہ اٹھنا چاہ رہی تھی مگر اسکا وجود اسکا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ 

بچاؤ بچاؤ۔۔۔ وہ حلق کے بل چلائی، پاس بیٹھا، عمر گڑبڑا کر اٹھا اور اسے گلے لگا لیا۔ 

بچاؤ بچاؤ۔۔۔ وہ اپنی ڈرپ نوچ رہی تھی۔

دیا تم محفوظ ہو۔۔۔ دیا ادھر دیکھو۔۔۔ میں عمر ہوں۔۔۔ دیا دیا۔۔۔ عمر اسکا گال تھپتپا رہا تھا۔ اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرتا، اپنی پہچان کروا رہا تھا مگر وہ مسلسل چینخے جا رہی تھی حتیٰ کہ چینختی چینختی ہوش و خرد سے بیگانی ہو گئی۔ 

عمر نے بےبسی سے سر تھام لیا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨✨

دو ماہ بعد وہ ہاسپٹل سے ڈسچارج ہو گئی۔ اسے پٹیوں اور نلکیوں سے نجات مل گئی۔ وہ گھر تو آ گئی مگر اپنے اندر کی دیا کو بہت دور اس جلتی قبر میں راکھ کر آئی۔ اس حادثے میں اسنے بہت کچھ کھو دیا۔ اپنے ماں باپ، اپنی پیاری پھپھو، اپنے وجود کے کئی حصے، اپنا بے پناہ حسن اور اپنی عزت، انا اور غرور۔۔۔ سب کچھ ہی تو وہ اس خاک و خون کے دریا میں بہا آئی تھی۔ تہی داماں، تہی دست وہ خالی ہاتھ گھر لوٹی۔ وہ نہ جانتی تھی لذتوں کے ختم ہونے اور حسن کے فنا ہونے میں بس لمحہ لگتا ہے۔ 

وہ گھر آئی تو مسفرہ نے اسے نیچے ٹھہرایا۔ 

بھائی میں اپنے کمرے میں رہونگی۔

دیا اب تم معذور اپاہج ہو، تمہارا نیچے رہنا بہتر ہے تم کیسے اوپر جاؤ گی؟ اوپر والا کمرہ میں نے نئے مہمان کے لئیے سیٹ کروا دیا ہے۔ مسفرہ امید سے تھی۔ اسنے رسان سے دیا کو سمجھایا۔ آن واحد میں وہ اپنے کمرے سے درد بدر کر دی گئی۔ وہ کمرہ جسے قصرِ ہادیہ کا سب سے خوبصورت کمرہ ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ وہ اسکی پیدائش سے قبل بہت پیار سے مجیب صاحب نے خود سجوایا تھا، جہاں دیا کا بچپن اور جوانی بکھری پڑی تھی۔ ہر شے سے کوئی نہ کوئی یاد وابستہ تھی۔ اسکے کمرے کی کھڑکی سے پورے شہر کی رونق دکھائی دیتی تھی۔ جہاں سے قصرِ ہادیہ کا باغ، فوارہ، سوئمنگ پول سب دکھائی دیتا تھا۔ 

دل پر پتھر رکھتے وہ اپنی پہلی چیز سے دستبردار ہوئی اور پھر یہ سلسلہ چل ہی نکلا۔ چند ہی ماہ میں وہ زیست کے بدترین روپ سے روشناس ہوئی۔

ابتداء میں عمر گھنٹوں گھنٹوں اس کے پاس بیٹھا رہتا۔ اسے نبیوں اور صحابہ کے قصے اور انکی آزمائشات کے قصے بتاتا اور اسے صبر کی تلقین کرتا، اسکے آنسو پونچھتا۔ 

جب وہ اسے صبر کا مشورہ دیتا، وہ تڑپ کر پوچھتی۔

بھائی صبر؟ کیسے کروں صبر؟ بھائی صبر کا درس دینا آسان ہے، ہر کوئی مصیبت زدہ کو یہی کیوں تلقین کرتا ہے؟ جبکہ صبر کرنا بے پناہ مشکل ہے۔ اصل میں یہ اپنی ذات کی نفی کا نام ہے۔ 

پھر بھی دیا صبر کرو، صبر سے رب کی مدد آتی یے 

تو وہ مدد تب کیوں نہ آئی جب میں چینخ چینخ کر رب کو پکار رہی تھی؟ اسنے میرے ماں باپ کو کیوں نہ بچایا؟ اسنے مجھے معذور کیوں کیا؟ بھائی صرف میں ہی کیوں؟ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔

دیا جنہیں وہ چننا چاہتا ہے انہی کو آزمائشات میں ڈالتا ہے۔ وہ تمہارے درجے بڑھانا چاہتا ہے۔ تم ایک برتن، ایک سوٹ بھی لو تو اچھی طرح ٹھوک بجا کر چیک کر کے لیتی ہو تو کیا تمہارے رب کو اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ تمہیں جانچ سکے؟ بیٹا صبر کرو، اللہ کی مدد صبر کے ساتھ ہے۔ صابرین کے ساتھ انکا رب ہوتا ہے۔

بھائی پتہ ہے آپ مجھے صبر کی نصیحت کیوں کر رہے ہیں؟ آپ نے مما کی چینخیں اپنے کانوں سے نہیں سنی۔ سن لیتے تو بہرا ہونے کی خواہش کرتے۔ آپنے انکا دھڑ سے جدا سر اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، دیکھ لیتے تو اندھا ہونے کی حسرت کرتے۔ بھائی آپکے سامنے باباجانی نے آخری ہچکی نہیں لی، اس روح فرسا منظر کی میں چشم دید گواہ ہوں۔ واللہ آخری لمحات میں بھی  وہ مجھے تک رہے تھے۔ یہاں تک کہ انکی بصارت بے جان ہو گئی۔

بھائی وہ جلتی چتا، کٹے پھٹے لاشے، بکھرا خون، وہ کراہیں، آہیں، چینخیں۔۔۔ آپنے کبھی انسانی گوشت کے جلنے کی بو سونگھی؟ 

آپ کیا جانیں وہ اذیت کیا تھی؟ جب میں اپنے ہی وجود سے اپنے گوشت کی بوٹیاں نوچ نوچ کر خود سے جدا کر رہی تھی۔ 

آپ نہیں جانتےجب اپنا ہی جسم معذور ہو جائے اور اپنا ہی بوجھ اٹھانے سے انکار کر دے تو دل پر کیا بیتتی ہے۔ جب اپنی ہی ہستی بےمول ہوجائے، سارا طنطنہ و غرور خاک میں مل جائے۔ آپ اتنے بےبس ہو کہ اپنی مرضی سے اپنے جسم کو جنبش تک نہ۔۔۔

دیا بس کر دو۔ تمہاری ان باتوں سے میرا دل پھٹتا ہے۔ گڑیا غم کی انتہا پر صبر کا اجر بھی تو دگنا ہے۔ ماما بابا کی موت یونہی لکھی تھی۔ اجل نے ازل سے یہی طے کر رکھا تھا۔ عمر نے اسے دلاسہ دینے کی ناکام کوشش کی۔ اتنے میں مسفی چلی آئی۔

یہ لیں سوپ۔ پلا دیجئیے گا اپنی لاڈلی بہنا کو۔ اب مجھ میں بار بار گرم کرنے کی ہمت نہیں۔ عجیب نحوست پھیلا رکھی ہے محترمہ نے۔ گھر میں ہر وقت رونا دھونا، نوحے، بین، صبر بھی کسی چیز کا نام ہوتا ہے۔

دائمی نحوست ہے یہ اور آپکو بھی بس اسکے آنسو پونچھنے کے سوا کوئی کام نہیں۔ اب آپ اکیلے نہیں۔ آپ پر میری اور ہمارے ہونے والے بچے کی بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ جب دیکھو بہن کے سرہانے بیٹھے ہوتے ہیں۔ سوپ تقریبا پٹخنے کے انداز میں سائیڈ ٹیبل پر رکھتے مسفرہ نے عمر کو اسکی ذمہ داریوں کا احساس دلایا اور پیر پٹختی بکتی جھکتی کمرے سے نکل گئی۔

بھائی یہ مسفی کو کیا ہوا؟ وہ کیوں اتنا غصہ کرنے لگی ہے؟ کل بھی مجھے ڈانٹ رہی تھی کہ تم مجھے مسفی نہیں بھابھی بلایا کرو۔ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے؟ بھائی پہلے تو ایسی نہیں تھی۔

میں نے اسکا کیا بگاڑا ہے؟ نہ وہ خود میرے پاس بیٹھتی ہے اور نہ آپ کو بیٹھنے دیتی ہے۔ دیا مسفی کے رویے پر بہت رنجیدہ تھی۔ مسفرہ اسکی بیسٹ فرینڈ تھی۔ اس سے مسفرہ کا اجنبی رویہ اور جلا کٹا انداز برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ وہ ناچاہتے ہوئے بھی عمر سے گلہ کر بیٹھی۔ 

دیا مسفی بھی انسان ہے۔ اسکی بھی طبعیت خراب ہے  اور اس حالت میں بھی   دن بھر گھر کی ذمہ داریاں پوری کرنا پھر مریض کی تیمارداری تھک جاتی ہے، اکتا جاتی ہے، چڑچڑی ہو جاتی ہے۔ تم اسکی باتوں کو دل پر نہیں لیا کرو بیٹا، نظرانداز کر دیا کرو۔ عمر نے دیا کو سمجھایا۔ بھائی آپ بھی تو نہیں اکتا جائینگے مجھ سے؟ کہیں مسفی کی طرح آپ بھی تو نہیں بدل جائینگے؟ اسکا دل اندیشوں کی زد میں تھا۔

پاگل ہو گئی ہو کیا دیا؟ ایسی باتیں مت کرو نہ میں بدلونگا نہ مسفی بدلی ہے۔ بس تم اپنی بیماری اور مسلسل بیڈ ریسٹ کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی حساس ہو گئی ہو۔ تنہا لیٹی رہتی ہو اور فضول سوچتی ہو  اپنے دماغ کو تعمیری کام میں لگاؤ اور خود سے باتیں فرض کرنا چھوڑ دو۔ عمر کبھی اپنی دیا کے لئیے نہیں بدلے گا۔ تم میرے ماں باپ کی واحد نشانی ہو، مجھے سب سے عزیز ہو۔ جس پل عمر یہ بلند و بالا دعوے کر رہا تھا، تقدیر دور کھڑی اس کے اس جذباتی بیان پر ہنس رہی تھی۔

چند ہی ماہ میں مسفرہ نے عمر کو اپنے رنگ میں رنگ لیا اور پھر آنے والا وقت اس قدر اذیت ناک ہو گیا کہ اسے خود سے ہی نفرت ہو گئی۔ اس کے اندر سے جینے کی امنگ ہی مر گئی۔ اب بس وہ شدت سے شاہ زر کی منتظر تھی کہ وہ آئے اور اسے اس عذاب مسلسل سے نجات دلائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨✨

کک۔۔۔ کیا؟ طط۔۔۔ طل۔۔۔ طلاق؟ الفاظ اسکے لبوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہوئے۔ اسے لگا پگھلا ہوا سیسہ جو مسفرہ نے اس کے کانوں میں انڈیلا تھا وہ سر تا پا کانپ گئی۔ اسے لگا یا تو مسفی جھوٹ بول رہی ہے یا اسکی سماعت اسے دھوکہ دے رہی ہے۔ جی طلاق۔ شاہ زر تمہیں طلاق دے رہا ہے۔ وہ طلاق کے کاغذات تیار کرواتا پھر رہا ہے اور یہ بات عمر کو بڑے باوثوق ذرائع سے پتہ لگی ہے۔ اسنے جو وکیل کیا ہے اسکا بیٹا عمر کا دوست ہے۔ اسی نے بتایا ہے کہ آپکا بہنوئی آپکی بہن کو ڈائیورس دے رہا ہے۔

مسفی یہ ہو ہی نہیں سکتا یا تو اسے کوئی غلط فہمی ہوئی ہے یا بھائی کو کوئی مغالطہ لگا یا پھر شاید تم مجھے ڈرا رہی ہو۔۔۔ تم مذاق کر رہی ہو نا؟

مذاق؟ میرا تمہارا کونسا مذاق ہے؟ کوئی مذاق نہیں کر رہی میں۔ تمہیں حقیقت سے روشناس کروا رہی ہوں۔ کس خوش فہمی میں جی رہی ہو تم؟ تمہارا ہیرو بہت جلد تین لفظ تمہارے منہ پر مارنے والا ہے۔ 

مسفرہ وہ ایسے کیسے کر سکتا ہے؟ وہ میرا شوہر ہے، میرے دکھ سکھ کا ساتھی، وہ مجھے ایسے بیچ منجھدار میں اذیت کی سولی پر لٹکا تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔ وہ قول کا پکا ہے۔ اسنے وعدہ کیا تھا وہ مجھے بہت جلد لینے آئے گا۔ تم دیکھنا وہ ضرور آئے گا کیونکہ اسنے کہا تھا کہ میرا انتظار کرنا۔۔۔ مسفی وہ مجھے نہیں چھوڑ سکتا وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔

اوہ تو رسی جل گئی بل نہ گئے۔۔۔ محبت؟ وہ قہقہ لگا کر ہنسی۔ 

محبت کرتا ہے نہیں بلکہ کرتا "تھا"۔ اسنے تھا پر ضرور دیتے دیا کے دل کو پاش پاش کیا

اور اب وہ تم سے محبت نہیں کرتا بلکہ تم سے خلاصی چاہتا ہے کیونکہ وہ ساتھ نبھانے والوں میں سے نہیں۔ اگر ہوتا تو اتنے بڑے حادثے کے بعد ایک بار تو اپنی بیوی کو دیکھنے آتا۔ ارے دیکھنے آنا تو دور کی بات اسنے تو ایک کال کرنا گوارا نہ کی۔

مان لو اس تلخ حقیقت کو کہ وہ تم سے نہیں، تمہاری صورت سے، تمہارے حسن سے پیار کرتا تھا۔

جب تک تم حسن کی مورت رہیں۔ اس کے دل کی ملکہ بنی رہیں مگر جیسے ہی تم معذور ہوئی، تمہارا چاند سا چہرہ گہنایا، داغدار ہوا ویسے ہی اس نے اپنی راہیں جدا کرنے کا سوچ لیا اور اگر اسکی جگہ اور کوئی بھی  ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا۔ 

زرا دیکھو تو سہی خود کو آئینے میں۔۔۔ اوہ سوری تم کیسے دیکھ سکتی ہو؟ آئینے تک تو چل کر جانا پڑے گا۔ تم ٹھہریں اپاہج، معذور، لنگڑی۔۔۔ چلو میں ہی تمہیں تمہاری اوقات بتا دیتی ہوں۔ 

تم وہ کرییہ صورت، بدنما عورت ہو جسکے چہرے پر کوئی ایک بار نگاہ ڈال لے تو دوسری نظر ڈالنا پسند نہ کرے 

اور ڈالے بھی تو کیسے؟ جلا ہوا ٹانکوں کے نشان ذدہ جا بجا ادھڑا پھٹا گرہن زدہ چہرہ کوئی دیکھے بھی تو کیسے؟

افسوس تم اب بدقسمتی کا دوسرا روپ بن گئی ہو۔ بدنصیبی کا اعلی منصب تمہیں دان دیا گیا۔ تم بدعا ہو، سزا ہو، بوجھ، تبیہہ اور عبرت ہو، تم عذاب ہو جو قہر کی صورت ہم پر مسلط ہے۔ شاہ زر کے پاس اختیار تھا، اس نے تم سے جان چھڑا لی۔ ہم تم سے کیسے گلو خلاصی حاصل کریں؟ اب تمہیں کبھی کوئی نہ بیاہنے آئے گا۔۔۔

بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ شاہ آئے گا، وہ ضرور آئے گا۔ تم دیکھنا وہ بہت عزت سے مجھے رخصت کروا کے لے جائے گا۔ اسے اپنے شاہ پر خود سے بڑھ کر یقین تھا۔ وہ ایسے کیسے مسفرہ کی بات کا یقین کر لیتی۔ اسنے پرزور طریقے سے مسفرہ کی بات کی نفی کی اور اسکے لہجے کی یقین پر مسفرہ ششدرہ رہ گئی۔

بہت مان ہے نا تمہیں اپنے شاہ پر؟ تو لو میرے موبائل سے کال کرو میں بھی دیکھتی ہوں وہ کتنا تمہارا مخلص ہے۔ مسفرہ نے کال ملا کر سپیکر آن کر دیا۔

بیل جارہی تھی۔

اسکا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا۔ اذیت کی دو دھاری تلوار پر برہنہ پا کھڑی وہ دل ہی دل میں دعاگو تھی۔ یا خدایا! آج میری لاج رکھ لینا، مسفرہ کو جھوٹا ثابت کر دینا۔ آج یا تو میں محبت میں فاتح ٹھہروں گی یا ہمیشہ کے لئیے رسوا ہو جاؤں گی یا خدایا رحم۔۔۔

کال ریسیو کر لی گئی 

ہیلو! ائیر پیس پر شاہ زر کی آواز ابھری اور یہ آواز وہ کروڑوں میں بھی پہچان سکتی تھی۔ السلام علیکم! تمام تر ہمتیں مجتمع کرتے اسنے سلام کیا۔

وعلیکم السلام جی کون؟ وہ اسے نہ پہچانا۔ وہ اذیت کے  پل صراط پر کھڑی تھی۔ وہ جو اسے پہچانا ہی نہیں، وہ اس سے امیدیں باندھے بیٹھی تھی۔ مسفرہ طنزیہ مسکرائی اور اسے مسکراتا دیکھ کر دیا نے سوچا اسے اتنی جلد ہمت نہیں ہارنی چاہئیے۔ اپنا تعارف کروانا چاہئیے۔

شش۔۔۔ شاہ مم۔۔۔ میں۔۔۔ دیا۔ کہاں عجب موڑ آیا تھا کہ وہ شاہ زر کو اپنا تعارف کروا رہی تھی۔ 

میں زرا مصروف ہوں، بعد میں بات کرتا ہوں۔ اس قدر بیگانگی اس قدر اجنبیت آن واحد میں ٹوٹ کر بکھری مگر اسنے اب بھی ہمت نہ ہاری۔ شاہ۔۔۔ بس دو منٹ۔۔۔ دو منٹ میری بات سن لیں۔ اس وقت میرا آپ سے بات کرنا بہت ضروری ہے۔ گگھیاتے ہوئے ملتجی لہجے میں بولتے اسے اپنا ہی انداز اجنبی لگا۔ یہ وہ دیا تو نہ تھی جو سر اٹھا کر بات کیا کرتی تھی۔ یہ تو کوئی بہت کمزور اندیشوں و واہموں کی ماری لڑکی تھی جو اپنے ہی حق کے لئیے گڑگڑا رہی تھی۔ 

بولو۔۔۔ یک لفظی جملہ گویا احسانِ عظیم کیا گیا ہو۔ دیا کو  یہ اجازت بھی موقعِ غنیمت لگی جسے وہ کسی طور نہیں گنوانا چاہتی تھی۔ 

شاہ مسفی کہہ رہی ہے آپ طلاق کے کاغذات بنانے کی تگ و دو میں لگے ہیں اور مجھے عنقریب چھوڑنے والے ہیں۔ شاہ اسے کوئی غلط فہمی ہوئی ہے نا؟ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں نا؟ آپ مجھے لینے آئیں گے نا؟

نہیں دیا۔۔۔ تمہاری بھابھی سچ کہہ رہی ہیں۔ میں واقعی طلاق کے پیپرز بنوا رہا ہوں۔ تم مجھے ہرجائی سمجھو یا خودغرض، بے وفا جانو یا جفاکار مگر یہ حقیقت ہے کہ اپنی زندگی کے بارے میں ہر شخص اچھا سوچتا ہے۔ میں نے پچھلے چھ ماہ میں ہر زاویے سے تمہارے بارے میں سوچا۔ چلو میں تمہاری بد صورتی پر کمپرومائز کر بھی لوں حالانکہ میں خاصہ حسن پرست ہوں۔ اسکے باوجود میں تمہیں رخصت نہیں کروا سکتا کیونکہ مجھے بیوی اپنی خدمت اپنے گھر کی دیکھ بھال کے لئیے چاہئیے نا کہ یہ کہ میں ایک مریضہ بیاہ کر لے جاؤں اور دن رات اسکے پلو سے بندھا بیٹھ کر اسکی عیادت کرتا رہوں۔ معذرت کے ساتھ میں اس قدر باظرف نہیں ہوں کہ کسی معذور لڑکی کی بیساکھی بنے۔ ساری زندگی اسکا بوجھ ڈھوتا رہوں۔ مجھے زندگی کی دوڑ میں اپنے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنے والی لڑکی چاہئیے اور افسوس تم میں یہ صلاحیت مفقود ہو چکی، اس لئیے میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔

شاہ بس کر دیں آگے ایک لفظ بھی نہ بولئیے گا۔ وہ حلق کے بل غرائی۔ اگلے ہی پل وہ ملتجیانہ لہجے میں گڑگڑائی۔

شاہ مت کریں ایسا۔۔۔ شاہ میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔ مجھے مت چھوڑیں۔۔۔ میں نے زندگی میں خود سے وابستہ ہر شے کھو دی ہے، اب آپکو کھونے کا حوصلہ مجھ میں نہیں۔۔۔ آپ میری آخری امید ہیں۔ یہ امید مت توڑیں۔ میں مر جاؤنگی۔ اپنی عزتِ نفس اپنے ہی قدموں تلے کچلتی وہ شاہ زر کے آگے گڑگڑائی مگر مقابل پر رتی برابر اثر نہ ہوا۔

شاہ آپکو اپنے قدم سے قدم ملا کر چلنے والی لڑکی چاہئیے نا؟ شاہ میں ہر ممکن کوشش کرونگی آپکا ساتھ دینے کی۔ نہ چل سکی، گھسٹتی چلی جاؤنگی آپکے ساتھ مگر روکوں گی نہیں اور اگر یہ بھی منظور نہیں تو میں خود آپکی دوسری شادی کرواؤنگی مگر شاہ بس ایک التجاء ہے مجھے مت چھوڑیں۔ خدارا مجھ سے رشتہ مت توڑیں۔ وہ سسکی۔ 

سوری دیا میں مجبور ہوں۔ طلاق میں نے تمہیں دے دی۔ مزید میں تم سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔ باقی دو طلاقیں بھی تمہیں مل جائینگی اور بہت جلد میں طلاق کے کاغذات بھی بھجوا دونگا۔ 

اس سے زیادہ وہ اس کا رونا دھونا نہیں سن سکتا تھا۔  بےحسی و بے اعتنائی سے کہتے اس نے لائن کاٹ دی۔ دیا کے  ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر گرا۔ دماغ خراب ہے تمہارا؟ میرا اتنا مہنگا موبائل پھینک دیا۔ مسفرہ پھنکاری۔ اسنے غصے سے دیا کی جانب دیکھا۔ جس کا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔ اب آ گیا یقین؟ چہ چہ چہ 

بہت افسوس ہو رہا ہے مجھے تم پر۔ بدصورت، مطلقہ تم نے تو عزتِ نفس بھی کھودی اور محبت پھر بھی ہاتھ نہ آئی۔ اس سے بہتر تھا تم بھی اپنے ماں باپ کے ساتھ مر کھپ جاتی۔ تمہارے شاہ نے تو آن واحد میں تمہارے گلے میں  طلاق کا تمغہ سجا دیا۔ اسنے تو طلاق دیکر تم سے چھٹکارا حاصل کر لیا۔ میرے لئیے تو کوئی راہِ نجات بھی نہیں ہے۔ طنزیہ جملے کوڑوں کی صورت اس پر برسا کر وہ موبائل اٹھا کر  کمرے سے باہر چلی گئ۔ 

پیچھے دیا اذیت کی انتہاء پر کھڑی تنہا رہ گئی۔ سیال لاوا اسکی آنکھوں سے نکلا درد کی ایک ٹیس سی دل میں اٹھی جو پورے وجود میں سرایت کر گئی۔ وہ منہ کے بل اوندھی زمین پر گری۔ 

اللہ جی۔۔۔ بے اختیار اسکے لبوں سے رحیم لب کا نام نکلا اور وہ تڑپ تڑپ کر رونے لگی۔ 

درد کی انتہا پر ہی تو وہ یاد آتا ہے، ارداوں کے ٹوٹنے اور خواہشات کے مرنے پر ہی تو اسکے ہونے کا احساس ہوتا ہے اور بقول اقبال

میں جو سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا 

تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے کا نماز میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨

میں ہَادِیَۃُ الْاِیْمَان اپنی ماما کی جان، اپنے بابا جانی کا مان، گھر بھر کی گڑیا اور بقول مسفرہ بھابھی آفت کی پڑیا، شہر کے مہنگے ترین انسٹیٹیوٹ کی انار کلی اور قصرِ ہادیہ کی اکلوتی شہزادی اب تک تو آپ جان ہی چکے ہونگے کہ اب تک آپ نے جتنی روداد پڑھی وہ میری ہی زندگی کے مختلف روپ ہیں۔ میں جب تک ہادیہ تھی تو روشن دیا تھی، جگماتی زندگی کی تنہا ملکہ میں ہی تھی اور جب میں ایک بدترین حادثے کا شکار ہوئی تو میرے پاس ایمان کے سوا کچھ نہ بچا۔ 

وہ ایکسیڈنٹ ایک حادثہ نہیں، میری لائف کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ اس حادثے کے بعد میں لوگوں کی اصل حقیقت اور اپنی اصل حیثیت سے روشناس ہوئی۔ میں نے جانا کہ تکلیف دہ ایام میں کوئی آپکا اپنا نہیں ہوتا۔ ماں باپ تنہا چھوڑ جاتے ہیں، اپنے منہ موڑ جاتے ہیں۔ اپنی بقاء کی جنگ ہمیشہ تنہا لڑنی پڑتی ہے۔ خود کو خود سمیٹنا پڑتا ہے ورنہ دنیا آپکو روند جاتی ہے۔

وہ مسفی جو میری بیسٹ فرینڈ تھی، جب میں اسے بھابھی بنا کر لائی تو مجھے نہ معلوم تھا میں اپنے ہاتھوں خود کو برباد کر رہی ہوں۔ بعض لوگ آستین کا سانپ ہوا کرتے ہیں جو موقع ملتے ہی آپ کو ڈس لیتے ہیں۔ مسفی نے بھی مجھے ڈسنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس نے میرے جان سے عزیز بھائی عمر فاروق کو مجھ سے کچھ یوں بدگمان کیا کہ وہ بھائی جو ایک چھینک آنے پر میرے سرہانے سے نہ اٹھتے تھے، وہ مجھے خود زخم دینے لگے اور انہیں احساس تک نہ ہوتا کہ مجھ جیسی بہن کو اپنے ویر سے محبت اور مان کے سوا کوئی شے درکار نہیں۔ پہاڑ سے تنزلی کا سفر ہی دراصل میرے عروج سے زوال کی داستان ہے۔ اس روز میں نے اس کھائی میں ناصرف اپنے والدین، قریبی رشتے اور جسمانی اعضاء کھوئے بلکہ میں اس دن اسی راکھ میں اپنی عزت اور وقار بھی کھو بیٹھی۔

ماں باپ سے زیادہ کون مخلص ہوگا؟ جب وہ تکلیف کی انتہا پر مجھے تنہا چھوڑ گئے تو دوسرا کون ساتھ نبھاتا؟  رفتہ رفتہ میں ہر شے سے دستبردار ہو گئی مگر کچلی ہوئی روح بھی فطری ضروریات سے مبرا نہیں۔ 

میں آسائشات نہیں اپنی ضروریات کے پیچھے رسوا ہوئی۔ 

جب اپنے ہی وجود نے میرا بوجھ اٹھانے سے انکار کیا تو میں دنیا کے لئیے بوجھ بن گئی، 

پھر تو وہ دشمنِ جاں بھی کنی کترا گیا جو خود کو میرا سائباں کہا کرتا تھا۔ 

آپ صحیح سمجھیں۔ میں شاہ زر کی بات کر رہی۔ وہ شخص جو میرا محبوب تھا، میری زندگی تھا۔ میں نے بہت بعد میں جانا وہ ہوس کا پجاری صرف حسن پرست تھا۔ اسے دیا سے نہیں اسکی دولت اور اسکی خوبصورتی سے پیار تھا اور میں پاگل اسکی محبت کو دل میں بسائے ہر تکلیف پر اسے یاد کرتی کہ میرا شاہ آئے گا، وہی میرا نجات دہندہ ہے۔ وہ مجھے غم اور ظلم کی اس ویراں بستی سے بیت دور لے جائے گا۔ وہ درد کا درماں ہو گا۔ میرے غموں کا ساتھی ہو گا۔۔۔ مجھے لگا وہ مجھے لینے آئے گا، ضرور آئے گا کیونکہ  میں اسکی بیوی ہوں، وہ میرا محرمِ ذات ہے۔ ہم ایک مضبوط ڈور میں بندھے تھے۔ اس نے اللہ کے نام پر عہد کر کے مجھے اپنی زیست کا حصہ بنایا تھا۔ مجھے خود سے بڑھ کر اس پر یقین تھا 

مگر وہ نہ آیا۔۔۔ ہاں مگر طلاق نامہ ضرور بجھوا دیا۔ مجھے اس سے اس بیگانگی کی امید ہی نہ تھی۔ میں پہروں کڑی مدتوں روئی۔ اسکی محبت میرے دل کا روگ بن گئی، میرے لئیے ناسور بن گئی۔

اس روز میں نے جانا کہ اسکی محبت محض سراب تھی، دھوکہ تھی، نرا عذاب تھی۔ محبت اگر بشر سے ہو تو رسوا کر دیتی ہے، رول دیتی ہے، برباد کر دیتی ہے۔

بہت بعد میں مجھے ادراک ہوا کہ میں تو دیا تھی، موم بتی کی طرح مجھے بھی اسے دھاگے نے برباد کیا جسے میں نے اپنے سینے میں دفن کر رکھا تھا۔

حادثے کے بعد جو ہادیہ بچی اس جاں بلب ہادیہ کو اسکے اپنے شاہ نے مار دیا۔ 

طلاق کے بعد میں نے زیست کی رعنائیوں سے منہ موڑ لیا۔ سب کو یوں لگتا تھا میں بہت صابرہ ہوں۔ میں صابرہ نہیں تھی بس میں حالات سے سمجھوتہ کیا تھا اور اس ہستی سے لو لگا لی تھی جو مضطر کی دعا سنتا ہے۔ جب سب نے مجھے ٹھکرا دیا تو میں نے اس باوفا رب کو پکارا۔ اسنے میرے غموں کا ایک ساتھی مجھے خزیمہ کی صورت عطا کر دیا۔ مسفی کو میرا اپنے بچوں سے گھلنا ملنا پسند نہ تھا۔ اس کے لئیے میں ایک ناکارہ وجود تھی، جس سے جلد از جلد وہ گلو خلاصی چاہتی تھی۔ پھر جب میں نے خزیمہ سے دل لگا لیا، اس پر بھروسہ کرنے لگی۔ اسے اپنے دکھوں کا رازداں بنا لیا تو اسنے خزیمہ کو ہاسٹل بھیج دیا۔ 

میرے رب نے ایک بار پھر مجھے تنہا کر کے احساس دلایا کہ میرا اسکے سوا کوئی نہیں۔ 

غموں کے اندھیروں میں وہی تو ایک نور ہے۔ میں اس سے شکوہ کناں یہ بھول گئی کہ وہ ایک در تب تک بند نہیں کرتا جب تک کہ نیا در وا نہ کر دے۔ 

اس پل جب میری زندگی گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، زندگی کی شکست وریخت نے مجھے ادھ موا کر دیا تھا تب اچانک ایک روز سر ابراہیم میری اجڑی زندگی میں امید کا روشن ستارہ بلکہ جگمگاتا جگنو بنے چلے آئے۔ 

"ابراہیم"۔۔۔۔ کون ابراہیم؟ 

رب کے چنیدہ ابراہیم۔۔۔ راہِ ہدایت کی جادہ راہی ابراہیم۔۔۔ میری بے رونق زندگی کی بہار ابراہیم۔۔۔ 

ہاں وہی سر ابراہیم جو میرے استادِ محترم تھے۔ 

دس سال۔۔۔ دس سال۔۔۔ معنی رکھتے ہیں دس سال۔۔۔ ایک دو سال نہیں دس سال سے وہ انسان مجھ سے بے لوث محبت کرتا تھا۔ اسے میرے حسن سے نہیں نہ ہی میری دولت سے اسے میری ذات سے محبت تھی۔ ان کے  لئیے میری صورت نہیں میری شخصیت اہم تھی۔ انہوں نے مجھ سے تب بھی محبت کی جب میں ایک مغرور ترین نک چڑی ہادیہ تھی اور انہوں نے میری تب بھی چاہت رکھی جب میں ایک معذور، بے کس و مجبور ایمان تھی۔

میں شکوہ کناں تھی اپنے رب سے کہ کیا تیری میں کوئی انسان نہیں؟ کیا انسانیت مر گئی ہے؟ اس نے ابراہیم کو میری زندگی میں بھیج کر مجھے بتایا کہ خود غرضوں کے اس جہاں میں انساں بھی بسا کرتے ہیں۔ چاہے انکی تعداد قلیل ہی کیوں نہ ہو۔

میں شاہ کو اپنا نجات دہندہ سمجھتی تھی وہ نجات دہندہ نہیں، درندہ تھا۔ ہم میں سے اکثر لڑکیاں ایسے ہی مفاد پرستوں کی جھوٹی محبت کے فریب میں مبتلاء ہوتی ہیں۔ وہ رب سے سوال کرتی بھی ہیں تو کیا ایک گھٹیا انسان کی محبت مانگتی ہیں جب کہ رب سے جب بھی مانگنا چاہئیے رب کو مانگنا چاہئیے۔ اسکے محبوب شخص کا ساتھ مانگنا چاہئیے۔ وہ علام الغیوب ہے، اسے بہتر پتہ ہے کہ ہمارے لئیے کیا شے موزوں ہے۔ 

شاہ زر کی جدائی پر میں نے بھی رب سے بہت شکوے کئیے مگر آج دس سال بعد جب میں ابراہیم کے نکاح میں آئی تو میں نے جانا کہ میرے رب کے فیصلے کمال ہیں اور ان فیصلوں کو زوال نہیں۔ اس نے مجھ سے ادنیٰ لیکر بہترین دیا۔ اسکے گھر دیر ہے، اندھیر نہیں۔ 

میں ابراہیم سے محبت نہیں کرتی، میں انکی عزت کرتی ہوں اور دس سال لگے مجھے یہ بات جاننے میں کہ عزت محبت سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ محبت رب سے ہو تو سرفراز کرتی ہے ورنہ محبت وحبت کچھ نہیں۔ عبد کی محبت فقط ذلت ہے۔ عزت ہی سب کچھ ہے۔ میں ذلت کی دلدل میں تھی اور وہاں سے ابراہیم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نکالا۔ مجھے شکووں سے شکر تک لائے، میرے غموں کے درماں بنے، مجھے سہارا دیا، میری بے کیف زیست کو رونق بخشی، مجھے ہر درد سے نجات دلوائی، میرے اندر رب کی محبت جگائی، اپنی محبت سے مجھے سر تا پا بدل ڈالا، میرا علاج کروایا، آرَیفیشل ٹانگ لگوا کر مجھے اپنے قدموں پر کھڑا کیا، سکن سرجری کروا کر میرے زخموں پر مرہم رکھا، مجھے قرآن کی تعلیم دلوائی، رب کی پہچان کروائی، میری عصری تعلیم مکمل کروائی، میری عزت مہرا وقار مجھے لوٹایا۔

اس سب کے بعد میرے دل کے اصل بادشاہ تو وہ ہوئے نا جنہوں نے بے لوث مجھے چاہا اور میرے غموں میں امید کی شمع فروزاں کی۔

آج مجھے افسوس ہوتا ہے کہ شاہ زر سے میں نے کیوں محبت کی۔ وہ لوگ جو آپکو اذیت دیں، آپکی عزت رولیں وہ اس قابل نہیں ہوا کرتے کہ آپ انہیں اپنے ذہن کے کسی حصے میں ناسور بنا کر رکھیں۔ ایسے لوگوں سے نفرت کا جذبہ بھی نہیں رکھنا چاہئیے کہ نفرت کے لئیے بھی کسی تعلق کے ہونے کی ضرورت ہے جو مصیبت میں تنہا چھوڑ جائے وہ سب کچھ ہو سکتا ہے، درست انتخاب نہیں۔

میں یہ سب کچھ آپکو کیوں بتا رہی ہوں؟

یہ سب باتیں بتانے کے پیچھے بھی ایک وجہ ہے۔ 

وجہ ہے میرا نام۔۔۔

بات پھر وہیں آ گئی۔

میں ہادیۃ الایمان ہوں اور ہادیۃ الایمان کا مطلب ہے ایمان کی طرف، ہدایت دینے والی تو میں نے سوچا مثلِ ابراہیم آپکی راہنمائی کر دوں کیوں کہ نام کا شخصیت پر اثر ہوا کرتا ہے۔ 

مجھے ابراہیم کی رفاقت اور انکی سنگت نے احساس دلایا کہ دئیے کا کام جلنا ہوتا ہے، وہ خود جلتا ہے اور اردگرد کا ماحول منور کر دیتا ہے تو میں خود جل گئی۔ بس اب آپکو بچانا چاہتی ہوں، راہ دیکھانا چاہتی ہوں، سمجھانا چاہتی ہوں کہ رب العباد سے بڑھ کر کوئی باوفا نہیں۔ کوئی بے لوث چاہنے والا نہیں حتی کہ ماں باپ بھی نہیں وہ بھی موت کے آگے بےبس ہوتے ہیں۔ کٹھن ایام میں تنہا چھوڑ جاتے ہیں تو جب آپکی زندگی میں کوئی نہیں ہوتا تو وہ رب ہوتا ہے اور وہ ہے تو سب ہوتا ہے۔

تو اس سے پکی والی دوستی لگا لیں۔ وہ دنیا آپکے قدموں میں رول کر ڈال دے گا۔ وہ وہاں سے آپ کا حمایتی اٹھائے گا جہاں سے آپ کو گماں تک نہ ہو گا کہ وہ عرش تا فرش آپکو محبوب بنا دے گا تو اسے چاہیں جو آپ کو چاہتا ہے اس کے لئیے ٹوٹیں، جو آپکو جوڑنا جانتا ہے۔ بے شک ہر عسر کے ساتھ دوہری آسانیاں ہیں۔ ہر عروج کو زوال ہے تو ہر زوال کو بھی عروج ہے۔ سائیکل کا پہیہ نیچے جاتا ہے تو اوپر لازمی لوٹتا ہے۔ بس کرنا یہ ہے کہ تکلیف دہ ایام میں صبر اور دورِ عروج میں شکر۔بس ہر حال میں رب سے مضبوط تعلق رکھیں۔ جس کا رشتہ آسمان والے سے مضبوط ہو زمین والے اسے ہرا نہیں سکتے۔ جو عرش والے کا بیلی ہو فرش والے اسے توڑ نہیں سکتے۔ 

بس اس پر بھروسہ رکھیں اور اپنے ایمان کو ڈگمگانے نہ دیں، وہ ضرور آپکے حالات پھیرے گا۔ کوئی ابراہیم، کوئی خزیمہ، کوئی ہمدرد، کوئی اپنا آپکا بھی درماں ہو گا۔ وہ اپنی تخلیق کی ضروریات و دکھ سے غافل نہیں۔

 کیا بھلا وہ نہ جانے گا جس نے آپکو احسنِ تقویم بنا کر بہترین ساخت پر پیدا کیا۔۔۔

جاری ہے 

اگلی قسط آئندہ ہفتے 

از قلم ✒️

ارویٰ رباب

Next episode

Click below

https://momnaawais.blogspot.com/2023/07/islamic-novel-in-urdu-episode-no-7.html