✨ جو شکستہ ہو تو عزیز تر✨

قسط نمبر 7 

از قلم ✒️ 

ارویٰ رباب 



ایمان آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے چہرہ دیکھ رہی تھی، سکن سرجری کے باوجود وہ اس قدر پیاری نہ رہی تھی جتنی حسین وہ کالج کے دور میں کبھی رہ چکی تھی۔ 

 اچانک اسنے پلٹ کر بیڈ پر بیٹھے لیپ ٹاپ پر کام میں مگن ابراہیم کی سمت دیکھا۔

سر آپکو کبھی میرا چہرہ دیکھ کر نفرت نہیں محسوس ہوئی؟ مطلب کبھی کبھی مجھے خود اپنے آپ کو دیکھتے ہوئے عجیب سا محسوس ہوتا ہے تو آپ کیسے برداشت کر لیتے ہیں؟ کچھ بھی تو میرے پاس نہیں بچا، نہ حسن، نہ جوانی۔ آپکو مجھ سے گھن نہیں آتی؟ ابراہیم نے اسکی بات پر مسکرا کر اسکی سمت دیکھا، پھر لیپ ٹاپ بند کرتے نفی میں گردن ہلاتے اسکی پشت کے پیچھے آ کھڑے ہوئے۔ 

نہیں ایمان، بالکل نہیں! بلکہ میں تو تمہیں دیکھ کر رب کا شکر ادا کرتا ہوں کہ چاہے دس سال بعد ہی سہی مگر میرے رب نے میری دعا قبول کی اور تمہیں میرے نصیب کا حصہ بنا دیا بلکہ تمہیں پا کر میرا رب پر یقین مزید پختہ ہوگیا کہ وہ لازمی سنتا ہے۔ تم میری مقبول دعا ہو

اور کراہیت کیوں آنے لگی مجھے تم سے؟ میری محبت ظاہر پرست نہیں، مجھے تمہارے وجود سے نہیں تمہاری ذات سے محبت ہے اور تمہاری محبت ہی تو میرے ایمان کی تکمیل ہے۔

ایمان نے ایک نظر آئینے کی سمت دیکھا اور اسے آئینے میں  اپنا اور ابراہیم کا عکس دکھائی دیا۔ ابراہیم اسکی سمت والہانہ نظروں سے دیکھتے مسکرا رہے تھے۔ وہ مطمئن ہو گئی۔

ابراہیم میں اکثر سوچتی ہوں پتہ نہیں آپ میری کس نیکی کا صلہ ہیں؟ کونسی میں نے ایسی نیکی کی تھی کہ رب نے مجھے انعام میں آپ عطا کئیے؟

بیگم آپکا تو نہیں پتہ، اپنا مجھے پتہ ہے کہ مجھے آپ میری ماں کی خدمت کے صلے میں دان دی گئی ہیں۔ جب میری والدہ عمر کے آخری ایام بسر کر رہی تھیں نا تو میری ہر خدمت کے صلے میں جانے وہ کیا غوں غاں کرتی تھیں، مجھے انکی بات تو سمجھ نہ آتی کیونکہ فالج کے باعث وہ صحیح بول نہ پاتی تھیں مگر اپنی زبان میں وہ مجھے ڈھیروں دعاؤوں سے نوازتی تھیں۔ یہ انکا انداز مجھے بتاتا تھا تو آج دیکھ لو مجھے زندگی میں ہر وہ شے ملی جس کی کبھی میرے دل نے تمنا کی تھی۔ یہ سب میری ماں کی دعاؤوں کا نتیجہ ہے۔ اللہ کبھی ماں باپ سے کی نیکی ضائع نہیں کرتا، اسکا صلہ دنیا میں بھی دیتا ہے اور آخرت میں بھی بے پناہ اجر دیتا ہے۔ ابراہیم بہت عقیدت سے اپنی والدہ کا ذکر کر رہے تھے۔ بے اختیار دیا کے دل میں انہیں دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔

 سر آپ کے پاس آپکی والدہ کی کوئی تصویر ہے؟

جی ہے، دیکھاتا ہوں ابھی۔ انہوں نے تیزی سے سنگھار میز کی ہی نیچے کی مقفل دراز کھولی اور ایک تصویر نکال کر عقیدت سے چومی، پھر دیا کو تھما دی۔

یہ میری امی جان تھیں۔ ایمان نے دیکھا تصویر میں ایک پیاری سی معمر خاتون سر ابراہیم کے ساتھ کھڑی تھیں۔ اسے اپنی والدہ یاد آ گئیں، اسکی نگاہیں یکدم اشکبار ہو گئیں۔ ابراہیم نے اسکے ہاتھ سے تصویر لے لی اور انگلیوں کی پوروں سے اسکے آنسو چنے۔ 

ایمان مت رویا کریں، آپکے آنسو میرے دل پر گرتے ہیں۔  مضبوط بنیں، ایمان یہ دنیا روتے ہؤوں کا ساتھ نہیں دیتی۔ یہاں ہنسنے والوں کے ساتھ سب ہنستے ہیں، رونے والوں کا کوئی ہمدرد نہیں ہوتا۔ وعدہ کریں آپ آئندہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر نہیں روئیں گی۔ جانے والے رونے سے نہیں لوٹا کرتے، زیادہ یاد آئے تو دعا کر دیا کریں۔ ابراہیم نے اسکے آگے اپنی چوڑی مردانہ ہتھیلی پھیلائی۔ ایمان نے اثبات میں سر ہلاتے باقی ماندہ آنسو پونچھتے اپنا ہاتھ ابراہیم کے ہاتھ میں تھما دیا جسے ابراہیم نے زرا سا دبا کر چھوڑ دیا اور پھر جھک کر تصویر واپس دراز میں رکھنے لگے۔ اچانک دیا کی نظر ایک لاکٹ پر پڑی، اسکے ذہن میں جھماکا ہوا عمر کی بارات والا دن اسے جزئیات کے ساتھ یاد آیا۔

سر یہ کیا؟ یہ تو میرا لاکٹ ہے آپ نے اب تک یہ سنبھال رکھا ہے؟ دیکھائیے گا۔ اسنے ہاتھ آگے بڑھایا۔ 

ابراہیم نے مسکراتے ہوئے لاکٹ نکالا اور اس کے پھیلے ہاتھ کو نظرانداز کرتے اسے اپنے ہاتھوں سےلاکٹ گلے میں پہناتے ہوئے بولے، 

جناب آپ کا نہیں یہ میرا لاکٹ ہے۔ شاید آپ بھول رہی ہیں یہ لاکٹ آپ نے خود  مجھے تھمایا تھا، میرا موبائل توڑنے کے عوض۔ 

دیا نے ایک نظر آئینے میں اپنے گلے میں سجے لاکٹ کی جانب دیکھا پھر روہانسے لہجے میں بولی،

سر یہ لاکٹ میرے والد صاحب نے مجھے کالج میں ٹاپ کرنے پر بنوا کر دیا تھا۔ یہ مجھے بہت عزیز تھا۔ آپکو اس روز غصے میں یہ دے تو دیا مگر خدا گواہ ہے میں بعد میں بہت پچھتائی تھی۔ 

شکریہ! آپ نے مجھے میری ہر شے لوٹا دی۔ عزت، مان اور میرے باپ کی دی نشانی بھی۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا میں کن الفاظ میں آپکا شکریہ ادا کروں کہ آپ نے میری زندگی کی اندھیری شب میں محبت، رفاقت، خلوص، وفا اور اعتبار کے ان گنت چراغ جلا دئیے ہیں۔ وہ حد درجہ ممنون تھی۔

ایمان یار یوں بار بار میرا شکریہ مت ادا کیا کرو۔ مجھے تمہارا یوں زیرِ بار ہونا اچھا نہیں لگتا۔ یہ لاکٹ تو تمہاری امانت تھا جو کہ مجھے لوٹانا ہی تھا بلکہ اسی روز دینے بھی گیا تمہارے پیچھے مگر تم نے ہاتھ جوڑ کر مجھے جانے کا حکم دے دیا اور میں تمہاری بات ٹال نہ سکا۔ محبت کی آخری نشانی سمجھ کر اسے لے کر واپس پلٹ گیا۔ 

آپ مجھ سے تب بھی محبت کرتے تھے؟ دیا کو حیرت کا جھٹکا لگا۔

جی جناب! میں آپ سے تب  بھی محبت کرتا تھا بلکہ اس سے بھی پہلے۔ پتہ ہے کب سے؟ جب آپ کا کالج میں پہلا دن تھا تب سے۔ میں نے بار ہا خود کو بہت سمجھایا کہ آپ میری شاگرد ہیں۔ مجھے آپ سے محبت نہیں کرنی چاہئیے مگر دیا میں دل کے معاملے میں بےبس تھا، دل پر بھلا کس کا اختیار چلتا ہے؟

 بس تو  بیگم صاحبہ آپ روزِ اول سے اس دل کے تختِ شاہی پر براجمان ہیں۔ جذب سے کہتے انہوں نے دیا کے سر پر اپنی تھوڑی ٹکا دی اور آئینے میں اپنا اور اسکا عکس دیکھتے بے ساختہ الحمدللہ کہا۔

دیا نے بھی اس مکمل منظر کو دیکھتے زیرِ لب اللہ کا شکر ادا کیا کہ جو اسنے کھویا وہ کوئلہ تھا اور جو پایا وہ ہیرا تھا۔ وہ محبت میں سرفراز ٹھہری اور بےشک چاہنے سے زیادہ چاہے جانے کا احساس خوشگوار اور مطمئن کن ہوتا ہے۔ اس کا محرمِ ذات اس کا لباس تھا، جس نے اس کے تمام عیوب ڈھانپ کر اسے زینت بخشی تھی۔ وہ جتنا رب کا شکر ادا کرتی کم تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨

ایمان کا پیپر تھا۔ وہ سٹڈی روم میں بیٹھی امتحان کی تیاری کر رہی تھی۔ ابراہیم اس کے لئیے بے حد فکرمند تھے۔ کبھی کچھ سمجھاتے، کبھی کچھ بتاتے، کبھی چائے لیکر آ جاتے اور کبھی اسے مشورہ دیتے کہ سو جاؤ باقی تیاری صبح کر لینا، نیند پوری کرو گی تب ہی دماغ فریش ہو گا۔ اللہ نے رات آرام و سکون کے لئیے بنائی ہے، جسم کے اعضاء رات کو سکون پاتے ہیں۔ اگر اس وقت انہیں آرام نہ دیا جائے تو وہ بےکار ہونے لگتے ہیں۔ جلدی سونا اور وقتِ سحر اٹھنے میں ہی عافیت ہے۔

سر آپ سو جائیے میں صرف دس منٹ میں آئی۔ اسنے ابراہیم کو ملتجیانہ لہجے میں بولا۔ 

اوکے بیگم دس منٹ کا مطلب دس منٹ ہی ہوں۔ میں آپکا انتظار کر رہا ہوں، پورے دس منٹ بعد آ جائیے گا جب تک آپ نہیں آئیں گی میں بھی نہیں سؤوں گا۔ 

اوکے جناب میں وقت کی پابندی کرونگی۔ اب آپ جائیے مجھے پڑھنے دیجئیے۔ 

اوکے جا رہا ہوں، جلدی آ جانا۔ وہ جاتے جاتے بھی تاکید کرنا نہ بھولے۔ ان کے جانے کے بعد دیا پڑھائی میں ایسا مستغرق ہوئی کہ اسے وقت بیتنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ اچانک اسکی نظر وال کلاک پر پڑی وہ چونکی۔ 

اوہ ہو ایک بج گیا۔ خود سے ہمکلامی کرتے اسنے چیزیں سمیٹنا شروع کیں۔ اب سر کو منانا پڑے گا۔ یا خدایا! یہ کیا ہو گیا؟ وہ میرا ویٹ کر رہے ہونگے۔ وہ ہڑبونگ میں اپنے کمرے کی سمت آئی۔

جیسے ہی وہ اپنے کمرے کی جانب آئی تو اسے اندر سے باتوں کی آواز آئی۔ ابراہیم کال پر کسی سے بات کر رہے تھے۔ وہ اندر چلی آئی۔ 

اوکے یارا پھر بات ہو گی۔ اللہ حافظ۔ انہوں نے اسے دیکھتے ہی الوادعی کلمات ادا کرتے فون کاٹ دیا۔ ایمان نے گھڑی کی سمت اشارہ کیا اور پوچھا اتنی رات گئے کس سے گپیں لگائی جا رہی تھیں؟ 

دوست تھا یار آپ اسے چھوڑیں یہ بتائیں کیسی تیاری ہے اور آپکے دس منٹ ہو گئے؟ ابراہیم نے صاف لگ رہا تھا کہ اسے ٹالا ہے، دیا چونکی۔

سر میں بچی نہیں، مجھے شرافت سے بتائیں کس سے بات ہو رہی تھی؟ دیا خالصتًا بیویوں والے انداز میں تحقیق کر رہی تھی، اسے دال میں کچھ کالا لگ رہا تھا۔

دیا دفع کریں۔ آپ کیا تفتیشات میں پڑ گئی ہیں؟ بتایا نا دوست تھا  گول مول جواب حاضر تھا مگر مقابل بھی دیا تھی۔ بال کی کھال اتارنا اچھے سے جانتی تھی۔ 

کون دوست تھا؟ کیا نام ہے اسکا؟ دیا نے اکٹھے دو سوال داغے۔ 

دیا صبح آپکا پیپر ہے، آپ ریسٹ کریں یار۔۔۔ ابراہیم نے بات بدلنی چاہی۔

سر کون سا دوست تھا؟ دیا نے سرد لہجے میں سوال دہرایا۔ یار ہے ایک دوست۔ اب کیا آپ میرے ہر دوست سے واقف ہیں؟

ابراہیم کبھی اس سے کوئی بات نہ چھپاتے تھے۔ آج وہ خود سے پوچھ بھی رہی تھی تو آئیں بائیں شائیں کر رہے تھے۔

ہر دوست سے نہیں مگر اس دوست  سے واقف ہوں جس سے رات کے اس پہر گفت و شنید ہو رہی تھی اور مجھ سے رازداری برتی جا رہی ہے۔ نیکسٹ آپ شاہ سے بات نہیں کریں گے سنا آپ نے؟ دیا نے حتمی انداز میں بولا۔ ابراہیم اسکے درست اندازے پر تھوڑا گڑبڑائے پھر اگلے ہی پل سنبھلتے ہوئے بولے۔

کیوں دوست ہے میرا یار، اب ایسے تو نہ پابندی لگاؤ نا؟ 

اور میرا وہ حریف ہے، دشمن ہے،  سنا آپ نے؟ اور ابھی بہت محبت سر چڑھ کر ناچ رہی ہے نا دوست کی تو بہت جلد آپکو بھی پتہ لگ جائے گا، وہ بے غیرت انسان دوستی، محبت اور وفا کسی چیز کے قابل نہیں۔ اس قدر کریہہ سیرت ہے اسکی کہ جس پر عیاں ہو جائے اسے نفرت ہو جاتی ہے۔ اس سے بہت جلد  آپکو بھی نفرت ہو جائے گی۔ میرا کزن ہے نا میں بخوبی اسکی فطرت سے واقف ہوں۔

نفرت ناپنے کا کوئی پیمانہ ہوتا تو میں ناپ کر بتاتی کہ مجھے کتنی اس سے نفرت ہے۔

اگر آپ کو مجھ سے محبت ہے نا تو آپ میرے دشمن سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے سمجھے آپ؟

دیا وہ میرا دوست ہے، دوستی میں اچھائی برائی نہیں دیکھی جاتی، کم ظرف ہوتے ہیں وہ لوگ جو آپکی خوبیاں دیکھ کر آپ سے تعلق جوڑتے ہیں اور آپکی خامیاں دیکھ کر منہ موڑ جاتےہیں۔ میں رشتوں کو نبھانے والا بندہ ہوں۔ میں اسے یوں نہیں چھوڑ سکتا وہ جو بھی، جیسا بھی ہے میں اس سے آخری حد تک وفا کروں گا۔ ابراہیم نے رسان سے دیا کو سمجھایا۔ 

پھر آپ مجھے چھوڑ دیں۔ ہادیہ شاہ زر کا نام سننا پسند نہیں کرتی تھی۔ کجا یہ کہ اسکا محبوب شوہر اسکی دوستی کے راگ الاپے، وہ بپھر سی گئی۔

شٹ اپ دیا! آج تو یہ کہہ دیا نیکسٹ ایسا کچھ کہا نا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔ وہ زور دار آواز میں گرجے۔ ایمان نے انکا یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا، وہ سہم گئی۔ اگلے ہی پل ابراہیم کو اپنے لہجے کی سختی کا احساس ہوا تو آگے بڑھ کر اسکے دونوں ہاتھ تھام لئیے اور از حد نرمی سے بولے۔ 

 اتنی دعاؤوں سے آپ کو اس لئیے نہیں رب سے مانگا کہ یوں چھوڑ دوں۔ آپ میری صرف بیوی ہی نہیں بلکہ محبت بھی ہیں اور محبت بھی وہ جسے برسوں میں نے اپنے دل میں سینچا ہے، اگر صرف زوجہ بھی ہوتیں نا تب بھی میں آپکو کبھی نہ چھوڑتا۔ 

اب اس بندھن سے رہائی ناممکن ہے۔ بھول جائیں کہ اب آپکو کبھی طلاق ہو گی، جب بھی رہائی چاہئیے ہوئی تو میری موت کی دعا کیجئیے گا کیونکہ اب صرف مجھ سے نجات آپکو بیوگی کی صورت میں ہی ملے گی۔ ان شاء اللہ۔ 

ایسے مت بولئیے، اللہ نہ کرے آپکو کچھ ہو۔ ایمان نے انکے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ ابراہیم نے اسکا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے ہٹایا اور عقیدت سے آنکھوں سے لگایا پھر دھیمے لہجے میں بولے۔ 

دیا اسے معاف کر دو۔ میری خاطر ماضی کی تمام اذیتیں، اسکے دئیے دکھ، تمام تلخ باتیں بھلا دو۔ واللہ یہ مت سمجھنا کہ میں اسکی طرفداری کر رہا ہوں یا شاہ کو معاف کروانا چاہتا ہوں یا پھر محبت پر دوستی کو ترجیح دے رہا ہوں بلکہ دیا میں یہ سب صرف آپکے خاطر کر رہا ہوں۔ 

میں آپ کو پرسکون دیکھنا چاہتا ہوں۔ آپکی نفرت کی آگ اسکا کچھ نہیں بگاڑ رہی بلکہ آپکو بھسم کر رہی ہے جو لوگ آپکو رسوا کریں، آپکو برباد کریں، اذیت دیں، وہ اس قابل نہیں ہوا کرتے کہ آپ انہیں ذہن کے کسی کونے میں ناسور کی صورت جگہ دیں۔ اسے نکال پھینکو اپنی زندگی سے، تمہارے دل کا بوجھ ختم ہو جائے گا۔ دیا کے آنسو گرنے لگے۔

تکلیف ہوتی ہے نا اسکے ذکر پر؟ دیا نے اثبات میں گرن ہلائی۔ 

اور بےتحاشہ نفرت بھی محسوس ہوتی ہے نا؟ ابراہیم نے اسکے آنسو پونچھے۔

جج۔۔۔ جی۔۔۔ وہ سسکی۔ 

پتہ ہے یہ سب کیوں ہوتا ہے؟ ابراہیم نے استفسار کیا۔

نن۔۔۔ نہی۔۔۔ نہیں۔۔۔ ایمان سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا، وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔ 

میں بتاتا ہوں یہ اذیت کیوں ہوتی ہے تمہیں۔۔۔ کیونکہ دیا وہ آج بھی تمہارے دل میں ہے۔ روگ کی صورت، نفرت کے جذبے میں پوشیدہ موجود ہے اور دیا جو آپکو دکھ دے وہ اس لائق نہیں ہوتا کہ اس سے نفرت بھی کی جائے کیونکہ نفرت کے لئیے بھی تعلق کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو عام کر دینا چاہئیے۔ وہ اس قابل ہی نہیں ہوتے کہ ان کے خاطر کڑھا جائے، آپکے آنسو بہت قیمتی ہیں دیا اسے ناقدرے انسان کے دیئے غم پر نہ بہایا کرو۔ پتہ ہے اس کا نام سن کر تمہیں اتنا برا کیوں لگتا ہے؟ 

کیونکہ تم آج بھی اس سے ایک بے نام تعلق جوڑے بیٹھی ہو۔ نفرت کا رشتہ آکٹوپس کی مانند ہوتا ہے جو آپکا سکون، چین جکڑ لیتا ہے، آپکی سوچیں مفلوج کر دیتا ہے، غلط کاروں کا معاملہ رب پر ڈال کر خود اس معاملے سے باہر نکل آنا چاہئیے، پھر رب انکے لئیے خود کافی ہو جاتا ہے جب معاملہ اس کے سپرد کر دیا جائے تو وہ بے تاج بادشاہ کمال منصف بھی ہے، وہ ناصرف تمہارے غم کی تلافی کر کے تمہیں بھی پرسکون کر دے گا بلکہ تمہیں ستانے والوں سے بہترین بدلہ لے گا۔ وہ ابراہیم کے کندھے پر سر رکھ کر بلکنے لگی

سر میں اس سے محبت کرتی تھی۔ میں نے ایک عرصہ اس کا انتظار کیا۔ اسنے مجھے ٹھکرا دیا، میں اسکے آگے گڑگڑائی، اپنی محبت کی بھیک مانگی، اسے مجھ پر ذرا ترس نہ آیا۔ اس نے مجھے طلاق تھما دی۔ میں اسے معاف نہیں کر سکتی، میں اسے کبھی معاف نہیں کرونگی۔

دیا وہ آپ جیسی مخلص لڑکی کے قابل نہ تھا۔ اسنے جو کیا وہ اس کا ظرف تھا۔ وہ اگر کم ظرف نکلا تو آپ کیوں اسکی برابری پر اتر رہی ہیں؟ ظرف والے اولوالعزم ہوتے ہیں۔ ذرا یوسف کو دیکھیں جنہوں نے لاتثریب علیکم الیوم کہہ کر سب کو معاف کر دیا۔ انکی اذیت کا اندازہ ہے؟ جن بھائیوں کی وجہ سے انہوں نے کنوئیں کی تنہائی برداشت کی، بازارِ مصر میں بکے، کردار پر الزام پھر جیل کی تکالیف بھی سہیں۔ انہی کو یوسف کمال ظرف سے معاف فرمایا۔ فاتح مکہ محمد عربی نے مکہ کے باسیوں کو، اپنے چچا کے قاتل،  بیٹی کے قاتل اور اپنے آپ کو ملک بدر کرنے والوں سے کیا معاملہ فرمایا؟ دیا اسے  معاف کر دو اگر اتنا حوصلہ نہیں تو اس کا معاملہ رب پر ڈال کر خود اس فیز سے باہر آ جاؤ۔ میں تمہیں اذیت میں نہیں دیکھ سکتا۔ مت کرو خود پر ظلم، نکال دو اسے دل و دماغ سے۔۔۔ وہ اس قابل ہی نہیں کہ تمہارے ذہن، تمہارے دل کے کسی بھی کونے میں بری یاد بھی بن کر رہے۔ ابراہیم اذیت کی انتہا پر کھڑے اسکا درد چن رہے تھے۔

سر میں کوشش کرونگی کہ اسکی دی اذیت بھول جاؤں مگر مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی ایسا کر پاؤں گی  کیونکہ بھولنے کا فن یا پاگل کو ہوتا ہے یا کامل کو۔ میں ابھی نہ پاگل ہوئی ہوں، نہ کامل ہوں۔ انسان تکلیف تو بھول سکتا ہے، تذلیل نہیں۔ میں نے اسکی منتیں کیں تھیں کہ مجھے اپنا لے مگر اسے مجھ پر رتی برابر رحم نہ آیا۔ صرف اسکی وجہ سے میں رسوا ہوئی اگر وہ مجھے اپنا لیتا تو میرا بھرم قائم رہتا، نہ میں مسفرہ پر بوجھ بنتی نہ عمر بھائی سے میرا تعلق خراب ہوتا۔ میری بربادی میں مکمل ہاتھ اسی کا ہے۔ اسنے خوابوں کو میری آنکھوں میں توڑا ہے اور ان خوابوں کی کرچیاں میری آنکھوں میں چبھتی ہیں اور انہیں لہولہان کرتی ہیں۔ وہ ابراہیم کے کندھے پر سر دھرے بری طرح رو رہی تھی اور اسکے آنسؤوں سے ابراہیم کی شرٹ بھیگ رہی تھی۔ اپنی بانہوں کا حصار اسکے گرد باندھے وہ اسے سمجھا رہے تھے۔

ایمی یہ سب تقدیر میں لکھا تھا۔ یہ سب ازل سے ایسے ہی طے تھا۔ اسے اس شے کا موکلف مت ٹھہراؤ، اس کا جرم بس اتنا ہے کہ اس نے بلند و بالا دعوے کئیے اور وقتِ آزمائش ان پر پورا نہ اترا۔ باقی یہ کہ جو ہوا اسے بھول جاؤ۔ لاحاصل کے غم میں رونا دانشمندی نہیں بلکہ عقلمندی یہ ہے کہ جو حاصل ہے اسکی  قدر کی جائے۔ تم اس یقین سے آنسو پونچھ لو کہ زندگی میں کبھی وہ اتنا ہی روئے گا جتنا اسنے تمہیں رلایا۔ یقین مانو اس نے تمہیں دھوکہ نہیں دیا  بلکہ اپنے ساتھ برا کیا ہے کیونکہ آپ جو کرتے ہیں وہ لوٹتا ضرور ہے۔ دنیا مکافاتِ عمل ہے۔ بس میرا مشورہ مانو آج، ابھی، اسی پل اسے معاف کر دو۔

میری خاطر پلیز۔۔۔ دیا میں صرف تمہارا سکون چاہتا ہوں۔ ماضی کے تمام برے نقوش اپنی ذہن کی سلیٹ  سے مٹا دو۔ محو کر دو۔ یہ آنکھیں رونے کے لئیے نہیں بنیں۔ یہ آنکھیں مجھے بہت عزیز ہیں، ان آنکھوں میں نئے خواب سجاؤ۔ 

ماضی صرف سبق سیکھنے کے لئیے ہوتا ہے، سبق سیکھ لیا تو اسے بھلا دو۔

پلیز آگے بڑھو، موو آن کرو۔ ابراہیم نے اسکے آگے بےبسی سے ہاتھ جوڑ دئیے۔ دیا نے ایک نظر انکی جھلملاتی آنکھیں دیکھیں۔ جانے کونسی اذیت تھی جس نے انکی آنکھیں بھر دی تھیں۔ دیا کے دکھ ہر وہ غمگین تھے یا اسکے منہ سے شاہ کا ذکر سن کر۔۔۔ کچھ بھی تھا، دیا کو اس پل ابراہیم کے لہجے میں اپنے  لئیے بےحد فکرمندی محسوس ہوئی۔ وہ دیا کے شوہر نہیں بلکہ بہت اچھے دوست تھے۔

دیا نے ایک تشکر بھری نظر ابراہیم پر ڈالی، یہ شخص مجھ سے کتنی شدید محبت کرتا ہے۔ اسے صرف میری اور میرے سکون کی پروا ہے اور میں کتنی بری ہوں اسکے سامنے بار بار  شاہ زر کا ذکر کر کے اسکے ظرف اور غیرت کو آزماتی ہوں۔ 

اسنے میری روح کے تمام کانٹے چنے اور انہی کانٹوں سے میں اسکی روح لہولہان کر رہی ہوں۔ کیا بیتتی ہو گی ان کے دل پر۔۔۔ یہ تو میرے محسن ہیں۔ کیا ہوا جو مجھے محبت نہیں ان سے۔۔۔ مگر  یہ میری زیست کے رفیق تو ہیں نا۔۔۔ مجھے انہیں اذیت نہیں دینی چاہئیے۔ آن واحد میں اس نے ایک فیصلہ کیا پھر مضبوط لہجے میں ابراہیم سے کہنے لگی۔

سر میں نے شاہ زر کا معاملہ رب کی سپرد کر دیا ہے۔ خاص سے عام تو میرے لئیے وہ بہت پہلے ہو گیا تھا۔ آج ابھی اسی پل میں نے اس سے نفرت کا تعلق بھی ختم کر دیا ہے۔ میرے لئیے آج ابھی اسی وقت شاہ زر مر گیا۔ اب اسکے ہونے نہ ہونے سے بھی مجھے فرق نہیں پڑتا۔ واللہ وہ میرے سامنے بھی آ جائے تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ آپ چاہیں تو اس سے تعلق بھی رکھ سکتے ہیں، آپکا دوست ہے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ مضبوط لہجے میں بولتی وہ ابراہیم کو حیران کر گئی۔ کافی دیر تو وہ کچھ نہ بول پائے پھر مسکراتے ہوئے دیا کے سر کے ساتھ سر جوڑ لیا۔

شکریہ دیا! میرا مان رکھنے کا شکریہ۔۔۔ میری زندگی میں آنے کے لئیے شکریہ۔۔۔ مجھے حیاتِ نو دینے کے لئیے شکریہ۔۔۔ ہر اس احسان کے لئیے جو تم نے مجھ پر کیا شکریہ۔۔۔ مجھے سمجھنے کے لئیے بس آئندہ کبھی چھوڑنے چھڑانے کی باتیں نہ کرنا۔ ابراہیم آپکے لئیے دنیا چھوڑ سکتا ہے مگر آپکو نہیں چھوڑ سکتا۔ دیا طمانیت سے مسکرائی۔ ابراہیم نے نظر بھر کر اسے دیکھا وہ مسکراتے ہوئے بہت اچھی لگتی تھی۔ دھیرے سے اسکی بال پیچھے کرتے اسنے اسکے کان میں سرگوشی کی۔

 اب سو جائیں بیگم صاحبہ صبح پیپر ہے۔ تین بج رہے ہیں۔

اوہ ہو سر آپ نے میرا اتنا وقت برباد کر دیا۔ اسنے ابراہیم کے ہاتھ پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھتے سر پر ہاتھ مارا۔

میں نے؟ یا آپ نے؟ ابراہیم نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔ 

محترمہ آپ بھول رہی ہیں، آپ کا ہی جھگڑنے کا موڈ ہو رہا تھا۔ میں تو شریف سا بچہ بس آپ کے زیرِ عتاب پِس رہا ہوں۔

اتنے آئے آپ شریف، دیا نے اسکے کندھے پر تکیہ مارا۔  

یہ شرافت نہیں آدھی رات کو بیوی سے پٹ رہا ہوں۔ ابراہیم نے خود کو بچاتےاسے مزید چڑایا۔

اوف ہو یہ تو میں ایسے ہی۔۔۔ وہ گڑبڑائی اور تکیہ رکھ دیا۔ 

ابراہیم نے ہنستے ہوئے اپنا تکیہ بھی درست کیا اور لائٹ بجھانے چل دئیے۔ دیا مسکراتی ہوئی بالوں سے کیچر اتارتی سونے کے لئیے لیٹنے لگی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨✨

ابراہیم کی سنگت میں دیا بہت خوش اور مطمئن تھی۔ بہت جلد ابراہیم اسکی روح کے طبیب، اسکے وجود کے  مسیحا اور اسکے دل کے بے تاج بادشاہ بن گئے۔ انہوں نے اپنی رفاقت محبت سے دیا کی تمام تشنگیوں کا ازالہ کر دیا۔

انہوں نے ہادیہ کے نام پر "دیا انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی" کی بنیاد رکھی اور اسے بلا شرکت و غیرے اس یونیورسٹی کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا۔ وہ رب کی جتنی مشکور ہوتی اتنا کم تھا۔ 

کہا جاتا ہے ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے پر یہاں کہانی مختلف تھی۔ دیا کی ہر کامیابی کے پیچھے ابراہیم کی کاوش مضمر ہوتی۔ انہوں نے دیا کے غموں کو بھلا کر مسکرانا سیکھا دیا۔ زیست کی کٹھنائیوں کا مقابلہ کر کے جینا سکھا دیا۔ اسے جتایا نہ احساس دلایا بس چپکے سے اسکے تمام درد چن لئیے۔ اس ٹوٹی بکھری لڑکی کو سمیٹ کر اپنے قدموں پر کھڑا ہونا سکھا دیا۔

اب دیا کی زندگی میں کوئی کمی نہ تھی سوائے یہ کہ شادی کو پانچ سال گزر چکے تھے وہ اب تک اولاد کی نعمت سے محروم تھی۔ اسنے بارہا دل پر پتھر رکھ کر ابراہیم کو مشورہ دیا کہ آپ دوسری شادی کر لیں مگر ہر بار ابراہیم ہنس کے ٹال گئے۔ 

بیگم ایک بیوی تو سنبھالی نہیں جا رہی دو شادیاں کر لیں تو پھر میں تو گیا کام سے۔ کیا میں آپکو خوش اور مطمئن اچھا نہیں لگتا۔۔۔ کیوں آپ مجھے نئے جھمیلوں میں پھنسانا چاہتی ہیں؟

سر مت کریں خود پر ظلم۔۔۔ مجھے معلوم ہے آپکو اولاد کی کس قدر خواہش ہے۔ میں نے آپکو رب کے آگے گڑگڑا کر اولاد مانگتے دیکھا ہے اور میرے لئیے زیادہ دل شکن بات یہ ہے کہ کمی آپ میں نہیں مجھ میں ہے۔ سر آپکے مجھ پر بے شمار احسان ہیں، مت مجھے اپنے احسانوں تلے اس قدر دبائیں کہ میں اس بوجھ تلے گھٹ کر مر جاؤں۔ 

آپکو حق ہے کہ زیست کی خوشیاں حاصل کریں، آپکو حق ہے کہ آپ اپنی نسل چلائیں، آپکو حق ہے کہ آپ کے آنگن میں بھی بچوں کی قلقاریاں گونجیں۔ میری محرومیوں کی سزا آپ کیوں بھگتیں؟ میں بانجھ ہوں۔ یہ آزمائش میری ہے۔ یہ تنہا مجھے جھیلنی چاہئیے۔ آپ کس جرم کی سزا کاٹ رہے ہیں؟ یا پھر شاید میں ہی وہ امربیل ہوں جو کسی بھی ہرے بھرے درخت سے بھی لپٹ کر اسے بنجر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ آج بہت دلبرداشتہ تھی۔ آج ہی تو ڈاکٹر نے اسے بتایا تھا کہ وہ عرصۂ دراز پہلے اس حادثے میں ماں بننے کی صلاحیت بھی کھو بیٹھی تھی۔ تب سے اسے خود پر غصہ آ رہا تھا کہ وہ کیوں ابراہیم کی زندگی میں شامل ہوئی۔۔۔ کیوں اسکی بھی زیست کٹھن کر گئی۔۔۔

دیا خود کو منحوس سمجھنا چھوڑ دو۔ وہ شخص جسے رب قرآن کی دولت سے نوازے وہ بنجر نہیں ہوتا بلکہ وہ تو ایسا زرخیز بیج ہوتا ہے جس سے دین کی کھیتی لہلہاتی ہے۔ سیدہ عائشہ کے کتنے بچے تھے؟ 

دیا انہیں بھی رب نے اس نعمت سے محروم رکھا مگر انہوں نے اپنی اس کمی کو حسرت نہ بنایا بلکہ پوری کائنات کی ماں بن گئیں۔ انہوں نے سب کو دین سکھایا۔ دیا بچے تو ہر عورت پیدا کر لیتی ہے۔ علمِ نبوت کی ترویج بہت کم عورتیں کرتی ہیں۔ تم اپنی کمی کو غم بنا کر دل میں نہ پالو بلکہ رب کی رحمت پر بھروسہ کرتی اسکی مخلوق کے لئیے نفع مند بن جاؤ اور رب کی رحمت سے بھی مایوس نہ ہو۔ خود کو سنبھالو میری جان جہاں معالج کے علم کی انتہا ہوتی ہے وہاں سے میرے رب کے معجزات کی ابتداء ہوتی ہے۔ میرے رب کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔ تم خود ہی تو بتا رہی تھی کہ تمہاری والدہ کی بھی ڈاکٹر امید توڑ چکے تھے پھر تم بھی تو دنیا میں آئیں نا تو جس روح نے اس دنیا میں آنا ہے اس نے آ کر رہنا ہے اور دیا تم نے پڑھا نہیں اولاد تو رب کی آزمائش ہے نا وہ کسی سے لیکر آزماتا ہے اور کسی کو اولاد دیکر آزماتا ہے۔ کسی کو محروم رکھتا ہے تو کسی کو ابنارمل عطا کر دیتا ہے۔ ایمان کے دعوے کے بعد آزمائش تو شرط ہے نا۔۔۔ یہی تو وقتِ امتحان ہے۔

اور جہاں تک رہی میری بات تو دیا تم اور تمہاری محبت میرے لئیے کافی ہے۔ ٹھیک ہے مجھے اولاد کی بھی تمنا ہے مگر دیا اگر اولاد میرے نصیب میں ہوئی تو رب اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہارے ذریعے ہی مجھے اولاد سے نوازے اور اگر میرے مقدر میں میرے رب نے یہ خوشی نہیں لکھی تو کائنات میں کوئی اس بات پر قادر نہیں کہ وہ مجھے اس نعمت سے نواز سکے، چاہے پھر میں دو کے بجائے تین شادیاں ہی کیوں نہ کر لوں۔ 

دیا یہ تمہارا نہیں میرا امتحان ہے۔ ہم سے وابستہ لوگوں پر جب کوئی آزمائش آتی ہے تو وہ انکی آزمائش نہیں ہوتی دراصل وہ ہماری آزمائش ہوتی ہے۔ 

 وہ تکلیف  آتی ان پر ہے پر وہ ہوتی ہماری آزمائش ہے۔ اس وقت رب ہمارا ظرف آزما رہا ہوتا ہے کہ آیا ہم کسی کی مشکل میں اس کا ساتھ دیتے ہیں یا اس سے ناروا سلوک رکھ کر اپنی اوقات دیکھاتے ہیں۔ وقت اچھا ہو یا برا گزر ہی جاتا ہے مگر برے وقت میں اچھا یا برا کرنے والے دونوں اقسام کے لوگ یاد رہ جاتے ہیں تو بجائے اسکے کہ ہم دوسرے کو معتوب ٹھہرائیں، کیوں نہ مل کر اس درد کو بانٹ لیں اور ایک اور بات میری پیاری زوجہ محترمہ میرے رب کے گھر دیر ہے، اندھیر نہیں وہ جو دس سال بعد میں دعا قبول کر کے مجھے ہادیہ دے سکتا ہے، اسکے لئیے اولاد دینا بھی کوئی مشکل نہیں۔ میں اسی سے اپنی دیا کے لئیے اولاد مانگوں گا اور میں اپنے رب سے مانگ کر کبھی مایوس نہیں ہوا۔

سر آپکو اب بھی اتنا یقین ہے؟ دیا انکے اس حد تک توکل پر حیران تھی۔ 

جی دیا! میرا یقین ہے میرا رب مجھے لاوارث نہیں چھوڑے گا۔ 

وہ مضبوط لہجے میں پریقین انداز سے بولے۔۔۔ 

پھر مجھے آپکے یقین پر یقین ہے، اسنے اپنے آنسو خود ہی پونچھ ڈالے۔ ابراہیم اس پاگل لڑکی کی اس حرکت پر دل سے مسکرائے۔

آنے والے وقت نے ثابت کیا کہ رب پر بھروسہ کرنے والے محروم نہیں رہتے۔ اللہ نے ہادیہ کو بہت جلد اس نعمتِ عظمیٰ سے سرفراز کر ڈالا۔ 

ہادیہ امید سے تھی اور وہ اس عظیم نعمت کا شکر ادا کرنے کے لئیے اپنے محبوب شوہر کی ہمراہ کعبۃ اللہ پہنچ گئی۔ 

یہ گھر دیکھنا اسکی اولین آرزو تھی۔ اسے نہ معلوم تھا کہ اک روز وہ یوں نوازی جائے گی کہ ہر شے اسکی دسترس میں ہو گی اور وہ مشکور سر بسجود ربِ کعبہ کے در پر پڑی ہو گی۔ 

 اب اسکی زندگی میں عزت،  دولت، شہرت، بہترین ہمسفر ، قرآن اور سب سے بڑھ کر رب رحمان تھا۔ 

کعبہ میں بیٹھ کر اسنے اپنے رب سے عہد کیا کہ اگر زندگی میں کبھی میرے مجرم سر جھکائے میرے سامنے آئے تو میں تیری رضا کے خاطر انہیں معاف کر دونگی۔ بدلے میں بس تجھ سے مغفرت کی طلبگار ہوں بس تو میرا شرح صدر کر دے اور مجھے اپنی پسند کے سانچے میں ڈھال لے۔ مجھے ہدایت کی دولت سے مالا مال فرما۔ اپنی محبت میں سرفراز فرما۔ 

دعا مانگ کر اس نے قرآن کھولا، ہوا کا ایک لطیف جھونکا آیا اور چند صفحات پھڑپھڑائے سامنے ہی چوتھے پارے کی پہلی آیت تھی۔ 

لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون۔۔۔۔۔۔

ہرگز نہیں تم کامل نیکی کو پہنچ سکتے یہاں تک کہ اپنی سب سے محبوب شے رب کی راہ میں نہ خرچ کر دو۔

یا خدایا! تیرا کلام فصیح اور میری عقل ناقص ہے۔ مجھے نہیں معلوم جس پل میں تجھ سے ہدایت مانگ رہی ہوں اسی لمحے یہ آیت کیوں میرے سامنے کھل رہی ہے۔ میں نے تو اپنی ہر شے دے کر تجھے محبوب رکھا، اب کھونے کو تو میرے پاس کچھ نہیں بچا۔ ایک تن ہے وہ بھی داغدار اور میں نے وہ تنِ داغ داغ بھی تجھ پر لٹا دیا 

پھر تجھے میری کس محبوب شے کی قربانی چاہئیے۔۔۔ مجھ پر اس آیت کا اسرار منکشف فرما۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ بھید یونہی نہیں کھلتے۔ 

قرآنی آیات کا یہی تو حسن ہے کہ وہ بے شعور لوگوں سے پردہ پوشی کر لیتی ہیں، وہ انہی پر عیاں ہوتی ہیں جو کڑی تپسیا سے گزر کر کندن ہوتے ہیں۔ راز یونہی تو نہیں کھل جاتے۔ اس مقام تک پہنچنے میں ابھی اسے  وقت درکار تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨

حرم سے واپسی کے بعد کچھ روز تو وہ آیت اسکے ذہن میں چکراتی رہی اور وہ اس پر غوروفکر کرتی رہی مگر جب سرا ہاتھ نہ آیا تو رفتہ رفتہ اسکے ذہن سے یہ آیت نکل گئی۔ کچھ ویسے بھی اسکی زندگی کافی مصروف ہوگئی تھی۔ ایک ماہ جو حرم میں گزرا اس عرصے کا سارا کام یکمشت کرنا تھا۔ اسکے شب و روز قائداعظم کے مقولے کام، کام، کام میں گزرنے لگے۔ اب تو ابراہیم بھی اسکی ٹف روٹین سے چڑنے لگے تھے۔ 

بیگم خود پر اتنا بوجھ مت ڈالیں، کبھی اپنی ذات کے لئیے بھی وقت نکال لیا کریں۔ گھر کے کاموں کے لئیے تو چلو ملازمین ہیں مگر اس دل کا کیا کریں جسے آپکے التفات کی عادت پڑ گئی ہے۔ زرا نظرِ کرم میری طرف بھی فرما لیا کریں، دل دکھتا ہے میرا آپ کو یوں ہر وقت یونیورسٹی کا کام کرتے دیکھ کر۔۔۔ ایک تو آپکی طبیعت خراب ہے، دوسرا پڑھائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ میں بھی کالج چلا رہا ہوں مگر آپکی طرح خود کو کولہو کا بیل نہیں بنا رکھا۔ ابراہیم نے اسے پیار سے سمجھایا۔ 

سر ابھی ابتداء ہے میں چاہتی ہوں میری یونیورسٹی کا دنیا میں ایک نام ہو اور جہاں تک بات رہی پڑھائی کی تو آپ ہیں نا میرے پاس، آپکے ہوتے ہوئے مجھے کاہے کی فکر۔۔۔ تیاری تو پیپرز کی مجھے آپ ہی کرواتے ہیں اور طبیعت کا خیال رکھنے کے لئیے بھی آپ ہیں نا؟ اسنے لیپ ٹاپ بند کرتے مفصلًا جواب دیا۔ اور میرا کون خیال کرے گا؟ میرا دلِ مضطر جو آپکی جانب ہمکتا ہے۔ آپکے لئیے پریشان ہوتا ہے، آپکی توجہ چاہتا ہے، اسکا میں کیا کروں؟ ابراہیم آج جانے کس موڈ میں تھے۔ دیا نے سرشاری سے انکا انداز ملاحظہ فرمایا۔  

خیر ہے جناب! آج بڑا دل دل ہو رہا ہے؟ دیا نے اسکے بال بگاڑتے پوچھا۔ ابرہیم ہر وقت جما کر کنگھی کئیے رکھتے تھے۔ دیا اکثر جب موڈ میں ہوتی ان کے بال خراب کر دیتی، اسے انکے بال ماتھے پر بکھرے بہت اچھے لگتے تھے۔ 

جتنا مرضی دل دل کروں آپ نے کونسا میری حکاتِ دل سننی ہیں۔ آپ کی تو مصروفیات ہی بہت ہیں۔ ابراہیم کے انداز میں گلہ تھا۔ 

ایسی بھی بات نہیں جناب آپ زیادہ ہی حساس ہو رہے ہیں۔ آپکی نہیں سنوں گی تو اور اسکی سنوں گی؟ آپ پر میری ہر مصروفیت قربان۔۔۔ سنائیں کیا سنانا ہے؟ وہ ہمہ تن گوش ہوئی۔ 

یار یہاں نہیں باہر چلتے ہیں۔ کسی ہوٹل میں ڈنر کریں گے پھر سناؤں گا حالِ دل۔ رات کو بس تیار رہنا باہر چلیں گے  اور ہاں ماجدہ کو بلا کر مہندی بھی لگوا لینا، مجھے تمہارے ہاتھ حناء کے رنگ میں رنگے بہت پیارے لگتے ہیں۔ 

اوکے جناب! میں تیار رہونگی۔

ابراہیم کو جواب دینے کے بعد اسنے پھر اپنا لیپ ٹاپ کھول لیا اور اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔ ابراہیم تاسف سے اسے دیکھتے رہ گئے۔ 

رات کو خوشگوار ماحول میں کینڈل لائٹ ڈنر اور مستقبل کے حوالے ڈھیروں پلاننگز کرنے کے بعد وہ لوگ شاپنگ مال چلے گئے اور اپنے آنے والے بےبی کی شاپنگ کر کے وہ لوگ بہت مسرور واپس پلٹے۔ 

ابراہیم تو آتے ہی کپڑے تبدیل کر کے سو گئے۔ دیا نے عبایا اتار کر کپڑے چینج کئیے۔ شاپنگ بیگز کھول کر سامان نکالا اور اسے الماری میں رکھا پھر صبح یونیورسٹی جانے کی تیاری کی چیزیں ایک جگہ رکھ کر کام سارے نبٹا کر جب وہ تھک کر چُور سونے کے لئیے بستر پر آئی تو ابراہیم کو گہری نیند سوتا پا کر وہ بے اختیار اسے تکتی چلی گئی۔ اچانک ایک خیال اس کے دل میں امڈا

یہ شخص اتنی جلدی اتنی پرسکون نیند کیسے سو جاتے ہیں؟ جبکہ میری تو سوچیں میرا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ خود سے سوال کرتی وہ الجھنے لگی۔

 پوچھوں گی ان سے۔ خود کو تسلی دیتے وہ تکیہ سیٹ کر کے لیمپ آف کرکے لیٹ گئی اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨✨✨

اگلے دن سہ پہر کے وقت وہ یونیورسٹی سے فارغ ہوئی ابراہیم کافی دیر سے اس کا انتظار کر رہے تھے وہ دیا کو لانے جانے کی ڈیوٹی خود سرانجام دیتے تھے ابھی بھی کافی دیر سے باہر محوِ انتظار تھے بالاخر دور سے وہ آتی دکھائی اسکی چال سے ہی تھکاوٹ عیاں تھی 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ 

اسنےفرنٹ سیٹ پر بیٹھتے دیا نے  ابراہیم پر سلامتی بھیجی 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، یار اتنی لیٹ ، کب سے کھڑا ہوں ابراہیم نے ناچاہتے ہوئے بھی شکوہ کیا 

سر کیا کروں بس آجکل کام بہت زیادہ ہے  تھک گئی ہوں آج تو ۔ہادیہ نے عذر پیش کرتے اپنا سر دبایا ابراہیم نے فکرمندی سے اسے دیکھا  

حد ہے دیا چھوڑ دو یہ سب کام دھندے یہ سارے امور ہوتے رہیں گے بس تم اپنی صحت کا خیال رکھو کل سے تم یونیورسٹی نہیں آؤ گی سنا تم نے پروفیسر عتیق سب کچھ سنبھال لیں گے نہیں تو میں خود تمہاری ساری ذمہ داریاں سر انجام دونگا بس تم اپنی کئیر کرو اور ہاں ایک کل وقتی ملازمہ بھی ہر وقت اپنے ساتھ رکھا کرو  بلکہ وہ جو تمہاری ملازمہ تھی نا نوراں اسی کو لے آؤ آج کل وہ بھی پریشان ہے اسے بھی آسرا مل جائے گا میری بھی ۔۔۔۔ 

آپ کو کیسے پتہ کہ وہ پریشان ہے اور کیا پریشانی ہے اسے؟ ساری بات چھوڑ کر دیا نے آخری جملہ پکڑتے ابراہیم کی بات کاٹی۔

کل وہ تمہارا پتہ کرتے گھر آئی تھی نجانے کس سے۔۔۔ اس نے تمہارا ایڈریس لیا تھا تم تو گھر نہ تھیں میری اس سے  ملاقات ہوئی، بتا رہی تھی کہ کافی مجبور ہے نوکری چاہئیے اسے۔ میں نے اسے بتایا کہ تم گھر نہیں ہو تو اپنا نمبر دے گئی تھی اور کہہ کر گئی ہے دوبارہ آئے گئی 

تو میرا خیال ہے اسے ساتھ رکھ لو قابلِ بھروسہ بھی ہے اور تجربہ کار بھی اور یہ بھی کہ کئی پشتیں اسکی تمہارے گھر کام کر چکی ہیں تو وفادار بھی ہو گی۔ اسکی پریشانی بھی دور ہو جائے گی اور میری ٹیشن بھی تمہارے حوالے سے کم ہو جائے گی۔ 

اوکے میں دیکھتی ہوں باقی میری فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں الحمدللہ ٹھیک ہوں بس آخری ماہ ہے نا تو تھک جاتی ہوں  خیر یہ وقت بھی جیسے تیسے گزر ہی جائے گا۔ آجکل اسکی طبیعت بہت زیادہ گری گری رہنے لگی تھی۔ وہ خود سے ہی عاجز آئی ہوئی تھی۔

جیسے تیسے نہیں اچھے سے گزارو یہ وقت اور زیادہ وقت قرآن پڑھتے ہوئے گزارا کرو۔ پریگننس میں ماں جو کرے اس کا اثر بچے پر پڑتا ہے۔ ابراہیم کی بات سنکر دیا مسکرائی۔ نقاب کی وجہ سے یہ مسکراہٹ ابراہیم سے مخفی تھی۔ 

ابراہیم میں بہت قرآن پڑھتی ہوں۔ میں نے تو گھر میں قرآن کلاس بھی شروع کروا دی ہے۔ روز شام کو کالونی کی خواتین کو درسِ قرآن دیتی ہوں۔ الحمدللہ۔ وہ جذب سے سرشار لہجے میں بولی 

ما شاء اللہ بیگم آپ نے بتایا ہی نہیں کہ آپ تفسیر القرآن بھی پڑھا رہی ہیں۔ ایسی خیر کی خبریں مجھے دیتی رہا کریں، مجھے خوشی ہوتی ہے جب آپکو دین میں آگے جاتا دیکھتا ہوں۔ باتیں کرتے کرتے ابراہیم نے گاڑی ایک سنسان روڈ پر ڈال دی۔

جی مجھے بتانا تھا آپکو بس شیطان نے ذہن سے نکال دیا۔ دیا نے ابراہیم کو جواب دیتے سڑک کی جانب دیکھا۔

یہ کونسا راستہ ہے؟ دیا نے اچانک چونک کر پوچھا روز تو اس راستے سے نہیں جاتے یہ کہاں لیکر جا رہے ہیں آپ مجھے؟ 

بیگم آج آپ بہت تھکی ہوئی ہیں تو سوچا اس راستے سے لے جاؤں۔ یہ راستہ چھوٹا پڑتا ہے، عموما اس راستے سے اس لئیے نہیں آتا کیونکہ یہ راہ سنسان بہت ہوتی ہے۔ دوسرا یہ بھی کہ یہ سڑک بہت ٹوٹی پھوٹی ہے۔ آج بس آپکی تھکاوٹ کے خیال سے گاڑی اس راستے پر ڈال لی کہ گھر جلدی پہنچ جائیں۔

اوہ اچھا پھر ٹھیک ہے کتنی دیر تک پہنچ جائیں گے؟ میری 5 بجے کلاس ہے۔ اسنے موبائل پر وقت دیکھتے ابراہیم سے استفسار کیا۔

بس دس منٹ میں گھر ہونگے اور خبردار جو اب آپنے کوئی کلاس لی، چھٹی دے دیجئیے گا آج اور ریسٹ کیجئیے گا۔ ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے اچانک جانے کہاں ایک بندہ آ کر گاڑی سے ٹکرایا۔ ابراہیم نے پریشان ہو کر گاڑی روکی اور دروازہ کھولتے گھبرا کر اسکی سمت دوڑے۔ اچانک تین چار بندے اور ادھر ادھر سے نکل آئے اور سب نے انکی گاڑی کا گھیراؤ کر لیا۔ گاڑی سے ٹکرا کر گرنے والا بھی بندوق تانے کھڑا تھا۔ دیا نے جب بندوق بردار پانچ چھ افراد دیکھے تو اسکی حالت متغیر ہونے لگی۔ 

جو کچھ ہے نکال دو۔ ایک نے ابراہیم پر پستول تان رکھی تھی اور ایک بندوق تانے دیا کو باہر نکلنے کا حکم دے رہا تھا۔ وہ لرزتی کانپتی باہر نکل آئی۔ 

سر انہیں دے دیں سب کچھ دے دیں۔ دیا تھر تھر کانپ رہی تھی۔ ابراہیم نے والٹ، چابی، موبائل سب انکے آگے پھنک دیا۔ ایک بندہ آگے بڑھ کر ابراہیم کی جیبیں تلاشنے لگا۔ دیا نے بھی اپنا پرس، پیسے، موبائل، انگوٹھیاں  سب اتار کر انہیں تھما دیں۔

او بی بی زیادہ ہوشیار نہ بن، یہ نقاب اتار ڈھاٹے کے پیچھے کون کون سے زیور چھپا رکھے ہیں؟ انہی میں سے ایک نے آگے بڑھ کر ہادیہ کا نقاب کھینچا، تلاشی دیتے ابراہیم نے جب یہ حرکت دیکھی تو آپے سے باہر ہو گئے اور اس نقاب پوش کے دست و گریبان ہو گئے۔ جونہی ابراہیم نے مزاحمت کی ان ڈاکوؤں نے فائر کھول دیا۔ آن واحد میں اکٹھی چار گولیاں ابراہیم کا سینہ چیرتی ہوئی عین دل کے مقام پر پیوست ہو گئیں۔ 

اللہ۔۔۔ انکے لبوں سے ایک ہی لفظ نکلا اور وہ کھڑے قد سے نیچے ڈھے گئے۔ دیا کی چیخیں فلک دوز تھیں۔ وہ تیزی سے ابراہیم کی جانب آئی۔  

سر۔۔۔ سر۔۔۔ سس۔۔۔ سر آپ ٹھیک ہیں نا؟ ابراہیم نے بولنے کی کوشش کی مگر انکی زبان نے انکا ساتھ  نہیں دیا؟ سر۔۔۔ وہ چلائی اسکے ہاتھ سیال مادے سے سرخ تھے۔ حناء کے رنگ جانے کہاں غائب تھے۔ کچھ لمحے ویران آنکھوں سے وہ خون کو تکتی رہی اور پھر بپھری شیرنی کی مانند وہ ان ڈاکوؤں کی طرف بڑھی جو ابراہیم کو گرتا دیکھ کر جلدی جلدی چیزیں سمیٹ کر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ ان پر پل پڑی۔ 

غاصبوں تمہیں خدا سے ڈر نہیں لگتا؟ میرا شوہر مر جائے گا۔ اسے ہسپتال پہنچاؤ مجھ پر  رحم کرو۔ میرا سب کچھ لے لو۔ بس انہیں ہسپتال لے جاؤ۔ وہ گڑگڑائی اسکی دہاڑ نظر انداز کرتے انہوں نے  گاڑی سٹارٹ کی اور زن سے بھگا لی۔ ابراہیم  سڑک پر گرے بن پانی کی مچھلی کی مانند  تڑپ رہے تھے۔

ہیلپ۔۔۔ ہیلپ۔۔۔ وہ دوسری مرتبہ زندگی میں اس مقام پر پڑی تھی جہاں وہ مدد کے لئیے پکار رہی تھی اور کوئی ذی روح اسے دکھائی نہ دے رہا تھا۔

وہ روتی ہوئی ابراہیم پر جھکی انکی سانسیں اور دھڑکن چیک کرنے لگی۔ ابھی زندگی کی رمق باقی تھی۔ اسکا رواں رواں ابراہیم کی سلامتی  کے لئیے دعاگو تھا۔ دور دور تک نہ کوئی بندہ تھا نہ بندے کی ذات۔ اسنے بے بسی سے آسمان کی جانب دیکھا۔

سورج ڈوب رہا تھا، ڈوبتا سورج اسے پیغام دے گیا کہ ہر شے فانی ہے۔ اسنے اپنے عبایے کی سمت دیکھا۔

دیا میری خواہش ہے تم پردہ کیا کرو۔ دنیا کی ہر قابلِ احترام چیز چھپی ہوئی ہوتی ہے جیسا کہ سیپ میں پنہاں موتی، غلاف میں ملفوف قرآن و کعبہ اور تو اور رب کی ذات بھی تو چھپی ہوئی ہوتی ہے نا؟ 

دیا کالا رنگ تم پر جچتا ہے۔ اسنے اپنے عبایے کی سمت دیکھا۔ سیاہ ماتمی رنگ نے ہر سو اس کا احاطہ کر رکھا تھا۔  اسنے ابراہیم کو جھنجھوڑا مگر وہ زرا نہ ہلے پھر اسنے انہیں سہارا دیکر اٹھانا چاہا تو اسکی ٹانگ نے اسکا ساتھ نہ دیا۔ اسنے جانا کہ نقلی سہارے وقت پڑنے پر ساتھ نہیں دیا کرتے۔ 

درد کی ایک لہر اسکی کمر میں اٹھی جس نے اسکے پورے وجود کا احاطہ کر لیا۔

تمہیں طلاق نہیں ہوگی تم بیوہ ہو گی، اسکے کانوں میں ابراہیم کا جملہ گونجا۔ وہ سر تاپا لرز گئی۔

"ابراہیم دنیا چھوڑ سکتا ہے آپ کےلئیے" ایک اور بازگشت اسکے کانوں میں گونجی۔

ابراہیم اپنے رب سے مانگ کر کبھی مایوس نہیں ہوا۔ ایک امید کی کرن ٹمٹمائی۔

یا ربِ ابراہیم تو نے جلتی آگ سے اپنے خلیل ابراہیم کو بچایا، میرا ابراہیم خون میں تر بتر پڑا ہے۔

تو نے اندھیرے کنوئیں غیٰبت الجب سے یوسف کو نکالا، میرا بھی کوئی مدگار بھیج دے۔

روتے روتے اسنے ابراہیم کے سینے پر اپنا سر ٹیک دیا وہ کراہے۔ دیا نے چونک کر سر اٹھایا۔ 

سر؟ سر؟ وہ چلائی۔ 

ابراہیم نے دھیرے سے  آنکھیں کھولیں اور دیا کو پکارا۔

جی سر؟ وہ ہمہ تن گوش ہوئی۔ 

تم ٹھیک ہو؟ بمشکل انہوں نے اسکا احوال دریافت کیا۔

جی سر میں ٹھیک ہوں، آپ ٹھیک نہیں ہیں۔ آپ دعا کیجئیے نا اللہ آپکی دعا قبول کرتا ہے آپ تو مستجاب الدعوات ہیں۔ رب سے دعا کریں نا وہ میرے ابراہیم کو بچا لے۔ ابراہیم نے مسکرا کر دیا کی طرف دیکھا۔ وہ ان ہر جھکی چلا رہی تھی۔ انہیں اس پل دیا کی آنکھوں میں صرف اپنا عکس نظر آیا۔ وہ محبت جو وہ ہمیشہ تلاشتے رہے وہ ملی بھی تو کس پل جب زندگی مہلت نہ دے رہی تھی۔ وہ کچھ پل حسرت و یاس سے اسے تکتے رہے۔ اسکی محبت کی شدت محسوس کرتے رہے پھر اٹک اٹک کر بولے۔

دیا دعا کا وقت ختم ہوا، موت ہر ذی روح کو آنی ہے۔ جدائی کا وقت اپنی تمام تر ہولناکیاں لئیے سر پر کھڑا ہے۔ بس وعدہ کرو تم صبر کرو گی، ہمت نہ ہارو گی، اپنا خیال رکھو گی۔ ابراہیم نے اپنا ہاتھ دیا کی جانب بڑھایا۔ ابراہیم میں مر جاؤنگی آپکے بغیر، مت بولیں ایسے میرا دل بند ہو جائے گا، وہ کرلائی۔

نہیں ایمی کوئی کسی کی جدائی پر نہیں مرتا۔ موت کا وقت مقرر ہے اور یہ جدائی کہاں جدائی ہے، ابھی تو ہم نے ابدی جنتوں میں ملنا ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے اور دیا میری دعا ہے آپکی عمر دراز ہو کیونکہ آپ ہادیۃ الایمان ہیں۔ آپ نے ابھی بہت لوگوں کی ایمان کی طرف راہنمائی کرنی ہے۔ دیا اس بار تم نے اپنے دیے کو ٹمٹمانے نہیں دینا بلکہ اب کی بار تم نے چراغ سے چراغ جلانے ہیں۔ دعوت و ارشاد کا کام پھیلانا ہے، رب کی دین کو ترویج دینی ہے۔ میری اولاد کو میرے لئیے صدقہ جاریہ بنانا ہے۔ وعدہ کرو، کرو گی نا ایسا؟

سر مت کہیں ایسا۔۔۔ دیا کا دل ڈوبا۔ 

وہ دیکھو دیا گاڑی آ رہی ہے شاید تمہارے حق میں میری دعا قبول ہوئی ہے۔

ابراہیم نے اسکی توجہ دور سے آتی گاڑی کی جانب مبذول کرائی۔ دیا ہیلپ ہیلپ پکارنے لگی۔ 

وہ ہر طور ابراہیم کو بچانا چاہتی تھی۔ ابراہیم اسکی عجلت دیکھتے مسکرائے 

سر آپکو کچھ نہیں ہو گا۔ وہ دیکھیں  گاڑی اسی سمت آ رہی ہے ہم ہسپتال جائیں گے سر آپ بچ جائیں گے میرا رب بہت مہرباں ہے وہ مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا

 وہ ابراہیم سے زیادہ خود کو تسلی دے رہی تھی ۔

جاری ہے۔۔۔

(کیا ہو جائے گا ابراہیم کا بھی انتقال اور رہ جائے گی دیا پھر تنہا یا اس بار اسکا رب اس پر مہرباں ہو گا اور وہ بچا لے گی اپنے محبوب شوہر کو جاننے کے لئیے ہڑھئیے اگلی قسط )

از قلم 

ارویٰ رباب

Next and Last episode

Click below

https://momnaawais.blogspot.com/2023/07/last-episodeislamic-novel-in-urdu.html